aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zulfo.n"
بکھری زلفوں نے سکھائی موسموں کو شاعریجھکتی آنکھوں نے بتایا مے کشی کیا چیز ہے
اس شہر کے بادل تری زلفوں کی طرح ہیںیہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے
پھر یاد بہت آئے گی زلفوں کی گھنی شامجب دھوپ میں سایہ کوئی سر پر نہ ملے گا
ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کروچاند شرمائے گا چاندنی رات میں یوں نہ زلفوں کو اپنی سنوارا کرو
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورناتری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
فصل گل میں بہار پہلا گلابکس کی زلفوں میں ٹانکتی ہے ابھی
زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیاگزار کر تری زلفوں کے سائے سائے مجھے
زلفوں کی تو فطرت ہی ہے لیکن مرے پیارےزلفوں سے زیادہ تمہیں بل کھائے چلو ہو
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئےاس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
بارہا خواب میں پا کر مجھے پیاسا محسنؔاس کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا
کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سےبخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا
اپنی زلفوں کو رخ سے ہٹا لیجیے مرا ذوق نظر آزما لیجیےآج گھر سے چلا ہوں یہی سوچ کر یا تو نذریں نہیں یا نظارہ نہیں
ہم نکالیں گے سن اے موج ہوا بل تیرااس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے
زندگی میں ہے وہ الجھن کہ پریشاں ہو کرزلف کی طرح بکھر جانے کو جی چاہے ہے
آئنہ سامنے رکھو گے تو یاد آؤں گااپنی زلفوں کو سنوارو گے تو یاد آؤں گا
جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھےتب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے
بکھری بکھری ہوئی زلفوں والےقافلے روک لیا کرتے تھے
اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صبحان زلفوں میں رات ہو گئی ہے
تمہاری زلفوں سے خوشبو کی بھیک لینے کوجھکی جھکی سی گھٹائیں بلا رہی ہیں تمہیں
شام کر دیتا ہے اکثر کوئی زلفوں والاورنہ وہ دن ہوں کہ ڈھلنا نہیں آتا ہے مجھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books