aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",vIS"
تم بالکل ہم جیسے نکلےاب تک کہاں چھپے تھے بھائیوہ مورکھتا وہ گھامڑ پنجس میں ہم نے صدی گنوائیآخر پہنچی دوار توہارےارے بدھائی بہت بدھائیپریت دھرم کا ناچ رہا ہےقائم ہندو راج کرو گےسارے الٹے کاج کرو گےاپنا چمن تاراج کرو گےتم بھی بیٹھے کرو گے سوچاپوری ہے ویسی تیاریکون ہے ہندو کون نہیں ہےتم بھی کرو گے فتویٰ جاریہوگا کٹھن یہاں بھی جینادانتوں آ جائے گا پسیناجیسی تیسی کٹا کرے گییہاں بھی سب کی سانس گھٹے گیبھاڑ میں جائے شکشا وکشااب جاہل پن کے گن گاناآگے گڑھا ہے یہ مت دیکھوواپس لاؤ گیا زمانہمشق کرو تم آ جائے گاالٹے پاؤں چلتے جانادھیان نہ دوجا من میں آئےبس پیچھے ہی نظر جماناایک جاپ سا کرتے جاؤبارم بار یہی دہراؤکیسا ویر مہان تھا بھارتکتنا عالی شان تھا بھارتپھر تم لوگ پہنچ جاؤ گےبس پرلوک پہنچ جاؤ گےہم تو ہیں پہلے سے وہاں پرتم بھی سمے نکالتے رہنااب جس نرک میں جاؤ وہاں سےچٹھی وٹھی ڈالتے رہنا
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
کیوں گنہ گار بنوں ویزا فراموش رہوںکب تلک خوف زدہ صورت خرگوش رہوںوقت کا یہ بھی تقاضہ ہے کہ خاموش رہوںہم نوا! میں کوئی مجرم ہوں کہ روپوش رہوں
گھٹ گیا اندھیرے کا آج دم اکیلے میںہر نظر ٹہلتی ہے روشنی کے میلے میںآج ڈھونڈھنے پر بھی مل سکی نہ تاریکیموت کھو گئی شاید زندگی کے ریلے میںاس طرح سے ہنستی ہیں آج دیپ مالائیںشوخیاں کریں جیسے ساتھ مل کے بالائیںہر گلی نئی دلہن ہر سڑک حسینہ ہےہر دیہات انگوٹھی ہے ہر نگر نگینہ ہےپڑ گئی ہے خطرے میں آج یم کی یمراجیموت کے بھی ماتھے پر موت کا پسینہ ہےرات کے کروں میں ہے آج رات کا کنگناک سہاگنی بن کر چھائی جاتی ہے جوگنقمقمے جلے گھر گھر روشنی ہے پٹ پٹ پرلے کے کوئی منگل گھٹ چھا گیا ہے گھٹ گھٹ پرروشنی کرو لیکن فرض پر نہ آنچ آئےہو نگاہ سیما پر اور کان آہٹ پرہوشیار ان سے بھی جو نگاہ پھیرے ہیںپاک ہی نہیں تنہا اور بھی لٹیرے ہیںچھوڑ اپنی ناپاکی یا بدل دے اپنی دھنموت لے گا یا جیون دو میں جس کو چاہے چنہم ہیں کرشن کی لیلا ہم ہیں ویر بھارت کےہم نکل ہیں ہم سہدیو ہم ہیں بھیم ہم ارجندروپدیؔ سے درگھٹنا دور کر کے چھوڑیں گےاے سمے کے دریودھن چور کر کے چھوڑیں گےقبر ہو سمادھی ہو سب کو جگمگائیں گےدھوم سے شہیدوں کا سوگ ہم منائیں گےتم سے کام لینا ہے ہم کو دیپ مالاؤسارے دیپ کی لو سے دل کی لو بڑھائیں گےسب سے گرمیاں لے کر سینے میں چھپانا ہےدل کو اس دوالی سے اگنی بم بنانا ہے
یہ راماینجو ہندستان کی رگ رگ میں شامل ہےجسے اک بالمیکی نام کے شاعر نے لکھا تھابہت ہی خوب صورت ایک ایپک ہےفسانہ در فسانہ بات کوئی منجمد ہےاموشن قید ہیں لاکھوں طرح کےکئی کردار ہیں جو صاحب کردار لگتے ہیںمگر اک بات ہےجو مدتوں سے مجھ کو کھلتی ہےکہ افسانے میںسب کے درد و غم کا ذکر ملتا ہےمگر وہ ایک لڑکیپھول سے بھی سو گنا نازکجو سیتا کی بہن تھیاور جس کی مانگ میں سندور بھرتے وقت ہیشری رام کے بھائی لکھن نےآگ کی موجودگی میں یہ کہا تھامیں تم سے زندگی بھر عشق فرمایا کروں گااور سائے کی طرح ہی ساتھ میں ہر دم رہوں گاجو لڑکی ایک پل میںسات جنموں کے لیے بیوی لکھن کی ہو گئی تھیوہی لڑکیجسے سب ارملا کہہ کر بلاتے تھےجو اپنے باپ کے سینے سے لگ کر وقت رخصت خوب روئیاس کے اشکوں سےفسانے کا کوئی حصہ کہیں بھیگا نہیں ہےاور اس کے درد کی کوئی نشانی تک نہیں ملتیمگر سچ ہےکہ راماین میں ویسا غم زدہ کردار کوئی بھی نہیں ملتامیں اس کردار سے خاصا متأثر ہوںکہ جب چودہ برس کے واسطے شری رام کو بن واس جانا تھاآمادہ تھے لکھن بھی بھائی کی سیوا میں جانے کوذرا سا بھی نہیں سوچاکہ جس لڑکی سے پوری زندگی کا ربط جوڑا ہےکہ جس نے خوب صورت نین میں کچھ خواب بوئے ہیںاسے کس کے سہارے چھوڑ کر وہ جا رہے ہیںمگر وہ ارملا کو چھوڑ کر بھائی کے پیچھے چل پڑےکوئی تڑپتی آرزو سیارملا کے ہونٹھ سے گر کرکئی ٹکڑوں میں نیچے فرش پر بکھری ہوئی تھیزور سے آواز ننھی پھڑپھڑائیاور زخمی ہو گیا تھا پیار کا وہ ایک دامنجو کبھی پھولوں کی خوشبو میں بھگویا تھامحض کانٹے ہی کانٹے ہر طرف تھےاک امارت بننے سے پہلے ہی ٹوٹی تھیتو یعنی ارملا چودہ برس تکخلوتوں کے موسموں سے روز لڑتی تھیسہیلی ساتھ تھیلیکن سبھی خوشیوں کو وہ اگنور کرتی تھیتمنائیں اگر بادل کی طرح گھرنے لگتی تھیںتمناؤں کی بارش میں نہانے سے وہ بچتی تھیچرا لیتی تھی وہ آنکھیںاگر غلطی سے کوئی آئنہ تعریف کر دیتاہوائیں جسم میں اس کے اگر سہرن جگا دیتیںتو خود کو اپنی ہی بانہوں میں بھر کرخود سے یہ کہتیلکھن آئیں گے جلدی مان بھی جاؤ بہاروںاور سو جاؤ ستاروں تمکہ مجھ کو رات دن جگنے کی عادت ہو گئی ہےاور محبت کے لیے یہ عمر کی دولت پڑی ہےمگر جب خواہشوں کے باندھ اکثر ٹوٹتے ہوں گےتو پھر سیلاب میںکیا کیا نہ بہہ کر کھو گیا ہوگاہزاروں ادھ کھلے ارمان بھی مرجھا گئے ہوں گےتبسم نےکسی پل ڈس لیا ہوگا لبوں کو گرتو سارا زہر موقع دیکھ کراس کے بدن میں رقص کرتا پھر رہا ہوگاکبھی کوئل کی کالی کوک گر کانوں میں پہنچی ہوتو شریانوں میں بہتا خون سارا جم گیا ہوگاپرائے مرد کا کوئی تصور چھونے سے پہلےوہ لڑکی ڈر گئی ہوگیاچانک مر گئی ہوگی
ویر سنگھ اور امرتا پریتم یہاں ماہر یہاںعرشؔ اخترؔ جوشؔ اور محرومؔ سے شاعر یہاں
بیٹھی ہوئی ہے آج وہ بالوں کی وگ اتار کرگویا شراب پھینک کر میز پہ جام رکھ دیا
بھارت کے ویر سپاہی سےوہ وقت ہے اب تک یاد مجھے
میرا وطن ہندوستاں ہر راہ جس کی کہکشاںکوہ گراں سے کم نہیں جس کے جیالے نوجواںیہ ویر و گوتم کی زمیں امن و اہنسا کا چمناکبر کے خوابوں کا جہاں چشتی و نانک کا وطنشمعیں ہزاروں ہیں مگر ہے ایکتا کی انجمنتہذیب کا گہوارہ ہیں گنگ و جمن کی وادیاںمیرا وطن ہندوستاںتاریخ کی عظمت ہے یہ جمہوریت کی شان ہےروحانیت کی روح ہے سب مذہبوں کی جان ہےیہ اپنا ہندوستان ہے یہ اپنا ہندوستان ہےحاصل یہاں انسان کو ہر طرح کی آزادیاںمیرا وطن ہندوستاںجب دل سے دل ملتے گئے مٹتے گئے سب فاصلےیہ آج کا نغمہ نہیں صدیوں کے ہیں یہ سلسلےصدیوں سے مل کر ہی بڑھے سب اہل دل کے قافلےاک ساتھ اٹھتی ہے یہاں آواز ناقوس و اذاںمیرا وطن ہندوستاںتاریخ کے اس موڑ پر ہم فرض سے غافل نہیںقابو نہ جس پر پا سکیں ایسی کوئی مشکل نہیںجس کو نہ ہم سر کر سکیں ایسی کوئی منزل نہیںہاں بانکپن کی شان سے ہے کارواں اپنا رواںمیرا وطن ہندوستاں
مرا جال خالیمگر دل مسرت کے احساس سے بھر گیاتم اسی بانکپن سےاسی طرحگنجی پہاڑی پراپنی ہری وگ لگائے کھڑے ہویہ ہیئت کذائی جو بھائیتو نزدیک سے دیکھنے آ گیا ہوں
محتسب مست ہے اور حضرت واعظ سرشارمے کدہ بن گیا ہے عیش نگر ہولی میں
جیون بھی جیامیتی کی طرحپورک اور انوپورک کونوں سے ہوتا ہے سنچالتکچھ پکڑتے ہیں تو چھوٹ جاتا ہے بہت کچھکچھ چھوٹتا ہے تو مل جاتا ہے کچھاپنے حصے کا مان ہی نہیں ملتایہاں پانا ہوتا ہے اپمان بھیجو کھاتا ہے کٹہل کا کوآاسے ہی پچانا ہوتا ہے بیج اور موسل بھیکیول دیوتاؤں کے حصے آئےوش کا پان کرتے ہیں شیومنشیہ کو خود ہی پینا ہوتا ہےاپنے حصے کا وش
ہاتھ ملانے کی رسمتب ایجاد ہوئیجب ہتھیار پھینکناسیکھا جا چکا تھااور بغلوں میں چھریاںعام ہونے لگی تھیںزندگیوں میں بدلاؤ آیاجاپانیوں نے دور سے جھک کر سلام کہنا سیکھادشمن اور دوست سے مناسب فاصلہہمیشہ بنائے رکھاایٹمی طاقت سے تباہ کیے گئےزندگیوں میں بدلاؤ آیااہل فارس نے چوہے سےطاعون کا تعلق پہچانانعش کو کاٹ کر اعضا کا نقشہ بنایاپہلی جراحی کیاور مردوں کی بے حرمتی کی پاداش میںبوعلی سینا کو سزا دیزندگیوں میں بدلاؤ آیافرانسیسیوں نے چالیس دن کا کوارنٹائن ایجاد کیابندرگاہوں پر بیماریوں کا ویزا کینسل ہواصحت مند انسانوں کو ویزا ملنے لگازندگیوں میں بدلاؤ آیایہود کی منڈی میںسونے کے سکے انسانوں سے کم پڑ گئےکاغذ کا نوٹ ایجاد ہوااور پھر سب ادیان کیاعتبار کی آیات کونوٹوں پر لکھ دیا گیازندگیوں میں بدلاؤ آیااگلے نئے بدلاؤ کے لیےاسٹیج تیار کرنے میںوبا کی مدد کرو
اس کے ویر بہادر بیٹےبن جائیں تقدیر کے ہیٹےدولت اس کی غیر سمیٹے
ہم ہیں بہادر یودھا انتھکدیش کی سیماؤں کے رکشکجاتے ہیں شترو کے گھر تکبھارت ورش کے سچے سیوکدیتی ہے دنیا یہ گواہیہم بھارت کے ویر سپاہیتڑ تڑ گولے برسا کرکھٹ کھٹ کھٹ کھٹ ٹینک چلا کرہتھ گولوں کو کام میں لا کربندوقوں کی مار دکھا کرلاتے ہیں شترو پہ تباہیہم بھارت کے ویر سپاہیگائیں ویروں کی گاتھائیںجنم بھومی کا قرض چکائیںوجے پتاکا جب لہرائیںجے جے کار کا ناد بجائیںوجے کی منزل کے سب راہیہم بھارت کے ویر سپاہیدھوکے کی ہر بات بھی جیتیںدشمن کی ہر گھات بھی جیتیںسانجھ بھی اور پربھات بھی جیتیںدن بھی جیتیں رات بھی جیتیںکیسا اجالا کیسی سیاہیہم بھارت کے ویر سپاہیبھیے سے میں گھبرا نہیں سکتاکوئی سامنے آ نہیں سکتاکوئی ہمیں بہکا نہیں سکتادشمن چھپ کر جا نہیں سکتاایسی ہماری تیز نگاہیہم بھارت کے ویر سپاہیدشمن کے سر کٹے پڑے ہیںجہاں اڑے ہیں ڈٹ کے اڑے ہیںجھنڈے رن بھومی میں گڑے ہیںدیش پریم میں جم کے لڑے ہیںہم نے دیش سے پریت نباہیہم بھارت کے ویر سپاہی
اکسٹھ سال گزرتے ہیںافغانوں کی اک بستی میں لڈن خاں نے جنم لیا تھاداروغہ کے بیٹے تھے وہ نانا ان کے مولانا تھےکھاتا پیتا گھر تھا ان کالڈن خاں اچھے بچے تھے بالکل ویسے جیسے تم ہوان کے گھر والے بھی ان سے اتنی ہی الفت کرتے تھے جتنی ہم تم سے کرتے ہیںجب وہ تھوڑے بڑے ہوئے تونانا ان کو مکتب میں داخل کر آئےلڈن خاں نے پڑھنا سیکھالکھنا سیکھا لڑنا سیکھا آخر وہ افغانی بھی تھےچودہ پندرہ برسوں ہی میں لڈن خاں کو یہ بے فکری راس نہ آئینانا اور ابو دونوں نے لڈن خاں سے کٹی کر لیمرنا جینا تم کیا سمجھوتب مجبوراًلڈن خاں نے پڑھنا چھوڑااپنے گھر سے نانا جوڑاٹیوشن کرتے لشٹم پشٹم اپنے گھر کا خرچ چلاتےان کی اماں کو راجہ سے تھوڑی سی پنشن ملتی تھی کام کسی صورت چل جاتاماں نے ان کی شادی کر دیلیکن بیوی خوش قسمت تھی جس نے جلد ہی کئی کر لیگڈو بیٹےہونی ہو کر ہی رہتی ہےمکتب میں رہ کر لڈن خاں غزلیں کہنا سیکھ چکے تھےافغانی ہونے کے ناتے لوگوں سے ڈرتے بھی نہیں تھےاپنی غزلوں میں نظموں میں تیکھی تیکھی باتیں کہتے لوگوں پر پھبتی کستے تھےاپنے ہوں یا غیر سبھی پرسچ کہنے میں سچ لکھنے میں باک نہ کرتے یہ تو ایک نشہ ہوتا ہےبس پھر کیا تھا اپنے غیر سبھی ان کے دشمن بن بیٹھےٹیوشن چھوٹے وے مینی کی وے مینی سے منشی گیریدر در بھٹکے باز نہ آئےکڑوی تیکھی غزلیں نظمیں کہہ کہہ کر انبار لگایااتنے سے بھی چل سکتا تھالیکن وہ تو راجہ جی پر پھبتی کس کر امی کی پنشن لے ڈوبےبولو ان کی کیا اٹکی تھی راجہ جو کچھ بھی کرتا تھا لڈن خاں سے کیا مطلب تھاامی بیچاری اس غم میں کڑھ کڑھ کر پردیس سدھاریں یوں سمجھو بس روٹھ گئیں وہ لڈن خاں سےلیکن بیٹا مرنے میں پیسے لگتے ہیں لڈن خاں نے گھر بھی بیچاآگے پیچھے کوئی نہیں تھا اب تو لڈن خاں کھل کھیلےسچی سچی باتیں کہہ کر کڑوی تیکھی غزلیں لکھ کر زہر آلودہ نظمیں پڑھ کرایک سرے سے سب لوگوں کو دشمن در دشمن کر بیٹھےساری دنیا دشمن ہو تو لڈن خاں بچتے بھی کیسےسب نے مل کر گھیرا ڈالاآگے دشمن پیچھے دشمن دائیں دشمن بائیں دشمن اوپر دشمن نیچے دشمنلڈن خاں میں عقل نہیں تھی اب بھی چکنی چپڑی باتیں کر کے چپکے سے بچ لیتےلڈن خاں نے اپنی غزلیں اپنی نظمیں ساری چیزیں چھوڑ کرچپکے سے مر جانے ہی کو بہتر جانا
کسی نے آج پھر مسجد پہ بم پھینکانمازی خون میں غلطاںسکوپ اچھا ہےیہ پورا کوارٹر پیج لے لے گاکسی مزدور پر چھت آ گری ہےاور کسی نے خودکشی کی ہےکسی وی آئی پی نے چھینک ماری ہےیہ سہہ کالموہ دو کالمیہاں پر کارٹون آ جائے گااور لاش اس کونے میں فٹ ہوگییہ باقی اشتہاروں کی جگہ مخصوص رکھی ہےمبارک باد ہے اور سیل ہےاور ایک ٹینڈر ہےخوشی کا راز ہےبرقی کلینک ہےچلو سب پیسٹ اپ کر دومجھے اب دوسرا صفحہ دکھا دو
ہر مذہب کی اونچی شانجس سے بنا ہے دیش مہانسب کو دیتا پریم کا دانپریم پیار کی ہے یہ کھانہندو مسلم سکھ عیسائیبودھ اور جینی کی ہے آنپاٹھ یہی ہے پہلا بسبن جاؤ سارے انسانویر بنو اے پیارے بچوتم بھارت کی ہو سنتانکسی کو کوئی کشٹ نہیںسب سوئے ہیں چادر تانہر مذہب کا آدر کرتا میرا بھارت ہندوستان
کوئی تو ہو اس جہاں میں ایساکہ جس کے بس میں ہو ساری دنیاکی سرحدوں کی سبھی لکیریںجہاں کے نقشے سے ایک پل میںکسی جتن سے مٹا کے رکھ دےیہ آہنی خار دار تاریںزمین کے ساتھ دل کے رشتے بھی بانٹتی ہیںکئی دلوں میں طویل عرصے سے چبھ رہی ہیںکوئی تو ان کو اکھاڑ پھینکےکوئی تو ہو جو تمام دنیاکو ایک خطے کی شکل دے دےاگر کوئی معجزہ دکھا دےتو سارے انسان جب بھی چاہیںپھر اپنے پیاروں سے مل سکیں گےبغیر ویزا کی بندشوں کےسہولتوں سے مسرتوں سےپھر اس کے بدلے اگر وہ مجھ سےمری متاع حیات مانگےتو ایک پل کو بھی میں نہ سوچوںخوشی خوشی اس کو دان کر دوں
آداب آدابتسلیمات تسلیماتمزاج اقدسفضل ربی ہےنمازیں پڑھتے ہیںفراغتوں سے ڈرتے ہیںاللہ خیروبرکت دےسنا ہے آپ نے نئی گاڑیخرید لیجی ہاں مرسڈیز ہےاللہ کے فضل سےگرین کارڈ ہولڈر بھی ہیںمگر آپ کا وہ کمیونزمآپ تو خاصے ریڈیکل تھےشکر باریٔ تعالی کاجس نے اندھیروں میںروشنی دکھائیاللہ بڑا بادشاہ ہےلاس اینجلز کے پوش قبرستان میںجگہ بک کرا دی ہےآپ کا کیا ارادہ ہےفتنہ و فساد سےنجات ملی ہے نہ ملے گیکیا آپ کو ویزا بھجوائیںپیشکش کا شکریہمگر اپنے دیسی قبرستان جیسیتازہ ہوائیں امریکہ میں کہاںاور پھر اپنے یہاں بکنگ کیبھی ضرورت نہیںمیں تو کہتا ہوں قبلہآپ بھی یہیں رک جائیںعمر کی آخری کگار پر کھڑے ہیںمیں نہیں سمجھتا کہ بلاوا آنے میںکوئی دیر ہوگیقیل و قال سے کام نہ لیںایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیںقبرستان کی ہری بھری فضاؤں میںخوب گزرے گیجو مل بیٹھیں گےدیوانے دو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books