aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".pyu"
جبرئیلہمدم دیرینہ کیسا ہے جہان رنگ و بوابلیسسوز و ساز و درد و داغ و جستجو و آرزوجبرئیلہر گھڑی افلاک پر رہتی ہے تیری گفتگوکیا نہیں ممکن کہ تیرا چاک دامن ہو رفوابلیسآہ اے جبریل تو واقف نہیں اس راز سےکر گیا سرمست مجھ کو ٹوٹ کر میرا سبواب یہاں میری گزر ممکن نہیں ممکن نہیںکس قدر خاموش ہے یہ عالم بے کاخ و کوجس کی نومیدی سے ہو سوز درون کائناتاس کے حق میں تقنطو اچھا ہے یا لاتقنطواجبرئیلکھو دیئے انکار سے تو نے مقامات بلندچشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبروابلیسہے مری جرأت سے مشت خاک میں ذوق نمومیرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پودیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزم خیر و شرکون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے میں کہ توخضر بھی بے دست و پا الیاس بھی بے دست و پامیرے طوفاں یم بہ یم دریا بہ دریا جو بہ جوگر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سےقصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہومیں کھٹکتا ہوں دل یزداں میں کانٹے کی طرحتو فقط اللہ ہو اللہ ہو اللہ ہو
کیوں تعجب ہے مری صحرا نوردی پر تجھےیہ تگا پوئے دمادم زندگی کی ہے دلیلاے رہين خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیںگونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیلریت کے ٹیلے پہ وہ آہو کا بے پروا خراموہ حضر بے برگ و ساماں وہ سفر بے سنگ و ميلوہ نمود اختر سیماب پا ہنگام صبحیا نمایاں بام گردوں سے جبین جبرئيلوہ سکوت شام صحرا میں غروب آفتابجس سے روشن تر ہوئی چشم جہاں بين خليلاور وہ پانی کے چشمے پر مقام کارواںاہل ایماں جس طرح جنت میں گرد سلسبيلتازہ ویرانے کی سودائے محبت کو تلاشاور آبادی میں تو زنجيري کشت و نخيلپختہ تر ہے گردش پیہم سے جام زندگیہے یہی اے بے خبر راز دوام زندگی
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
مگر پو پھٹے گیتو پلکوں سے کھودو گے خود اپنے مردوں کی قبریںبساط ضیافت کی خاکستر سوختہ کے کنارےبہاؤ گے آنسو!بہائے ہیں ہم نے بھی آنسو!گو اب خال ہندو کی ارزش نہیں ہےعذار جہاں پر وہ رستا ہوا گہرا ناسورافرنگ کی آز خوں خوار سے بن چکا ہےبہائے ہیں ہم نے بھی آنسوہماری نگاہوں نے دیکھے ہیںسیال سایوں کے مانند گھلتے ہوئے شہرگرتے ہوئے بام و دراور مینار و گنبدمگر وقت مینار ہےاور دشمن اب اس کی خمیدہ کمر سے گزرتا ہوااس کے نچلے افق پر لڑھکتا چلا جا رہا ہےہمارے برہنہ و کاہیدہ جسموں نےوہ قید و بند اور وہ تازیانے سہے ہیںکہ ان سے ہمارا ستم گرخود اپنے الاؤ میں جلنے لگا ہے!
کبھی ہنستی ہوئی آنکھوں میں اس کی جھانک کر دیکھوتو لگتا تھا چھلک اٹھیں گی پر اتنا ہی کہتی تھیکبھی لاہور دیکھا ہےمیاں والی سے گزرے ہونہیں دیکھے اگر یہ شہر تو کیا خاک دیکھا تم نے دنیا میںکبھی لاہور سے گزرو تو تھوڑی دیر کو رک کرمحلہ بوہڑ والا چوک میں میرا کسی سے نام لے دینامیاں والی کو جانا ہوتو واں دیوار پر بیٹھے ہوئے کاگا سےمیری ماں کا اور پیو کا ذرا احوال لے لیناوہ پھر سے ہنسنے لگتی تھی
لو پو پھٹی وہ چھپ گئی تاروں کی انجمنلو جام مہر سے وہ چھلکنے لگی کرنکھچنے لگا نگاہ میں فطرت کا بانکپنجلوے زمیں پہ برسے زمیں بن گئی دلہنگونجے ترانے صبح کا اک شور ہو گیاعالم مئے بقا میں شرابور ہو گیا
راستہ نہیں ملتامنجمد اندھیرا ہےپھر بھی با وقار انساںاس یقیں پہ زندہ ہےبرف کے پگھلنے میںپو پھٹے کا وقفہ ہےاس کے بعد سورج کوکون روک سکتا ہے
یہ مانا رات آنکھوں میں کٹیایک ایک پل بت سا بن کر جم گیااک سانس تو اک صدی کے بعد پھر سے سانس لینے کا خیال آیایہ سب سچ ہے کہ رات اک کرب بے پایاں تھیلیکن کرب ہی تخلیق ہےاے پو پھٹے کے دل ربا لمحو گواہی دو
مرا دل گرو مری جاں گروچلا آ کہ ہے مرا در کھلاتو مرا نصیب ہے راہرویہ ہوا یہ برق یہ رعد و ابر یہ تیرگیرہ انتظار کی نارسیمرے جان و دل پہ ہیں لو بتومرے میہماں مرے راہرواے گریز پا تو سراب دشت خلا نہ بنوہ نوا نہ بن جو فریب راہ گزار ہووہ فسون ارض و سما نہ بنجسے دل گرفتوں سے عار ہوجو تجھے بلاتی ہے پے بہ پےوہ صدا جلاجل جاں کی ہےوہ صدا مرور زماں کی ہےکسے اس صدا سے فرار ہومرا دل گرو مری جاں گروتری کن مکن تری رو مرومجھے بار جاںکہ میں حرف جس کا بیاں ہے تومیں وہ جسم جس کی رواں ہے توتو کلام ہے میں تری زباںتو وہ شمع ہے کہ میں جس کی لوکسی نقش کار کا اک نفسکئی صورتیں جو سدا سے تشنۂ رنگ تھیںہوئیں وصل معنی سے بارورکسی بت تراش کی اک نگہکئی سنگ اذیت یاس و مرگسے بچ گئےہوئے سمت راہ سے با خبرچلا آ کہ میری ندا میں بھیوہی رویت ازلی کہ ہےجسے یاد غایت رنگ و بوجسے یاد راز مے و سبوجسے یاد وعدۂ تار و پوچلا آ کہ میری ندا میں بھیاسی کشف ذات کی آرزو
تماشا گہہ لالہ زارمگر نوحہ خوانی کی یہ سرگرانی کہاں تک؟کہ منزل ہے دشوار غم سے غم جاوداں تک!وہ سب تھے کشادہ دل و ہوش مند و پرستار رب کریموہ سب خیر کے راہ داں راہ شناسہمیں آج محسن کش و نا سپاسوہ شاہنشہان عظیموہ پندار رفتہ کا جاہ و جلال قدیمہماری ہزیمت کے سب بے بہا تار و پو تھےفنا ان کی تقدیر ہم ان کی تقدیر کے نوحہ گر ہیںاسی کی تمنا میں پھر سوگوارتماشا گہہ لالہ زار!
ہم اس زمین و آسماں کے درمیاںحیران ہیں اور سر گراںاے خدائے دو جہاں!اے حرف کن کے راز داں!اے منبع کون و مکاں!اتنا تو بتلا دےکوئی ایسی بھی دنیا ہےجہاں انسانیت کی صاف پیشانی پہعلم و فن کی پو پھٹتی ہو اورفکر و نظر کے آئینوں سےنور کی کرنیں ابلتی ہوںدلوں میں خیر و برکت کی دعائیں گونجتی ہوںصبح دم آکاش کے نیلم تلےجام حقیقت پی کے جینے کی تمنا رقص کرتی ہوجہاں احساس کے کہرے سےفکر نو کے تارے جھلملاتے ہوںجہاں ہونٹوں پہ حرف آگہی کی جوت ہوآنکھوں سے حیرتذہن سے وجدان کے چشمے ابلتے ہوں،جہاں راتوں کے سناٹے میںدل محو نیاز و نار رہتا ہوفضائے بیکراں کے سحر کا ہم راز رہتا ہومحبت، عشق، دل داری، وفا عنوان ہستی ہوںاخوت، نرم گفتاری عطاء پیمانۂ دل ہوں
اب دھندلی پڑتی جاتی ہے تاریکئ شب میں جاتا ہوںوہ صبح کا تارا ابھرا وہ پو پھوٹی اب میں جاتا ہوںجاتا ہوں اجازت جانے دو وہ دیکھو اجالے چھانے کو ہیںسورج کی سنہری کرنوں کے خاموش بلاوے آنے کو ہیںوہ پھولوں کے گجرے جو تم کل شام پرو کر لائی تھیںوہ کلیاں جن سے تم نے یہ رنگیں سیجیں مہکائی تھیںدیکھو ان باسی کلیوں کی پتی پتی مرجھائی ہےوہ رات سہانی بیت چکی آ پہنچی صبح جدائی ہےاب مجھ کو یہاں سے جانا ہے پر شوق نگاہو مت روکواو میرے گلے میں لٹکی ہوئی لچکیلی باہو مت روکوان الجھی الجھی زلفوں میں دل اپنا بسارے جاتا ہوںان میٹھی میٹھی نظروں کی یادوں کے سہارے جاتا ہوںجاتا ہوں اجازت وہ دیکھو غرفے سے شعاعیں جھلکی ہیںپگھلے ہوئے سونے کی لہریں مینائے شفق سے چھلکی ہیںکھیتوں میں کسی چرواہے نے بنسی کی تان اڑائی ہےایک ایک رسیلی سر جس کی پیغام سفر کا لائی ہےمجبور ہوں میں جانا جو ہوا دل مانے نہ مانے جاتا ہوںدنیا کی اندھیری گھاٹی میں اب ٹھوکریں کھانے جاتا ہوں
عہد کہن گزر گیا لمحۂ نو عظیم ہےآج کا سحر بے بدل آج کی لو عظیم ہےعطر کی روح میں بسی عصر کے روپ میں رچیپھوٹتی پو عظیم ہے یہ تگ و دو عظیم ہےبحر جدید اوج موج اس میں گہر ہیں موج موجسطح بہ سطح سب صدف نور کی رو عظیم ہےتازہ ترین یہ جہاں تازہ نجوم و آسماںان کی جھلک جدا جدا ان کا جلو عظیم ہےاور ہے اس کی تاب و تب اور ہے چال اور چھبجو خد و خال ہوں سو ہوں آئنہ تو عظیم ہے
روشنی کی ایک ننھی سی لکیرمیرے کمرے کے اندھیرے کا بدنچپکے چپکے ٹٹولتی ہےجس طرح حبشی حسینہ کے ڈھلےصندل کے سےآبنوسی جسم کے اعصاب میںتیز سوئی کی اچانک اک چبھنسرسراتے سانپ کی مانند دوڑاتی ہے خوںجھنجھنا اٹھتے ہیں سارے تار و پواور پھر آہستہ آہستہ کہیںزیر سطح جان و دلیہ تلاطمرک کے سو جاتا ہےیعنیاژدر آسودہ خاطر کی طرحخواب نوشیں کے اڑاتا ہے مزے
اکثر یہ گماں ہوتا ہے مجھےمیں ایک چمکتا جگنوں ہوںشبنم کی ننھی بوندوں کوپھولوں کا گھر دکھلاتا ہوںمیں شب کے اندھیرے سینے میںنیکی کی کرن بن جاتا ہوںجب پو کی روشنی آتی ہےپھنکارتی ہے ڈس جاتی ہےخوابوں سے مجھے چونکاتی ہے
چھٹ گئی ظلمتکٹ گئی راتپھٹ گئی پوگم ہوئے تارےکھو گیا شبنمدھل گئے باغکھل گئیں کلیاںہنس دئیے پھولاڑ گئے پنچھیجاگ اٹھی خلقہو گئی صبحچڑھ گیا سورجبڑھ گئے سائےوہ نہیں آئےوہ نہیں آئے
وہ دیکھو پو پھٹی اندھیارے جادوں کے شگافوں سےہم اس کو مرحمت کا نام دیتے ہیں ہر اک شکوہیہاں آ کر پشیماں ہونے والوں کو مناتا ہے
کیوں ہوتا ہے نو دو گیارہتین تیرہ اور نو اٹھارہچھکا پنجہ اور پو بارہممی پاپا یہ بتلاؤ
میں اپنی روح عذاب گر سے یہ کہہ رہا تھاکہ روح کی پیاس اور بدن کی طلب میںایک ربط باہمی ہےنہ روح سرشار ہے نہ تابندگی تن ہےیہ ریزہ ریزہ جو رزق پہنچا ہے تار و پو کاسرشتۂ نا تواں ہے عرض ہنر کے دامان بے رفو کایہ لقمۂ خشک و حلق فرساکبھی تو لذت شعار کام و دہن بھی ہوتافصیل تن ماورائے پس خوردگی بھی ہوتیمیں دست کوتاہ گیر دولت سے پوچھتا ہوںکہ عمر بھر تو نے کاغذی پیرہن سیے کیوںزبان آلودہ کار کو سی کے بیٹھ جاتاتو سخت کوش عذاب سود و زیاں نہ سہتییہ لمحے آثار باقیہ ہیںکہ جن میں سانسیں بھی گھٹ رہی ہیںطلب ہے دریوزہ گر کہ اس نےشکست دل کی پناہ ڈھونڈیقلم چلا ہے تو روشنائی کے اشک ٹپکانہ لوح دل پرحریف کو اپنے ساتھ مقتل کی دھوپ میں لاسواد محرومئ بشر تو نہیںگزر گاہ نا مرادیپہاڑ کاٹے ہیں جرأتوں نےخرابۂ ذہن پر تمازت غرور کی ہےسمن بری سایہ گستری ہےاسی کو زہراب آگہی دےاسی سے تعمیر آشیاں کر
میں گروی رکھی گئی آنکھوں میںبسا خواب ہوںلا محدود سمندر میں تیرتےجزیروں کاجہاں مہاجر پرندے گھڑی بھربسیرا کرتے ہیںنیلگوں پانیوں کاساحلوں کے کنارےچمکتی ریت کاوہ خوابجو بہہ نکلتا ہےنمکین قطرے کی صورتمیں وہ آزاد روح ہوںجو غلام جسموں کے اندرتڑپتی ہےبھٹکتی پھرتی ہےدرد سے پھٹتے سر کیدرز سےنکلنے کو بے تاب ہوتی ہےمیں وہ مہمل صحیفہ ہوںتہہ در تہہ لپٹا ہواجس کے معنی کی سلطنتآشکار نہیں ہوتیمگر کتاب پو کی مانندروز پھٹتی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books