aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ajmal"
کب دور تلک دیکھالرزاں تھی زمیں کس پلکب سوئے فلک دیکھاکب دشت کی تنہائیآنکھوں میں اتر آئیکب وہم سماعت تھیکب کھو گئی گویائیکس موڑ پہ حیراں تھےکس راہ میں ویراں تھےاجمال حقیقت کےشاید نہ رقم ہوں گے
پیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانجان فدا ہے اس پر اپنی دل اس پر قربانملک نہیں یہ ہے جنت کا دل کش ایک مکانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیارے پیارے دریا اس کے پیاری پیاری نہریںپیارے پیارے چشمے اس کے پیاری پیاری لہریںپیارے پیارے منظر پیاری پیاری اس کی شانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیاری کھیتی باڑی پیاری پیاری پیداوارپیاری پیاری آب و ہوا ہے پیاری اس کی بہاردل میں ہمارے رہتا ہے ہر وقت اسی کا دھیانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارا پیارا دن ہے اس کا پیاری پیاری راتپیارا شام و سحر کا جلوہ پیاری ہر اک باتپیارے پیارے نظاروں کی پیاری پیاری کانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانپیارے پھل پیاری ترکاری پیارے اس کے پھولپیارے آم اور جامن اس کے پیارے نیم ببولپیارے غلے پیارے میوے پیارے پیارے دھانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندوستانپیاری گرمی پیاری سردی پیاری ہر برساتپیاری ہر ہر بات ہے اس کی پیاری ہر ہر گھاتپیاری ہے ہر اک ادا پیارا ہر ایک نشانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستاناقبالؔ اور ٹیگورؔ سے شاعر پی سی رے سے فاضلوی سی رامن شاہ سلیماں جے سی بوس سے کاملگاندھیؔ اور جناحؔ سے لیڈر ذاکرؔ سے ودوانپیارا ہندستان ہمارا پیارا ہندستانجوہرؔ انصاریؔ اجملؔ آزادؔ جواہر لالؔدادا بھائیؔ داسؔ تلکؔ گوکھیلؔ سے نیک خصال
زیر ترتیب ہے آئین چمن آرائییہ حقیقت ہے کہ تکمیل ابھی باقی ہےپتے پتے پہ ابھی ثبت نہیں نقش بہاریعنی اجمال کی تفصیل ابھی باقی ہے
اچھی امی پیاری امی گڑیا ایک بنا دوننھی منی پیاری امی گڑیا ایک بنا دوگورا گورا مکھڑا ہو اور کالی کالی آنکھیںلمبے لمبے بال سنہری مر مر جیسی باہیںسکھیاں دیکھیں دیکھ کے بھرتی رہ جائیں بس آہیںاچھی امی پیاری امی گڑیا ایک بنا دوننھی منی پیاری پیاری گڑیا ایک بنا دونیلے رنگ کی پہنی ہو نازک سی اس نے ساڑیہاتھوں میں ہوں گجرے اس کے کانوں میں ہو بالیچال چلے وہ موروں جیسی ٹھمک ٹھمک متوالیاچھی امی پیاری امی گڑیا ایک بنا دوننھی منی پیاری امی گڑیا ایک بنا دوایسی گڑیا ایک بنا دو جو بولے جو گائےباجا لے کر چھم چھم چھم چھم مجھ کو ناچ دکھائےناچ دکھا کر میرے من کو روز یوں ہی بہلائےاچھی امی پیاری امی گڑیا ایک بنا دوننھی منی پیاری پیاری گڑیا ایک بنا دوناز اٹھاؤں گی میں اس کے دیکھوں گی میں نخرےخوب کروں گی منت اس کی روٹھے گی جب مجھ سےاور پکا کر دوں گی اس کو میٹھے میٹھے کھانےاچھی امی پیاری امی گڑیا ایک بنا دوننھی منی پیاری امی گڑیا ایک بنا دواب نہ کبھی آپا سے میں جھگڑوں گی پیاری امیاب نہ کبھی میں منے کو پیٹوں گی پیاری امیآپ کا ہر اک کہنا میں مانوں گی پیاری امیننھی منی پیاری گڑیا ایک بنا دواچھی امی پیاری امی گڑیا ایک بنا دو
۱سرشک خوں رخ مضمون پہ چلتا ہے تو اک رستہنکلتا ہےندی دریا پہ تھم جائےلہو نقطے پہ جم جائے تو عنوان سفر ٹھہرےاسی رستے پہ سرکش روشنی تاروں میں ڈھلتی ہےاسی نقطے کی سولی پر پیمبر بات کرتے ہیںمجھے چلنا نہیں آتاشب ساکن کی خانہ زاد تصویرو گواہی دوفصیل صبح ممکن پر مجھے چلنا نہیں آتامرے چشموں میں شور آب یکجا بر شکالی ہےندی مقروض بادل کیمرا دریا سوالی ہےرگ حرف زبوں میں جو چراغ خوں سفر میں ہےابھی اس نقطۂ آخر کے زینے تک نہیں آتاجہاں جلاد کا گھر ہےجہاں دیوار صبح ذات کے رخنے سے نگہ خشمگیںبارود کی چشمک ڈراتی ہےجہاں سولی کے منبر پر پیمبر بات کرتے ہیں2اب ان باتوں کے سکے جیب کے اندر کھنکتے ہیں کہ جن پرقصر شاہی کے مناظراسلحہ خانوں سے جاری حکم کندہ ہیںبھرے بازار میں طفل تہی کیسہ پریشاں ہے کہ اس کے پاؤںٹکسالوں کے رستے سے ابھی نا آشنا ہیںاور اس کا باپ گونگا ہےندی رک رک کے چلتی ہےتکلم رہن رکھنے سے سفر آساں نہیں ہوتاہوا پسپا جہاں پانیجہاں موجوں نے زنجیر وفا پہنی سپر گرداب کی رکھ دیعلم رکھے قلم رکھےخفا بادل نے جن پایاب دریاؤں سے منہ موڑاجہاں تاراج ہے کھیتیجہاں قریہ اجڑتا ہےطناب راہ کٹتی ہے کہیں خیمہ اکھڑتا ہےوہاں سے دور ہے ندیوہاں سے دور ہے بچہ کہ اس کے پاؤںدریاؤں کے رستے سے ابھی نا آشنا ہیںاور اس کا باپ گونگا ہےاسے چلنا نہیں آتافصیل صبح ممکن پر اسے چلنا نہیں آتا3سحر کے پاس ہیں منسوخ شرطیں صلح نامے کیصبا درس زیاں آموز کی تفصیل رکھتی ہےکسی تمثیل میں تم ہوکسی اجمال میں میں ہوںکہیں قرطاس خالی کا وہ بے عنوان ساحل ہےجہاں آشفتگان عدل نے ہتھیار ڈالے ہیںبہت ذاتیں ہیں صدموں کیکئی حصے ہیں سینے میں نفس گم کردہ لمحے کےکئی طبقات ہیں دن کےکہیں صبح مکافات سخن کے منطقے میں تم مقید ہوکسی پچھلے پہر کے صلح نامے کی عدالت میںکڑی شرطوں پر اپنے دستخط کے روبرو میں ہوںسنو قرطاس خالی کے سپر انداز ساحل سےہوا کیا بات کہتی ہےادھر اس دوسرے ساحل سے جو ملاح آیا ہےزمینیں بیچتی بستی سے کیا پیغام لایا ہےکوئی تعزیر کی دھمکیکوئی وعدہ رہائی کاکوئی آنسوکوئی چھٹی
گاہ اجمال گذشتہ پہ گلو گیر ہوئےجیسے دھل جائے گا بیچاری روایات کے شانوں کا غبارچند بیمار ارادوں کی عیادت چاہیگاہ نایاب دعاؤں کا شماراور تقریر کے پیچیدہ سوالات کو دہراتے ہوئےایک اک کر کے سب احباب نے رخصت چاہی
کچلوؔ کا اخلاص ہے مجھ میں اجملؔ کا کردارسرحد کے گاندھی کی عظمت جوہرؔ کے افکارشاہ ظفر کی ہمت جس نے مر کے نہ مانی ہاراب بھی میرے ساتھ ہیں لاکھوں عبداللہؔ عثمانؔہندی مسلمان ہوں میں ہندی مسلمان
دن بدلتا نہیںوقت رکتا نہیںاور کہتے ہیں وہدن بدل جائیں گےکیا فلک میں بہیں گے سمندر کوئیکیا زمیں پھر اگائے گی سورج نئے کیا پہاڑوں سے نکلیں گی کرنیں یہاںکیا چناروں سے پھوٹے گی خوشبو وہاںیا کہ تلوار دے گی محبت کا رنگیا کہ دستار دے گی اخوت کا انگیا کوئی فاختہ سبز کونپل لئےہم کو آنے لگے گی فضا میں نظرکون سے تجربے کے سہارے میاںآپ کہتے ہیں اب دن بدل جائیں گے
دسمبر تو بہانا ہےدسمبر دھند میں لیٹاہوا کے دوش پرگہرے سمندر کی اتھاہ کو چھو کے آتا ہےتو من کے بوڑھے برگد سےمحبت کے پرندے پھڑپھڑاتےگرتے اٹھتے اور پھر اڑنے کی کوشش میںجوں ہی پرواز کرتے ہیںتو موسم یاد کی پھیلی ہتھیلی پر چٹخ کر ٹوٹ جاتا ہےاداسی یاد کی جھنکار پہنے جاگ اٹھتی ہےوہی جھنکار جو اکثرصبح کاذب تلک مجھ کو سدا بیدار رکھتی تھیمیں اکثر سوچتا ہوںدسمبر لوٹ جائے تو بہار آئےبہار آئے تو غم پھوٹےشگوفے کونپلیں جاگیںاسی دوران سوچوں کے دروں خانہ سے اکثرہوک اٹھتی ہےجو کہتی ہےدسمبر کو ذرا آواز تو دیناجدائی کا زمانہ ہےہمیں تو درد کے دہکے الاؤ پر ہی اب کہرہ جمانا ہےدسمبر تو بہانہ ہے
مجھے معلوم تھا بابابڑے بازار جاؤ گےتو میرے واسطے کوئیکھلونا لے کے آؤ گےارے بابا جو لائے ہوکھلونا ہو نہیں سکتامیں اس کے خوف سے گھر میں بھی تنہا سو نہیں سکتایہ اک بندوق ہے جو آگ کے شعلے اگلتی ہےاسی سے زندگانی کی ہمیشہ شام ڈھلتی ہےاسی بندوق کے ڈر سے یہاں ہنستا نہیں کوئییہ بستی کیسی بستی ہے جہاں بستا نہیں کوئیجہاں بستا نہیں کوئیپرندے خوف کے مارے نہیں پرواز کر پاتےگلی میں کھیلنے بچے پلٹ کر اب نہیں آتےمجھے بازار سے بابا بدل کر اور شے لا دوکھلونا جس میں چاہت ہومحبت کا ترانہ ہومگر باباتری چپ سے یہ میں نے راز جانا ہےمجھے ایسا کھلونا اپنے ہاتھوں سے بنانا ہے
کون بتلائے کسی کوکون غلطی پر تھا کس نے غم زدہ کس کو کیاکس نے گھیرا ڈال کر گھاؤ دیا برسات میںکس نے ڈیرے پر بلا کر برہنہ لاشہ کیاکچھ یاد ہےکس نے جنگوں کے سہارے پر گزاری زندگیزندگی کی ڈور سے الجھا ہوااندھا ستارابانٹتا ہے روشنیروشنی میں رات بھیگی جل اٹھیہم وطن کی کون دیکھے بے بسیبے بسی میں گم مہاجر ہو گئےپھول پر بھنورے کہیں سے آ گرےپھر بھی ہم سے پوچھتا کوئی نہیںکس نے اس دھرتی پہ کیوں آ کر سما رکھا ہے سینگسوچتا ہوں کیا مہاجر کی ہے شانجب کہ اپنے دیس میں ہر آدمیگریہ زاری کر رہا ہےیا خداوندیا مسیحاالامان
مرا تو یہ گمان ہےگیان پر لگان ہےگھٹا گھٹا سی روشنیغبار جان سے اٹیفسردہ کائنات کےابھرتے ریگزار پرگر پڑا ہے آدمیاور اس کے سامنے مرےسوال کا جواب اک کٹی ہوئی زبان ہےنوشتگان سوچ کےگمان سے کہیں پرےہے چاند ایک ضو فشاںسنو ذرا رباب غمکوئی کہیں ہے گا رہاخدائے آسمان کی ہے ان کہی سنا رہاوہ کہہ رہا ہے شادباد آدمی کوئی نہیںیہ زندگی سمجھتے ہو جسے یہ زندگی نہیںجہان بھر کی رونقیںسنو تو سب ہیں وحشتیںہیں وحشتوں کے پھل سبھیتو اور میں تو کچھ نہیںیہ جھوٹ کا غلاف ہےجو ہے ہماری شان ہیچاگر تمہیں گمان ہوتو کون بد گمان ہوخیال اور گمان ہیچگیان پر لگان ہیچ
اے ہواتو نے مریم کی اب تکجو تقلید کی کیوں ادھوری رہیاس کی تقلید جس نے زمیں کے لئےاک مسیحا جناراہبہاس کی تقلید جس نے ہر اک آدمی کا گریباں سیاجس نے دھرتی کے سوکھے درختوں کواپنے لہو سے نئی زندگی بخش دیجس نے مٹی کے کچے دیے کونئی روشنی بخش دیاے ہوااک صلیب ایک مالا میں لگی ہوئیپوچھتی ہے تری ناف چھوتی ہوئیکیا ترے بس میں ہےکہ تو مریم کی مانند مسیحا جنےیا زمیں کے کسی بے نصیب آدمی کے لئےروشنی کی کرن اور بارش بنےمجھ کو معلوم ہےکہ فقط چاندنی سے بدن پہ ہے یہ ایک اجلی قبااس پہ مریمؔ سے تجدید عہد وفامرحبا
جب بھی بچھڑی ہوئی دلی کا سماں یاد آیابھولی بسری ہوئی یادوں کا جہاں یاد آیااپنے آغاز جوانی کا سماں یاد آیاکوچۂ رود گراں لال کنواں یاد آیااسی پھاٹک میں تو گزرا تھا لڑکپن اپناایک اک طفل تو ایک ایک جواں یاد آیاچاچا کلن کی مٹھائی کی دوکاں یاد آئیاس کے اوپر کسی مہوش کا مکاں یاد آیاہائے وہ نقرئی آواز وہ تیکھے خد و خالپس چلمن وہ نظاروں کا جہاں یاد آیاکیا نہ یاد آیا غریب الوطنی میں ہم کوایک اک وہم تو ایک ایک گماں یاد آیاآئی ہمدرد دوا خانے کی جب یاد ہمیںایک تابندہ و پائندہ جہاں یاد آیاالجمعیۃ کے قریں ہو کے تصور جو چلاحفظ رحمان سا اک مرد جہاں یاد آیاجس کی تقریر رگ و پے میں اتر جاتی تھیسب سے تھا جس کا جدا طرز بیاں یاد آیاکالے صاحب کا احاطہ بھی نظر میں گھومامحفل شعر و سخن کا بھی سماں یاد آیابلیماران سے پہلے گلی قاسم جاں میںغالبؔ خستہ کا بوسیدہ مکاں یاد آیاوہیں یاد آیا دوا خانۂ ہندوستانیخان اجمل سا مسیحائے زماں یاد آیاکوچۂ داغؔ سے ہو کر جو چلا حسن خیالشاعر اہل نظر اہل زباں یاد آیاچاندنی چوک کی یاد آئی جو گہما گہمیوہ حسیں شام کا پرکیف سماں یاد آیاکالے برقعوں میں وہ ملبوس حسیناؤں کے غولچاند کے ٹکڑوں کا اک سیل رواں یاد آیاگھنٹہ گھر لوگ سمجھتے تھے جسے دلی کی ناکپوری دلی کا وہ تنہا نگراں یاد آیاہو کے فوارے سے جا پہنچا دریبے میں خیالسونے چاندی کی دکانوں کا جہاں یاد آیاجامع مسجد نظر آئی تو ادھر کو لپکےخوانچہ والوں کا انداز بیاں یاد آیاسیڑھیوں پر وہ کٹوروں کی صدا گونج اٹھیپیچ کھاتا ہوا حقے کا دھواں یاد آیاجامع مسجد کے مناروں سے جسے دیکھا تھاوہ نظارہ کہ جو تھا راحت جاں یاد آیاکابکوں جیسے مکانات نظر میں گھومےایک اک فٹ کا ہر اک پیر و جواں یاد آیااک اچٹتی سی نظر لال قلعہ پر بھی پڑیدل پہ دھچکا سا لگا شاہ جہاں یاد آیااردو بازار کی یاد آئی اس انداز کے ساتھکہ صحافت کا کوئی بحر رواں یاد آیاآ گئے یاد وہیں سائلؔ و بیخودؔ کیفیؔداغؔ والوں کا پھر انداز بیاں یاد آیامیر مشتاقؔ کی مردانہ روی یاد آئیخدمت خلق کا اک عزم جواں یاد آیایاد آئی وہیں مولانا سمیع اللہ کیجیسے با ہمت و پامرد جواں یاد آیاشاعروں کی جہاں رہتی تھی نشست و برخاستجگرؔ خستہ کو دیکھا تھا کہاں یاد آیابسملؔ و بیدیؔ و محرومؔ و وفاؔ و گلزارؔمجمع شاعر و صاحب نظراں یاد آیاچاوڑی پھر گئی آنکھوں میں جوانی کی طرحکوچہ ہائے صنم سیم تناں یاد آیایک بیک سین جو بدلا تو سماں یاد آیادہشت و خوف کا ایک سیل رواں یاد آیاخاک اڑنے لگی دلی کے گلی کوچوں میںمتفکر سا ہر اک پیر و جواں یاد آیاچھوڑ کر دلی کو جانے لگے دلی والےاک ہجوم بہ لب آہ و فغاں یاد آیاپاؤں تک جن کا نہ دیکھا تھا کھلے سر دیکھانوحہ گر قافلۂ لالہ رخاں یاد آیاقافلے دلی سے جانے لگے بن بن کے جہاںمقبرے کا وہ ہمایوں کے سماں یاد آیاتھا قیامت کا وہ منظر کہ تھی نفسی نفسیحال پر اپنے فلک گریہ کناں یاد آیایعنی برسات یہ کہتی تھی کہ برسوں برسوںکتنا اس دور میں اللہ میاں یاد آیااور اک پردہ اٹھا اور سماں یاد آیااور اک منظر دل دوز وہاں یاد آیاغدر کی کھنچ گئی آنکھوں میں مکمل تصویرظفرؔ سوختہ تن سوختہ جاں یاد آیاشاہزادوں کے جو سر پیش ظفرؔ یاد آئےاپنا غم بھول گئے جب وہ سماں یاد آیاتیرے خورشید ترے چاند ستارے دلیچھوٹ کر تجھ سے مہاجر ہیں بچارے دلیبے وطن ہو کے ترے راج دلارے دلیجی رہے ہیں تری یادوں کے سہارے دلی
کہا کسی نے آدمی ہیں ہمہمارے دم سے ہے زمیں پہ زندگی کا نورزمیں پہ ہم نے آسماں کے پا لئے رموزیہ کہکشائیں ہیں ہمارے راستے کی دھولہمارا پاؤں چاند کی جبیں کا افتخارہمارے سر اٹھے یہ فخر و انبساطتمہیں کہو کہ آدمی ہیں ہمنہیں تم آدمی نہیںابھی تو تم درخت کے مقام پر بھی آ سکے نہیں خزاں کا امتحان ہو تو سب درخت سر جھکائے سوگوار ہیںاگر بہار لوٹ لے تو سب کے سب شگوفے دیں مگر جھکے ہوئےچرند اور پرند کی آماجگاہ درختبے چین جسم و جان کی علاج گاہ درختاور ایک تم کہ اپنے ہم نشین کا ہی چھینتے ہو رزقاگر ہو بے بسی تو پھر کسی کے ہاتھ میں وہیکلہاڑا سونپ کر تماشا دیکھتے ہو یوںکہ جیسے دیکھتے نہیںنہیں تم آدمی نہیںابھی تو تم درخت کے مقام پر بھی آ سکے نہیں
دھوپ کی دکان سےرتجگا خرید کرشام نے پہن لیا ہےجب کہ دوسری طرفخامشی کے پاؤں سےراستہ الجھ گیازندگی کے فرش سے اک آوارہ گرد یادڈگمگا کے گر پڑیاور جاتے وقت میرے کان میں یہ کہہ گئیزندگی کے کینوس کو کھولاس میں رنگ بھرروشنی سے گاؤں تک کے راستے کو یوں بناراستے میں دوستی کے اک ہزار پیڑ ہوںخوابوں کے حسیں پرندےچہچہاتے باغوں میں ہوں نغمہ زنمسکرا کے زندگی سے روز ملمسکرا کے زندگی سے بات کر
تمہیں معلوم ہےمیں نے تو عرض حال میںپہلے سے لکھا تھاہمیشہ تم سفر کرنااور اک تم ہو کہ میری اک ذرا سی بات پرناراض ہو اب تککہاں ہو تمکہاں ہے روشنی جس سے مرا چہرہ منور تھاکہاں ہے شام جو مدت سے میری دسترس میں تھیکہاں ہیں دھول میں لپٹےمہکتے دھوپ کے وہ خوش نما پاؤںجو انجانے سفر میںجب مری دہلیز کو چھوتےتو میں فرط مسرت سےندی کے آئنے میں ایک دیکھے عکس کو ہیآسماں کا دیوتا کہتاکہاں ہے راہ بستی کا وہ نقاراوہ اک آواز وہ اک جل ترنگجو دل سے ٹکرا کرہوا کو زندگی دیتے ہوئے پھولوں کو چھو کرچاہنے والوں کو یہ پیغام دیتی تھیمحبت کا یہ حاصل ہےہمیشہ تم سفر کرنااور اک ایسا سفر کرنانہ جس کی سمت ہو کوئینہ کوئی راہ تا منزلتمہیں معلوم ہےمیں نے تو عرض حال میںپہلے سے لکھا تھامگر تم تو ہوا اور کہر کے ایوان میں ناراض بیٹھے ہوپلٹ آؤ کہ جیون کی اندھیری رات کا تنہا سفرکاٹے نہیں کٹتا
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہےقدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہےخاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہےعشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مراآسماں چیر گیا نالۂ بیباک مراپیر گردوں نے کہا سن کے کہیں ہے کوئیبولے سیارے سر عرش بریں ہے کوئیچاند کہتا تھا نہیں اہل زمیں ہے کوئیکہکشاں کہتی تھی پوشیدہ یہیں ہے کوئیکچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھامجھ کو جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھاتھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیاعرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیاتا سر عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیاآ گئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیاغافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیںشوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیںاس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہےتھا جو مسجود ملائک یہ وہی آدم ہےعالم کیف ہے دانائے رموز کم ہےہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہےناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کوبات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کوآئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترااشک بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ تراآسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ تراشکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نےہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نےہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیںراہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیںتربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیںجس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیںکوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیںہاتھ بے زور ہیں الحاد سے دل خوگر ہیںامتی باعث رسوائی پیغمبر ہیںبت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیںتھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیںبادہ آشام نئے بادہ نیا خم بھی نئےحرم کعبہ نیا بت بھی نئے تم بھی نئےوہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھانازش موسم گل لالۂ صحرائی تھاجو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھاکبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھاکسی یکجائی سے اب عہد غلامی کر لوملت احمد مرسل کو مقامی کر لوکس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہےہم سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہےطبع آزاد پہ قید رمضاں بھاری ہےتمہیں کہہ دو یہی آئین وفاداری ہےقوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیںجذب باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیںجن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہونہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہوبجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہوہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کر کےکیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نےمیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نےمیرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نےتھے تو آبا وہ تمہارے ہی مگر تم کیا ہوہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہوکیا کہا بہر مسلماں ہے فقط وعدۂ حورشکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعورعدل ہے فاطر ہستی کا ازل سے دستورمسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصورتم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیںجلوۂ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیںمنفعت ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیںکون ہے تارک آئین رسول مختارمصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیارکس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعار اغیارہو گئی کس کی نگہ طرز سلف سے بے زارقلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیںکچھ بھی پیغام محمد کا تمہیں پاس نہیںجا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا تو غریبزحمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریبنام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا تو غریبپردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا تو غریبامرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سےزندہ ہے ملت بیضا غربا کے دم سےواعظ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہیبرق طبعی نہ رہی شعلہ مقالی نہ رہیرہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہیفلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہیمسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہےیعنی وہ صاحب اوصاف حجازی نہ رہےشور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابودہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجودوضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنودیہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہودیوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہودم تقریر تھی مسلم کی صداقت بیباکعدل اس کا تھا قوی لوث مراعات سے پاکشجر فطرت مسلم تھا حیا سے نمناکتھا شجاعت میں وہ اک ہستی فوق الادراکخود گدازی نم کیفیت صہبایش بودخالی از خویش شدن صورت مینا یش بودہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھااس کے آئینۂ ہستی میں عمل جوہر تھاجو بھروسا تھا اسے قوت بازو پر تھاہے تمہیں موت کا ڈر اس کو خدا کا ڈر تھاباپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہوپھر پسر قابل میراث پدر کیونکر ہوہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہےتم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہےحیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہےتم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہےوہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کرتم ہو آپس میں غضب ناک وہ آپس میں رحیمتم خطا کار و خطا بیں وہ خطا پوش و کریمچاہتے سب ہیں کہ ہوں اوج ثریا پہ مقیمپہلے ویسا کوئی پیدا تو کرے قلب سلیمتخت فغفور بھی ان کا تھا سریر کے بھییوں ہی باتیں ہیں کہ تم میں وہ حمیت ہے بھیخودکشی شیوہ تمہارا وہ غیور و خوددارتم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثارتم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردارتم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بکناراب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحۂ ہستی پہ صداقت ان کیمثل انجم افق قوم پہ روشن بھی ہوئےبت ہندی کی محبت میں برہمن بھی ہوئےشوق پرواز میں مہجور نشیمن بھی ہوئےبے عمل تھے ہی جواں دین سے بدظن بھی ہوئےان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیالا کے کعبے سے صنم خانے میں آباد کیاقیس زحمت کش تنہائی صحرا نہ رہےشہر کی کھائے ہوا بادیہ پیما نہ رہےوہ تو دیوانہ ہے بستی میں رہے یا نہ رہےیہ ضروری ہے حجاب رخ لیلا نہ رہےگلۂ جور نہ ہو شکوۂ بیداد نہ ہوعشق آزاد ہے کیوں حسن بھی آزاد نہ ہوعہد نو برق ہے آتش زن ہر خرمن ہےایمن اس سے کوئی صحرا نہ کوئی گلشن ہےاس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہےملت ختم رسل شعلہ بہ پیراہن ہےآج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیداآگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدادیکھ کر رنگ چمن ہو نہ پریشاں مالیکوکب غنچہ سے شاخیں ہیں چمکنے والیخس و خاشاک سے ہوتا ہے گلستاں خالیگل بر انداز ہے خون شہدا کی لالیرنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عنابی ہےیہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہےامتیں گلشن ہستی میں ثمر چیدہ بھی ہیںاور محروم ثمر بھی ہیں خزاں دیدہ بھی ہیںسیکڑوں نخل ہیں کاہیدہ بھی بالیدہ بھی ہیںسیکڑوں بطن چمن میں ابھی پوشیدہ بھی ہیںنخل اسلام نمونہ ہے برومندی کاپھل ہے یہ سیکڑوں صدیوں کی چمن بندی کاپاک ہے گرد وطن سے سر داماں تیراتو وہ یوسف ہے کہ ہر مصر ہے کنعاں تیراقافلہ ہو نہ سکے گا کبھی ویراں تیراغیر یک بانگ درا کچھ نہیں ساماں تیرانخل شمع استی و در شعلہ دو ریشۂ توعاقبت سوز بود سایۂ اندیشۂ توتو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سےنشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سےہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سےپاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سےکشتئ حق کا زمانے میں سہارا تو ہےعصر نو رات ہے دھندلا سا ستارا تو ہےہے جو ہنگامہ بپا یورش بلغاری کاغافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کاتو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کاامتحاں ہے ترے ایثار کا خودداری کاکیوں ہراساں ہے صہیل فرس اعدا سےنور حق بجھ نہ سکے گا نفس اعدا سےچشم اقوام سے مخفی ہے حقیقت تیریہے ابھی محفل ہستی کو ضرورت تیریزندہ رکھتی ہے زمانے کو حرارت تیریکوکب قسمت امکاں ہے خلافت تیریوقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہےنور توحید کا اتمام ابھی باقی ہےمثل بو قید ہے غنچے میں پریشاں ہو جارخت بر دوش ہوائے چمنستاں ہو جاہے تنک مایہ تو ذرے سے بیاباں ہو جانغمۂ موج ہے ہنگامۂ طوفاں ہو جاقوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دےدہر میں اسم محمد سے اجالا کر دےہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہوچمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہویہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہوبزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہوخیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہےنبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہےدشت میں دامن کہسار میں میدان میں ہےبحر میں موج کی آغوش میں طوفان میں ہےچین کے شہر مراقش کے بیابان میں ہےاور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہےچشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھےرفعت شان رفعنا لک ذکرک دیکھےمردم چشم زمیں یعنی وہ کالی دنیاوہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیاگرمی مہر کی پروردہ ہلالی دنیاعشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیاتپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرحغوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرحعقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تریمرے درویش خلافت ہے جہانگیر تریما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تریتو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تریکی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیںیہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
یہ واقعےحادثےتصادمہر ایک غماور ہر اک مسرتہر اک اذیتہر ایک لذتہر اک تبسمہر ایک آنسوہر ایک نغمہہر ایک خوشبووہ زخم کا درد ہوکہ وہ لمس کا ہو جادوخود اپنی آواز ہو کہ ماحول کی صدائیںیہ ذہن میں بنتی اور بگڑتی ہوئی فضائیںوہ فکر میں آئے زلزلے ہوں کہ دل کی ہلچلتمام احساسسارے جذبےیہ جیسے پتے ہیںبہتے پانی کی سطح پرجیسے تیرتے ہیںابھی یہاں ہیںابھی وہاں ہیںاور اب ہیں اوجھلدکھائی دیتا نہیں ہے لیکنیہ کچھ تو ہےجو کہ بہہ رہا ہےیہ کیسا دریا ہےکن پہاڑوں سے آ رہا ہےیہ کس سمندر کو جا رہا ہےیہ وقت کیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books