aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "alqaab"
جمہوریت نواز بشر دوست امن خواہخود کو جو خود دیے تھے وہ القاب کیا ہوئے
سب کے لیے وہی ہیں القاب چاہتوں کےسب کے لیے برابر پھیلا رہی ہے بازو
کتنے القاب تھےمیں لکھا کیا کاٹا کیا
نہ دنیا کا ہم مال و زر مانگتے ہیںکسی سے نہ القاب سر مانگتے ہیں
خسرو فکر و شہنشاہ تخیل کہیےپھر بھی منت کش القاب ہے غالبؔ کی غزل
نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاببازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
بہت دھیمے سروں میں گنگناتی ہےچمکتے زرد پھولوں سے لدی ننھی پہاڑی کے عقب میں
عقاب کے پنجہ ہائے خونیںکی طرح آنکھوں پہ آ رہے ہیں
امڈ رہے ہیں ہر اک پل سے موت کے ٹھٹھےوہ جا رہی ہے مری پنجۂ عقاب میں ماں
چيونٹي ميں پائمال و خوار و پريشان و دردمند
چڑیوں کی طرح دانے پہ گرتا ہے کس لیےپرواز رکھ بلند کہ تو بن سکے عقاب
رنگ خوشبو فلک پیمائی کے نئے اندازکرم خوردہ میز کے عقب میں بوڑھا شاعر
لیکن میرا غصہ کس شیر کے بدن میں جھرجھراتا ہے؟میری آگ کس عقاب کی آنکھوں میں کپکپاتی ہے؟
کون سا تو عقاب اور شاہین ہےمنہ لگانا تجھے میری توہین ہے
دن عقاب کی چونچ سے گرااور سورج مکھی کا باغ کیوں نہ بن سکا
مجھے مصلوب کرنے والو شقی القلب حکمرانوبھلا پھوٹتی کرنوں کو بھی کوئی صلیب دے سکا
طوفان باد و باراں میںسینٹورس کے عقب میں
فارورڈ جاتا ہوں میں گگلی اٹھانے کے لئےعقب میں اپنے مگر وکٹیں گری پاتا ہوں میں
باز کبوتر کوا چڑیاہاتھی اونٹ عقاب اور شکرا
مرے عقب میں چپ کھڑی ہے اک محافظوں کی صفہجوم ہٹ نہیں رہا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books