aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bach"
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیںتم آ رہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر
تو نے دنیا کی نگاہوں سے جو بچ کر لکھےسالہا سال مرے نام برابر لکھےکبھی دن میں تو کبھی رات کو اٹھ کر لکھے
ہر طرف کنکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیںدوسروں کے پرچوں کو رہنما سمجھتے ہیںشاید اس طرح کوئی راستہ ہی مل جائےبے نشاں جوابوں کا کچھ پتہ ہی مل جائے
دیار ہند تھا گہوارہ یاد ہے ہم دمبہت زمانہ ہوا کس کے کس کے بچپن کااسی زمین پہ کھیلا ہے رامؔ کا بچپناسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نےکسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھااسی دیار نے دیکھی ہے کرشنؔ کی لیلایہیں گھروندوں میں سیتا سلوچنا رادھاکسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گییہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاندیہی گھٹائیں یہی برق و رعد و قوس قزحیہیں کے گیت روایات موسموں کے جلوسہوا زمانہ کہ سدھارتھؔ کے تھے گہوارےانہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرمؔ کاسنا ہے بھرترہریؔ بھی انہیں سے کھیلا تھابھرتؔ اگستؔ کپلؔ ویاسؔ پاشیؔ کوٹیلہؔجنکؔ وششتؔ منوؔ والمیکؔ وشوامترؔکنادؔ گوتمؔ و رامانجؔ کمارلؔ بھٹموہن جوڈارو ہڑپا کے اور اجنتا کےبنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھےاسی ہنڈولے میں بھوبھوتؔ و کالیداسؔ کبھیہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھےسرسوتی نے زبانوں کو ان کی چوما تھایہیں کے چاند و سورج کھلونے تھے ان کےانہیں فضاؤں میں بچپن پلا تھا خسروؔ کااسی زمیں سے اٹھے تان سینؔ اور اکبرؔرحیمؔ نانکؔ و چیتنیہؔ اور چشتیؔ نےانہیں فضاؤں میں بچپن کے دن گزارے تھےاسی زمیں پہ کبھی شاہزادۂ خرمؔذرا سی دل شکنی پر جو رو دیا ہوگابھر آیا تھا دل نازک تو کیا عجب اس میںان آنسوؤں میں جھلک تاج کی بھی دیکھی ہواہلیا بائیؔ دمنؔ پدمنیؔ و رضیہؔ نےیہیں کے پیڑوں کی شاخوں میں ڈالے تھے جھولےاسی فضا میں بڑھائی تھی پینگ بچپن کیانہی نظاروں میں ساون کے گیت گائے تھےاسی زمین پہ گھٹنوں کے بل چلے ہوں گےملکؔ محمد و رسکھانؔ اور تلسیؔ داسانہیں فضاؤں میں گونجی تھی توتلی بولیکبیرؔ داس ٹکارامؔ سورؔ و میراؔ کیاسی ہنڈولے میں ودیاپتیؔ کا کنٹھ کھلااسی زمین کے تھے لال میرؔ و غالبؔ بھیٹھمک ٹھمک کے چلے تھے گھروں کے آنگن میںانیسؔ و حالیؔ و اقبالؔ اور وارثؔ شاہیہیں کی خاک سے ابھرے تھے پریم چندؔ و ٹیگورؔیہیں سے اٹھے تھے تہذیب ہند کے معماراسی زمین نے دیکھا تھا بال پن ان کایہیں دکھائی تھیں ان سب نے بال لیلائیںیہیں ہر ایک کے بچپن نے تربیت پائییہیں ہر ایک کے جیون کا بال کانڈ کھلایہیں سے اٹھتے بگولوں کے ساتھ دوڑے ہیںیہیں کی مست گھٹاؤں کے ساتھ جھومے ہیںیہیں کی مدھ بھری برسات میں نہائے ہیںلپٹ کے کیچڑ و پانی سے بچپنے ان کےاسی زمین سے اٹھے وہ دیش کے ساونتاڑا دیا تھا جنہیں کمپنی نے توپوں سےاسی زمین سے اٹھی ہیں ان گنت نسلیںپلے ہیں ہند ہنڈولے میں ان گنت بچےمجھ ایسے کتنے ہی گمنام بچے کھیلے ہیںاسی زمیں سے اسی میں سپرد خاک ہوئےزمین ہند اب آرام گاہ ہے ان کیاس ارض پاک سے اٹھیں بہت سی تہذیبیںیہیں طلوع ہوئیں اور یہیں غروب ہوئیںاسی زمین سے ابھرے کئی علوم و فنونفراز کوہ ہمالہ یہ دور گنگ و جمناور ان کی گود میں پروردہ کاروانوں نےیہیں رموز خرام سکوں نما سیکھےنسیم صبح تمدن نے بھیرویں چھیڑییہیں وطن کے ترانوں کی وہ پویں پھوٹیںوہ بے قرار سکوں زا ترنم سحریوہ کپکپاتے ہوئے سوز و ساز کے شعلےانہی فضاؤں میں انگڑائیاں جو لے کے اٹھےلوؤں سے جن کے چراغاں ہوئی تھی بزم حیاتجنہوں نے ہند کی تہذیب کو زمانہ ہوابہت سے زاویوں سے آئینہ دکھایا تھااسی زمیں پہ ڈھلی ہے مری حیات کی شاماسی زمین پہ وہ صبح مسکرائی ہےتمام شعلہ و شبنم مری حیات کی صبحسناؤں آج کہانی میں اپنے بچپن کیدل و دماغ کی کلیاں ابھی نہ چٹکی تھیںہمیشہ کھیلتا رہتا تھا بھائی بہنوں میںہمارے ساتھ محلے کی لڑکیاں لڑکےمچائے رکھتے تھے بالک ادھم ہر ایک گھڑیلہو ترنگ اچھل پھاند کا یہ عالم تھامحلہ سر پہ اٹھائے پھرے جدھر گزرےہمارے چہچہے اور شور گونجتے رہتےچہار سمت محلے کے گوشے گوشے میںفضا میں آج بھی لا ریب گونجتے ہوں گےاگرچہ دوسرے بچوں کی طرح تھا میں بھیبظاہر اوروں کے بچپن سا تھا مرا بچپنیہ سب سہی مرے بچپن کی شخصیت بھی تھی ایکوہ شخصیت کہ بہت شوخ جس کے تھے خد و خالادا ادا میں کوئی شان انفرادی تھیغرض کچھ اور ہی لچھن تھے میرے بچپن کےمجھے تھا چھوٹے بڑوں سے بہت شدید لگاؤہر ایک پر میں چھڑکتا تھا اپنی ننھی سی جاںدل امڈا آتا تھا ایسا کہ جی یہ چاہتا تھااٹھا کے رکھ لوں کلیجے میں اپنی دنیا کومجھے ہے یاد ابھی تک کہ کھیل کود میں بھیکچھ ایسے وقفے پر اسرار آ ہی جاتے تھےکہ جن میں سوچنے لگتا تھا کچھ مرا بچپنکئی معانئ بے لفظ چھونے لگتے تھےبطون غیب سے میرے شعور اصغر کوہر ایک منظر مانوس گھر کا ہر گوشہکسی طرح کی ہو گھر میں سجی ہوئی ہر چیزمرے محلے کی گلیاں مکاں در و دیوارچبوترے کنویں کچھ پیڑ جھاڑیاں بیلیںوہ پھیری والے کئی ان کے بھانت بھانت کے بولوہ جانے بوجھے مناظر وہ آسماں و زمیںبدلتے وقت کا آئینہ گرمی و خنکیغروب مہر میں رنگوں کا جاگتا جادوشفق کے شیش محل میں گداز پنہاں سےجواہروں کی چٹانیں سی کچھ پگھلتی ہوئیںشجر حجر کی وہ کچھ سوچتی ہوئی دنیاسہانی رات کی مانوس رمزیت کا فسوںعلی الصباح افق کی وہ تھرتھراتی بھویںکسی کا جھانکنا آہستہ پھوٹتی پو سےوہ دوپہر کا سمے درجۂ تپش کا چڑھاؤتھکی تھکی سی فضا میں وہ زندگی کا اتارہوا کی بنسیاں بنسواڑیوں میں بجتی ہوئیںوہ دن کے بڑھتے ہوئے سائے سہ پہر کا سکوںسکوت شام کا جب دونوں وقت ملتے ہیںغرض جھلکتے ہوئے سرسری مناظر پرمجھے گمان پرستانیت کا ہوتا تھاہر ایک چیز کی وہ خواب ناک اصلیتمرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئیلیے ربوبیت کائنات کا احساسہر ایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپہر اک نظارہ اک آئینہ خانۂ حیرتہر ایک منظر مانوس ایک حیرت زارکہیں رہوں کہیں کھیلوں کہیں پڑھوں لکھوںمرے شعور پہ منڈلاتے تھے مناظر دہرمیں اکثر ان کے تصور میں ڈوب جاتا تھاوفور جذبہ سے ہو جاتی تھی مژہ پر نممجھے یقین ہے ان عنصری مناظر سےکہ عام بچوں سے لیتا تھا میں زیادہ اثرکسی سمے مری طفلی رہی نہ بے پروانہ چھو سکی مری طفلی کو غفلت طفلییہ کھیل کود کے لمحوں میں ہوتا تھا احساسدعائیں دیتا ہو جیسے مجھے سکوت دوامکہ جیسے ہاتھ ابد رکھ دے دوش طفلی پرہر ایک لمحہ کے رخنوں سے جھانکتی صدیاںکہانیاں جو سنوں ان میں ڈوب جاتا تھاکہ آدمی کے لیے آدمی کی جگ بیتیسے بڑھ کے کون سی شے اور ہو ہی سکتی ہےانہی فسانوں میں پنہاں تھے زندگی کے رموزانہی فسانوں میں کھلتے تھے راز ہائے حیاتانہیں فسانوں میں ملتی تھیں زیست کی قدریںرموز بیش بہا ٹھیٹھ آدمیت کےکہانیاں تھیں کہ صد درس گاہ رقت قلبہر اک کہانی میں شائستگی غم کا سبقوہ عنصر آنسوؤں کا داستان انساں میںوہ نل دمن کی کتھا سر گزشت ساوتریشکنتلاؔ کی کہانی بھرتؔ کی قربانیوہ مرگ بھیشم پتامہ وہ سیج تیروں کیوہ پانچوں پانڈوں کی سورگ یاترا کی کتھاوطن سے رخصت سدھارتھؔ رامؔ کا بن باسوفا کے بعد بھی سیتاؔ کی وہ جلا وطنیوہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئےبلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جاناوہ اندھ کار وہ بارش، بڑھی ہوئی جمناغم آفرین کہانی وہ ہیرؔ رانجھاؔ کیشعور ہند کے بچپن کی یادگار عظیمکہ ایسے ویسے تخیل کی سانس اکھڑ جائےکئی محیر ادراک دیو مالائیںہت اوپدیش کے قصے کتھا سرت ساگرکروڑوں سینوں میں وہ گونجتا ہوا آلھامیں پوچھتا ہوں کسی اور ملک والوں سےکہانیوں کی یہ دولت یہ بے بہا دولتفسانے دیکھ لو ان کے نظر بھی آتی ہےمیں پوچھتا ہوں کہ گہوارے اور قوموں کےبسے ہوئے ہیں کہیں ایسی داستانوں سےکہانیاں جو میں سنتا تھا اپنے بچپن میںمرے لیے وہ نہ تھیں محض باعث تفریحفسانوں سے مرے بچپن نے سوچنا سیکھافسانوں سے مجھے سنجیدگی کے درس ملےفسانوں میں نظر آتی تھی مجھ کو یہ دنیاغم و خوشی میں رچی پیار میں بسائی ہوئیفسانوں سے مرے دل نے گھلاوٹیں پائیںیہی نہیں کہ مشاہیر ہی کے افسانےذرا سی عمر میں کرتے ہوں مجھ کو متأثرمحلے ٹولے کے گمنام آدمیوں کےکچھ ایسے سننے میں آتے تھے واقعات حیاتجوں یوں تو ہوتے تھے فرسودہ اور معمولیمگر تھے آئینے اخلاص اور شرافت کےیہ چند آئی گئی باتیں ایسی باتیں تھیںکہ جن کی اوٹ چمکتا تھا درد انسانییہ واردات نہیں رزمیے حیات کے تھےغرض کہ یہ ہیں مرے بچپنے کی تصویریںندیم اور بھی کچھ خط و خال ہیں ان کےیہ میری ماں کا ہے کہنا کہ جب میں بچہ تھامیں ایسے آدمی کی گود میں نہ جاتا تھاجو بد قمار ہو عیبی ہو یا ہو بد صورتمجھے بھی یاد ہے نو دس برس ہی کا میں تھاتو مجھ پہ کرتا تھا جادو سا حسن انسانیکچھ ایسا ہوتا تھا محسوس جب میں دیکھتا تھاشگفتہ رنگ تر و تازہ روپ والوں کاکہ ان کی آنچ مری ہڈیاں گلا دے گیاک آزمائش جاں تھی کہ تھا شعور جمالاور اس کی نشتریت اس کی استخواں سوزیغم و نشاط لگاوٹ محبت و نفرتاک انتشار سکوں اضطراب پیار عتابوہ بے پناہ ذکی الحسی وہ حلم و غرورکبھی کبھی وہ بھرے گھر میں حس تنہائیوہ وحشتیں مری ماحول خوش گوار میں بھیمری سرشت میں ضدین کے کئی جوڑےشروع ہی سے تھے موجود آب و تاب کے ساتھمرے مزاج میں پنہاں تھی ایک جدلیترگوں میں چھوٹتے رہتے تھے بے شمار انارندیم یہ ہیں مرے بال پن کے کچھ آثاروفور و شدت جذبات کا یہ عالم تھاکہ کوندے جست کریں دل کے آبگینے میںوہ بچپنا جسے برداشت اپنی مشکل ہووہ بچپنا جو خود اپنی ہی تیوریاں سی چڑھائےندیم ذکر جوانی سے کانپ جاتا ہوںجوانی آئی دبے پاؤں اور یوں آئیکہ اس کے آتے ہی بگڑا بنا بنایا کھیلوہ خواہشات کے جذبات کے امڈتے ہوئےوہ ہونکتے ہوئے بے نام آگ کے طوفاںوہ پھوٹتا ہوا جوالا مکھی جوانی کارگوں میں اٹھتی ہوئی آندھیوں کے وہ جھٹکےکہ جو توازن ہستی جھنجھوڑ کے رکھ دیںوہ زلزلے کہ پہاڑوں کے پیر اکھڑ جائیںبلوغیت کی وہ ٹیسیں وہ کرب نشو و نمااور ایسے میں مجھے بیاہا گیا بھلا کس سےجو ہو نہ سکتی تھی ہرگز مری شریک حیاتہم ایک دوسرے کے واسطے بنے ہی نہ تھےسیاہ ہو گئی دنیا مری نگاہوں میںوہ جس کو کہتے ہیں شادیٔ خانہ آبادیمرے لیے وہ بنی بیوگی جوانی کیلٹا سہاگ مری زندگی کا مانڈو میںندیم کھا گئی مجھ کو نظر جوانی کیبلائے جان مجھے ہو گیا شعور جمالتلاش شعلۂ الفت سے یہ ہوا حاصلکہ نفرتوں کا اگن کنڈ بن گئی ہستیوہ حلق و سینہ و رگ رگ میں بے پناہ چبھاندیم جیسے نگل لی ہو میں نے ناگ پھنیز عشق زادم و عشقم کمشت زار و دریغخبر نہ برد بہ رستم کسے کہ سہرابمنہ پوچھ عالم کام و دہن ندیم مرےثمر حیات کا جب راکھ بن گیا منہ میںمیں چلتی پھرتی چتا بن گیا جوانی کیمیں کاندھا دیتا رہا اپنے جیتے مردے کویہ سوچتا تھا کہ اب کیا کروں کہاں جاؤںبہت سے اور مصائب بھی مجھ پہ ٹوٹ پڑےمیں ڈھونڈھنے لگا ہر سمت سچی جھوٹی پناہتلاش حسن میں شعر و ادب میں دوستی میںرندھی صدا سے محبت کی بھیک مانگی ہےنئے سرے سے سمجھنا پڑا ہے دنیا کوبڑے جتن سے سنبھالا ہے خود کو میں نے ندیممجھے سنبھلنے میں تو چالیس سال گزرے ہیںمیری حیات تو وش پان کی کتھا ہے ندیممیں زہر پی کے زمانے کو دے سکا امرتنہ پوچھ میں نے جو زہرابۂ حیات پیامگر ہوں دل سے میں اس کے لیے سپاس گزارلرزتے ہاتھوں سے دامن خلوص کا نہ چھٹابچا کے رکھی تھی میں نے امانت طفلیاسے نہ چھین سکی مجھ سے دست برد شباببقول شاعر ملک فرنگ ہر بچہخود اپنے عہد جوانی کا باپ ہوتا ہےیہ کم نہیں ہے کہ طفلیٔ رفتہ چھوڑ گئیدل حزیں میں کئی چھوٹے چھوٹے نقش قدممری انا کی رگوں میں پڑے ہوئے ہیں ابھینہ جانے کتنے بہت نرم انگلیوں کے نشاںہنوز وقت کے بے درد ہاتھ کر نہ سکےحیات رفتہ کی زندہ نشانیوں کو فنازمانہ چھین سکے گا نہ میری فطرت سےمری صفا مرے تحت الشعور کی عصمتتخیلات کی دوشیزگی کا رد عملجوان ہو کے بھی بے لوث طفل وش جذباتسیانا ہونے پہ بھی یہ جبلتیں میرییہ سر خوشی و غم بے ریا یہ قلب گدازبغیر بیر کے ان بن غرض سے پاک تپاکغرض سے پاک یہ آنسو غرض سے پاک ہنسییہ دشت دہر میں ہمدردیوں کا سرچشمہقبولیت کا یہ جذبہ یہ کائنات و حیاتاس ارض پاک پر ایمان یہ ہم آہنگیہر آدمی سے ہر اک خواب و زیست سے یہ لگاؤیہ ماں کی گود کا احساس سب مناظر میںقریب و دور زمیں میں یہ بوئے وطینتنظام شمس و قمر میں پیام حفظ حیاتبہ چشم شام و سحر مامتا کی شبنم سییہ ساز و دل میں مرے نغمۂ انالکونینہر اضطراب میں روح سکون بے پایاںزمانۂ گزراں میں دوام کا سرگمیہ بزم جشن حیات و ممات سجتی ہوئیکسی کی یاد کی شہنائیاں سی بجتی ہوئییہ رمزیت کے عناصر شعور پختہ میںفلک پہ وجد میں لاتی ہے جو فرشتوں کووہ شاعری بھی بلوغ مزاج طفلی ہےیہ نشتریت ہستی یہ اس کی شعریتیہ پتی پتی پہ گلزار زندگی کے کسیلطیف نور کی پرچھائیاں سی پڑتی ہوئیبہم یہ حیرت و مانوسیت کی سرگوشیبشر کی ذات کہ مہر الوہیت بہ جبیںابد کے دل میں جڑیں مارتا ہوا سبزہغم جہاں مجھے آنکھیں دکھا نہیں سکتاکہ آنکھیں دیکھے ہوئے ہوں میں نے اپنے بچپن کیمرے لہو میں ابھی تک سنائی دیتی ہیںسکوت حزن میں بھی گھنگھرؤں کی جھنکاریںیہ اور بات کہ میں اس پہ کان دے نہ سکوںاسی ودیعت طفلی کا اب سہارا ہےیہی ہیں مرہم کافور دل کے زخموں پرانہی کو رکھنا ہے محفوظ تا دم آخرزمین ہند ہے گہوارہ آج بھی ہم دماگر حساب کریں دس کروڑ بچوں کایہ بچے ہند کی سب سے بڑی امانت ہیںہر ایک بچے میں ہیں صد جہان امکاناتمگر وطن کا حل و عقد جن کے ہاتھ میں ہےنظام زندگئ ہند جن کے بس میں ہےرویہ دیکھ کے ان کا یہ کہنا پڑتا ہےکسے پڑی ہے کہ سمجھے وہ اس امانت کوکسے پڑی ہے کہ بچوں کی زندگی کو بچائےخراب ہونے سے ٹلنے سے سوکھ جانے سےبچائے کون ان آزردہ ہونہاروں کووہ زندگی جسے یہ دے رہے ہیں بھارت کوکروڑوں بچوں کے مٹنے کا اک المیہ ہےچرائے جاتے ہیں بچے ابھی گھروں سے یہاںکہ جسم توڑ دیے جائیں ان کے تاکہ ملےچرانے والوں کو خیرات ماگھ میلے کیجو اس عذاب سے بچ جائیں تو گلے پڑ جائیںوہ لعنتیں کہ ہمارے کروڑوں بچوں کیندیم خیر سے مٹی خراب ہو جائےوہ مفلسی کہ خوشی چھین لے وہ بے برگیاداسیوں سے بھری زندگی کی بے رنگیوہ یاسیات نہ جس کو چھوئے شعاع امیدوہ آنکھیں دیکھتی ہیں ہر طرف جو بے نوریوہ ٹکٹکی کہ جو پتھرا کے رہ گئی ہو ندیموہ بے دلی کی ہنسی چھین لے جو ہونٹوں سےوہ دکھ کہ جس سے ستاروں کی آنکھ بھر آئےوہ گندگی وہ کثافت مرض زدہ پیکروہ بچے چھن گئے ہوں جن سے بچپنے ان کےہمیں نے گھونٹ دیا جس کے بچپنے کا گلاجو کھاتے پیتے گھروں کے ہیں بچے ان کو بھی کیاسماج پھولنے پھلنے کے دے سکا سادھنوہ سانس لیتے ہیں تہذیب کش فضاؤں میںہم ان کو دیتے ہیں بے جان اور غلط تعلیمملے گا علم جہالت نما سے کیا ان کونکل کے مدرسوں اور یونیورسٹیوں سےیہ بد نصیب نہ گھر کے نہ گھاٹ کے ہوں گےمیں پوچھتا ہوں یہ تعلیم ہے کہ مکاریکروڑوں زندگیوں سے یہ بے پناہ دغانصاب ایسا کہ محنت کریں اگر اس پربجائے علم جہالت کا اکتساب کریںیہ الٹا درس ادب یہ سڑی ہوئی تعلیمدماغ کی ہو غذا یا غذائے جسمانیہر اک طرح کی غذا میں یہاں ملاوٹ ہےوہ جس کو بچوں کی تعلیم کہہ کے دیتے ہیںوہ درس الٹی چھری ہے گلے پہ بچپن کےزمین ہند ہنڈولا نہیں ہے بچوں کاکروڑوں بچوں کا یہ دیس اب جنازہ ہےہم انقلاب کے خطروں سے خوب واقف ہیںکچھ اور روز یہی رہ گئے جو لیل و نہارتو مول لینا پڑے گا ہمیں یہ خطرہ بھیکہ بچے قوم کی سب سے بڑی امانت ہیں
محبت کے راستے میںایک درخت ہےہم جس کے سائے میںدھوپ سے نہیں بچ سکتےاور ایک دیوار ہےجس پر کبھی دھوپ نہیں پڑتیمحبت کے راستے میںایک سمندر ہےجس میں کبھی رات نہیں ہوتیاور ایک جنگلجس میں پھیلی ہوئی رات کوہم پار نہیں کر سکتےمحبت کے راستے میںہوا اور اداسی کے رخ پرایک کمرہ ہےجس میں بیٹھ کےہم کسی کو یاد کر سکتے ہیںاور بھلا سکتے ہیں
اکیلے میں تمہاری یاد سے بچ کر کہاں جاؤں؟لب خاموش کی فریاد سے بچ کر کہاں جاؤں؟تمہیں کہہ دو دل ناشاد سے بچ کر کہاں جاؤں؟
حلوے کے لیے پھر آج بھی ہم اک آس لگائے بیٹھے ہیںجو بات زباں پر لا نہ سکے وہ دل میں چھپائے بیٹھے ہیںتھوڑی سی مٹھائی طاق پہ تھی مٹھی میں چرائے بیٹھے ہیںابو کے بھگائے بھاگے تھے امی کے بلائے بیٹھے ہیںکچھ بچ بھی گئی ہیں پٹنے سے کچھ مار بھی کھائے بیٹھے ہیںتجھ سے تو ہمیں کوئی شکوہ اے خالق صبح و شام نہیںاسکول ہی ایسا ہے کہ جہاں کچھ چین نہیں آرام نہیںاس وقت اگرچہ سر میں کسی کے درد برائے نام نہیںہر وقت مگر پڑھتے رہنا کم عمروں کا تو کام نہیںسب اپنی اپنی کرسی پر سدھ بدھ بسرائے بیٹھے ہیںاک بار کہیں سے مل جاتا ہم سب کو چراغ چین اگربس سال میں اک دن پڑھ لیتے درجے کی کتابیں فر فر فرپھر خواب ہی دلچسپی رہتی پھر خوب مزہ آتا دن بھراسکول میں جانا کیوں ہوتا ہر روز یہ رہتا کیوں چکرامید نہیں لیکن پھر بھی امید لگائے بیٹھے ہیںلیکن یہ زمانہ علم کا ہے یہ وقت ہے آگے بڑھنے کامل جل کے کریں گے گر محنت ہو جائے گا ہر سپنا پوراہمت سے ہوئی ہیں تعمیریں جرأت سے ہوا ہے کام نیاجب عزم و عمل اچھا ہوگا اچھا ہی نتیجہ بھی ہوگاہم لوگ یہاں حلوہ کھا کر اک شمع جلائے بیٹھے ہیں
کچھ آزادی کے متوالے، جاں کف پہ لیے میداں میں گئےہر سو دشمن کا نرغہ تھا، کچھ بچ نکلے، کچھ کھیت رہےعالم میں ان کا شہرہ ہےشوپیںؔ کا نغمہ بجتا ہے
ایک شب ہلکی سی جنبش مجھے محسوس ہوئیمیں یہ سمجھا مرے شانوں کو ہلاتا ہے کوئیآنکھ اٹھائی تو یہ دیکھا کہ زمیں ہلتی ہےجس جگہ شے کوئی رکھی ہے وہیں ہلتی ہےصحن و دیوار کی جنبش ہے تو در ہلتے ہیںباہر آیا تو یہ دیکھا کہ شجر ہلتے ہیںکوئی شے جنبش پیہم سے نہیں ہے محرومایک طاقت ہے پس پردہ مگر نامعلومچند لمحے بھی یہ نیرنگی عالم نہ رہیزلزلہ ختم ہوا جنبش پیہم نہ رہیحیرت دید سے انگشت بدنداں تھا میںشاہد جلوۂ قہاری یزداں تھا میںدفعتاً ایک صدا آہ و فغاں کی آئیمیرے اللہ یہ گھڑی کس پہ مصیبت لائیگل کیا زلزلۂ قہر نے کس گھر کا چراغکس پہ ڈھایا یہ ستم کس کو دیا ہجر کا داغجا کے نزدیک یہ نظارۂ حرماں دیکھاایک حسینہ کو بصد حال پریشاں دیکھابیضوی شکل میں تھے حسن کے جلوے پنہاںآنکھ میں سحر بھرا تھا مگر آنسو تھے رواںمیں نے گھبرا کے یہ پوچھا کہ یہ حالت کیوں ہےتیری ہستی ہدف رنج و مصیبت کیوں ہےبولی اے شاعر رنگین طبیعت مت پوچھروز و شب دل پہ گزرتی ہے قیامت مت پوچھلوگ دنیا کو تری مجھ کو زمیں کہتے ہیںاہل زر مجھ کو محبت میں حسیں کہتے ہیںمیں انہیں حسن پرستوں کی ہوں تڑپائی ہوئیتجھ سے کہنے کو یہ راز آئی ہوں گھبرائی ہوئیزرپرستوں سے ہیں بد دل مری دنیا کے غریبہیں گرفتار سلاسل مری دنیا کے غریبمجھ سے یہ تازہ بلائیں نہیں دیکھی جاتیظالموں کی یہ جفائیں نہیں دیکھی جاتیںچاہتی ہوں مرے عشاق میں کچھ فرق نہ ہومفت میں کشتیٔ احساس وفا غرق نہ ہوایک وہ جس کو میسر ہوں عمارات و نقیبایک وہ جس کو نہ ہو پھونس کا چھپر بھی نصیبصاحب دولت و ذی رتبہ و زردار ہو ایکبے نوا غمزدہ و بیکس و لاچار ہو ایکایک مختار ہو، اورنگ جہاں بانی کااک مرقع ہو غم و رنج و پریشانی کاسخت نفرت ہے مجھے اپنے پرستاروں سےچھین لیتے ہیں مجھے میرے طلب گاروں سےچیرہ دستی کا مٹا دیتی ہیں سب جاہ و جلالحیف صد حیف کہ حائل ہے غریبوں کا خیالیہ نہ ہوتے تو دکھاتی میں قیامت کا سماںیہ نہ ہوتے تو مٹاتی میں غرور انساںایک کروٹ میں بدل دیتی نظام عالماک اشارے ہی میں ہو جاتی ہے یہ محفل برہماک تبسم سے جہاں برق بہ داماں ہوتانہ یہ آرائشیں ہوتیں نہ یہ ساماں ہوتاہر ادا پوچھتی سرمایہ پرستوں کے مزاجکچھ تو فرمائیے حضرت کہ ہیں کس حال میں آجلکھ پتی سنکھ پتی بے سر و ساماں ہوتےجان بچ جائے بس اس بات کے خواہاں ہوتےبرسر خاک نظر آتے ہیں قصر و ایواںاشک خونیں سے مرے اور بھی اٹھتے طوفاںمیری آغوش میں سب اہل ستم آ جاتےمیرے برتاؤ سے بس ناک میں دم آ جاتےبعض کے منہ غم آلام سے کالے کرتیبعض کو موت کی دیوی کے حوالے کرتیخون زردار ہی مزدور کی مزدوری ہےمیں جو خاموش ہوں یہ باعث مجبوری ہےمیری آغوش میں جابر بھی ہیں مجبور بھی ہیںمیرے دامن ہی سے وابستہ یہ مزدور بھی ہیںضبط کرتی ہوں جو غم آتا ہے سہ جاتی ہوںجوش آتا ہے مگر کانپ کے رہ جاتی ہوں
حسن وقت مالک بھی ہے دیوتا بھیمحافظ بھی ہے اور خواجہ سرا بھییہ دیکھا ہے میں نےکہ جب بھی دریچوں میں تازہ شگوفہ کھلا ہےہوا سے وہ ہنس کر ذرا سا گلے بھی ملا ہےتو خواجہ سرا کی نظر سے کہاں بچ سکا ہے
دکھ کا شب خوں روز ادھورا رہ جاتا ہےاور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہےمیں اور میرا شہر محبتتاریکی کی چادر اوڑھےروشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیںگھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں!حد سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سےاپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیںانگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئےاب باری انگشت شہادت کی آنے والی ہےصبح سے پہلے وہ کٹنے سے بچ جائے تو!
ہم سے نظر ملائیے ہولی کا روز ہےتیر نظر چلائیے ہولی کا روز ہےبڑھیا شراب لائیے ہولی کا روز ہےخود پیجئے پلائیے ہولی کا روز ہےپردہ ذرا اٹھائیے ہولی کا روز ہےبے خود ہمیں بنائیے ہولی کا روز ہےسنجیدہ کیوں ہوئے مری صورت کو دیکھ کرسو بار مسکرائیے ہولی کا روز ہےیوں تو تمام عمر ستایا ہے آپ نےللہ نہ اب ستائیے ہولی کا روز ہےبچے گلی میں بیٹھے ہیں پچکاریاں لیےبچ بچ کے آپ جائیے ہولی کا روز ہےدنیا یہ جانتی ہے غزل گو نحیفؔ ہیںان کی غزل سنائیے ہولی کا روز ہے
بستہ پھینک کے لو جی بھاگا روشن آرا باغ کی جانبچلاتا چل گڈی چلپکے جامن ٹپکیں گےآنگن کی رسی سے ماں نے کپڑے کھولےاور تنور پہ لا کے ٹین کی چادر ڈالیسارے دن کے سکھائے پاپڑلچھی نے چادر میں لپیٹےبچ گئی ربا کیا کرایا دھل جانا تھاخیرو نے کھیت کی سوکھی مٹیجھریوں والے ہاتھ میں لے کربھیگی بھیگی آنکھوں سے پھر اوپر دیکھاجھوم کے پھر اٹھے ہیں بادلٹوٹ کے پھر مینہ برسے گا
راستہ آج بھی سایہ ہے مگر اک نیا سایہ ہےراہ میں ایک مکانوہ بھی سایہ ہے اداسی کا گھنیرا سنسانراہ میں آتی ہوئی ہر مورتایک سایہ ہے چڑیلحور کا اس میں کوئی عکس نظر آتا نہیںدیکھتے ہی جسے میں کانپ اٹھا کرتا ہوںآنکھوں میں خون اتر آتا ہےسامنے دھند سی چھا جاتی ہےدل دھڑکتا ہی چلا جاتا ہےاور میں دیکھتا ہوںسائے ملتے ہوئے گھلتے ہوئے کچھ بھوت سے بن جاتے ہیںہنہناتے ہوئے ہنستے ہیں پکار اٹھتے ہیںدل میں کیا دھیان یہی ہے اب بھیدل میں کیا دھیان یہی ہے اب بھیسایہ خاموش رہا کرتا ہےدیکھ ہم بولتے ہیں بولتے سائے ہیں تمامہم سے بچ تو کہاں جائے گااور میں کانپ اٹھا کرتا ہوںاور وہ بولتے ہیںکانپ اٹھا ہے لرزتا ہے یہ بزدل ناکامبات کرتا ہی نہیں ہے کوئیاب بھی شاید یہ سمجھتا ہے لرزتے دل میںسایہ خاموش رہا کرتا ہے
گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہونرم کلیوں پہ چڑھا دو غم دوراں کے غلافخود کو دل تھام کے مرغان گرفتار کہورات کو اس کے تبسم سے لپٹ کر سو جاؤصبح اٹھو تو اسے شاہد بازار کہوذہن کیا چیز ہے جذبے کی حقیقت کیا ہےفرش پر بیٹھ کے تبلیغ کے اشعار کہو
میں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوںیہی آگہی مرا لطف ہے مرا کرب ہےکہ میں جانتا ہوںمیں جانتا ہوں کہ دل میں جتنی صداقتیں ہیںوہ تیر ہیںجو چلیں تو نغمہ سنائی دےجو ہدف پہ جا کے لگیں تو کچھ بھی نہ بچ سکےکہ صداقتوں کی نفی ہماری حیات ہےمرے دل میں ایسی حقیقتوں نے پناہ لی ہےکہ جن پہ ایک نگاہ ڈالناسورجوں کو بطون جاں میں اتارنا ہےمیں جانتا ہوںکہ حاکموں کا جو حکم ہےوہ دراصل عدل کا خوف ہےوہ سزائیں دیتے ہیںاور نہیں جانتےکہ جتنی سزائیں ہیںوہ ستم گری کی ردائیں ہیں
ہاں کوئی اور ہوگا تو نے جو دیکھا ہوگاہم نہیں آگ سے بچ بچ کے گزرنے والے
مکدر ہے فضائے عالم امکاں سیاست سےبہت بے آبرو ہے آج کل انساں سیاست سےضمیر و ظرف کی اس کے یہاں قیمت نہیں کوئیجہاں میں در بدر ہیں صاحب ایماں سیاست سےیہ احساسات تہذیب و تمدن کو مٹاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےنہیں شیوہ سیاست کا محبت اور رواداریسکھاتی ہے پرستاروں کو اپنے یہ ریا کارینہ اس کا کوئی مسلک ہے نہ اس کا کوئی مذہب ہےدل حرس و ہوس میں بن کے رہتی ہے یہ چنگاریکسی کا گھر گراتی ہے کسی کا گھر سجاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےلڑاتی ہے یہی اک دوسرے کو ذات و مذہب پراسی کی شہہ پہ قتل عام ہوتا ہے یہاں اکثررعونت یہ سکھاتی ہے منافق حکمرانوں کواسی کے بطن سے ہوتے ہیں پیدا جبر و ظلم و شریہ اپنے محسنوں کا خون پی کر مسکراتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےسدا یہ اتحاد باہمی پر وار کرتی ہےتعصب کو ہوا دیتی ہے دل بیزار کرتی ہےکہیں تعمیر کرتی ہے عبادت گاہ فتنوں سےکہیں خود ہی عبادت گاہ کو مسمار کرتی ہےفریب و مکر سے اپنے یہ ہر سو قہر ڈھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےاسی کے دم سے فصلیں لہلہاتی ہیں فسادوں کییہی تکمیل کرتی ہے حکومت کے ارادوں کیاسی کی مصلحت سے بغض کے پودے پنپتے ہیںگرا دیتی ہے یہ دیوار باہم اعتمادوں کیہوا دے کر یہ بد عنوانیوں کی لو بڑھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےاشارے پر اسی کے شہر قصبے گاؤں جلتے ہیںاسی کی آستیں میں سازشوں کے ناگ پلتے ہیںستم گاروں پہ کرتی ہے یہ سایہ اپنے آنچل کااسی کی آڑ میں اشرار و قاتل بچ نکلتے ہیںیہ قانون و عدالت کو بھی اب آنکھیں دکھاتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہےجسارت کو یہی دہشت گری کا نام دیتی ہےیہ ہم سایے کو خود ہی جنگ کا پیغام دیتی ہےبدلتی ہے یہی تقدیر ارباب قیادت کییہ اپنے وارثوں کو سر خوشی کا جام دیتی ہےیہ وعدوں کے گھروندے ریگزاروں میں بناتی ہےسیاست آج کل کی کیسے کیسے گل کھلاتی ہے
چلو مسافر، اداس شاموں کی رہ گزر میںستارے، ڈھونڈیںچھلکتی آنکھوں میں زندگی کے جو بچ گئے ہیں وہ خواب ڈھونڈیںبھٹکتی گلیوں میں آبلوں کے گلاب دیکھیںپہاڑ سوچوں میں سبز رنگوں کے خواب دیکھیںچلو مسافرنشان منزل جو خواب سا ہے، جو آرزؤں کا حادثہ ہےاسی کے رستے میں کہکشائیں بکھیر دیں ہمبقا کے رستے میں خیمہ زن ہیں، خطا کے لشکر، فنا کے لشکرچلو مسافر فنا کے گھر سےبقا کی منزل اٹھا کے لائیں گےحکایتوں میں حقیقتوں کا مزاج بھر دیںکسی کے گھر میںاندھیرے گھر میںچراغ رکھ دیںچھلکتی آنکھوں میں خواب رکھ دیں
چمکو چمکو پیارے تارورنگوں اور امیدوں والےآنکھوں میں پھر خواب اتاروچمکو چمکو پیارے تارورات بہت ہے کالی کالیگلیاں ہیں سب خالی خالیہوا چلے تو ڈر لگتا ہےسونا سونا گھر لگتا ہےروشن سارے منظر کر دودنیا کو خوشیوں سے بھر دوچمکو چمکو پیارے تاروچپکے سے کھڑکی میں آؤاچھے اچھے گیت سناؤسب سے بچ کر سب سے چھپ کےبات کریں گے چپکے چپکےبادل سے تم دور ہی رہناجو کہنا ہو ہم سے کہناچمکو چمکو پیارے تارورنگوں اور امیدوں والےآنکھوں میں پھر خواب اتاروچمکو چمکو پیارے تارو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books