aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bach"
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیںتم آ رہی ہو زمانے کی آنکھ سے بچ کر
تو نے دنیا کی نگاہوں سے جو بچ کر لکھےسالہا سال مرے نام برابر لکھے
میں بچ گئی ماںمیں بچ گئی ماں
ہر طرف کنکھیوں سے بچ بچا کے تکتے ہیںدوسروں کے پرچوں کو رہنما سمجھتے ہیں
یہی زمیں یہی دریا پہاڑ جنگل باغیہی ہوائیں یہی صبح و شام سورج چاند
ہم جس کے سائے میںدھوپ سے نہیں بچ سکتے
اکیلے میں تمہاری یاد سے بچ کر کہاں جاؤں؟لب خاموش کی فریاد سے بچ کر کہاں جاؤں؟
کچھ بچ بھی گئی ہیں پٹنے سے کچھ مار بھی کھائے بیٹھے ہیںتجھ سے تو ہمیں کوئی شکوہ اے خالق صبح و شام نہیں
کچھ آزادی کے متوالے، جاں کف پہ لیے میداں میں گئےہر سو دشمن کا نرغہ تھا، کچھ بچ نکلے، کچھ کھیت رہے
لکھ پتی سنکھ پتی بے سر و ساماں ہوتےجان بچ جائے بس اس بات کے خواہاں ہوتے
ہوا سے وہ ہنس کر ذرا سا گلے بھی ملا ہےتو خواجہ سرا کی نظر سے کہاں بچ سکا ہے
صبح سے پہلے وہ کٹنے سے بچ جائے تو!
بچے گلی میں بیٹھے ہیں پچکاریاں لیےبچ بچ کے آپ جائیے ہولی کا روز ہے
بستہ پھینک کے لو جی بھاگا روشن آرا باغ کی جانبچلاتا چل گڈی چل
دیکھ ہم بولتے ہیں بولتے سائے ہیں تمامہم سے بچ تو کہاں جائے گا
گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہونرم کلیوں پہ چڑھا دو غم دوراں کے غلاف
جو ہدف پہ جا کے لگیں تو کچھ بھی نہ بچ سکےکہ صداقتوں کی نفی ہماری حیات ہے
ہاں کوئی اور ہوگا تو نے جو دیکھا ہوگاہم نہیں آگ سے بچ بچ کے گزرنے والے
آدمی کا جلال گردش میں سرنگوں ہےارادہ و اختیار اک اضطراب سنگیں ہے جس سے بچ کر
ستم گاروں پہ کرتی ہے یہ سایہ اپنے آنچل کااسی کی آڑ میں اشرار و قاتل بچ نکلتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books