aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chhe"
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابیافق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابیعروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑاسمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابیمسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نےتلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابیعطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہےشکوہ ترکمانی ذہن ہندی نطق اعرابیاثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبلنوا را تلخ ترمی زن چو ذوق نغمہ کم یابیتڑپ صحن چمن میں آشیاں میں شاخساروں میںجدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیر سیمابیوہ چشم پاک ہیں کیوں زینت بر گستواں دیکھےنظر آتی ہے جس کو مرد غازی کی جگر تابیضمیر لالہ میں روشن چراغ آرزو کر دےچمن کے ذرے ذرے کو شہید جستجو کر دےسرشک چشم مسلم میں ہے نیساں کا اثر پیداخلیل اللہ کے دریا میں ہوں گے پھر گہر پیداکتاب ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہےیہ شاخ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیداربود آں ترک شیرازی دل تبریز و کابل راصبا کرتی ہے بوئے گل سے اپنا ہم سفر پیدااگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہےکہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیداجہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینیجگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیداہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدانوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سےکبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیداترے سینے میں ہے پوشیدہ راز زندگی کہہ دےمسلماں سے حدیث سوز و ساز زندگی کہہ دےخدائے لم یزل کا دست قدرت تو زباں تو ہےیقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہےپرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کیستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہےمکاں فانی مکیں فانی ازل تیرا ابد تیراخدا کا آخری پیغام ہے تو جاوداں تو ہےحنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیراتری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہےتری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہےجہان آب و گل سے عالم جاوید کی خاطرنبوت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہےیہ نکتہ سر گزشت ملت بیضا سے ہے پیداکہ اقوام زمین ایشیا کا پاسباں تو ہےسبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کالیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کایہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانیاخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانیبتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جانہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانیمیان شاخساراں صحبت مرغ چمن کب تکترے بازو میں ہے پرواز شاہین قہستانیگماں آباد ہستی میں یقیں مرد مسلماں کابیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانیمٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نےوہ کیا تھا زور حیدر فقر بوذر صدق سلمانیہوئے احرار ملت جادہ پیما کس تجمل سےتماشائی شگاف در سے ہیں صدیوں کے زندانیثبات زندگی ایمان محکم سے ہے دنیا میںکہ المانی سے بھی پایندہ تر نکلا ہے تورانیجب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیداتو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیداغلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریںجو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریںکوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کانگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںولایت پادشاہی علم اشیا کی جہانگیرییہ سب کیا ہیں فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریںبراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہےہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریںتمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہےحذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریںحقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہولہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریںیقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالمجہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریںچہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابےدل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابےعقابی شان سے جھپٹے تھے جو بے بال و پر نکلےستارے شام کے خون شفق میں ڈوب کر نکلےہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلےغبار رہ گزر ہیں کیمیا پر ناز تھا جن کوجبینیں خاک پر رکھتے تھے جو اکسیر گر نکلےہمارا نرم رو قاصد پیام زندگی لایاخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلےحرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سےجوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلےزمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھےیہ خاکی زندہ تر پایندہ تر تابندہ تر نکلےجہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیںادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر نکلےیقیں افراد کا سرمایۂ تعمیر ملت ہےیہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہےتو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جاخودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جاہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کواخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جایہ ہندی وہ خراسانی یہ افغانی وہ تورانیتو اے شرمندۂ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جاغبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرےتو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جاخودی میں ڈوب جا غافل یہ سر زندگانی ہےنکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جامصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرشبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جاگزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سےگلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جاترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئیابھی تک آدمی صید زبون شہریاری ہےقیامت ہے کہ انساں نوع انساں کا شکاری ہےنظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کییہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہےوہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندان مغرب کوہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغ کارزاری ہےتدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتاجہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہےعمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہےخروش آموز بلبل ہو گرہ غنچے کی وا کر دےکہ تو اس گلستاں کے واسطے باد بہاری ہےپھر اٹھی ایشیا کے دل سے چنگاری محبت کیزمیں جولاں گہہ اطلس قبایان تتاری ہےبیا پیدا خریدا راست جان نا توانے راپس از مدت گزار افتاد برما کاروانے رابیا ساقی نوائے مرغ زار از شاخسار آمدبہار آمد نگار آمد نگار آمد قرار آمدکشید ابر بہاری خیمہ اندر وادی و صحراصدائے آبشاراں از فراز کوہسار آمدسرت گردم توہم قانون پیشیں ساز دہ ساقیکہ خیل نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمدکنار از زاہداں برگیر و بیباکانہ ساغر کشپس از مدت ازیں شاخ کہن بانگ ہزار آمدبہ مشتاقاں حدیث خواجۂ بدرو حنین آورتصرف ہائے پنہانش بچشم آشکار آمددگر شاخ خلیل از خون ما نمناک می گرددببازار محبت نقد ما کامل عیار آمدسر خاک شہیرے برگ ہائے لالہ می پاشمکہ خونش بانہال ملت ما سازگار آمدبیا تا گل بفیشانیم و مے در ساغر اندازیمفلک را سقف بشگافیم و طرح دیگر اندازیم
رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئےیاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئےرقص دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہوگاچھ دسمبر کو شری رام نے سوچا ہوگااتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئےجگمگاتے تھے جہاں رام کے قدموں کے نشاںپیار کی کاہکشاں لیتی تھی انگڑائی جہاںموڑ نفرت کے اسی راہ گزر میں آئےدھرم کیا ان کا تھا، کیا ذات تھی، یہ جانتا کونگھر نہ جلتا تو انہیں رات میں پہچانتا کونگھر جلانے کو مرا لوگ جو گھر میں آئےشاکاہاری تھے میرے دوست تمہارے خنجرتم نے بابر کی طرف پھینکے تھے سارے پتھرہے مرے سر کی خطا، زخم جو سر میں آئےپاؤں سرجو میں ابھی رام نے دھوئے بھی نہ تھےکہ نظر آئے وہاں خون کے گہرے دھبےپاؤں دھوئے بنا سرجو کے کنارے سے اٹھےرام یہ کہتے ہوئے اپنے دوارے سے اٹھےراجدھانی کی فضا آئی نہیں راس مجھےچھ دسمبر کو ملا دوسرا بن باس مجھے
ایسی یخ بستہ تعبیروں کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیںجس میں دھندلا چکر کھاتا چمکیلا پن چھ اطراف کا روگ بنا ہے
چھوٹی سی بلوچھوٹا سا بستہٹھونسا ہے جس میںکاغذ کا دستہلکڑی کا گھوڑاروئی کا بھالوچورن کی شیشیآلو کچالوبلو کا بستہجن کی پٹاریجب اس کو دیکھوپہلے سے بھاریلٹو بھی اس میںرسی بھی اس میںڈنڈا بھی اس میںگلی بھی اس میںاے پیاری بلویہ تو بتاؤکیا کام کرنےاسکول جاؤاردو نہ جانوانگلش نہ جانوکہتی ہو خود کوبلقیس بانوعمر کی اتنیکچی نہیں ہوچھ سال کی ہوبچی نہیں ہوباہر نکالولکڑی کا گھوڑایہ لٹو رسییہ گلی ڈنڈاگڑیا کے جوتےجمپر جرابیںبستے میں رکھواپنی کتابیںمنہ نہ بناؤاسکول جاؤاے پیاری بلواے پیاری بلو
چند بد زیب سے شہرت زدہ انساں اکثراپنی دولت و سخاوت کی نمائش کے لیےیا کبھی رحم کے جذبے سے حرارت پا کرچار چھ پیسے انہیں بخش دیا کرتے ہیں
چلا دھیمے دھیمے سے کچھوے کی چالپہنچتے پہنچتے اسے غار تک شام ہونے لگیاسے دیکھ کر شیر بھنا گیاچھٹنکی برابر یہ خوراک بھیجی ہے جنگل نےاور اس قدر دیر سےمٹا دوں گا خرگوش کی ذات کومیں جنگل کا جنگل ہی کھا جاؤں گاسنا اور خرگوش رونے لگاگڑگڑانے لگاحضور اس میں میری نہیں ہے خطانہ جنگل سبھا کا کوئی دوش ہےکہ جنگل نے تو سات خرگوش بھیجے مگرمگر کیامگر سرمگر کیا کیوں ہکلا رہے ہو بتاؤ مجھےمگر مگر مگر سرکہاں ہیں تمہارے چھ غدار ساتھیوہ خرگوش پھر سے سسکنے لگاہمیں راستے میں حضور ایکظالم نے روکا تھااور بہت گالیاں آپ کو دیںکہا میں دہراؤں کیسے وہ سب کچھ حضورکہا جاؤ کہہ دو مرے ساتھیوں کو وہی کھا گیایہ سننا تھا کہ شیر غرایا مونچھوں میں بل آ گئےاکڑنے لگی اس کی ہنٹری پونچھاور آنکھوں میں بس خون اترنے لگاکہاں ہے کدھر ہے بتا کون ہےمرے ہوتے کس کا ہوا حوصلہکہ میری رعایا پہ کوئی ظلم کر سکے
ایک دن حضرت فاروقؓ نے منبر پہ کہاکیا تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظورایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھیکہ ترے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتورچادریں مال غنیمت میں جو اب کے آئیںصحن مسجد میں وہ تقسیم ہوئیں سب کے حضوران میں ہر ایک کے حصہ میں فقط اک آئیتھا تمہارا بھی وہی حق کہ یہی ہے دستوراب جو یہ جسم پہ تیرے نظر آتا ہے لباسیہ اسی لوٹ کی چادر سے بنا ہوگا ضرورمختصر تھی وہ ردا اور ترا قد ہے درازایک چادر میں ترا جسم نہ ہوگا مستوراپنے حصہ سے زیادہ جو لیا تو نے تو ابتو خلافت کے نہ قابل ہے نہ ہم ہیں مامورگرچہ وہ حد مناسب سے بڑھا جاتا تھاسب کے سب مہر بہ لب تھے چہ اناث و چہ ذکورروک دے کوئی کسی کو یہ نہ رکھتا تھا مجالنشۂ عدل و مساوات سے سب تھے مخموراپنے فرزند سے فاروق معظم نے کہاتم کو ہے حالت اصلی کی حقیقت پہ عبورتمہیں دے سکتے ہو اس کا مری جانب سے جوابکہ نہ پکڑے مجھے محشر میں مرا رب غفوربولے یہ ابن عمرؓ سب سے مخاطب ہو کراس میں کچھ والد ماجد کا نہیں جرم و قصورایک چادر میں جو پورا نہ ہوا ان کا لباسکر سکی اس کو گوارا نہ مری طبع غیوراپنے حصہ کی بھی میں نے انہیں چادر دے دیواقعہ کی یہ حقیقت ہے کہ جو تھی مستورنکتہ چیں نے یہ کہا اٹھ کے کہ ہاں اے فاروقحکم دے ہم کو کہ اب ہم اسے مانیں گے ضرور
جہاں میں ہر طرف ہے علم ہی کی گرم بازاریزمیں سے آسماں تک بس اسی کا فیض ہے جارییہی سرچشمۂ اصلی ہے تہذیب و تمدن کابغیر اس کے بشر ہونا بھی ہے اک سخت بیماریبناتا ہے یہی انسان کو کامل ترین انساںسکھاتا ہے یہی اخلاق و ایثار و روا دارییہی قوموں کو پہنچاتا ہے بام اوج و رفعت پریہی ملکوں کے اندر پھونکتا ہے روح بیداریاسی کے نام کا چلتا ہے سکہ سارے عالم میںاسی کے سر پہ رہتا ہے ہمیشہ تاج سرداریاسی کے سب کرشمے یہ نظر آتے ہیں دنیا میںاسی کے دم سے رونق عالم امکاں کی ہے سارییہ لا سلکی، یہ ٹیلیفون یہ ریلیں، یہ طیارےیہ زیر آب و بالائے فلک انساں کی طراریحدود استوا قطبین سے یوں ہو گئے مدغمکہ ہے اب ربع مسکوں جیسے گھر کی چار دیواریسمندر ہو گئے پایاب صحرا بن گئے گلشنکیا سائنس نے بھی اعتراف عجز و ناچاریبخار و برق کا جرار لشکر ہے اب آمادہاگلوا لے زمین و آسماں کی دولتیں ساریغرض چاروں طرف اب علم ہی کی بادشاہی ہےکہ اس کے بازوؤں میں قوت دست الٰہی ہےنگاہ غور سے دیکھو اگر حالات انسانیتو ہو سکتا ہے حل یہ عقدۂ مشکل بہ آسانیوہی قومیں ترقی کے مدارج پر ہیں فائق ترکہ ہے جن میں تمدن اور سیاست کی فراوانیاسی کے زعم میں ہے جرمنی چرخ تفاخر پراسی کے زور پر مریخ کا ہمسر ہے جاپانیاسی کی قوت بازو پہ ہے مغرور امریکہاسی کے بل پر لڑکی ہو رہی ہے رستم ثانیاشارے پر اسی کے نقل و حرکت ہے سب اٹلی کیاسی کے تابع فرمان ہیں روسی و ایرانیاسی کے جنبش ابرو پہ ہے انگلینڈ کا غرہاسی کے ہیں سب آوردے فرانسیسی و البانیکوئی ملک اب نہیں جن میں یہ جوہر ہو نہ رخشندہنہ غافل اس سے چینی ہیں نہ شامی ہیں نہ افغانیبغیر اس کے جو رہنا چاہتے ہیں اس زمانے میںسمجھ رکھیں فنا ان کے لیے ہے حکم ربانیزمانہ پھینک دے گا خود انہیں قعر ہلاکت میںوہ اپنے ہاتھ سے ہوں گے خود اپنی قبر کے بانیزمانے میں جسے ہو صاحب فتح و ظفر ہوناضروری ہے اسے علم و ہنر سے بہرہ ور ہوناترقی کی کھلی ہیں شاہراہیں دہر میں ہر سونظر آتا ہے تہذیب و تمدن سے جہاں مملوچلے جاتے ہیں اڑتے شہسواران فلک پیماخراج تہنیت لیتے ہوئے کرتے ہوئے جادوگزرتے جا رہے ہیں دوسروں کو چھوڑتے پیچھےکبھی ہوتا ہے صحرا مستقر ان کا کبھی ٹاپوکمر باندھے ہوئے دن رات چلنے پر ہیں آمادہدماغ افکار سے اور دل وفور شوق سے ملولالگ رہ کر خیال زحمت و احساس راحت سےلگے ہیں اپنی اپنی فکر میں با خاطر یکسومگر ہم ہیں کہ اصلاً حس نہیں ہم کو کوئی اس کیہمارے پائے ہمت ان مراحل میں ہیں بے قابوجہاں پہلا قدم رکھا تھا روز اولیں ہم نےنہیں سرکے اس اپنے اصلی مرکز سے بقدر مویہ حالت ہے کہ ہم پر بند ہے ہر ایک دروازہنظر آتا نہیں ہرگز کوئی امید کا پہلومگر واحسرتا پھر بھی ہم اپنے زعم باطل میںسمجھتے ہیں زمانے بھر سے آگے خود کو منزل میںضرورت ہے کہ ہم میں روشنی ہو علم کی پیدانظر آئے ہمیں بھی تاکہ اصل حالت دنیاہمیں معلوم ہو حالات اب کیا ہیں زمانے کےہمارے ساتھ کا جو قافلہ تھا وہ کہاں پہنچاجو پستی میں تھے اب وہ جلوہ گر ہیں بام رفعت پرجو بالک بے نشاں تھے آج ہے ان کا علم برپاہماری خوبیاں سب دوسروں نے چھین لیں ہم سےزمانے نے ہمیں اتنا جھنجھوڑا کر دیا ننگاروا داری، اخوت، دوستی، ایثار ،ہمدردیخیال ملک و ملت، درد قوم، اندیشۂ فردایہ سب جوہر ہمارے تھے کبھی اے واۓ محرومیبنے ہیں خوبیٔ قسمت سے جو اب غیر کا حصااگر ہو جائیں راغب اب بھی ہم تعلیم کی جانبتو کر سکتے ہیں اب بھی ملک میں ہم زندگی پیدابہت کچھ وقت ہم نے کھو دیا ہے لیکن اس پر بھیاگر چاہیں تو کر دیں پیش رو کو اپنے ہم پسپانکما کر دیا ہے کاہلی نے گو ہمیں لیکنرگوں میں ہے ہماری خون ابھی تک دوڑتا پھرتاکوئی مخفی حرارت گر ہمارے دل کو گرما دےہمارے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑا دےوطن والو بہت غافل رہے اب ہوش میں آؤاٹھو بے دار ہو عقل و خرد کو کام میں لاؤتمہارے قوم کے بچوں میں ہے تعلیم کا فقداںیہ گتھی سخت پیچیدہ ہے اس کو جلد سلجھاؤیہی بچے بالآخر تم سبھوں کے جانشیں ہوں گےتم اپنے سامنے جیسا انہیں چاہو بنا جاؤبہت ہی رنج دہ ہو جائے گی اس وقت کی غفلتکہیں ایسا نہ ہو موقع نکل جانے پہ پچھتاؤیہ ہے کار اہم دو چار اس کو کر نہیں سکتےخدا را تم بھی اپنے فرض کا احساس فرماؤیہ بوجھ ایسا نہیں جس کو اٹھا لیں چار چھ مل کرسہارا دو، سہارا دوسروں سے اس میں دلواؤجو ذی احساس ہیں حاصل کرو تم خدمتیں ان کیجو ذی پروا ہیں ان کو جس طرح ہو اس طرف لاؤغرض جیسے بھی ہو جس شکل سے بھی ہو یہ لازم ہےتم اپنے قوم کے بچوں کو اب تعلیم دلواؤاگر تم مستعدی کو بنا لو گے شعار اپنایقیں جانو کہ مستقبل ہے بے حد شاندار اپناخداوندا! دعاؤں میں ہماری ہو اثر پیداشب غفلت ہماری پھر کرے نور سحر پیداہمارے سارے خوابیدہ قویٰ بے دار ہو جائیںسر نو ہو پھر ان میں زندگی کی کر و فر پیداہمیں احساس ہو ہم کون تھے اور آج ہم کیا ہیںکریں ماحول ملکی کے لیے گہری نظر پیداملا رکھا ہے اپنے جوہر کامل کو مٹی میںہم اب بھی خاک سے کر سکتے ہیں لعل و گہر پیدااگر چاہیں تو ہم مشکل وطن کی دم میں حل کر دیںہزاروں صورتیں کر سکتے ہیں ہم کارگر پیدابظاہر گو ہم اک تودہ ہیں بالکل راکھ کا لیکناگر چاہیں تو خاکستر سے کر دیں سو شرر پیداوطن کا نکبت و افلاس کھو دیں ہم اشارے میںجہاں ٹھوکر لگا دیں ہو وہیں سے کان زر پیداہم اس منزل کے آخر پر پہنچ کر بالیقیں دم لیںاگر کچھ تازہ دم ہو جائیں اپنے ہم سفر پیداجو کوشش متحد ہو کر کہیں اک بار ہو جائےیقیں ہے ملک کی قسمت کا بیڑا پار ہو جائے
الف جو آلو کھائے گاوہ موٹا ہو جائے گاب بارش جب آتی ہےکوئل شور مچاتی ہےپ پالی میں نے بلیچل دی چھوڑ کے وہ دلیت تتلی ہے زندہ پھولجو نہ مانے نامعقولٹ ٹٹو پر چڑھ بھیاڈر مت آگے بڑھ بھیاث ثابت ہے یہ لٹوچنو جا لے آ پٹوج میں جوتے کھاؤں گارو کر چپ ہو جاؤں گاچ چنو ہے اک لڑکاننھا منا چھوٹا ساح وہ حا تو آیا ہےہینگ اور پٹو لایا ہےخ خچر میں لاؤں گااپنے گھر میں نچاؤں گاد نہ دال پکا امیبرفی مجھے کھلا امیڈ ڈروں میں بھالو سےمیں نہیں ڈرتا خالو سےر رونا مجھے آتا ہےجب مرا بھیا گاتا ہےس سروتا لا امیمجھ کو پان کھلا امیبس بھائی آگے مت جااتی بس نظم نہ ہوگا
ہر پیمبر پہ ہنسا ہے یہ زمانہ لیکنہر پیمبر نے جھکائی ہے زمانے کی جبیںاپنے ہم عصر سے خائف نہ ہو اے وقت کی آنچاس کی مٹی میں ستاروں کا دھواں ہے کہ نہیںاسی مٹی سے دمکتی ہے یہ دھرتی ورنہدرد یک ساغر غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں
ابا تو چلے گئے ہیں دفترامی کو بخار آ رہا ہےچھمن تو گیا ہوا ہے بازارجمن کھانا پکا رہا ہےزیبن کو اسی کا تازہ بچہپکا گانا سنا رہا ہےامجد صوفے پر کوئلے سےکالا طوطا بنا رہا ہےاسلم دادی کی لے کے تصویراس کی مونچھیں اگا رہا ہےتوقیر بلیڈ کے کمالاتقالین پہ آزما رہا ہےچھ سات تپائیاں ملا کراکبر گاڑی چلا رہا ہےتسنیم بنی ہوئی ہے گھوڑاجو میز پہ بھاگا جا رہا ہےاخترؔ پردے کی جھالروں سےبلی کو دلہن بنا رہا ہےننھا اقبال لیٹے لیٹےندی نالے بہا رہا ہےسنتے ہیں کہ عنقریب ان کاایک اور بھی بھائی آ رہا ہے
قصر شاہی میں کہ ممکن نہیں غیروں کا گزرایک دن نورجہاں بام پہ تھی جلوہ فگنکوئی شامت زدہ رہ گیر ادھر آ نکلاگرچہ تھی قصر میں ہر چار طرف سے قدغنغیرت حسن سے بیگم نے طمنچہ ماراخاک پر ڈھیر تھا اک کشتۂ بے گور و کفنساتھ ہی شاہ جہانگیر کو پہنچی جو خبرغیظ سے آ گئی ابروئے عدالت پہ شکنحکم بھیجا کہ کنیزان شبستان شہیجا کے پوچھ آئیں کہ سچ یا کہ غلط ہے یہ سخننخوت حسن سے بیگم نے بصد ناز کہامیری جانب سے کرو عرض بہ آئین حسنہاں مجھے واقعۂ قتل سے انکار نہیںمجھ سے ناموس حیا نے یہ کہا تھا کہ بزناس کی گستاخ نگاہی نے کیا اس کو ہلاککشور حسن میں جاری ہے یہی شرع کہنمفتی دیں سے جہانگیر نے فتویٰ پوچھاکہ شریعت میں کسی کو نہیں کچھ جائے سخنمفتی دین نے بے خوف و خطر صاف کہاشرع کہتی ہے کہ قاتل کی اڑا دو گردنلوگ دربار میں اس حکم سے تھرا اٹھےپر جہانگیر کے ابرو پہ نہ بل تھا نہ شکنترکشوں کو یہ دیا حکم کہ اندر جا کرپہلے بیگم کو کریں بستۂ زنجیر و رسنپھر اسی طرح اسے کھینچ کے باہر لائیںاور جلاد کو دیں حکم کہ ہاں تیغ بزنیہ وہی نورجہاں ہے کہ حقیقت میں یہیتھی جہانگیر کے پردہ میں شہنشاہ زمناس کی پیشانئ نازک پہ جو پڑتی تھی گرہجا کے بن جاتی تھی اوراق حکومت پہ شکناب نہ وہ نورجہاں ہے نہ وہ انداز غرورنہ وہ غمزے ہیں نہ وہ عربدۂ صبر شکناب وہی پاؤں ہر اک گام پہ تھراتے ہیںجن کی رفتار سے پامال تھے مرغان چمنایک مجرم ہے کہ جس کا کوئی حامی نہ شفیعایک بیکس ہے کہ جس کا نہ کوئی گھر نہ وطنخدمت شاہ میں بیگم نے یہ بھیجا پیغامخوں بہا بھی تو شریعت میں اک امر احسنمفتئ شرع سے پھر شاہ نے فتویٰ پوچھابولے جائز ہے رضامند ہوں گر بچہ و زنوارثوں کو جو دئیے لاکھ درم بیگم نےسب نے دربار میں کی عرض کہ اے شاہ زمنہم کو مقتول کا لینا نہیں منظور قصاصقتل کا حکم جو رک جائے تو ہے مستحسنہو چکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقینکہ نہیں اس میں کوئی شائبہ حیلہ و فناٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوئے حرمتھی جہاں نورجہاں معتکف بیت خزندفعتاً پاؤں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہاتو اگر کشتہ شدی آہ چہ می کردم من
بستر میں لیٹے لیٹےاس نے سوچا''میں موٹا ہوتا جاتا ہوںکل میں اپنے نیلے سوٹ کوآلٹر کرنےدرزی کے ہاں دے آؤں گانیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی!درزی کی دوکان سے لگ کرجو ہوٹل ہےاس ہوٹل کیمچھلی ٹیسٹی ہوتی ہےکل کھاؤں گالیکن مچھلی کی بو سالیہاتھوں میں بس جاتی ہےکل صابن بھی لانا ہےگھر آتےلیتا آؤں گااب کے ''یارڈلی'' لاؤں گاآفس میں کل کام بہت ہےباس اگر ناراض ہوا تودو دن کی چھٹی لے لوں گااور اگر موڈ ہوا توچھ کے شو میں''رام اور شیام'' بھی دیکھ آؤں گاپکچر اچھی ہے سالینو سے بارہکلب رمیدو دن سے لک اچھا ہےکل بھی ساٹھ روپے جیتا تھاآج بھی تیس روپے جیتا ہوںاور امید ہےکل بھی جیت کے آؤں گابس اب نیند آئے تو اچھاکل بھیجیت کےنیند آئے تواکا دکی نہلہ دہلہاینٹ کی بیگممچھلی کی بوتاش کے پتےجوکر جوکرسوٹ پہن کرموٹا تگڑا جوکر....اتنا بہت سا سوچ کے وہسویا تھا مگرپھر نہ اٹھا!!دوسرے دن جباس کا جنازہدرزی کی دوکان کے پاس سے گزرا توہوٹل سے مچھلی کی بودور دور تک آئی تھی!!!
ہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبتعلیم نہ ہوگی جس میں کبھی سب آزادی سے گھومیں گےاستاد پڑھیں گے درجوں میں ہم لوگ خوشی سے گھومیں گےاسکول نہ جا کر باغوں میں تفریح کریں گے بے مطلبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبپڑھنے کے لیے بچوں کو جہاں مرغا نہ بنایا جائے گاچانٹے نہ جمائے جائیں گے ڈنڈوں سے نہ پیٹا جائے گااستاد کے مولیٰ بخش جہاں دکھلا نہ سکیں گے کچھ کرتبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبجو یاد کرے گا خوب سبق تا عمر نہ ہوگا پاس وہیجو کھیل میں لے گا دلچسپی پڑھنے میں نہ ہوگا فیل کبھیدراصل ہمارے مکتب کا ہوگا ہر اک دستور عجبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبجس دن بھی پڑا بیمار کوئی اسکول میں ہوگا ہالی ڈےدو بوند بھی پانی برسا تو ہو جائے گا فوراً رینی ڈےہفتے میں تو کم سے کم چھ دن اتوار منائیں گے ہم سبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتبکھلیں گے کبھی جب ہم کرکٹ تو خوب اڑائیں گے چھکےہاکی میں دکھائیں گے وہ ہنر رہ جائیں گے سب ہکے بکےہر ٹیم سے میچیں جیتے گا ہم لوگوں کا فٹ بال کلبہم چاند نگر پر جاتے ہی کھولیں گے ایک نیا مکتب
سیما نے مجھ سے پوچھااے میرے پیارے چچایہ روز آپ مجھ کودیتے تھے کیسا غچاکہتے تھے کر رہا ہوںوعدہ میں تم سے سچاجنگل کے پیڑ پر سےبندر کا ایک بچالاؤں گا توڑ کر میںلیکن ابھی ہے کچاسمجھے تھے آپ ہے یہبدھو سی ایک بچیچھ سال کی ہے ہوگیکچھ عقل کی بھی کچیلیکن سمجھ گئی ہوںمیں ساری غچا غچیبالکل برا نہ مانیںمیں بات کہہ دوں سچیبس ہو گئی ہے چچااب آپ کی بھی کچیمجھ کو بتا چکی ہیںکل رات میری چچیاگتے نہیں شجر پریوں بندروں کے بچےہوتے نہیں وہ ہرگزہرگز بھی پکے کچےمیں آپ کے تو وعدےمانوں کبھی نہ سچےمت دیجئے آپ مجھ کواب ایسے ویسے غچےچچی نے خود ہیں دیکھےبندر کے انڈے بچےبندریا انڈے دے دےجب گھونسلوں کے اندربنتے ہیں پہلے چوزےپھر پیارے پیارے بندر
''دہان یار کہ درمان درد حافظؔ داشتفغاں کہ وقت مروت چہ تنگ حوصلہ بود''
وہ ایک لمحہجو سر پٹکتا ہے پتھروں پرپڑا ہوا ہے جو شام کے پھیلتے دھویں میں لہو میں لت پتوہ ایک لمحہکہ جس کی خاطر ہزاروں صدیاں کروڑوں برسوں سے آبلہ پامگر وہ لمحہسفر کی پیلی اداسیوں کے کبوتروں کے پروں سے الجھاسواد منزل کی مشعلوں میںپگھل پگھل کر عیاں ہوا ہےوہ ایک لمحہسلگتے شبدوں کی انگلیوں سے گرا جو نیچےتو دھنس گیا پھر اٹل معانی کی دلدلوں میںمگر یہ اچھا ہوا کہ اس دمکھجور بھر کر جہاز آئےتمام نظریں کھجور کی گٹھلیوں میں انزال ڈھونڈتی تھیںوہ چھ مہینے حمل اٹھائے ہمارے گھر کی قدیم زینتنہ سیڑھیوں پرنہ کھڑکیوں میںنہ چائے کی پیالیوں سے اٹھتے دھویں کے پیچھےتمنا کاغذ پہ پھیل جائے تو اس کی شدت کا نام ٹوٹےسفید بکری کی آنکھ سے کون جھانکتا ہےتمہیں خبر ہےتمہیں خبر ہو تو مجھ سے کہہ دومیں اپنے والد کی قبر کا راستہ تلاشوںادھر بھی سورج میں سارا منظر لہو لہو ہےادھر بھی سایوں میں ساری آنکھیں دھواں دھواں ہیںیہ بند آنکھوں میں کون چھپ کربدن کے اندر کو جھانکتا ہےخموشیوں کے کھنڈر میں گونجیخموشیوں کے کھنڈر میں گونجی اذاں فجر کیوضو کے پانی کے ساتھ سارے گناہ ٹپکےدعا میں اس نے شراب مانگی توتشنگی کے سراب چھلکےستارے نیچے اتر کے آئےوہ ایک لمحہشکستگی کے بدن کے اندروہ ایک لمحہشکستگی کے بدن سے باہروہ ایک لمحہ ہزار صدیوں کے بندھنوں سے نکل کر آیاوہ ایک لمحہ جو دسترس کے وسیع حلقوں سے دور رہ کررطوبتوں میں بڑی تمازت سے مسکرایامقدروں میں ہزار لمحوں کے درمیاں جس کا تخت خالیلہو میں لت پت وہ ایک لمحہوہ ایک لمحہ جو سر پٹکتا ہے پتھروں پر!
اب کہیں کوئی نہیںجل گئے سارے فرشتوں کے بدنبجھ گئے نیل گگنٹوٹتا چاند بکھرتا سورجکوئی نیکی نہ بدیاب کہیں کوئی نہیںآگ کے شعلے بڑھےآسمانوں کا خداڈر کے زمیں پر اتراچار چھ گام چلا ٹوٹ گیاآدمی اپنی ہی دیواروں سے پتھر لے کرپھر گپھاؤں کی طرف لوٹ گیااب کہیں کوئی نہیں
نظر اٹھاؤ سفیر لیلیٰ برے تماشوں کا شہر دیکھویہ میرا قریہ یہ وحشتوں کا امین قریہتمہیں دکھاؤںیہ صحن مسجد تھا یاں پہ آیت فروش بیٹھے دعائیں خلقت کو بیچتے تھےیہاں عدالت تھی اور قاضی امان دیتے تھے رہزنوں کواور اس جگہ پر وہ خانقاہیں تھیں آب و آتش کی منڈیاں تھیںجہاں پہ امرد پرست بیٹھے صفائے دل کی نمازیں پڑھ کرخیال دنیا سے جاں ہٹاتےسفیر لیلیٰ میں کیا بتاؤں کہ اب تو صدیاں گزر چکی ہیںمگر سنو اے غریب سایہ کہ تم شریفوں کے راز داں ہویہی وہ دن تھے میں بھول جاؤں تو مجھ پہ لعنتیہی وہ دن تھے سفیر لیلیٰ ہماری بستی میں چھ طرف سے فریب اترےدروں سے آگے گھروں کے بیچوں پھر اس سے چولہوں کی ہانڈیوں میںجوان و پیر و زنان قریہ خوشی سے رقصاںتمام رقصاںہجوم طفلاں تھا یا تماشے تھے بوزنوں کےکہ کوئی دیوار و در نہ چھوڑاوہ ان پہ چڑھ کر شریف چہروں کی گردنوں کو پھلانگتے تھےدراز قامت لحیم بونےرضائے باہم سے کولھووں میں جتے ہوئے تھےخراستے تھے وہ زرد غلہ تو اس کے پسنے سے خون بہتا تھا پتھروں سےمگر نہ آنکھیں کہ دیکھ پائیں نہ ان کی ناکیں کہ سونگھتے وہفقط وہ بیلوں کی چکیاں تھیں سروں سے خالیفریب کھاتے تھے خون پیتے تھے اور نیندیں تھیں بجوؤں کیسفیر لیلیٰ یہ داستاں ہے اسی کھنڈر کیاسی کھنڈر کے تماش بینوں فریب خوردوں کی داستاں ہےمگر سنو اجنبی شناساکبھی نہ کہنا کہ میں نے قرنوں کے فاصلوں کو نہیں سمیٹافصیل قریہ کے سر پہ پھینکی گئی کمندیں نہیں اتاریںتمہیں دکھاؤں تباہ بستی کے ایک جانب بلند ٹیلہبلند ٹیلے پہ بیٹھے بیٹھے ہونقوں ساکبھی تو روتا تھا اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر کبھی مسلسل میں اونگھتا تھامیں اونگھتا تھا کہ سانس لے لوںمگر وہ چولہوں پہ ہانڈیوں میں فریب پکتےسیاہ سانپوں کی ایسی کایا کلپ ہوئی تھی کہ میری آنکھوں پہ جم گئے تھےسو یاں پہ بیٹھا میں آنے والے دھوئیں کی تلخی بتا رہا تھاخبر کے آنسو بہا رہا تھامگر میں تنہا سفیر لیلیٰفقط خیالوں کی بادشاہی مری وراثتتمام قریے کا ایک شاعر تمام قریے کا اک لعیں تھایہی سبب ہے سفیر لیلیٰ میں یاں سے نکلا تو کیسے گھٹنوں کے بل اٹھا تھانصیب ہجرت کو دیکھتا تھاسفر کی سختی کو جانتا تھایہ سبز قریوں سے صدیوں پیچھے کی منزلوں کا سفر تھا مجھ کوجو گرد صحرا میں لپٹے خاروں کی تیز نوکوں پہ جلد کرنا تھا اوروہ ایسا سفر نہیں تھا جہاں پہ سائے کا رزق ہوتاجہاں ہواؤں کا لمس ملتافرشتے آواز الااماں میں مرے لیے ہیاجل کی رحمت کو مانگتے تھےیہی وہ لمحے تھے جب شفق کے طویل ٹیلوں پہ چلتے چلتےمیں دل کے زخموں کو ساتھ لے کرسفر کے پربت سے پار اترا
ابتدا سے کبھی نظم ہوتی نہیںاور کبھی ابتدا سے بھی پہلے کہیںنظم ہونے کے آثار ملتے ہیںجیسے کہیں قبل از زندگیزندگی کے تصور سے پہلےمگر زندگی سے بھی بہتربر آمد ہوئی کوئی تہذیبتہذیب ملتی تو ہےپر کبھی ابتدا اس کی ملتی نہیںابتدا سے بھی پہلےتلک ذہن جاتا نہیںاور تہذیب سے لینا دینا بھی کیانظم کی ابتدا نون سےنون لے گی نہیںیہ حروف تہجی کا اک رکن ہےجیم سے جسمچے سے چمکڈال سے ڈالڈاسین سے سین اوپر کے تینواؤ سے وہمجو کس قدر اہم ہےنظم کے وسط میںجو کہ ہوتا نہیںدائرہ تو نہیںٹرائی اینگل نہیںہیگزا گونل نہیںخط نہیں ویو ہےیعنی آواز جیسی کوئی چیز ہےمیگنٹ کی طرح کوئی شے ہےہوا سا کوئی معاملہ ہےکوئی کرنٹ ہےجس کے لگنے سے بھینظم مرتی نہیںنظم کی انتہا کیوں کہ ہوتی نہیںختم ہو جاتی ہے بیچ میں ہی کہیںجس طرح کچھ جواں مرگیا انتہا پر پہنچ کر بھی تشنہ ہی رہتی ہےجیسےوہ سب زندہ لاشیں کہ جو موت کی ڈیٹ کے بعد بھی جی رہی ہیںدوا اپنی مدت مکمل کیے ایک بیمار گاہک کی رہ دیکھتی ہےیہ پانی کی لالچ بہت بڑھ گئی ہے جو ٹینکی کو بھر کر لبالب بقایا دیواروں کی بنیاد میں چھوڑ دیتے ہیںبجلی کے آنے کا وقت آ بھی جائے مگر ان کی اپنی گھڑی ہےنجی دفتروں کے ملازم کی چھٹی کے اوقات ہوتے ہیں لیکن اسے دیر تک بیٹھنے اور بٹھانے میں کوئی قباحت نہیں ہےستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books