aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "hamla"
سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےسنا ہے شیر كا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتادرختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہےہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیںتو مینا اپنے بچے چھوڑ کرکوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہےسنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہےسنا ہے جب کسی ندی کے پانی میںبئے کے گھونسلے كا گندمی سایہ لرزتا ہےتو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیںکبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے توکسی لکڑی کے تختے پرگلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیںسنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےخداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر!کوئی دستور نافذ کر
حملہ جب قوم آریا نے کیااور بجا ان کا ہند میں ڈنکاملک والے بہت سے کام آئےجو بچے وہ غلام کہلائےشدر کہلائے راکشس کہلائےرنج پردیس کے مگر نہ اٹھائےگو غلامی کا لگ گیا دھبہنہ چھٹا ان سے دیس پر نہ چھٹا
خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آئے گیبات سچی ہے جو وہ لب پہ سدا آئے گیدل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفتمیری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گیمیں اٹھا لوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پرخدمت قوم و وطن میں جو بلا آئے گیسامنا صبر و شجاعت سے کروں گا میں بھیکھنچ کے مجھ تک جو کبھی تیغ جفا آئے گیغیر زعم اور خودی سے جو کرے گا حملہمیری امداد کو خود ذات خدا آئے گیآتما ہوں میں بدل ڈالوں گا فوراً چولاکیا بگاڑے گی اگر میری قضا آئے گیخون روئے گی سما پر میرے مرنے پہ شفقغم منانے کے لیے کالی گھٹا آئے گیابر تر اشک بہائے گا مرے لاشے پرخاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گیزندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلکؔخلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
تمہارے لہجے میں جو گرمی و حلاوت ہےاسے بھلا سا کوئی نام دو وفا کی جگہغنیم نور کا حملہ کہو اندھیروں پردیار درد میں آمد کہو مسیحا کیرواں دواں ہوئے خوشبو کے قافلے ہر سوخلائے صبح میں گونجی سحر کی شہنائییہ ایک کہرا سا، یہ دھند سی جو چھائی ہےاس التہاب میں، اس سرمگیں اجالے میںسوا تمہارے مجھے کچھ نظر نہیں آتاحیات نام ہے یادوں کا، تلخ اور شیریںبھلا کسی نے کبھی رنگ و بو کو پکڑا ہےشفق کو قید میں رکھا صبا کو بند کیاہر ایک لمحہ گریزاں ہے، جیسے دشمن ہےنہ تم ملو گی نہ میں، ہم بھی دونوں لمحے ہیںوہ لمحے جا کے جو واپس کبھی نہیں آتے!
لوگ کہتے ہیں یہ امن کی جنگ ہےامن کی جنگ میں حملہ آورصرف بچوں کو بے دست و پا چھوڑتے ہیںان کو بھوکا نہیں چھوڑتےآخر انسانیت بھی کوئی چیز ہے
وہ آتی ہےروز میرے بہت قریبمجھے سہلاتی ہےگدگداتی ہےاٹھو۔۔۔ اٹھو۔۔۔میں حیرت اور خوشی سےاسے دیکھتی ہوںتم کب آئیں؟ابھی۔۔۔ ابھی تو آئی ہوں۔۔۔وہ میرے سینے پر اپنا سر رکھ دیتی ہےمیرے پستانوں سے کھیلتی ہےمیرے ہونٹوں کو چوستی ہےمیری ناف کے نیچےبہت نیچے۔۔۔میری سانس اوپر کی اوپر رہ جاتی ہےمیں کنواریوں کی طرحتلملاتی ہوںبل کھاتی ہوںوہ مجھے اٹھاتی ہےمیرے کپڑے ایک ایک کر کے اتارتی ہےوہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرہنستی ہےاٹھو۔۔۔میں بڑبڑاتی رہتی ہوںایسی ہی بے سدھحیرت سے اور خوشی سےاٹھو۔۔۔وہ میری گردن میں بانہیں ڈال کرکہتی ہےوہ مجھے دور سے دیکھتی ہےاور کینوس پر مری مادر زادتصویر بناتی ہےمیں بے سدھ پڑی رہتی ہوںاس ڈر سے کہ کہیں وہ چلی نہ جائےمیں اسے ڈبونا چاہتی ہوںایک ہی وار پر اس پر چڑھ دوڑنااس پر بلبلا کر حملہ کرنامیں بھی چاہتی ہوں۔۔۔ اسے ایسے ہیاپنی گرفت میں لے آؤںلیکن اس سے پہلے کہمیں حرکت کروںوہ چھم چھم کرتیکھڑکی یا دروازے سے باہربھاگ جاتی ہےمیں بے سدھحیرت اور خوف سےاور ملامت سےآنکھیں پھاڑے اسے دیکھتیرہتی ہوںوہ چلی جاتی ہےروز ایسا ہی ہوتا ہے
پھر مجھے ایسا لگاجیسے میں اپنے سے باغی ہو گیا ہوںاپنے ہی اوپر میں حملہ کر رہا ہوں
وہ جو آسماں پہ ستارہ ہےاسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لواسے اپنے ہونٹوں سے چوم لواسے اپنے ہاتھوں سے توڑ لوکہ اسی پہ حملہ ہے رات کا
خدا گواہ دل اک لمحہ بھی نہیں غافلتمہاری یاد بھی باقی ہے دکھ بھی باقی ہےوہ شام غم بھی اسی طرح دل پہ قائم ہےوہ روز سخت بھی سینے میں درد بن کر ہےجب ایک حملۂ دل تم پہ ظلم کرتا تھاعظیم شہر کے مرکز میں اک اداس سا گھرعلاج سے محرومتمہارے دکھ میں تڑپنے کو دیکھ کر چپ تھاتو سارے شاہی محلات شور عیش میں تھے
اب نازک نازک ذہنوں پر فولادی حملہ ہوگاشیشوں کے پیکر پگھلیں گے پتھریلی تنہائی میں
حاملہ بدلیوں نےاپنے کٹے پھٹے کناروں میںچاندی کی جھالریں لٹکا رکھی تھیںاور اپنی دلائیوں کے بخیوں میںرنگوں کی بچکاریاں چھپا رکھی تھیںافق سرخ تھاجیسے شہر کے شہدےڈرپوک دکان داروں پراپنی دھاک جمانےنئی کٹائیاں کمانے پر مقرر ہوںسوڈے کی بوتلوں سےایک دوسرے پر حملہ آور ہوںاور فٹ پاتھوں پرشیشوں کے ٹکڑوں سےاجنبی راہگیروں کےننگے پیروں سےصرف عناب دستیاب ہوزمین گلنار بنےبس اسی طرح کا رنگ آسمان میںکھلا ہوا ملارات کی فصیل کے قریبشام کا محاصرہ کیےپڑا ہوا تھا میں
مگر وہ باہر کا میںاسی ظالموں کے لشکر سےہے نبرد آزما مسلسلکبھی وہ ظالم پہ حملہ آورکبھی وہ مظلوم کی حمایت میںدل فگار و ملول و گریاں
دق تجھ سے کتابیں ہیں بہت کرم کتابیتو دشمن دزدیدہ ہے خاکی ہو کہ آبیالفاظ کی کھیتی ہے فقط تیری چراگاہمعنی کی زمیں تیرے سب سایوں نے دابیہونے کو تری اصل ہے صیاد مکیں گاہکہنے کو فقط تیری حقیقت ہے سرابیتو نے تو ہر اک سمت لگائی ہیں سرنگیںپارینہ ہو فرمان کتابیں ہوں نصابیبادامی ہو کاغذ تو مزا اور ہی کچھ ہےلقمہ ہوا تحریر کا ہر مغز شتابیگھن ساتھ ہی گیہوں کے ہے پستہ ہوا دیکھابرگشتہ ورق لا نہ سکا تجھ پہ خرابیکیا خوب ہے یہ مجلس اوراق کہن بھیویران کتب خانوں کی دیمک تری لابیفردوسی و خلدوں کی کتابیں ہیں ہراساںوہ قلعہ معنی تیرا حملہ ہے جوابیپردہ ہے خموشی تری آہنگ فنا کیبھونرا ہے فقط کنج گلستاں کا ربابیتو چاٹ گیا دانش کہنہ کی فصیلیںبنیاد عمارت کو ہے ڈھانا تری ہابیاعداد کے قالب میں ہے تو صفر کی طاقتصفحات کے سوراخ کا بے نام حسابیتاریخ کے اس سیل میں انسان نے پائیایک آدھ کوئی موج نفس وہ بھی حبابیبکتے سر بازار ہیں مانند زغال آججو تازہ نفس خواب تغیر تھے شہابیکھا جاتی ہے اک دن اسے سب گرد زمانہمٹی کی وہ صحنک ہو کہ چینی کی رکابیبدلی ہوئی دنیا میں تغیر کا عمل ہےتو کرم کتابی نہیں اک کرم خلل ہے
میرا بچہ راہم جب اسکول سے لوٹامیں نے اس سے بستہ اپنے ہاتھ لے کر اس سے پوچھااتنا بھاری کیوں ہے بستہتین کتابیں لے کر تم اسکول گئے تھےاک پانی کی بوتل تھی اور لنچ بکس تھااتنا بھاری کیوں ہے بستہبولا بابا میں کیا بولوںروز تو یہ ہلکا ہوتا ہےآج نہ جانے بھاری کیوں ہےمجھ کو کچھ تشویش ہوئی تومیں نے اس کا بستہ کھولاکھول کے دیکھاتین کتابیں نہیں تھیں اس میں چھ تھیںپانی کی بوتل بھی ایک نہیں تھیدو دو تھیںلنچ بکس بھی دو تھے لیکن ایک ہی جیسےراہم کا کچھ خالی تھا پر دوسرا پورا بھرا ہوا تھا
حیران ہوںیہ کون سا شہر ہےمیرؔ و غالبؔ کی دلی کبھی ایسی تو نہ تھیہر گلی ہر نکڑ پر سانپ کنڈلی مارے بیٹھے ہیں یہاںپیدا ہوتے ہی کوئی بھی سنپولہڈسنے کے لیے پر تولنے لگتا ہےجدھر دیکھیےہر جگہ سانپ ہی سانپ ہیںکہیں خونی دروازے کے عقب سےتو کہیں دھولہ کنواں کے فلائی اوور پرہر جگہ کنڈلی مارے ہوئے یہاںہزارہا سانپ ایسے ہیںجو ہر دم تیار بیٹھے ہیںموقع ملتے ہیوہ کسی بھی نرم و گداز بدن کونشانہ اپنا بنا لیتے ہیںاپنے زہریلے دانت گاڑ نے کے لیےجب وہ پھنپھنا کر باہر آتے ہیںکسی بھی راہگیر کا رستہ روکےایک دمتن کے کھڑے ہو جاتے ہیںحتٰی کہبوڑھا ناگ بھی اب یہاںاپنے کھنڈر میں تن کے کھڑا ہےاسے بھی انتظار ہےبرسات کی اس کالی اندھیری رات کا ہےجب وہ بو الہوساپنے کہنہ مشق دانتوں کوکسی نرم و نازک غزالہ پرتیز کر سکے حملۂ خوں ریز کر سکےاپنی عمر کے اس آخری پڑاؤ میں وہ بو الہوسکوئی واردات جنوں انگیز قیامت خیز کر سکےیا خدایہ کون سا مقام ہےکیا یہ تیرا قہر نہیں ہےکیا یہ وہی پرانا شہر نہیں ہےسوچتا ہوںمیرؔ و غالبؔ کی دلی کبھی ایسی تو نہ تھی
ملی نہ میدان کی اجازتتبھی تو قاسم یاد آیاکہ ایک تعویذ میرے بابا نے خود مرے سامنے لکھا تھاجو میرے بازو پہ اب تلک بھی بندھا ہوا ہےاسے بصد اشتیاق کھولاتو اس میں لکھا ہوا یہی تھااے لال اے میری جان قاسمحسین سے جب نگاہ پھیرے یہ کل زمانہچہار جانب سے حملہ ور ہوں مصیبتیں جبرہ وفا میں جھجک نہ جاناحسین پر جان دینے والوں میں سب سے آگے قدم بڑھانامری طرف سے چچا کے قدموں میں جاں لٹانااور اپنے اجداد کی شہادت کا قد بڑھاناحسین تعویذ پڑھ رہے ہیںاور ان کی آنکھیں لہو لہو ہیں
احمد ببلو بابو سلمیٰایک جماعت کے یہ بچےاخلاقی گھنٹے میں دیکھوجمع ہوئے ہیں اک اک کر کےنظم و ضبط جماعت میں تھااف نہیں کرتا تھا کوئی بچہیہ جو کہانی کا تھا گھنٹہسب کو شوق کہانی کا تھادیکھو کلاس میں استاد آئےاٹھ کے کھڑے ہوئے سارے بچےسب نے کیا سلام اب ان کوبچے تھے سب من کے اچھےہم آواز تھا ہر اک بچہہم ہیں کہانی کے سب شیداسب نے مل کر کیا تقاضاہم کو سنائیے اچھا قصہسن کر بچوں سے یہ باتیںہو گئے خوش استاد اسی دممنو چنو منو خوش تھےقابل دید ہے شوق کا عالمٹیچر نے جو چھیڑی کہانیبچے ہمہ تن گوش ہوئے سبخاموشی تھی ہر چہرے پرسب سے کہا یہ ٹیچر نے ابایک پہاڑی کے دامن میںقریہ اک شاداب تھا بچوگاؤں میں اک چرواہا بھی تھاہاں وہ بہت نادان تھا پیاروروز پہاڑی پر وہ جاتابکریاں اپنی خود ہی چراتادن بھر ہانکتا وہ گلے کوشام ڈھلے گھر واپس آتااک دن اس کو سوجھی شرارترہ رہ کر اس نے چلایالوگو آؤ مجھ کو بچاؤشیر نے بولا ہے اب دھاوالٹھے بھالے برچھیاں لے کربھاگے آئے لوگ برابرپایا سلامت چرواہے کوکہنے لگا چرواہا ہنس کرشیر یہاں آیا نہیں کوئییوں ہی شرارت میں نے کی تھیشکریہ آپ یہاں سب آئےآپ کی ہمدردی ہے سچیمیں نے سب کو یوں ہی پرکھاامتحاں آپ کی چاہت کا تھاخوش ہوں آپ کی ہمدردی پرمیں نے پیار سبھوں کا پایاتھا یہ کرتب چرواہے کااس نے الو سب کو بنایامایوسی کے ساتھ وہ لوٹےجھوٹا چرواہے کو پایا
ہم پر تھی پیارے بچو نانی کی مہربانیروزانہ رات کو وہ کہتی تھیں اک کہانیاک رات کو سنایا برسات کا فسانہکہنے لگیں کہ موسم اک روز تھا سہاناتھا دیکھنے کے قابل فوارہ آسمانیدریا سے لا کے بادل برسا رہے تھے پانیتالاب بن گیا تھا آنگن ہمارے گھر کاٹہنی پے اس کی بچو بیٹھا تھا ایک طوطااس کو جھلا رہا تھا آ کر ہوا کا جھونکادالان میں سے بلی طوطے کو تک رہی تھیلالچ میں رال اس کی گویا ٹپک رہی تھیجلدی سے اس نے حملہ پرچھائیں پر کیا جوطوطا نہ ہاتھ آیا پانی میں گر گئی وہپچھتائی اپنے دل میں گھبرا کے آئی گھر میںآخر تو جانور تھی کامل نہ تھی نظر میںبچو خدا نے تم کو بخشی ہے ہوشیاریہر کام سے ہو ظاہر دانشوری تمہاری
زمیں مجھے ساتھ لے کے دشوار منزلیں لاکھوں گھوم آئیکروڑوں راہوں کو چوم آئیفلک کے ساحر نے کتنے افسون مجھ پہ پھونکےمرے پس و پیش ٹمٹماتے دیے جلائےدھوئیں کے گہرے حصار باندھےخدائے موسم نے حربہ ہائے بہار سے مجھ کو آزمایاخزاں کی سفاک انگلیوں کا ہدف بنایامگر مری بے حسی نے ہر ایک حملہ آور کا سر جھکایااسی گزر گاہ پر ہوں استادہ اور شاید یہیں رہوں گاجہاں سے گزرے دھڑکتے لمحوں کے کارواںدھیمے سر میں گاتےحیات ناپائیدار کے مرثیے سناتےمرے بدن کی عمیق سردی کو سرد سے سرد تر بناتے
میں مرنے کے لیے پیدا نہیں ہوامجھ پر کسی قسم کا حملہاس معاہدے کی خلاف ورزی ہوگیجس پر ایک غیبی ہاتھ اور میں نےدستخط کیے تھےاور جس کی رو سےموت مجھ پر برحق نہیں ٹھہری تھیزندہ رہنا اب میرا درد سر نہیںمیں یہ فریضہتاریخ کو سونپ چکا ہوںتاریخ جو میری رگوں میںزہر کی صورت داخل ہوئیاور اب امرت بن کرمیرے مساموں سےقطرہ قطرہ ٹپک رہی ہےموت سے میری کوئی شناسائی نہیںمیں اس سے درخواست کروں گاوہ میرے خلافکسی سازش میں شریک نہ ہوکہ میرے پاسمعاہدے کی جو نقل محفوظ ہےاس پر اس کے دستخطبطور گواہ موجود ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books