aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jamiil"
میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگیجن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل
سلسلۂ روز و شب نقش گر حادثاتسلسلۂ روز و شب اصل حیات و مماتسلسلۂ روز و شب تار حریر دو رنگجس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفاتسلسلۂ روز و شب ساز ازل کی فغاںجس سے دکھاتی ہے ذات زیر و بم ممکناتتجھ کو پرکھتا ہے یہ مجھ کو پرکھتا ہے یہسلسلۂ روز و شب صیرفی کائناتتو ہو اگر کم عیار میں ہوں اگر کم عیارموت ہے تیری برات موت ہے میری براتتیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیاایک زمانے کی رو جس میں نہ دن ہے نہ راتآنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنرکار جہاں بے ثبات کار جہاں بے ثباتاول و آخر فنا باطن و ظاہر فنانقش کہن ہو کہ نو منزل آخر فناہے مگر اس نقش میں رنگ ثبات دوامجس کو کیا ہو کسی مرد خدا نے تماممرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغعشق ہے اصل حیات موت ہے اس پر حرامتند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی روعشق خود اک سیل ہے سیل کو لیتا ہے تھامعشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوااور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نامعشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلامعشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناکعشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرامعشق فقیہہ حرام عشق امیر جنودعشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقامعشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیاتعشق سے نور حیات عشق سے نار حیاتاے حرم قرطبہ عشق سے تیرا وجودعشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت و بودرنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوتمعجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمودقطرۂ خون جگر سل کو بناتا ہے دلخون جگر سے صدا سوز و سرور و سرودتیری فضا دل فروز میری نوا سینہ سوزتجھ سے دلوں کا حضور مجھ سے دلوں کی کشودعرش معلی سے کم سینۂ آدم نہیںگرچہ کف خاک کی حد ہے سپہر کبودپیکر نوری کو ہے سجدہ میسر تو کیااس کو میسر نہیں سوز و گداز سجودکافر ہندی ہوں میں دیکھ مرا ذوق و شوقدل میں صلوٰۃ و درود لب پہ صلوٰۃ و درودشوق مری لے میں ہے شوق مری نے میں ہےنغمۂ اللہ ہو میرے رگ و پے میں ہےتیرا جلال و جمال مرد خدا کی دلیلوہ بھی جلیل و جمیل تو بھی جلیل و جمیلتیری بنا پائیدار تیرے ستوں بے شمارشام کے صحرا میں ہو جیسے ہجوم نخیلتیرے در و بام پر وادی ایمن کا نورتیرا منار بلند جلوہ گہ جبرئیلمٹ نہیں سکتا کبھی مرد مسلماں کہ ہےاس کی اذانوں سے فاش سر کلیم و خلیلاس کی زمیں بے حدود اس کا افق بے ثغوراس کے سمندر کی موج دجلہ و دنیوب و نیلاس کے زمانے عجیب اس کے فسانے غریبعہد کہن کو دیا اس نے پیام رحیلساقی ارباب ذوق فارس میدان شوقبادہ ہے اس کا رحیق تیغ ہے اس کی اصیلمرد سپاہی ہے وہ اس کی زرہ لا الہسایۂ شمشیر میں اس کی پنہ لا الہتجھ سے ہوا آشکار بندۂ مومن کا رازاس کے دنوں کی تپش اس کی شبوں کا گدازاس کا مقام بلند اس کا خیال عظیماس کا سرور اس کا شوق اس کا نیاز اس کا نازہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھغالب و کار آفریں کار کشا کارسازخاکی و نوری نہاد بندۂ مولا صفاتہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیازاس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیلاس کی ادا دل فریب اس کی نگہ دل نوازآج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزالاور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیںبوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہےرنگ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہےدیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں آسماںآہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاںکون سی وادی میں ہے کون سی منزل میں ہےعشق بلا خیز کا قافلۂ سخت جاںدیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیںجس نے نہ چھوڑے کہیں نقش کہن کے نشاںحرف غلط بن گئی عصمت پیر کنشتاور ہوئی فکر کی کشتئ نازک رواںچشم فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلابجس سے دگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاںملت رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیرلذت تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواںروح مسلماں میں ہے آج وہی اضطرابراز خدائی ہے یہ کہہ نہیں سکتی زباںنرم دم گفتگو گرم دم جستجورزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاک بازنقطۂ پرکار حق مرد خدا کا یقیںاور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجازعقل کی منزل ہے وہ عشق کا حاصل ہے وہحلقۂ آفاق میں گرمئ محفل ہے وہکعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیںتجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیںہے تہ گردوں اگر حسن میں تیری نظیرقلب مسلماں میں ہے اور نہیں ہے کہیںآہ وہ مردان حق وہ عربی شہسوارحامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیںجن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمز غریبسلطنت اہل دل فقر ہے شاہی نہیںجن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غربظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیںجن کے لہو کے طفیل آج بھی ہیں اندلسیخوش دل و گرم اختلاط سادہ و روشن جبیںدیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیاگنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیاوادی کہسار میں غرق شفق ہے سحابلعل بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتابسادہ و پرسوز ہے دختر دہقاں کا گیتکشتئ دل کے لیے سیل ہے عہد شبابآب روان کبیر تیرے کنارے کوئیدیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خوابعالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میںمیری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجابپردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سےلا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تابجس میں نہ ہو انقلاب موت ہے وہ زندگیروح امم کی حیات کشمکش انقلابصورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قومکرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حسابنقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیرنغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
شام کے پیچ و خم ستاروں سےزینہ زینہ اتر رہی ہے راتیوں صبا پاس سے گزرتی ہےجیسے کہہ دی کسی نے پیار کی باتصحن زنداں کے بے وطن اشجارسرنگوں محو ہیں بنانے میںدامن آسماں پہ نقش و نگارشانۂ بام پر دمکتا ہےمہرباں چاندنی کا دست جمیلخاک میں گھل گئی ہے آب نجومنور میں گھل گیا ہے عرش کا نیلسبز گوشوں میں نیلگوں سائےلہلہاتے ہیں جس طرح دل میںموج درد فراق یار آئے
اے وادئ جمیل مرے دل کی دھڑکنیںآداب کہہ رہی ہیں تری بارگاہ میں
''پتھر کی زباں'' کی شاعرہ کےچنبیلی سے نرم ہاتھ تھامے''خوشبو'' کی صفیر سوچتی تھیدر پیش ہواؤں کے سفر میںپل پل کی رفیق راہ میرےاندر کی یہ سادہ لوح ایلسؔحیرت کی جمیل وادیوں سےوحشت کے مہیب جنگلوں میںآئے گی تو اس کا پھول لہجہکیا جب بھی صبا نفس رہے گا!؟وہ خود کو ڈس اون کر سکے گی!؟
مزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم، مجبور تھے ہم، مجبور ہیں ہمانسانیت کے سینے میں رستا ہوا اک ناسور ہیں ہمدولت کی آنکھوں کا سرمہ بنتا ہے ہماری ہڈی سےمندر کے دیئے بھی جلتے ہیں مزدور کی پگھلی چربی سےہم سے بازار کی رونق ہے، ہم سے چہروں کی لالی ہےجلتا ہے ہمارے دل کا دیا دنیا کی سبھا اجیالی ہےدولت کی سیوا کرتے ہیں ٹھکرائے ہوئے ہم دولت کےمزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم سوتیلے بیٹے قسمت کےسونے کی چٹائی تک بھی نہیں، ہم ذات کے اتنے ہیٹے ہیںیہ سیجوں پر سونے والے شاید بھگوان کے بیٹے ہیںہم میں نہیں کوئی تبدیلی جاڑے کی پالی راتوں میںبیساکھ کے تپتے موسم میں، ساون کی بھری برساتوں میںکپڑے کی ضرورت ہی کیا ہے مزدوروں کو، حیوانوں کوکیا بحث ہے، سردی گرمی سے لوہے کے بنے انسانوں کوہونے دو چراغاں محلوں میں، کیا ہم کو اگر دیوالی ہےمزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم، مزدور کی دنیا کالی ہےمزدور کے بچے تکتے ہیں جب حسرت سے دوکانوں کومزدور کا دل دیتا ہے دعا دیوتاؤں کو، بھگوانوں کوکھایا مٹی کے برتن میں، سوئے تو بچھونے کو ترسےمختاروں پر تنقیدیں ہیں، بیچارگیاں مجبوروں کیسوکھا چہرہ دہقانوں کا، زخمی پیٹھیں مزدوروں کیوہ بھوکوں کے ان داتا ہیں، حق ان کا ہے بیداد کریںہم کس دروازے پر جائیں کس سے جا کر فریاد کریںبازار تمدن بھی ان کا دنیائے سیاست بھی ان کیمذہب کا ارادہ بھی ان کا، دنیائے سیاست بھی ان کیپابند ہمیں کرنے کے لیے سو راہیں نکالی جاتی ہیںقانون بنائے جاتے ہیں، زنجیریں ڈھالی جاتی ہیںپھر بھی آغاز کی شوخی میں انجام دکھائی دیتا ہےہم چپ ہیں لیکن فطرت کا انصاف دہائی دیتا ہے
بربط دل کے تار ٹوٹ گئےہیں زمیں بوس راحتوں کے محلمٹ گئے قصہ ہائے فکر و عمل!بزم ہستی کے جام پھوٹ گئےچھن گیا کیف کوثر و تسنیمزحمت گریہ و بکا بے سودشکوۂ بخت نا رسا بے سودہو چکا ختم رحمتوں کا نزولبند ہے مدتوں سے باب قبولبے نیاز دعا ہے رب کریمبجھ گئی شمع آرزوئے جمیلیاد باقی ہے بے کسی کی دلیلانتظار فضول رہنے دےراز الفت نباہنے والےبار غم سے کراہنے والےکاوش بے حصول رہنے دے
فریب کھائے ہیں رنگ و بو کے سراب کو پوجتا رہا ہوںمگر نتائج کی روشنی میں خود اپنی منزل پہ آ رہا ہوںجو دل کی گہرائیوں میں صبح ظہور آدم سے سو رہی تھیںمیں اپنی فطرت کی ان خدا داد قوتوں کو جگا رہا ہوںمیں سانس لیتا ہوں ہر قدم پر کہ بوجھ بھاری ہے زندگی کاٹھہر ذرا گرم رو زمانے کہ میں ترے ساتھ آ رہا ہوںجہاز رانوں کو بھی تعجب ہے میرے اس عزم مطمئن پرکہ آندھیاں چل رہی ہیں تند اور میں اپنی کشتی چلا رہا ہوںطلسم فطرت بھی مسکراتا ہے میری افسوں طرازیوں پربہت سے جادو جگا چکا ہوں بہت سے جادو جگا رہا ہوںیہ مہر تاباں سے کوئی کہہ دے کہ اپنی کرنوں کو گن کے رکھ لےمیں اپنے صحرا کے ذرے ذرے کو خود چمکنا سکھا رہا ہوںمرا تخیل مرے ارادے کریں گے فطرت پہ حکمرانیجہاں فرشتوں کے پر ہیں لرزاں میں اس بلندی پہ جا رہا ہوںیہ وہ گھروندے ہیں جن پہ اک دن پڑے گی بنیاد قصر جنتنہ سمجھیں سکان بزم عصمت کہ میں گھروندے بنا رہا ہوںیہ ناز پروردگان ساحل ڈریں ڈریں مری گرم رو سےکہ میں سمندر کی تند موجوں کو روندتا پاس آ رہا ہوں
فرد فرد مست ہےپندرہ اگست ہےجوش ہے ابال ہےرنگ ہے گلال ہےگلی گلی ہیں رونقیںعجیب سی ہیں رونقیںہم کبھی غلام تھےبھارتی غلام تھےزندگی کی شام تھیسانس تک غلام تھیفرنگیوں کے جور سےبھارتی نڈھال تھےظلم جب بہت ہوااپنی حد سے بڑھ گیابھارتی بپھر گئےہم سبھی بپھر گئےجان و مال تج دیاگھر عیال تج دیاایک ہو گئے جو ہمدور ہو گیا المحریت ملی ہمیںعافیت ملی ہمیںفرد فرد مست ہےپندرہ اگست ہے
حسن کی صبح اک شکست جمیلحسن کی شام کامرانی ہے
یہ کون آ گیا رخ خنداں لیے ہوئےعارض پہ رنگ و نور کا طوفاں لیے ہوئےبیمار کے قریب بصد شان احتیاطدل داریٔ نسیم بہاراں لیے ہوئےرخسار پر لطیف سی اک موج سر خوشیلب پر ہنسی کا نرم سا طوفاں لیے ہوئےپیشانیٔ جمیل پہ انوار تمکنتتابندگیٔ صبح درخشاں لیے ہوئےزلفوں کے پیچ و خم میں بہاریں چھپی ہوئیاک کاروان نکہت بستاں لیے ہوئےآ ہی گیا وہ میرا نگار نظر نوازظلمت کدے میں شمع فروزاں لیے ہوئےاک اک ادا میں سیکڑوں پہلوئے دلدہیاک اک نظر میں پرسش پنہاں لیے ہوئےمیرے سواد شوق کا خورشید نیم شبعزم شکست ماہ جبیناں لیے ہوئےدرس سکون و صبر بہ ایں اہتمام نازنشتر زنیٔ جنبش مژگاں لیے ہوئےآنکھوں سے ایک رو سی نکلتی ہوئی ہر آنغرقابئ حیات کا ساماں لیے ہوئےہلتی ہوئی نگاہ میں بجلی بھری ہوئیکھلتے ہوئے لبوں میں گلستاں لیے ہوئےیہ کون ہے مجازؔ سے سرگرم گفتگودونوں ہتھیلیوں پہ زنخداں لیے ہوئے
جہاں میں بار خدایا کوئی وکیل نہ ہووکیل ہو تو وکالت میں بے عدیل نہ ہوجو بے عدیل بھی ہو جائے تو جمیل نہ ہوجمیل ہو تو سیاست میں کچھ دخیل نہ ہویہ خوبیاں جو بیک وقت کوئی پاتا ہےدماغ اس کا یقیناً خراب جاتا ہےہر اک کو دیکھنے لگتا ہے وہ حقارت سےکسی سے بات بھی کرتا ہے گر تو نخوت سےہر اک کو کرتا ہے مرعوب اپنی فطرت سےقدم زمین پہ رکھتا نہیں رعونت سےضمیر قیصر و ہامان بن کے رہتا ہےوہ اپنے عہد کا شیطان بن کے رہتا ہےکبھی کبھی اسے ہوتا ہے اپنی ذات پہ نازکبھی گھمنڈ لیاقت پہ اور صفات پہ نازکبھی نمازیوں میں صوم اور صلوٰۃ پہ نازغرض کہ اس کو ہے اپنی ہر ایک بات پہ نازیہی جو حال رہا اس کی خود ستائی کاعجب نہیں کہ وہ دعویٰ کرے خدائی کااور اس کے ساتھ جو ہے اک بہت بڑا وصفیمنافقت میں ہی جس کی تمام عمر گئیپئے نمود رہی جس کو روز بے چینیکسی نے خوب کسی اس کو دیکھ کر پھبتیخدا کا شکر کہ اک عہد حیلہ ساز ملاخدا کا شکر کہ محمود کو ایاز ملا
اگر اس گلشن ہستی میں ہونا ہی مقدر تھاتو میں غنچوں کی مٹھی میں دل بلبل ہوا ہوتاگناہوں میں ضرر ہوتا، دعاؤں میں اثر ہوتامحبت کی نظر ہوتا، حسینوں کی ادا ہوتافروغ چہرۂ محنت، غبار دامن دولتنم پیشانیٔ غیرت، خم زلف رسا ہوتاہوا ہوتا کسی دستار کج پر پھول کی طرحاور اس دستار کج کی تمکنت پر ہنس رہا ہوتاکسی مغرور کی گردن پہ ہوتا بوجھ احساں کاکسی ظالم کے دل میں درد ہو کر لا دوا ہوتاکسی منعم کے چہرہ پر خوشی حاجت روائی کیکسی نادار کی نظروں میں شرم التجا ہوتاکسی بھٹکے ہوئے راہی کو دیتا دعوت منزلبیاباں کی اندھیری شب میں جوگی کا دیا ہوتاکسی کے کلبۂ احزاں میں شمع مضمحل بن کرکسی بیمار مفلس کے سرہانے رو رہا ہوتاشرر بن کر کسی نادار گھر کے سرد چولھے میں''بصد امید فردا'' زیر خاکستر دبا ہوتایتیم بے نوا کی رہگزر پر اشرفی بن کرلئیم فاقہ کش کی جیب ممسک سے گرا ہوتانیستاں سے نکل کر حسرت آباد تمدن میںگدائے پیر و نا بینا کے ہاتھوں کا عصا ہوتاشکستہ جھونپڑے میں بانسریٔ دہقاں کی سر بن کرسکوت نیم شب میں راز ہستی کہہ رہا ہوتاغرض اس حسرت و اندوہ و یاس و غم کی بستی میںکہیں دور آفریں ہوتا، کہیں درد آشنا ہوتا''ڈبویا مجھ کو ہونے نے'' بقول غالب دانا''نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا''
خداونداتجھے معلوم ہے میں نےیہ اپنی عمرکس بے فیض موسم کی رفاقت میں گزاری ہےیقین و بے یقینی کی اذیت میں گزاری ہےخداونداتجھے معلوم ہے میرےہر اک جانب تری سو نعمتیںبکھری ہوئی تھیںہزاروں راستے تھےمنزلیں تھیںروشنی تھیرنگ تھے خوشبو تھیپھولوں سے لدی شاخیں تھیں خواہش کیتمنائیں لبوں پر مسکراہٹ کےکئی نغمے سجائے رقص کرتی تھیںکئی جگنو مری شاموں کے آنگن سے گزرتے تھےمری ہر آرزو کی اپنی پیشانی تھی اور ان سےکئی سورج ابھرتے تھےکئی مہتاب چہرےجھیل سی آنکھیں لیے میرے تعاقب میں نکلتے تھےمجھے آواز دے کرروکنے کی کوششیں کرتے نہ تھکتے تھےکئی دل دار موسم تھےکہ جن میں تتلیاں بارش کے رنگوں میں نہاتیہاتھ پھیلاتیمرے قرب و جوار دیدہ و دل سے گزرتی تھیںمگر میں نےخداونداتجھے معلوم ہے میں نےتری ساری عنایت کوتری ان نعمتوں کو آنکھ بھر کر بھی نہیں دیکھاخداونداتجھے معلوم ہےتو جانتا ہےکہ مرے دل اور مری آنکھوں میں بس وہموسم دل دار بستا تھااسی موسم کی چاہتاور محبت کا کہیںاقرار بستا تھااسی موسم کو دل نے اپنی صبح شام جانا تھااگرچہ راہ میں آیا ہوا سارا زمانہ تھاخداوندا تجھے معلوم ہےتو جانتا ہےدلوں کے زخماور آنکھوں کی ساری کیفیت پہچانتا ہےمگر میں نےاسے جانانہ پہچانامجھے جو بھی کہا اس نےاسی کو زندگی جانااسی کو روشنی جاناخداونداتجھے معلوم ہے اس نےبسر کی زندگی میریچرا لی روشنی میریتجھے معلوم ہے سب کچھخداوندا تجھے معلوم ہے سب کچھمری عمر گذشتہ کامری عمر رواں کاایک اک لمحہاسی بے فیض موسم کی رفاقت کے ہی کام آیامگر اب میںخداوندامگر اب میں محبت کےاسی بے فیض موسم کی رفاقت کےعذابوںاور خوابوں سےتھکا ہارا ہوا انسانرہائی چاہتا ہوںتری سو نعمتیں ہیںان سے تنہائی کی نعمت چاہتا ہوںخداوندا تجھے معلوم ہے میں نےیہ اپنی عمر کس بے فیض موسم کی رفاقت میں گزاری ہےیقین و بے یقینی کی اذیت میں گزاری ہےخداوندامجھے تنہائی کی نعمت عطا کر دے
کوئی نظم کیسے کہیں کہ ہمنہ چراغ ہیںنہ مثال حرف گلاب ہیںنہ خیال ہیںنہ کسی کی آنکھ کا خواب ہیںکسی گم شدہ سی وفاؤں کیکسی شام میںجو بچھڑ گئےتو بچھڑنے والوں کی یاد میںکہیں ریت ہیںکہیں اشک غم کا غبار ہیںوہ جو دشتہجر کا ہے کہیںاسی دشت شام جدائی کےیہ جو داغ ہیںتری یاد کےترے بعد کےکوئی نظم کیسے کہیں کہ ہمنہ چراغ ہیںنہ مثال حرف گلاب ہیںنہ خیال ہیںنہ کسی کی آنکھ کا خواب ہیںیہ جو شہر ہےتو یہ شہر بھیصف دشمناں سے ملا ہوایہ جو لوگ ہیںتو یہ لوگ بھیکہاں جانتے ہیں کہ کیا ہواکوئی نظم کیسے کہیںکہ ہمیہ فضا ہی ایسی نہیں رہیجو چراغ کوئی جلائیں ہمتو ہوا ہی ایسینہیں رہیتہیٔ فکر ایسے ہوئے ہیں ہمترے خال و خد کا بیاں بھی ابنہ ہمارے دست ہنر میں تھانہ ہمارے دست ہنر میں ہے
مرا دل اچھلتا سمندرمرا جذبۂ بے اماںمیرا ایک ایک ارماںاچھلتے سمندر کی صدیوں پرانی چٹانوں سے ٹکرا کے یوں ریزہ ریزہ ہوا ہےکہ گھائل سمندر کے سینے میں محشر بپا ہےہر اک موج درد آشنا ہےہر اک قطرۂ آب انمول ہے گوہر بے بہا ہے
ایک بار اور ذرا دیکھ ادھراپنے جلووں کو بکھر جانے دےروح میں مری اتر جانے دےمسکراتی ہوئی نظروں کا فسوںیہ حسیں لب یہ درخشندہ جبیںابھی بے باک نہیںاور آنے دے انہیں میری نگاہوں کے قریںڈال پھر میری جواں خیز تمناؤں پربے محابا سا باسی نظرایک بار اور ذرا دیکھ ادھرہاں وہی ایک نظرغیر فانی سی نظرجس کی آغوش میں رقصندہ ہےابدی کیف کی دنیائے جمیلجس میں تاریکی آلام نہیںکاہش گردش ایام نہیںمحو ہو جاتے ہیں جس سے یکسریاد ماضی کی خلشکاوش فردا کا اثرہاں وہیں ایک نظرایک بار اور ذرا دیکھ ادھر
طبیعت جو اندر سے جھنجھلا رہی ہےتو باہر سے آواز یہ آ رہی ہےکہ اے فاضل درس گاہ حماقتحجابات دانش اٹھا کر بھی دیکھوشرافت کے پیچھے جگر ہو گیا خوںشرافت سے پیچھا چھڑا کر بھی دیکھوازل سے محبت خودی کا ہے زنداںاب اس سے ذرا باہر آ کر بھی دیکھومروت نے پہنائی ہیں بیڑیاں جوذرا ان کا لوہا گھلا کر بھی دیکھوتصور کی وادی میں بھٹکو گے کب تککبھی شہر امکاں میں جا کر بھی دیکھوغرض مظہریؔ اس دیار جنوں میںملا، کچھ نہ کھونے سے پا کر بھی دیکھوسنا مشورہ تیرا اے صوت غیبیضلالت کی سرحد میں آ کر بھی دیکھارذالت کی گردن میں بانہیں بھی ڈالیںشرافت سے پیچھا چھڑا کر بھی دیکھاحمیت کا گھونٹا گلا رفتہ رفتہمحبت کو پھانسی چڑھا کر بھی دیکھاکف مور سے اس کا لقمہ بھی چھیناحق اہل خدمت چرا کر بھی دیکھاشعور و خرد کو غرور و حسد کوسلا کر بھی دیکھا جگا کر بھیپھرے کو بہ کو عقل کی رہبری میںغرض یہ کہ کھو کر بھی، پا کر بھی دیکھانہ کھونے سے حاصل، نہ پانے سے حاصلجسے سود کہتے ہیں وہ بھی زیاں ہےیہی بس کہ تقدیر عقل و جنوں ہےیہی خشت تعمیر کون و مکاں ہےمحبت جہنم ہے، نفرت جہنمجدھر جائیں اک آگ شعلہ فشاں ہےدیار وفا یا دیار ہوس ہونہ راحت یہاں ہے نہ راحت وہاں ہےشرافت بھی غمگیں رذالت بھی غمگیںبس اب منہ نہ کھلوا خدا درمیاں ہےسمک سے سما تک تپش ہی تپش ہےفضا سے خلا تک فغاں ہی فغاں ہےخودی پاؤں پکڑے ہے جائیں کہاں ہمتصور کی جنت بنائیں کہاں ہم
یہ جبر ماہ و سال میں گھری ہوئی زمیں مری گواہ ہےنشاط کی ابد کنار منزلوں میں ایک عمر سے میں ان کریم اور جمیل ساعتوں کا منتظر ہوںجن کی بازگشت سے مرے وجود کی صداقتوں کا انکشاف ہوخدا کرے بشارتیں سنانے والے خوش کلام طائروں کی ٹولیاںافق سے شاخ گل تلک علامت وصال کی لکیریں کھینچ دیںلہو کی وسعتوں کا انکشاف ہولہو کی عظمتوں کا انکشاف ہوبدن کے راستے وجود کی صداقتوں کا انکشاف ہو
پورا چاند نکلتا ہے تو بھیڑیا اکثر روتا ہےرات کو کتا بھوں بھوں کرتا دن کو الو سوتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books