aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "jitne"
دھڑکتے موسموں کا دلمہکتی خوشبوؤں کا دلیہ سب جتنے نظارے ہیںکہو کس کے اشارے ہیں
اگر میں سمجھوںکے یہ جو مہرے ہیںصرف لکڑی کے ہیں کھلونےتو جیتنا کیا ہے ہارنا کیانہ یہ ضرورینہ وہ اہم ہےاگر خوشی ہے نہ جیتنے کینہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہےتو کھیل کیا ہےمیں سوچتا ہوںجو کھیلنا ہےتو اپنے دل میں یقین کر لوںیہ مہرے سچ مچ کے بادشاہ و وزیرسچ مچ کے ہیں پیادےاور ان کے آگے ہےدشمنوں کی وہ فوجرکھتی ہے جو کہ مجھ کو تباہ کرنے کےسارے منصوبےسب ارادےمگر ایسا جو مان بھی لوںتو سوچتا ہوںیہ کھیل کب ہےیہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہےیہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائزکوئی یہ کہتا ہے جیسے مجھ سےیہ جنگ بھی ہےیہ کھیل بھی ہےیہ جنگ ہے پر کھلاڑیوں کییہ کھیل ہے جنگ کی طرح کامیں سوچتا ہوںجو کھیل ہےاس میں اس طرح کا اصول کیوں ہےکہ کوئی مہرہ رہے کہ جائےمگر جو ہے بادشاہاس پر کبھی کوئی آنچ بھی نہ آئےوزیر ہی کو ہے بس اجازتکہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے
بساط زندگی تو ہر گھڑی بچھتی ہے اٹھتی ہےیہاں پر جتنے خانے جتنے گھر ہیںسارےخوشیاں اور غم انعام کرتے ہیںیہاں پر سارے مہرےاپنی اپنی چال چلتے ہیںکبھی محصور ہوتے ہیں کبھی آگے نکلتے ہیںیہاں پر شہہ بھی پڑتی ہےیہاں پر مات ہوتی ہےکبھی اک چال ٹلتی ہےکبھی بازی پلٹتی ہےیہاں پر سارے مہرے اپنی اپنی چال چلتے ہیںمگر میں وہ پیادہ ہوںجو ہر گھر میںکبھی اس شہہ سے پہلے اور کبھی اس مات سے پہلےکبھی اک برد سے پہلے کبھی آفات سے پہلےہمیشہ قتل ہو جاتا ہے
ہر اک سیہ شاخ کی کماں سےجگر میں ٹوٹے ہیں تیر جتنےجگر سے نوچے ہیں اور ہر اککا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے۳الم نصیبوں جگر فگاروںکی صبح افلاک پر نہیں ہےجہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوںسحر کا روشن افق یہیں ہےیہیں پہ غم کے شرار کھل کرشفق کا گلزار بن گئے ہیںیہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشےقطار اندر قطار کرنوںکے آتشیں ہار بن گئے ہیںیہ غم جو اس رات نے دیا ہےیہ غم سحر کا یقیں بنا ہےیقیں جو غم سے کریم تر ہےسحر جو شب سے عظیم تر ہے
ہاں میرے خوابوں کو تمہاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیروں سے نفرت ہےان صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے
ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کارایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوںمیں ترے سامنے انبار لگا دوں لیکنکون سے رنگ کا پتھر ترے کام آئے گاسرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیایا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھرجس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورےکیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگیجس پہ حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہےاک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیب سفیداس کے مرمر میں سیہ خون جھلک جاتا ہےایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگرہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہےجتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیںجتنی اقدار ہیں اس دور کی سب پتھر ہیںسبزہ و گل بھی ہوا اور فضا بھی پتھرمیرا الہام ترا ذہن رسا بھی پتھراس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتھر ہےہاتھ پتھر ہیں ترے میری زباں پتھر ہےریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کار
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
زندگی کے جتنے دروازے ہیں مجھ پہ بند ہیںدیکھنا حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہےسوچنا اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہےآسماں در آسماں اسرار کی پرتیں ہٹا کر جھانکنا بھی جرم ہےکیوں بھی کہنا جرم ہے کیسے بھی کہنا جرم ہےسانس لینے کی تو آزادی میسر ہے مگرزندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہےاور اس کچھ اور بھی کا تذکرہ بھی جرم ہےاے خداوندان ایوان عقائداے ہنر مندان آئین و سیاستزندگی کے نام پر بس اک عنایت چاہیئےمجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاہیئے
جب دکھ کی ندیا میں ہم نےجیون کی ناؤ ڈالی تھیتھا کتنا کس بل بانہوں میںلوہو میں کتنی لالی تھییوں لگتا تھا دو ہاتھ لگےاور ناؤ پورم پار لگیایسا نہ ہوا، ہر دھارے میںکچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیںکچھ مانجھی تھے انجان بہتکچھ بے پرکھی پتواریں تھیںاب جو بھی چاہو چھان کرواب جتنے چاہو دوش دھروندیا تو وہی ہے ناؤ وہیاب تم ہی کہو کیا کرنا ہےاب کیسے پار اترنا ہےجب اپنی چھاتی میں ہم نےاس دیس کے گھاؤ دیکھے تھےتھا ویدوں پر وشواش بہتاور یاد بہت سے نسخے تھےیوں لگتا تھا بس کچھ دن میںساری بپتا کٹ جائے گیاور سب گھاؤ بھر جائیں گےایسا نہ ہوا کہ روگ اپنےکچھ اتنے ڈھیر پرانے تھےوید ان کی ٹوہ کو پا نہ سکےاور ٹوٹکے سب بیکار گئےاب جو بھی چاہو چھان کرواب جتنے چاہو دوش دھروچھاتی تو وہی ہے، گھاؤ وہیاب تم ہی کہو کیا کرنا ہےیہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے
کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرحایک سے ہیں وہی آنکھیں وہی چہرے وہی دلکس پہ شک کرتے ہو جتنے بھی مسافر ہیں یہاںایک ہی سب کا قبیلہ وہی پیکر وہی گل
پہلے یہ بتاؤ جھجھنے کی تاریخ پیدائش کیا ہےمیں کوئی نقاد ہوں جو تاریخ دہراتا پھروںکسی کا کلام پڑھ لوتاریخ معلوم ہو جائے گیتمہاری آنکھوں میں آنسومیرؔ کی کتاب کا دیباچہ لکھنا ہےیہ کس کی پٹی ہےنقاد بھائی کییہ کس کی آنکھ ہےمجھے تو سیفوؔ بھابھی کی معلوم ہو رہی ہےاور یہ ہاتھغالب کا لگتا ہےبکتے ہوزر کی امان پاؤں تو بتاؤںجتنے نام یاد تھے بتا دیئےلیکن تمہارا تصور کیا کہتامیں دم ہلانے کے سوا کیا کر سکتا ہوں
یوں سمجھ لوں کہ پھرسلسلہ جتنے تھےدرمیاں جو بھی تھاخواب دیکھے تھے جوسب بکھیر جائیں گےایسا کرنا نہیںسب کی سننا مگرتم بکھرنا نہیں
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاںپھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاںآنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاںسینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاںجتنے مزے ہیں سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے جس کا ناک تلک پیٹ ہے بھراکرتا پرے ہے کیا وہ اچھل کود جا بہ جادیوار پھاند کر کوئی کوٹھا اچھل گیاٹھٹھا ہنسی شراب صنم ساقی اس سواسو سو طرح کی دھوم مچاتی ہیں روٹیاںجس جا پہ ہانڈی چولہا توا اور تنور ہےخالق کی قدرتوں کا اسی جا ظہور ہےچولھے کے آگے آنچ جو چلتی حضور ہےجتنے ہیں نور سب میں یہی خاص نور ہےاس نور کے سبب نظر آتی ہیں روٹیاںآوے توے تنور کا جس جا زباں پہ نامیا چکی چولھے کے جہاں گل زار ہوں تمامواں سر جھکا کے کیجے ڈنڈوت اور سلاماس واسطے کہ خاص یہ روٹی کے ہیں مقامپہلے انہیں مکانوں میں آتی ہیں روٹیاںان روٹیوں کے نور سے سب دل ہیں بور بورآٹا نہیں ہے چھلنی سے چھن چھن گرے ہے نورپیڑا ہر ایک اس کا ہے برفی و موتی چورہرگز کسی طرح نہ بجھے پیٹ کا تنوراس آگ کو مگر یہ بجھاتی ہیں روٹیاںپوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سےیہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کےوہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دےہم تو نہ چاند سمجھیں نہ سورج ہیں جانتےبابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاںپھر پوچھا اس نے کہیے یہ ہے دل کا طور کیااس کے مشاہدے میں ہے کھلتا ظہور کیاوہ بولا سن کے تیرا گیا ہے شعور کیاکشف القلوب اور یہ کشف القبور کیاجتنے ہیں کشف سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی جب آئی پیٹ میں سو قند گھل گئےگلزار پھولے آنکھوں میں اور عیش تل گئےدو تر نوالے پیٹ میں جب آ کے ڈھل گئےچودہ طبق کے جتنے تھے سب بھید کھل گئےیہ کشف یہ کمال دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہومیلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہوبھوکے غریب دل کی خدا سے لگن نہ ہوسچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہواللہ کی بھی یاد دلاتی ہیں روٹیاںاب آگے جس کے مال پوے بھر کے تھال ہیںپورے بھگت انہیں کہو صاحب کے لال ہیںاور جن کے آگے روغنی اور شیرمال ہیںعارف وہی ہیں اور وہی صاحب کمال ہیںپکی پکائی اب جنہیں آتی ہیں روٹیاںکپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطےلمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطےباندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطےسب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطےجتنے ہیں روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی سے ناچے پیادہ قواعد دکھا دکھااسوار ناچے گھوڑے کو کاوہ لگا لگاگھنگھرو کو باندھے پیک بھی پھرتا ہے ناچتااور اس سوا جو غور سے دیکھا تو جا بہ جاسو سو طرح کے ناچ دکھاتی ہیں روٹیاںروٹی کے ناچ تو ہیں سبھی خلق میں پڑےکچھ بھانڈ بھیگتے یہ نہیں پھرتے ناچتےیہ رنڈیاں جو ناچے ہیں گھونگھٹ کو منہ پہ لےگھونگھٹ نہ جانو دوستو تم زینہار اسےاس پردے میں یہ اپنے کماتی ہیں روٹیاںاشرافوں نے جو اپنی یہ ذاتیں چھپائی ہیںسچ پوچھئے تو اپنی یہ شانیں بڑھائی ہیںکہئے انہوں کی روٹیاں کس کس نے کھائی ہیںاشراف سب میں کہئے تو اب نان بائی ہیںجن کی دکاں سے ہر کہیں جاتی ہیں روٹیاںدنیا میں اب بدی نہ کہیں اور نکوئی ہےیا دشمنی و دوستی یا تند خوئی ہےکوئی کسی کا اور کسی کا نہ کوئی ہےسب کوئی ہے اسی کا کہ جس ہاتھ ڈوئی ہےنوکر نفر غلام بناتی ہیں روٹیاںروٹی کا اب ازل سے ہمارا تو ہے خمیرروکھی ہی روٹی حق میں ہمارے ہے شہد و شیریا پتلی ہووے موٹی خمیری ہو یا فطیرگیہوں جوار باجرے کی جیسی ہو نظیرؔہم کو تو سب طرح کی خوش آتی ہیں روٹیاں
کریں یہ عہد کہ اوزار جنگ جتنے ہیںانہیں مٹانا ہے اور خاک میں ملانا ہےکریں یہ عہد کہ ارباب جنگ ہیں جتنےانہیں شرافت و انسانیت سکھانا ہے
۱دور جا کر قریب ہو جتنےہم سے کب تم قریب تھے اتنےاب نہ آؤ گے تم نہ جاؤ گےوصل ہجراں بہم ہوئے کتنے۲چاند نکلے کسی جانب تری زیبائی کارنگ بدلے کسی صورت شب تنہائی کادولت لب سے پھر اے خسرو شیریں دہناںآج ارزاں ہو کوئی حرف شناسائی کاگرمئی رشک سے ہر انجمن گل بدناںتذکرہ چھیڑے تری پیرہن آرائی کاصحن گلشن میں کبھی اے شہ شمشاد قداںپھر نظر آئے سلیقہ تری رعنائی کاایک بار اور مسیحائے دل دل زدگاںکوئی وعدہ کوئی اقرار مسیحائی کاساز و سامان بہم پہنچا ہے رسوائی کا۳کب تک دل کی خیر منائیں کب تک رہ دکھلاؤ گےکب تک چین کی مہلت دو گے کب تک یاد نہ آؤ گےبیتا دید امید کا موسم خاک اڑتی ہے آنکھوں میںکب بھیجو گے درد کا بادل کب برکھا برساؤ گےعہد وفا یا ترک محبت جو چاہو سو آپ کرواپنے بس کی بات ہی کیا ہے ہم سے کیا منواؤ گےکس نے وصل کا سورج دیکھا کس پر ہجر کی رات ڈھلیگیسوؤں والے کون تھے کیا تھے ان کو کیا جتلاؤ گےفیضؔ دلوں کے بھاگ میں ہے گھر بھرنا بھی لٹ جانا بھیتم اس حسن کے لطف و کرم پر کتنے دن اتراؤ گے
اے دل اے بندۂ وطن ہوشیارخواب غفلت سے ہو ذرا بیداراو شراب خودی کے متوالےگھر کی چوکھٹ کے چومنے والےنام ہے کیا اسی کا حب وطنجس کی تجھ کو لگی ہوئی ہے لگنکبھی بچوں کا دھیان آتا ہےکبھی یاروں کا غم ستاتا ہےیاد آتا ہے اپنا شہر کبھیلو کبھی اہل شہر کی ہے لگینقش ہیں دل پہ کوچہ و بازارپھرتے آنکھوں میں ہیں در و دیوارکیا وطن کیا یہی محبت ہےیہ بھی الفت میں کوئی الفت ہےاس میں انساں سے کم نہیں ہیں درنداس سے خالی نہیں چرند و پرندٹکڑے ہوتے ہیں سنگ غربت میںسوکھ جاتے ہیں روکھ فرقت میںجا کے کابل میں آم کا پوداکبھی پروان چڑھ نہیں سکتاآ کے کابل سے یاں بہی و انارہو نہیں سکتے بارور زنہارمچھلی جب چھوٹتی ہے پانی سےہاتھ دھوتی ہے زندگانی سےآگ سے جب ہوا سمندر دوراس کو جینے کا پھر نہیں مقدورگھوڑے جب کھیت سے بچھڑتے ہیںجان کے لالے ان کے پڑتے ہیںگائے، بھینس اونٹ ہو یا بکریاپنے اپنے ٹھکانے خوش ہیں سبھیکہیے حب وطن اسی کو اگرہم سے حیواں نہیں ہیں کچھ کم ترہے کوئی اپنی قوم کا ہمدردنوع انساں کا سمجھیں جس کو فردجس پہ اطلاق آدمی ہو صحیحجس کو حیواں پہ دے سکیں ترجیحقوم پر کوئی زد نہ دیکھ سکےقوم کا حال بد نہ دیکھ سکےقوم سے جان تک عزیز نہ ہوقوم سے بڑھ کے کوئی چیز نہ ہوسمجھے ان کی خوشی کو راحت جاںواں جو نو روز ہو تو عید ہو یاںرنج کو ان کے سمجھے مایۂ غمواں اگر سوگ ہو تو یاں ماتمبھول جائے سب اپنی قدر جلیلدیکھ کر بھائیوں کو خوار و ذلیلجب پڑے ان پہ گردش افلاکاپنی آسائشوں پہ ڈال دے خاک
اک دیا نام کا یکجہتی کےروشنی اس کی جہاں تک پہنچیقوم کو لڑتے جھگڑتے دیکھاماں کے آنچل میں ہیں جتنے پیوندسب کو اک ساتھ ادھڑتے دیکھادور سے بیوی نے جھلا کے کہاتیل مہنگا بھی ہے ملتا بھی نہیںکیوں دیے اتنے جلا رکھے ہیںاپنے گھر میں نہ جھروکہ نہ منڈیرطاق سپنوں کے سجا رکھے ہیںآیا غصے کا اک ایسا جھونکابجھ گئے سارے دیےہاں مگر ایک دیا نام ہے جس کا امیدجھلملاتا ہی چلا جاتا ہے
وہ کسی ایک مرد کے ساتھزیادہ دن نہیں رہ سکتییہ اس کی کمزوری نہیںسچائی ہےلیکن جتنے دن وہ جس کے ساتھ رہتی ہےاس کے ساتھ بے وفائی نہیں کرتیاسے لوگ بھلے ہی کچھ کہیںمگرکسی ایک گھر میںزندگی بھر جھوٹ بولنے سےالگ الگ مکانوں میں سچائیاں بکھیرنازیادہ بہتر ہے
یہ رت وہ ہے کہ جس میں خرد و کبیر خوش ہیںادنیٰ غریب مفلس شاہ و وزیر خوش ہیںمعشوق شاد و خرم عاشق اسیر خوش ہیںجتنے ہیں اب جہاں میں سب اے نظیرؔ خوش ہیںکیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں
تمہارے ساتھ جتنے دن گزارے یاد آتے ہیںنہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books