aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "julaahe"
مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہےاکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتےجب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہواپھر سے باندھ کےاور سرا کوئی جوڑ کے اس میںآگے بننے لگتے ہوتیرے اس تانے میں لیکناک بھی گانٹھ گرہ بنتر کیدیکھ نہیں سکتا ہے کوئی
بنایا ہے چڑیوں نے جو گھونسلہسو ایک ایک تنکا اکٹھا کیاگیا ایک ہی بار سورج نہ ڈوبمگر رفتہ رفتہ ہوا ہے غروبقدم ہی قدم طے ہوا ہے سفرگئیں لحظے لحظے میں عمریں گزرسمندر کی لہروں کا تانتا سداکنارے سے ہے آ کے ٹکرا رہاسمندر سے دریا سے اٹھتی ہے موجسدا کرتی رہتی ہے دھاوا یہ فوجکراروں کو آخر گرا ہی دیاچٹانوں کو بالکل صفا چٹ کیابرستا جو مینہ موسلا دھار ہےسو یہ ننھی بوندوں کی بوچھار ہےدرختوں کے جھنڈ اور جنگل گھنےیوں ہی پتے پتے سے مل کر بنےہوئے ریشے ریشے سے بن اور جھاڑبنا ذرے ذرے سے مل کر پہاڑلگا دانے دانے سے غلے کا ڈھیرپڑا لمحے لمحے سے برسوں کا پھیرجو ایک ایک پل کر کے دن کٹ گیاتو گھڑیوں ہی گھڑیوں برس گھٹ گیالکھا لکھنے والے نے ایک ایک حرفہوئیں گڈیاں کتنی کاغذ کی صرفہوئی لکھتے لکھتے مرتب کتاباسی پر ہر اک شے کا سمجھو حسابہر اک علم و فن اور کرتب ہنرنہ تھا پہلے ہی دن سے اس ڈھنگ پریوں ہی بڑھتے بڑھتے ترقی ہوئیجو نیزہ ہے اب تھا وہ پہلے سوئیجلاہے نے جوڑا تھا ایک ایک تارہوئے تھان جس کے گزوں سے شماریوں ہی پھوئیوں پھوئیوں بھرے جھیل تالیوں ہی کوڑی کوڑی ہوا جمع مالاگر تھوڑا تھوڑا کرو صبح و شامبڑے سے بڑا کام بھی ہو تمام
کسی کے دور جانے سےتعلق ٹوٹ جانے سےکسی کے مان جانے سےکسی کے روٹھ جانے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتاکسی کو آزمانے سےکسی کے آزمانے سےکسی کو یاد رکھنے سےکسی کو بھول جانے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتاکسی کو چھوڑ دینے سےکسی کے چھوڑ جانے سےنا شمع کو جلانے سےنا شمع کو بجھانے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتااکیلے مسکرانے سےکبھی آنسو بہانے سےنا اس سارے زمانے سےحقیقت سے فسانے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتاکسی کی نارسائی سےکسی کی پارسائی سےکسی کی بے وفائی سےکسی دکھ انتہائی سےمجھے اب ڈر نہیں لگتانا تو اس پار رہنے سےنا تو اس پار رہنے سےنا اپنی زندگانی سےنا اک دن موت آنے سےمجھے اب ڈر نہیں لگتا
1وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ کا ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مر مر کر جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لیے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوو صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینوں کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بنائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی2وہ صبح ہمیں سے آئے گیجب دھرتی کروٹ بدلے گی جب قید سے قیدی چھوٹیں گےجب پاپ گھروندے پھوٹیں گے جب ظلم کے بندھن ٹوٹیں گےاس صبح کو ہم ہی لائیں گے وہ صبح ہمیں سے آئے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیمنحوس سماجی ڈھانچوں میں جب ظلم نہ پالے جائیں گےجب ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے جب سر نہ اچھالے جائیں گےجیلوں کے بنا جب دنیا کی سرکار چلائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گیسنسار کے سارے محنت کش کھیتوں سے ملوں سے نکلیں گےبے گھر بے در بے بس انساں تاریک بلوں سے نکلیں گےدنیا امن اور خوشحالی کے پھولوں سے سجائی جائے گیوہ صبح ہمیں سے آئے گی
ان حسیناؤں کے نامجن کی آنکھوں کے گلچلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کےمرجھا گئے ہیںان بیاہتاؤں کے نامجن کے بدنبے محبت ریاکار سیجوں پہ سج سج کے اکتا گئے ہیںبیواؤں کے نامکٹٹریوں اور گلیوں محلوں کے نامجن کی ناپاک خاشاک سے چاند راتوںکو آ آ کے کرتا ہے اکثر وضوجن کے سایوں میں کرتی ہے آہ و بکاآنچلوں کی حناچوڑیوں کی کھنککاکلوں کی مہکآرزومند سینوں کی اپنے پسینے میں جلنے کی بو
جن کا دیں پیروی کذب و ریا ہے ان کوہمت کفر ملے جرأت تحقیق ملےجن کے سر منتظر تیغ جفا ہیں ان کودست قاتل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے
تمہیں اداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سےنہ جانے کون سے صدمے اٹھا رہی ہو تموہ شوخیاں وہ تبسم وہ قہقہے نہ رہےہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تمچھپا چھپا کے خموشی میں اپنی بے چینیخود اپنے راز کی تشہیر بن گئی ہو تممیری امید اگر مٹ گئی تو مٹنے دوامید کیا ہے بس اک پیش و پس ہے کچھ بھی نہیںمری حیات کی غمگینیوں کا غم نہ کروغم حیات غم یک نفس ہے کچھ بھی نہیںتم اپنے حسن کی رعنائیوں پہ رحم کرووفا فریب ہے طول ہوس ہے کچھ بھی نہیںمجھے تمہارے تغافل سے کیوں شکایت ہومری فنا مرے احساس کا تقاضا ہےمیں جانتا ہوں کہ دنیا کا خوف ہے تم کومجھے خبر ہے یہ دنیا عجیب دنیا ہےیہاں حیات کے پردے میں موت پلتی ہےشکست ساز کی آواز روح نغمہ ہےمجھے تمہاری جدائی کا کوئی رنج نہیںمرے خیال کی دنیا میں میرے پاس ہو تمیہ تم نے ٹھیک کہا ہے تمہیں ملا نہ کروںمگر مجھے یہ بتا دو کہ کیوں اداس ہو تمخفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پرتمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تممرا تو کچھ بھی نہیں ہے میں رو کے جی لوں گامگر خدا کے لیے تم اسیر غم نہ رہوہوا ہی کیا جو زمانے نے تم کو چھین لیایہاں پہ کون ہوا ہے کسی کا سوچو تومجھے قسم ہے مری دکھ بھری جوانی کیمیں خوش ہوں میری محبت کے پھول ٹھکرا دومیں اپنی روح کی ہر اک خوشی مٹا لوں گامگر تمہاری مسرت مٹا نہیں سکتامیں خود کو موت کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہوںمگر یہ بار مصائب اٹھا نہیں سکتاتمہارے غم کے سوا اور بھی تو غم ہیں مجھےنجات جن سے میں اک لحظہ پا نہیں سکتایہ اونچے اونچے مکانوں کی ڈیوڑھیوں کے تلےہر ایک گام پہ بھوکے بھکاریوں کی صداہر ایک گھر میں ہے افلاس اور بھوک کا شورہر ایک سمت یہ انسانیت کی آہ و بکایہ کارخانوں میں لوہے کا شور و غل جس میںہے دفن لاکھوں غریبوں کی روح کا نغمہیہ شاہراہوں پہ رنگین ساڑیوں کی جھلکیہ جھونپڑوں میں غریبوں کے بے کفن لاشےیہ مال روڈ پہ کاروں کی ریل پیل کا شوریہ پٹریوں پہ غریبوں کے زرد رو بچےگلی گلی میں یہ بکتے ہوئے جواں چہرےحسین آنکھوں میں افسردگی سی چھائی ہوئییہ جنگ اور یہ میرے وطن کے شوخ جواںخریدی جاتی ہیں اٹھتی جوانیاں جن کییہ بات بات پہ قانون و ضابطے کی گرفتیہ ذلتیں یہ غلامی یہ دور مجبورییہ غم بہت ہیں مری زندگی مٹانے کواداس رہ کے مرے دل کو اور رنج نہ دو
رات بھر پھونکوں سے ہر لو کو جگائے رکھااور دو جسموں کے ایندھن کو جلائے رکھارات بھر بجھتے ہوئے رشتے کو تاپا ہم نے
وہ صبح کبھی تو آئے گیان کالی صدیوں کے سر سے جب رات کا آنچل ڈھلکے گاجب دکھ کے بادل پگھلیں گے جب سکھ ساگر چھلکے گاجب امبر جھوم کے ناچے گا جب دھرتی نغمے گائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیجس صبح کی خاطر جگ جگ سے ہم سب مرمر کے جیتے ہیںجس صبح کے امرت کی دھن میں ہم زہر کے پیالے پیتے ہیںان بھوکی پیاسی روحوں پر اک دن تو کرم فرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمانا کہ ابھی تیرے میرے ارمانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںمٹی کا بھی ہے کچھ مول مگر انسانوں کی قیمت کچھ بھی نہیںانسانوں کی عزت جب جھوٹے سکوں میں نہ تولی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیدولت کے لئے جب عورت کی عصمت کو نہ بیچا جائے گاچاہت کو نہ کچلا جائے گا غیرت کو نہ بیچا جائے گااپنے کالے کرتوتوں پر جب یہ دنیا شرمائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیبیتیں گے کبھی تو دن آخر یہ بھوک کے اور بیکاری کےٹوٹیں گے کبھی تو بت آخر دولت کی اجارہ داری کےجب ایک انوکھی دنیا کی بنیاد اٹھائے جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیمجبور بڑھاپا جب سونی راہوں کی دھول نہ پھانکے گامعصوم لڑکپن جب گندی گلیوں میں بھیک نہ مانگے گاحق مانگنے والوں کو جس دن سولی نہ دکھائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گیفاقوں کی چتاؤں پر جس دن انساں نہ جلائے جائیں گےسینے کے دہکتے دوزخ میں ارماں نہ جلائے جائیں گےیہ نرک سے بھی گندی دنیا جب سورگ بتائی جائے گیوہ صبح کبھی تو آئے گی
رام بن باس سے جب لوٹ کے گھر میں آئےیاد جنگل بہت آیا جو نگر میں آئےرقص دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہوگاچھ دسمبر کو شری رام نے سوچا ہوگااتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئےجگمگاتے تھے جہاں رام کے قدموں کے نشاںپیار کی کاہکشاں لیتی تھی انگڑائی جہاںموڑ نفرت کے اسی راہ گزر میں آئےدھرم کیا ان کا تھا، کیا ذات تھی، یہ جانتا کونگھر نہ جلتا تو انہیں رات میں پہچانتا کونگھر جلانے کو مرا لوگ جو گھر میں آئےشاکاہاری تھے میرے دوست تمہارے خنجرتم نے بابر کی طرف پھینکے تھے سارے پتھرہے مرے سر کی خطا، زخم جو سر میں آئےپاؤں سرجو میں ابھی رام نے دھوئے بھی نہ تھےکہ نظر آئے وہاں خون کے گہرے دھبےپاؤں دھوئے بنا سرجو کے کنارے سے اٹھےرام یہ کہتے ہوئے اپنے دوارے سے اٹھےراجدھانی کی فضا آئی نہیں راس مجھےچھ دسمبر کو ملا دوسرا بن باس مجھے
کتنی محنت سے پڑھاتے ہیں ہمارے استادہم کو ہر علم سکھاتے ہیں ہمارے استادتوڑ دیتے ہیں جہالت کے اندھیروں کا طلسمعلم کی شمع جلاتے ہیں ہمارے استادمنزل علم کے ہم لوگ مسافر ہیں مگرراستہ ہم کو دکھاتے ہیں ہمارے استادزندگی نام ہے کانٹوں کے سفر کا لیکنراہ میں پھول بچھاتے ہیں ہمارے استاددل میں ہر لمحہ ترقی کی دعا کرتے ہیںہم کو آگے ہی بڑھاتے ہیں ہمارے استادسب کو تہذیب و تمدن کا سبق دیتے ہیںہم کو انسان بناتے ہیں ہمارے استادہم کو دیتے ہیں بہر لمحہ پیام تعلیماچھی باتیں ہی بتاتے ہیں ہمارے استادخود تو رہتے ہیں بہت تنگ و پریشان مگردولت علم لٹاتے ہیں ہمارے استادہم پہ لازم ہے کہ ہم لوگ کریں ان کا ادبکس محبت سے بڑھاتے ہیں ہمارے استاد
خوش گوار موسم میںان گنت تماشائیاپنی اپنی ٹیموں کوداد دینے آتے ہیںاپنے اپنے پیاروں کاحوصلہ بڑھاتے ہیںمیں الگ تھلگ سب سےبارہویں کھلاڑی کوہوٹ کرتا رہتا ہوںبارہواں کھلاڑی بھیکیا عجب کھلاڑی ہےکھیل ہوتا رہتا ہےشور مچتا رہتا ہےداد پڑتی رہتی ہےاور وہ الگ سب سےانتظار کرتا ہےایک ایسی ساعت کاایک ایسے لمحے کاجس میں سانحہ ہو جائےپھر وہ کھیلنے نکلےتالیوں کے جھرمٹ میںایک جملۂ خوش کنایک نعرۂ تحسیناس کے نام پر ہو جائےسب کھلاڑیوں کے ساتھوہ بھی معتبر ہو جائےپر یہ کم ہی ہوتا ہےپھر بھی لوگ کہتے ہیںکھیل سے کھلاڑی کاعمر بھر کا رشتہ ہے
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
تو دمکتے ہوئے عارض کی شعاعیں لے کرگل شدہ شمعیں جلانے کو چلی آئی ہے
گزر رہے تھے مہ و سال اور موسم پرہمارے شہر میں آتی تھی گھر کے جب برساتجب آسمان میں اڑتے تھے ہر طرف جگنوہوا کی موج رواں پر دیئے جلائے ہوئےفضا میں رات گئے جب درخت پیپل کا!ہزاروں جگنوؤں سے کوہ طور بنتا تھاہزاروں وادیٔ ایمن تھیں جس کی شاخوں میںیہ دیکھ کر مرے دل میں یہ ہوک اٹھتی تھیکہ میں بھی ہوتا انہیں جگنوؤں میں اک جگنوتو ماں کی بھٹکی ہوئی روح کو دکھاتا راہوہ ماں میں جس کی محبت کے پھول چن نہ سکاوہ ماں میں جس سے محبت کے بول سن نہ سکاوہ ماں کہ بھینچ کے جس کو کبھی میں سو نہ سکامیں جس کے آنچلوں میں منہ چھپا کے رو نہ سکاوہ ماں کہ گھٹنوں سے جس کے کبھی لپٹ نہ سکاوہ ماں کہ سینے سے جس کے کبھی چمٹ نہ سکاہمک کے گود میں جس کی کبھی میں چڑھ نہ سکامیں زیر سایۂ امید جس کے بڑھ نہ سکاوہ ماں میں جس سے شرارت کی داد پا نہ سکامیں جس کے ہاتھوں محبت کی مار کھا نہ سکا
جلال آتش و برق و سحاب پیدا کراجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کرترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاںہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کرصدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہتو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کربہت لطیف ہے اے دوست تیغ کا بوسہیہی ہے جان جہاں اس میں آب پیدا کرترے قدم پہ نظر آئے محفل انجموہ بانکپن وہ اچھوتا شباب پیدا کرترا شباب امانت ہے ساری دنیا کیتو خار زار جہاں میں گلاب پیدا کرسکون خواب ہے بے دست و پا ضعیفی کاتو اضطراب ہے خود اضطراب پیدا کرنہ دیکھ زہد کی تو عصمت گنہ آلودگنہ میں فطرت عصمت مآب پیدا کرترے جلو میں نئی جنتیں نئے دوزخنئی جزائیں انوکھے عذاب پیدا کرشراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خوں سےتو اب امیر کے خوں سے شراب پیدا کرگرا دے قصر تمدن کہ اک فریب ہے یہاٹھا دے رسم محبت عذاب پیدا کرجو ہو سکے ہمیں پامال کر کے آگے بڑھجو ہو سکے تو ہمارا جواب پیدا کربہے زمیں پہ جو میرا لہو تو غم مت کراسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کرتو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کرجو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر
دل نے ایسے بھی کچھ افسانے سنائے ہوں گےاشک آنکھوں نے پئے اور نہ بہائے ہوں گےبند کمرے میں جو خط میرے جلائے ہوں گےایک اک حرف جبیں پر ابھر آیا ہوگا
زخم خوردہ ہیں تخیل کی اڑانیں تیریتیرے گیتوں میں تری روح کے غم پلتے ہیںسرمگیں آنکھوں میں یوں حسرتیں لو دیتی ہیںجیسے ویران مزاروں پہ دیے جلتے ہیں
دیوالی کی رات آئی ہے تم دیپ جلائے بیٹھی ہومعصوم امنگوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہو
مدتوں بعد ملا نامۂ جاناں لیکننہ کوئی دل کی حکایت نہ کوئی پیار کی باتنہ کسی حرف میں محرومئ جاں کا قصہنہ کسی لفظ میں بھولے ہوئے اقرار کی باتنہ کسی سطر پہ بھیگے ہوئے کاجل کی لکیرنہ کہیں ذکر جدائی کا نہ دیدار کی باتبس وہی ایک ہی مضموں کہ مرے شہر کے لوگکیسے سہمے ہوئے رہتے ہیں گھروں میں اپنےاتنی بے نام خموشی ہے کہ دیوانے بھیکوئی سودا نہیں رکھتے ہیں سروں میں اپنےاب قفس ہی کو نشیمن کا بدل جان لیااب کہاں طاقت پرواز پروں میں اپنےوہ جو دو چار سبو کش تھے کہ جن کے دم سےگردش جام بھی تھی رونق مے خانہ بھی تھیوہ جو دو چار نواگر تھے کہ جن کے ہوتےحرمت نغمہ بھی تھی جرأت رندانہ بھی تھیکوئی مقتل کوئی زنداں کوئی پردیس گیاچند ہی تھے کہ روش جن کی جداگانہ بھی تھیاب تو بس بردہ فروشی ہے جدھر بھی جاؤاب تو ہر کوچہ و کو مصر کا بازار لگےسر دربار ستادہ ہیں بیاضیں لے کروہ جو کچھ دوست کبھی صاحب کردار لگےغیرت عشق کہ کل مال تجارت میں نہ تھیآج دیکھو کہ ہیں انبار کے انبار لگےایسا آسیب زدہ شہر کہ دیکھا نہ سناایسی دہشت ہے کہ پتھر ہوئے سب کے بازودر و دیوار خرابات وہی ہیں لیکننہ کہیں قلقل مینا ہے نہ گل بانگ سبوبے دلی شیوۂ ارباب محبت ٹھہرااب کوئی آئے کہ جائے ''تنناہو یاہو''
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books