aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "kasrat-e-asnaam"
کثرت اولاد سے ہم اس قدر بیزار ہیںاب تو بیگم سے الگ رہنے کو بھی تیار ہیں
یہ چاروں اور جو دکھتی ہے کثرت وحدتجو سچ کہوں دل کافر وجود زن سے ہے
وہ برگ گل تازہ وہ شبنم کی لطافتاک حسن سے وہ خندۂ سامان حقیقتوہ جلوۂ اصنام وہ بت خانے کی زینتزاہد کا وہ منظر وہ برہمن کی صباحت
سنیے اک ناعاقبت اندیش کی فریاد ہےکہہ رہا ہے وہ مجھے اپنی جوانی یاد ہےمیں جسے کہتا تھا گھر وہ آج طفل آباد ہےمیری تنہا جان ہے اور کثرت اولاد ہے''اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں''
آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نےجس سے اس شہر کے پھولوں کی مہک آتی تھیجس سے بے نور خیالوں پہ چمک آتی تھیکعبۂ رحمت اصنام تھا جو مدت سےآج اس قصر کی زنجیر ہلا دی ہم نےآگ، کاغذ کے چمکتے ہوئے سینے پہ بڑھیخواب کی لہر میں بہتے ہوئے آئے ساحلمسکراتے ہوئے ہونٹوں کا سلگتا ہوا کربسرسراتے ہوئے لمحوں کے دھڑکتے ہوئے دلجگمگاتے ہوئے آویزاں کی مبہم فریاددشت غربت میں کسی حجلہ نشیں کا محملایک دن روح کا ہر تار صدا دیتا تھاکاش ہم بک کے بھی اس جنس گراں کو پا لیںخود بھی کھو جائیں پر اس رمز نہاں کو پا لیںعقل اس حور کے چہرے کی لکیروں کو اگرآ مٹاتی تھی تو دل اور بنا دیتا تھااور اب یاد کے اس آخری پیکر کا طلسمقصۂ رفتہ بنا زیست کی ماتوں سے ہوادور اک کھیت پہ بادل کا ذرا سا ٹکڑادھوپ کا ڈھیر ہوا دھوپ کے ہاتوں سے ہوااس کا پیار اس کا بدن اس کا مہکتا ہوا روپآگ کی نذر ہوا اور انہی باتوں سے ہوا
مختلف ہیں آئینوں کے زاویےایک لیکن عکس ذات؛اک اکائی پر اسی کی ضرب سےکثرت وحدت کا پیدا ہے طلسمخلوت آئینہ خانہ میں کہیں کوئی نہیںصرف میں!میں ہی بتاور میں ہی بت پرست!میں ہی بزم ذات میں رونق افروزجلوہ ہائے ذات کو دیتا ہوں داد!
انسان اور اطاعت ماحول افتراآیا ہے اپنی آپ یہ دنیا لیے ہوئےہے دیکھنے میں ذرہ پہ صد مہر در بغلوحدت ہے اس کی کثرت اشیا لیے ہوئےظاہر میں ایک پھول پہ صد گلستاں یہ جیببالفعل قطرہ بالقوۃ دریا لیے ہوئےمعماریٔ جہان نو اس کی ہے زندگیموت اس کی ہے حیات کا چشمہ لیے ہوئےکس کی مجال ہے کہ اسے دیکھ کر کہےآیا ہے اپنے ساتھ یہ کیا کیا لیے ہوئے
گر آسماں کو مہر درخشاں پہ ناز ہےانجم پہ ناز ہے مہ تاباں پہ ناز ہےگلشن کو اپنے سنبل و ریحاں پہ ناز ہےاور باغباں کو اپنے گلستاں پہ ناز ہےشاخوں کو عندلیب کے نغموں پہ ناز ہےاور عندلیب کو گل خنداں پہ ناز ہےسبزہ کو اپنے گوہر لرزاں پہ ناز ہےصحن چمن کو حسن خراماں پہ ناز ہےشاعر کو اپنے حسن لیاقت پہ ناز ہےعاشق کو اپنے سینہ بریاں پہ ناز ہےاشکوں کو گرچہ اپنی روانی پہ ناز ہےآہوں کو اپنی آتش سوزاں پہ ناز ہےمنصور پاکباز کو دار و رسن پہ نازمجنوں کو اپنے چاک گریباں پہ ناز ہےذوق فنا پہ ناز ہے گرچہ پتنگ کومحفل کو اپنی شمع فروزاں پہ ناز ہےعصیاں کو گرچہ رحمت یزداں پہ ناز ہےرحمت کو عفو کثرت عصیاں پہ ناز ہےاپنی بلا سے گر کوئی نازاں خرد پہ ہوہم کو تو اے پوریؔ دل ناداں پہ ناز ہے
رنگ فطرت ہے وجہ حیرانیعقل ہے اور حیائے نادانیرازداں مدعا کو کہتے ہیںحسن الفت کا داغ پیشانیحسن باقی نے دل کو کھینچ لیارخصت اے حسن ہستئ فانیدل ہے وقف رجائے رحم و کرمجاں ہے نذر رضائے ربانیاب میں سمجھی کہ ہے فنائے خودیانبساط بہشت لافانیغم نہ کر ہے نقیب ابر بہارخشکیٔ موسم زمستانیدل صد پارہ کے الم گن لوںدیکھی جائے گی سبحہ گردانیکر سکے طے نہ ملک عرفاں کورومی و مغربی و کرمانیدورئ بزم دوست کے غم میںمحو افغاں ہے اک افغانیعرش کے کنگرے پہ طائر قدسرات کرتا تھا یوں خوش الحانیکہ ہے انساں طلسم شان خداقدر اپنی نہ اس نے پہچانیبند کیں اس نے جب ذرا آنکھیںکھل گیا راز بزم امکانیچارۂ روح فلسفی ہے نہ شیخایک وہمی ہے ایک خفقانیکثرت این و آں میں وحدت دوستکنج نایاب کی فراوانیشیخ رنج بیاں کا ڈر نہ کرےلا بیاں ہے یہ کیف وجدانیمتشکک ہے اور شکایت ہجرنزہت اور شکر لطف پنہانی
کہتے ہیں جس کو زندگیموت بھی ہے حیات بھیہے یہی کشمکش کا دنعیش و طرب کی رات بھیسوچو تو ہے یہ الغرضمایۂ جوہر و عرضہے یہی اصل میں وجودہے یہی ممکنات بھیاس کی نمود میں نہاںوحدت و کثرت جہاںاہل نظر کے روبروذات بھی ہے صفات بھیہے یہی ابر نو بہارباد خزاں سے ہم کنارہے یہی مہر نیمروزذرۂ کائنات بھیاس سے ہے حسن کو غروراس سے ہے عشق ناصبوروصل کی ہے کہانیاںہجر کی واردات بھیاس سے جہاں میں شور و غلہے یہ بہادروں کی ملاس سے ہیں در وا صلح کےجنگ کی اس سے گھات بھیعزم تسلط جہاںاس کی امنگ میں نہاںہے یہی وجہ انقلابمژدہ دہ ثبات بھیسوئے عمل سے ہے غلامحسن عمل سے ہے امامہے یہ محرک فسادعامل صالحات بھیموت و حیات ہیں یہاںحسن عمل کے امتحاںزندگی ہی حیات ہےزندگی ہی ممات بھیکہتے ہیں جس کو زندگیموت بھی ہے حیات بھیفتح و ظفر کا ہے یہ دنجور و ستم کی رات بھی
میں نے ہر چند غم عشق کو کھونا چاہاغم الفت غم دنیا میں سمونا چاہاوہی افسانے مری سمت رواں ہیں اب تکوہی شعلے مرے سینے میں نہاں ہیں اب تکوہی بے سود خلش ہے مرے سینے میں ہنوزوہی بے کار تمنائیں جواں ہیں اب تکوہی گیسو مری راتوں پہ ہیں بکھرے بکھرےوہی آنکھیں مری جانب نگراں ہیں اب تککثرت غم بھی مرے غم کا مداوا نہ ہوئیمیرے بے چین خیالوں کو سکون مل نہ سکادل نے دنیا کے ہر اک درد کو اپنا تو لیامضمحل روح کو انداز جنوں مل نہ سکامیری تخیل کا شیرازہ برہم ہے وہیمیرے بجھتے ہوئے احساس کا عالم ہے وہیوہی بے جان ارادے وہی بے رنگ سوالوہی بے روح کشاکش وہی بے چین خیالآہ اس کشمکش صبح و مسا کا انجاممیں بھی ناکام مری سعی عمل بھی ناکام
سنو کثرت خاک میں بسنے والوسنو توسن برق رفتار پر کاٹھیاں کسنے والویہ پھر کون سے معرکے کا ارادہتمہاری نسوں میں یہ کس خواب فاتح کا پھر باب وحشت کھلا ہےفصیلوں پہ اک پرچم خوں چکاں گاڑ دینے کی نیتکئی لاکھ مفتوح جسموں کو پھر حالت سینہ کوبی میں روتے ہوئے دیکھنے کی تمنایہ کس آب دیوانگی سے بدن کا سبو بھر رہے ہوسنو تم بڑی بد نما رات کی دھند میں فیصلہ کر رہے ہوادھر سینکڑوں کوس پر اک پہاڑی ہے جس پر کوئی شے نہیں ہےوہاں ہر طرف سے تمہیں آگ کے غول گھیرے میں لینے کی خاطر کھڑے ہیںابھی وقت ہے لوٹ جاؤسنو عجلت فکر میں کوئی بھی کام انجام پاتا نہیںپھر کسی ساعت شب گرفتہ میں کوئی ستارا بلاتا نہیں
چلو اک وعدہ کرتے ہیںکہ ہم اور آپ سب بھیذہن اور دل کی کدورت صاف کرتے ہیںبے ایمانی پر دیانت کبر پر اخلاص کونفرتوں کے زہر پر پیار کی مٹھاس کوہم غالب کرتے ہیںچلو ہم یہ بھی کرتے ہیںکہ اہل حق کو ان کا حق دلاتے ہیںجو مجرم ہیں انہیں مجرم ہی کہتے ہیںفریب و مصلحت کو آپ بھی اور ہم بھی چھوڑیںقدم بوسوں کے بھیانک غول کو جو دیمک و جراثیم کی صورتنظام فکر و فن برباد کرتا ہےاسے ہم دور رکھتے ہیں اسے مذموم کہتے ہیںسنا ہے جس زمیں جس قوم سے سچائی جاتی ہےتو اس کے ساتھ ہی ایمان اور انصاف جاتا ہےتو اپنے طور پر ان تینوں کو ہم تھامے رکھتے ہیںچلو ہم ایسا کرتے ہیںضعیف و طفل کو بہو کو بیٹیوں کو ماں کو ہم مشترکہ کہتے ہیںدھرم اور ذات کےکثرت و قلت کے سارے پھولوں کو چن کرانہیں خوش رنگ کرتے ہیں حسیں مالا پروتے ہیںچلو ہم ایسا کرتےیہ تحفہ آنے والی نسل کو ہم پیش کرتے ہیں
وہ کچھ دوشیزگان ناز پرورکھڑی ہیں اک بساطی کی دکاں پرنظر کے سامنے ہے ایک محشراور اک محشر ہے میرے دل کے اندرسنہرا کام رنگیں ساریوں پربساط آسماں پر ماہ و اخترجمال و حسن کے پر رعب تیورنمایاں چاند سی پیشانیوں پروہ رخساروں پہ ہلکی ہلکی سرخیلبوں میں پر فشاں روح گل ترسیہ زلفوں میں روح سنبلستاںنظر سر چشمۂ تسنیم و کوثرادائے ناز غرق کیف صہباسیہ مژگاں شراب آلودہ نشترچمک تاروں کی چشم سرمگیں میںجھلک چاندی کی جسم مرمریں میںوہ خوشبو آ رہی ہے پیرہن سےفضا ہے دور تک جس سے معطرتبسم اور ہنسی کے نرم طوفاںفضاؤں میں مسلسل بارش زرنشاط رنگ و بو سے چور آنکھیںشراب ناب سے لبریز ساغروہ محرابیں سی سینوں پر نمایاںفضائے نور میں کیوپڈ کے شہ پرنفس کے آمد و شد سے تلاطمشب مہتاب میں جیسے سمندرستاروں کی نگاہیں جھک گئی ہیںزمیں پھر خندہ زن ہے آسماں پرکوئی آئینہ دار حسن فارسکسی میں حسن یونانی کے جوہرکسی میں عکس ''معصوم کلیسا''کسی میں پرتو اصنام آذریہ شیریں ہے وہ نوشابہ ہے شایدنہیں یاں فرق فرہاد و سکندریہ اپنے حسن میں عذرائے وامقوہ اپنے ناز میں سلمائے اخترؔیہ تابانی میں خورشید درخشاںوہ رعنائی میں اس سے بھی فزوں ترہنسی اس کی طلوع صبح خنداںنوا اس کی سرود کیف آوریہ شعلہ آفریں وہ برق افگنیہ آئینہ جبیں وہ ماہ پیکروہ جنبش سی ہوئی کچھ آنچلوں کووہ لہریں سی اٹھیں کچھ ساریوں پرخرام ناز سے نغمے جگاتیوہ چل دیں ایک جانب مسکرا کرکسی کی حسرتیں پامال کرتیکسی کی حسرتیں ہمراہ لے کرکبھی آنکھیں دکانوں پر جمی ہیںکبھی خود اپنی ہی برنائیوں پرادھر ہم نے اک آہ سرد کھینچیہنسی پھر آ گئی اپنے کئے پر
اے مجاز اے ترانہ بار مجاززندہ پیغمبر بہار مجازاے بروۓ سمن وشاں گل پوشاے بہ کوۓ مغاں تمام خروشاے پرستار مہ رخان جہاںاے کماں دار شاعران جواںتجھ سے تاباں جبین مستقبلاے مرے سینۂ امید کے دلاے مجاز اے مبصر خد و خالاے شعور جمال و شمع خیالاے ثریا فریب و زہرہ نوازشاعر مست و رند شاہد بازناقد عشوۂ شباب ہے توصبح فردا کا آفتاب ہے توتجھ کو آیا ہوں آج سمجھانےحیف ہے تو اگر برا مانےخود کو غرق شراب ناب نہ کردیکھ اپنے کو یوں خراب نہ کرشاعری کو تری ضرورت ہےدور فردا کی تو امانت ہےصرف تیری بھلائی کو اے جاںبن کے آیا ہوں ناصح ناداںایک ٹھہراؤ اک تکان ہے تودیکھ کس درجہ دھان پان ہے توننگ ہے محض استخواں ہوناسخت اہانت ہے ناتواں ہونااستخوانی بدن دخانی پوستایک سنگین جرم ہے اے دوستشرم کی بات ہے وجود سقیمناتوانی ہے اک گناہ عظیمجسم اور علم طرفہ طاقت ہےیہی انسان کی نبوت ہےجو ضعیف و علیل ہوتا ہےعشق میں بھی ذلیل ہوتا ہےہر ہنر کو جو ایک دولت ہےعلم اور جسم کی ضرورت ہےکثرت بادہ رنگ لاتی ہےآدمی کو لہو رلاتی ہےخوش دلوں کو رلا کے ہنستی ہےشمع اختر بجھا کے ہنستی ہےاور جب آفت جگر پہ لاتی ہےرند کو مولوی بناتی ہےمے سے ہوتا ہے مقصد دل فوتمے ہے بنیاد مولویت و موتکان میں سن یہ بات ہے نشترمولویت ہے موت سے بد تراس سے ہوتا ہے کار عمر تماماس سے ہوتا ہے عقل کو سرساماس میں انساں کی جان جاتی ہےاس میں شاعر کی آن جاتی ہےیہ زمین آسمان کیا شے ہےآن جائے تو جان کیا شے ہےگوہر شاہ وار چن پیارےمجھ سے اک گر کی بات سن پیارےغم تو بنتا ہے چار دن میں نشاطشادمانی سے رہ بہت محتاطغم کے مارے تو جی رہے ہیں ہزارنہیں بچتے ہیں عیش کے بیمارآن میں دل کے پار ہوتی ہےپنکھڑی میں وہ دھار ہوتی ہےجوئے عشرت میں غم کے دھارے ہیںیخ و شبنم میں بھی شرارے ہیںہاں سنبھل کر لطافتوں کو برتٹوٹ جائے کہیں نہ کوئی پرتدیکھ کر شیشۂ نشاط اٹھایہ ورق ہے ورق ہے سونے کاکاغذ باد یہ نگینہ ہےبلکہ اے دوست آبگینہ ہےساغر شبنم خوش آب ہے یہآبگینہ نہیں حباب ہے یہروک لے سانس جو قریب آئےٹھیس اس کو کہیں نہ لگ جائےتیغ مستی کو احتیاط سے چھوورنہ ٹپکے گا انگلیوں سے لہومستیوں میں ہے تاب جلوۂ ماہاور سیہ مستیاں خدا کی پناہخوب ہے ایک حد پہ قائم نشہہلکا پھلکا سبک ملائم نشہہاں ادب سے اٹھا ادب سے جامتاکہ آب حلال ہو نہ حرامجام پر جام جو چڑھاتے ہیںاونٹ کی طرح بلبلاتے ہیںزندگی کی ہوس میں مرتے ہیںمے کو رسوائے دہر کرتے ہیںیاد ہے جب جگرؔ چڑھاتے تھےکیا الف ہو کے ہن ہناتے تھےمیری گردن میں بھر کے چند آہیںپاؤں سے ڈالتے تھے وہ بانہیںعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیاف گھٹا ٹوپ نشے کا طوفانبھوت عفریت دیو جن شیطانلات گھونسہ چھڑی چھری چاقولب لباہٹ لعاب کف بدبوطنز آوازہ برہمی افسادطعن تشنیع مضحکہ ایرادشور ہو حق ابے تبے ہے ہےاوکھیاں گالیاں دھماکے قےمس مساہٹ غشی تپش چکرسوز سیلاب سنسنی صرصرچل چخے چیخ چناں چنیں چنگھاڑچخ چخے چاؤں چاؤں چیل چلھاڑلپا ڈکی لتام لام لڑائیہول ہیجان ہانک ہاتھا پائیکھلبلی کاؤں کاؤں کھٹ منڈلہونک ہنگامہ ہمہمہ ہلچلالجھن آوارگی ادھم اینٹھنبھونک بھوں بھوں بھنن بھنن بھن بھندھول دھپا دھکڑ پکڑ دھتکارتہلکہ تو تڑاق تف تکراربو بھبھک بھیے بکس برر بھونچالدبدبے دندناہٹیں دھمالگاہ نرمی و لطف و مہر و سلامگاہ تلخی و ترشی و دشنامعقل کی موت علم کی پستیالاماں لعنت سیہ مستیصرف نشے کی بھیگنے دے مسیںان کو بننے نہ دے کبھی مونچھیںالاماں خوفناک کالا نشہاوہ ریش و بروت والا نشہاژدر مرگ او دیو خوں خواریالاماں نشۂ ''جٹادھاری''نشے کا جھٹ پٹا ہے نور حیاتجھٹپٹے کو بنا نہ کالی راتنشے کی تیز روشنی بھی غلطچودھویں کی سی چاندنی بھی غلطذہن انساں کو بخشتا ہے جمالنشہ ہو جب یہ قدر نور ہلالغرفۂ عقل بھیڑ تو اکثرپر اسے کچ کچا کے بند نہ کررات کو لطف جام ہے پیارےدن کا پینا حرام ہے پیارےدن ہے عفریت آز کی کھنکارات پازیب نازکی جھنکاردن ہے خاشاک خاک دھول دھواںرات آئینہ انجمن افشاںدن مسلح دواں کمر بستہرات طاق و رواق و گلدستہدن ہے فولاد سنگ تیغ علمرات کمخواب پنکھڑی شبنمدن ہے شیون دہائیاں دکھڑےرات مست انکھڑیاں جواں مکھڑےدن کڑی دھوپ کی بد آہنگیرات پچھلے پہر کی سارنگیدن بہادر کا بان بیر کی رتھرات چمپاکلی انگوٹھی نتھدن ہے طوفان جنبش و رفتاررات میزان کاکل و رخسارآفتاب و شراب ہیں بیریبوتلیں دن کو ہیں پچھل پیریکر نہ پامال حرمت اوقاترات کو دن بنا نہ دن کو راتپی مگر صرف شام کے ہنگاماور وہ بھی بہ قدر یک دو جاموہی انساں ہے خرم و خورسندجو ہے مقدار و وقت کا پابندمیرے پینے ہی پر نہ جا مری جاںمجھ سے جینا بھی سیکھ ہیں قرباںاس کے پینے میں رنگ آتا ہےجس کو جینے کا ڈھنگ آتا ہےیہ نصائح بہت ہیں بیش بہاجلد سو جلد جاگ جلد نہاباغ میں جا طلوع سے پہلےتا نگار سحر سے دل بہلےسرو و شمشاد کو گلے سے لگاہر چمن زاد کو گلے سے لگامنہ اندھیرے فضائے گلشن دیکھساحل و سبزہ زار و سوسن دیکھگاہ آوارہ ابر پارے دیکھان کی رفتار میں ستارے دیکھجیسے کہرے میں تاب روئے نکوجیسے جنگل میں رات کو جگنوگل کا منہ چوم اک ترنم سےنہر کو گدگدا تبسم سےجسم کو کر عرق سے نم آلودتاکہ شبنم پڑھے لہک کے درودپھینک سنجیدگی کا سر سے بارناچ اچھل دندنا چھلانگیں ماردیکھ آب رواں کا آئینہدوڑ ساحل پہ تان کر سینہمست چڑیوں کا چہچہانا سنموج نو مشق کا ترانہ سنبوستاں میں صبا کا چلنا دیکھسبزہ و سرو کا مچلنا دیکھشبنم آلود کر سخن کا لباسچکھ دھندلکے میں بوئے گل کی مٹھاسشاعری کو کھلا ہوائے سحراس کا نفقہ ہے تیری گردن پررقص کی لہر میں ہو گم لب نہریوں ادا کر عروس شعر کا مہرجذب کر بوستاں کے نقش و نگارذہن میں کھول مصر کا بازارنرم جھونکوں کا آب حیواں پیبوئے گل رنگ شبنمستاں پیگن گنا کر نظر اٹھا کر پیصبح کا شیر دغدغہ کر پیتاکہ مجرے کو آئیں کل برکاتدولت جسم و علم و عقل و حیاتیہ نہ طعنہ نہ یہ الہنا ہےایک نکتہ بس اور کہنا ہےغیبت نور ہو کہ کثرت نورظلمت تام ہو کہ شعلۂ طورایک سا ہے وبال دونوں کاتیرگی ہے مآل دونوں کادرخور صاحب مآل نہیںہر وہ شے جس میں اعتدال نہیںشادمانی سے پی نہیں سکتاجس کو ہوکا ہو جی نہیں سکتااے پسر اے برادر اے ہم رازبن نہ اس طرح دور کی آوازکوئی بیمار تن نہیں سکتاخادم خلق بن نہیں سکتاخدمت خلق فرض ہے تجھ پردور ماضی کا قرض ہے تجھ پرعصر حاضر کے شاعر خوددارقرض داری کی موت سے ہشیارذہن انسانیت ابھار کے جازندگانی کا قرض اتار کے جاتجھ پہ ہندوستان ناز کرےعمر تیری خدا دراز کرے
یہاں میں مطمئن ہوںروز و شب کی چیرہ دستی سےبہت محفوظشاداں اور فرحاںزندگی کی دوڑ میں سب مرحلوں پرکامراںخوش کامزندہ ہوں
ہنگامۂ کشاکش سود و زیاں نہ پوچھشاید کہ ہو رہا ہے پھر اک امتحاں نہ پوچھکیوں کر لٹی ہے جنس گراں مایۂ نشاطویراں ہوا ہے کیسے بھرا آشیاں نہ پوچھشاید سجھا گئی ہے مآل چمن کا رازکیا کہہ گئی ہے باغ سے باد خزاں نہ پوچھاے ناشناس قیمت آزادیٔ حیاتحاصل ہوئی ہے چیز یہ کتنی گراں نہ پوچھتفریق باہمی یہ تشتت یہ افتراقخرمن جلا نہ دیں کہیں یہ بجلیاں نہ پوچھاپنی جگہ بھی کیوں کوئی اب مطمئن نہیںنکتہ نہیں یہ قابل شرح و بیاں نہ پوچھالجھا ہوا ہے باہمی جنگ و جدل میں کیوںدنیا پہنچ گئی ہے کہاں سے کہاں نہ پوچھعبرت نظر سے دیکھ مآل گل و چمندستور انقلاب بہار و خزاں نہ پوچھجن سے ہے اب بھی دامن انسان لالہ زارافسانۂ حیات کی وہ سرخیاں نہ پوچھفتنہ کوئی جہاں میں نیا جاگتا نہ ہواٹھا ہے کیوں یہ شور غم نا گہاں نہ پوچھانعامؔ زندگی کے حقائق کے واسطےلازم ہے کس قدر نظر نکتہ داں نہ پوچھ
تسلط لاکھ یہ صیاد و برق و باغباں کر لیںنہیں ممکن کہ ہم باہر چمن سے آشیاں کر لیںبدل دیں یہ زمیں پیدا نیا اک آسماں کر لیںہم اپنے جذبۂ دل سے مہیا اک جہاں کر لیںابھی سب دغدغہ مٹ جائے یہ صیاد و گلچیں کاجو ہم پیدا شعور زندگیٔ گلستاں کر لیںزمانہ دے رہا ہے دعوت بیداری و جرأتنگاہ و دل کو آمادہ برائے امتحاں کر لیںپہنچ جائیں ہم استقلال کی ایسی بلندی پرنظر مستغنیٔ ہنگامۂ سود و زیاں کر لیںابھی ہو جائیں پارہ پارہ سب اعدا کی تدبیریںذرا ہم مجتمع اپنے اگر تاب و تواں کر لیںگزر اچھا نہیں ہر دم یہ ضد پر آشیانے کیبس اپنا راستہ ہی مختلف اب بجلیاں کر لیںبدل جائے ابھی انعامؔ نظم شورش باطلذرا ہم اتباع مشرب روحانیاں کر لیں
اداسی چھا رہی ہے کس لیے انعامؔ چہروں پرپریدہ رخ کا رنگ و نور کیوں ہے ہم سمجھتے ہیں
دریائے طبیعت کو رواں ہم نے کیا ہےدر ہاٸے معانی کو عیاں ہم نے کیا ہےیوں حال دل زار بیاں ہم نے کیا ہےخود ان کو بھی اب اشک فشاں ہم نے کیا ہےان میں بھی نظر کچھ کی حقائق سے ہے محرومیہ تجزیۂ دیدہ وراں ہم نے کیا ہےکم ہیں بہت انسانیت و خلق کی قدریںیہ تجربۂ اہل جہاں ہم نے کیا ہےہے بات ہماری ہی کہ رندوں کو بہر طورزیر اثر پیر مغاں ہم نے کیا ہےکیا خوب ابھر آئے نقوش گل و لالہآنکھوں کو جو خوں نابہ فشاں ہم نے کیا ہےاک موڑ دیا ہے رخ تاریخ کو جس نےکردار وہ عالم پہ عیاں ہم نے کیا ہےماحول کے ظلمت کدۂ تیرہ شبی کواک جلوہ گہ کاہکشاں ہم نے کیا ہےگویا ہیں دل و دیدہ زباں ساکت و خاموشاس طرز سے بھی شور فغاں ہم نے کیا ہےپیہم رہے ہم حسن یقیں کے متجسسکب کوئی غلط وہم و گماں ہم نے کیا ہےعبرت کدۂ دہر کی اک کھینچ دی تصویرجب ذکر جہان گزراں ہم نے کیا ہےشائستگیٔ فکر کو بھی ناز ہے جس پرپیدا وہی اسلوب بیاں ہم نے کیا ہےلبیک کہا ہے رسن و دار کو جس نےوہ حوصلۂ قلب تپاں ہم نے کیا ہےخلاق دو عالم کا کیا ذکر و تصورکیا خوب علاج غم جاں ہم نے کیا ہےہم نے ہی بنایا انہیں مردان خوش انفاستبدیل رخ بادہ کشاں ہم نے کیا ہےہر خلوت و جلوت میں جو کہتے رہے دائموہ برسر منبر بھی بیاں ہم نے کیا ہےہر حال میں راضی رہے ہم اس کی رضا میںکب تبصرۂ سود و زیاں ہم نے کیا ہےکہسار و سما جس کے اٹھانے سے تھے معذوربرداشت وہ اک بار گراں ہم نے کیا ہےحق گوئی اگر جرم ہے یہ جرم نکو ترہم ڈٹ کے یہ کہتے ہیں کہ ہاں ہم نے کیا ہےانسان ہیں انسان ہم اک اشرف مخلوقتسخیر جو یہ کون و مکاں ہم نے کیا ہےجس درجہ پئے عالم بالا ہے ضروریانعامؔ وہ سامان کہاں ہم نے کیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books