aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khich"
ایک روز کی بات ہے بھائیرس کی ہم نے کھیر پکائیپہلے رس کا میل نکالااور پتیلی میں پھر ڈالادیگچی پھر چولھے پہ چڑھائیاس کے نیچے آگ جلائیڈالے رس میں چاول ستھرےاور چلایا دھیرے دھیرےکھچ کھچ کر کے پکتی جاتیہم سب سے یہ کہتی جاتیچاول بولو کس نے بنایاکھیت میں گنا کس نے اگایاپک کر جب تیار ہوئی توتحفہ دیا پڑوسن بی کوخوش ہو کر ہم سب نے کھائیکھیر پڑوسن کو بھی بھائیشکر ہے اس اللہ کا بھائیجس نے ہم کو کھیر کھلائی
حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاخود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھاتری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہےتو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھاتری چین جبیں خود اک سزا قانون فطرت میںاسی شمشیر سے کار سزا لیتی تو اچھا تھایہ تیرا زرد رخ یہ خشک لب یہ وہم یہ وحشتتو اپنے سر سے یہ بادل ہٹا لیتی تو اچھا تھادل مجروح کو مجروح تر کرنے سے کیا حاصلتو آنسو پونچھ کر اب مسکرا لیتی تو اچھا تھاترے زیر نگیں گھر ہو محل ہو قصر ہو کچھ ہومیں یہ کہتا ہوں تو ارض و سما لیتی تو اچھا تھااگر خلوت میں تو نے سر اٹھایا بھی تو کیا حاصلبھری محفل میں آ کر سر جھکا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے کا ٹیکا مرد کی قسمت کا تارا ہےاگر تو ساز بے داری اٹھا لیتی تو اچھا تھاعیاں ہیں دشمنوں کے خنجروں پر خون کے دھبےانہیں تو رنگ عارض سے ملا لیتی تو اچھا تھاسنانیں کھینچ لی ہیں سرپھرے باغی جوانوں نےتو سامان جراحت اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکنتو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویاشاخ بازو کے لیے زلف کا بادل رویامثل پیراہن گل پھر سے بدن چاک ہوئےجیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیراس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا دو نیمنوک دشنہ سے کھچی تھی مری دھرتی پہ لکیر
میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتاسکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتاکوئی نغمے تو کیا اب مجھ سے میرا ساز بھی لے لےجو گانا چاہتا ہوں آہ وہ میں گا نہیں سکتامتاع سوز و ساز زندگی پیمانہ و بربطمیں خود کو ان کھلونوں سے بھی اب بہلا نہیں سکتاوہ بادل سر پہ چھائے ہیں کہ سر سے ہٹ نہیں سکتےملا ہے درد وہ دل کو کہ دل سے جا نہیں سکتاہوس کاری ہے جرم خودکشی میری شریعت میںیہ حد آخری ہے میں یہاں تک جا نہیں سکتانہ طوفاں روک سکتے ہیں نہ آندھی روک سکتی ہےمگر پھر بھی میں اس قصر حسیں تک جا نہیں سکتاوہ مجھ کو چاہتی ہے اور مجھ تک آ نہیں سکتیمیں اس کو پوجتا ہوں اور اس کو پا نہیں سکتایہ مجبوری سی مجبوری یہ لاچاری سی لاچاریکہ اس کے گیت بھی دل کھول کر میں گا نہیں سکتازباں پر بے خودی میں نام اس کا آ ہی جاتا ہےاگر پوچھے کوئی یہ کون ہے بتلا نہیں سکتاکہاں تک قصۂ آلام فرقت مختصر یہ ہےیہاں وہ آ نہیں سکتی وہاں میں جا نہیں سکتاحدیں وہ کھینچ رکھی ہیں حرم کے پاسبانوں نےکہ بن مجرم بنے پیغام بھی پہنچا نہیں سکتا
میں نے اس سے یہ کہایہ جو دس کروڑ ہیںجہل کا نچوڑ ہیںان کی فکر سو گئیہر امید کی کرنظلمتوں میں کھو گئییہ خبر درست ہےان کی موت ہو گئیبے شعور لوگ ہیںزندگی کا روگ ہیںاور تیرے پاس ہےان کے درد کی دوامیں نے اس سے یہ کہاتو خدا کا نور ہےعقل ہے شعور ہےقوم تیرے ساتھ ہےتیرے ہی وجود سےملک کی نجات ہےتو ہے مہر صبح نوتیرے بعد رات ہےبولتے جو چند ہیںسب یہ شر پسند ہیںان کی کھینچ لے زباںان کا گھونٹ دے گلامیں نے اس سے یہ کہاجن کو تھا زباں پہ نازچپ ہیں وہ زباں درازچین ہے سماج میںبے مثال فرق ہےکل میں اور آج میںاپنے خرچ پر ہیں قیدلوگ تیرے راج میںآدمی ہے وہ بڑادر پہ جو رہے پڑاجو پناہ مانگ لےاس کی بخش دے خطا
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
تمہارے ہیں کہو اک دنکہو اک دنکہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہےکہو اک دنجسے تم چاند سا کہتے ہو وہ چہرہ تمہارا تھاستارہ سی جنہیں کہتے ہو وہ آنکھیں تمہاری ہیںجنہیں تم شاخ سی کہتے ہو وہ بانہیں تمہاری ہیںکبوتر تولتے ہیں پر تو پروازیں تمہاری ہیںجنہیں تم پھول سی کہتے ہو وہ باتیں تمہاری ہیںقیامت سی جنہیں کہتے ہو رفتاریں تمہاری ہیںکہو اک دنکہو اک دنکہ جو کچھ بھی ہمارے پاس ہے سب کچھ تمہارا ہےاگر سب کچھ یہ میرا ہے تو سب کچھ بخش دو اک دنوجود اپنا مجھے دے دو محبت بخش دو اک دنمرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ کر روح میری کھینچ لو اک دن
اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑااس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمہارالیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمتبھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھاغیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہےاپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہناآؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میریوہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنامکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولیحضرت کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکااس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہےجو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا پھر نہیں اترا
جہاں زادوہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوتجس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہےمحیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زنتمام رات تیرتے رہے تھے ہمہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کےتیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سےکہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہےہم ایک دوسرے سے مطمئن زوال عمر کے خلافتیرتے رہےتو کہہ اٹھی: 'حسن یہاں بھی کھینچ لائیجاں کی تشنگی تجھے!'(لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا میںکہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوںسے شاد کام ہوگیا!)مگر یہ وہم دل میں تیرنے لگا کہ ہو نہ ہومرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیانہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیںکہ اب بھی ربط جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھےیہی وہ اعتبار تھاکہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیامیں سب سے پہلے 'اپ 'ہوںاگر ہمیں ہوں تو ہو اور میں ہوں پھر بھی میںہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!اگر میں زندہ ہوں تو کیسے آپ سے دغا کروں؟کہ تیرے جیسی عورتیں، جہاں زاد،ایسی الجھنیں ہیںجن کو آج تک کوئی نہیں 'سلجھ' سکاجو میں کہوں کہ میں 'سلجھ' سکا تو سر بسرفریب اپنے آپ سے!کہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جس کا ہم نہیں(لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکرتیرے لب پہ تھاوہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہالبوں کو نوچتا رہاجو میں کبھی نہ کر سکانہیں یہ سچ ہے میں ہوں یا لبیب ہورقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاط ناب کاجو صد نوا و یک نوا خرام صبح کی طرحلبیب ہر نوائے ساز گار کی نفی سہی!)مگر ہمارا رابطہ وصال آب و گل نہیں، نہ تھا کبھیوجود آدمی سے آب و گل سدا بروں رہےنہ ہر وصال آب و گل سے کوئی جام یا سبو ہی بن سکاجو ان کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!
خوف آفت سے کہاں دل میں ریا آئے گیبات سچی ہے جو وہ لب پہ سدا آئے گیدل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفتمیری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گیمیں اٹھا لوں گا بڑے شوق سے اس کو سر پرخدمت قوم و وطن میں جو بلا آئے گیسامنا صبر و شجاعت سے کروں گا میں بھیکھنچ کے مجھ تک جو کبھی تیغ جفا آئے گیغیر زعم اور خودی سے جو کرے گا حملہمیری امداد کو خود ذات خدا آئے گیآتما ہوں میں بدل ڈالوں گا فوراً چولاکیا بگاڑے گی اگر میری قضا آئے گیخون روئے گی سما پر میرے مرنے پہ شفقغم منانے کے لیے کالی گھٹا آئے گیابر تر اشک بہائے گا مرے لاشے پرخاک اڑانے کے لیے باد صبا آئے گیزندگانی میں تو ملنے سے جھجکتی ہے فلکؔخلق کو یاد مری بعد فنا آئے گی
جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کوسو چراغ اندھیرے میں جھلملانے لگتے ہیںخشک خشک ہونٹوں میں جیسے دل کھنچ آتا ہےدل میں کتنے آئینے تھرتھرانے لگتے ہیںپھول کیا شگوفے کیا چاند کیا ستارے کیاسب رقیب قدموں پر سر جھکانے لگتے ہیںذہن جاگ اٹھتا ہے روح جاگ اٹھتی ہےنقش آدمیت کے جگمگانے لگتے ہیںلو نکلنے لگتی ہے مندروں کے سینے سےدیوتا فضاؤں میں مسکرانے لگتے ہیںرقص کرنے لگتی ہیں مورتیں اجنتا کیمدتوں کے لب بستہ غار گانے لگتے ہیںپھول کھلنے لگتے ہیں اجڑے اجڑے گلشن میںتشنہ تشنہ گیتی پر ابر چھانے لگتے ہیںلمحہ بھر کو یہ دنیا ظلم چھوڑ دیتی ہےلمحہ بھر کو سب پتھر مسکرانے لگتے ہیں
یہ دھوم مچی ہو ہولی کی اور عیش مزے کا جھکڑ ہواس کھینچا کھینچ گھسیٹی پر بھڑوے رنڈی کا پھکڑ ہومعجون، شرابیں، ناچ، مزہ، اور ٹکیا سلفا ککڑ ہولڑ بھڑ کے نظیرؔ بھی نکلا ہو، کیچڑ میں لتھڑ پتھڑ ہو
آخری تکرار کے بعد میں نے زبان سمیٹ لی ہےاب میں ایک لفظ بھی مزید نہیں بولوں گاکھینچ تان کر زبان اپنے بدن پر لپیٹ لی ہےدعا نہیں کروں گا گرہ نہیں کھولوں گا
ہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ ان کے جسموں پہ کس کا حق ہےہمیں تو ہیں وہجو طے کریں گےکہ کس سے ان کے نکاح ہوں گےیہ کس کے بستر کی زینتیں ہیںوہ کون ہوگا جو اپنے ہونٹوں کوان کے جسموں کی آب دے گابھلے محبت کسی کے کہنے پہآج تک ہو سکی نہ ہوگیمگر یہ ہم طے کریں گےان کو کسے بسانا ہے اپنے دل میںہم ان کے مالک ہیںجب بھی چاہیںانہیں لحافوں میں کھینچ لائیںاور ان کی روحوں میں دانت گاڑیںیہ ماں بنیں گیتو ہم بتائیں گےان کے جسموں نے کتنے بچوں کو ڈھالنا ہےہمارے بچوں کے پیٹ بھرنےاگر یہ کوٹھے پہ جا کے اپنا بدن بھی بیچیںتو ہم بتائیں گےکس کو کتنے میں کتنا بیچیںہمیں کو حق ہےکہ ان کے گاہک جو خود ہمیں ہیں سےساری قیمت وصول کر لیںہمیں کو حق ہے کہ ان کی آنکھیںحسین چہرے شفاف پاؤںسفید رانیں دراز زلفیںاور آتشیں لب دکھا دکھا کرکریم صابن سفید کپڑے اور آم بیچیںدکاں چلائیں نفع کمائیںہمیں تو ہیں جو یہ طے کریں گےیہ کس صحیفے کی کون سی آیتیں پڑھیں گییہ کون ہوتی ہیںاپنی مرضی کا رنگ پہنیںاسکول جائیں ہمیں پڑھائیںہمیں بتائیںکہ ان کا رب بھی وہی ہے جس نے ہمیں بنایابرابری کے سبق سکھائیںیہ لونڈیاں ہیں یہ جوتیاں ہیںیہ کون ہوتی ہیں اپنی مرضی سے جینے والیبتانے والے ہمیں یہی تو بتا گئے ہیںجو حکمرانوں کی بات ٹالیںجو اپنے بھائی سے حصہ مانگیںجو شوہروں کو خدا نہ سمجھیںجو قدرے مشکل سوال پوچھیںجو اپنی محنت کا بدلہ مانگیںجو آجروں سے زباں لڑائیںجو اپنے جسموں پہ حق جتائیںوہ بے حیا ہیں
دل میں جتنا آئے لوٹیں قوم کو شاہ و وزیرکھینچ لے خنجر کوئی جوڑے کوئی چلے میں تیربے دھڑک پی کر غریبوں کا لہو اکڑیں امیردیوتا بن کر رہیں تو یہ غلامان حقیر
جی میں آتا ہے کہ اس کان سے سوراخ کروںکھینچ کر دوسری جانب سے نکالوں اس کوساری کی ساری نچوڑوں یہ رگیں، صاف کروںبھر دوں ریشم کی جلائی ہوئی بکی ان میں
سوم رس میں نے پیارات دن رقص کیاناچتے ناچتے تلوے مرے خوں دینے لگےمرے اعضا کی تھکنبن گئی کانپتے ہونٹوں پہ بھجنہڈیاں میری چٹخنے لگیں ایندھن کی طرحمنتر ہونٹوں سے ٹپکنے لگے روغن کی طرح''اگنی ماتا مری اگنی ماتاسوکھی لکڑی کے یہ بھاری کندےجو تری بھینٹ کو لے آیا ہوںان کو سویکار کر اور ایسے دھدھککہ مچلتے شعلے کھینچ لیں جوش میںسورج کی سنہری زلفیںآگ میں آگ ملےجو امر کر دے مجھےایسا کوئی راگ ملے''
یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرایہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھلیہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہےیہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیںلہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہےیہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سیگلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ہےیہ آبنوسی بدن، یہ بازو، کشادہ سینہمرے لہو میں سمٹتا سیال ایک نکتے پہ آ گیا ہےمری نسیں آنے والے لمحے کے دھیان سے کھنچ کے رہ گئی ہیںبس اب تو سرکا دو رخ پہ چادردیے بجھا دو
یہ مسافت یہ نو سال کی بے محابا مسافتترے در کے آگے مجھے کھینچ لائیمگر تو یہاں چاک پر اپنی دھن میں مگن ہے نگاہیں اٹھادیکھ تو میں جہاں زاد تیری ترے سامنے ہوںمگر تو نے سچ ہی کہا تھازمانہ جہاں زاد وہ چاک ہےجس پہ مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں کی مانندبنتے بگڑتے ہیں انساں
عجب ایک الجھن ہےآنکھیں بناؤں یا رہنے ہی دوںتیرے خاکے میں میں تیرے چہرے کے عضلات کو کھینچ کروہ ترا اک تبسم بنانے کی کوشش کو پورا اگر کر بھی لوںپر جو تجھ میں زمانوں کی تہذیب کی اک کہانی بنی ہےترے لا شعوری رویوں میں اربوں برس کے حسیں ارتقا کاوہ جو اک فسانہڈی این اے کی بیسز میں ترتیب پا کرتجھے تو بناتا ہے وہ اک فسانہوہ خاکوں میں آخر کو کیسے سناؤںاے وجہ سخنجان و رنگ غزلکائناتی محبت کا رد عملاے اداسی کے ہونے میں واحد خللتجھ سے نادم ہوں میںمیرے وہم و گماں میں قلم میں مرے اور قرطاس میںتیرا ہونا مسلسل نہیں ہو رہامیری باونویں کوشش میں بھی اب تلکتیرا خاکہ مکمل نہیں ہو رہا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books