aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "miTte"
اس بچے کی کہیں بھوک مٹے(کیا مشکل ہے ہو سکتا ہے)اس بچے کو کہیں دودھ ملے(ہاں دودھ یہاں بہتیرا ہے)اس بچے کا کوئی تن ڈھانکے(کیا کپڑوں کا یہاں توڑا ہے)اس بچے کو کوئی گود میں لے(انسان جو اب تک زندہ ہے)
بہار آئی تو جیسے یک بارلوٹ آئے ہیں پھر عدم سےوہ خواب سارے شباب سارےجو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھےجو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھےنکھر گئے ہیں گلاب سارےجو تیری یادوں سے مشکبو ہیںجو تیرے عشاق کا لہو ہیںابل پڑے ہیں عذاب سارےملال احوال دوستاں بھیخمار آغوش مہ وشاں بھیغبار خاطر کے باب سارےترے ہمارےسوال سارے جواب سارےبہار آئی تو کھل گئے ہیںنئے سرے سے حساب سارے
میرے کپڑوں میں ٹنگا ہےتیرا خوش رنگ لباس!گھر پہ دھوتا ہوں ہر بار اسے اور سکھا کے پھر سےاپنے ہاتھوں سے اسے استری کرتا ہوں مگراستری کرنے سے جاتی نہیں شکنیں اس کیاور دھونے سے گلے شکوؤں کے چکتے نہیں مٹتے!
دل وہ صحرا تھاکہ جس صحرا میںحسرتیںریت کے ٹیلوں کی طرح رہتی تھیںجب حوادث کی ہواان کو مٹانے کے لیےچلتی تھییہاں مٹتی تھیںکہیں اور ابھر آتی تھیںشکل کھوتے ہینئی شکل میں ڈھل جاتی تھیںدل کے صحرا پہ مگر اب کی بارسانحہ گزرا کچھ ایساکہ سنائے نہ بنےآندھی وہ آئی کہ سارے ٹیلےایسے بکھرےکہ کہیں اور ابھر ہی نہ سکےیوں مٹے ہیںکہ کہیں اور بنائے نہ بنےاب کہیںٹیلے نہیںریت نہیںریت کا ذرہ نہیںدل میں اب کچھ نہیںدل کو صحرا بھی اگر کہئےتو کیسے کہئے
مرے جہاں میں سمن زار ڈھونڈنے والےیہاں بہار نہیں آتشیں بگولے ہیں
پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےاور مٹتے ہوئے مدھم سے نقوشدور ماضی کی خلاؤں میں نظر آتے ہیںجیسے چھوڑی ہوئی منزل کا نشاںجیسے کچھ دور سے آتی ہوئی آواز جرسکون سہمے ہوئے مایوس دیوں کو دیکھےپھر بھی یہ مجھ کو خیال آتا ہےکتنی نوخیز امیدوں کو سہارے نہ ملےکتنی ڈوبی ہوئی کشتی کو کنارے نہ ملےزلف لہرائی پہ ساون کی گھٹا بن نہ سکیصبح ہنستی رہی بجھتے رہے کتنے چہرےچوڑیاں ٹوٹ گئیں مانگ کے سیندور اجڑےگود ویران ہوئینغمے تخلیق ہوئے ہونٹ سلےکتنے فن پاروں کے انبار لگےشاہراہوں پہ جلانے کے لئےآشیانے کا تصور ہی ابھی آیا تھابجلیاں کوند گئیںہیروشیما چیخ اٹھاکتنا پر ہول سماںکتنی بھیانک تاریخیہ مہ و سال کے پھیلے ہوئے جالپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےروز و شب جیسے اندھیرے میں لٹیروں کے گروہاپنی تاریک کمیں گاہوں میں چھپ کر بیٹھیںاور داماندہ سارا ہی کوئیاجنبی راہوں سے ڈرتا ہوا گھبرایا ہوااپنی کوئی ہوئی منزل کی طرف جاتا ہواور لٹیرے اسے تنہا پا کراس کے سینے کا لہو لے لیں امیدوں کے دیے بجھ جائیںکون لیکن دل انساں کی تپش چھین سکےپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےکتنی باریک ہے یہ صبح کی پہلی کرنکون جانے کہ نئی دام بھی کیا لائے گیکان میں آج بھی مانوس صدا آتی ہےوہی ڈالر کا طلسموہی تہذیب و تمدن کے پرانے دعوےوہی پسماندہ ممالک کی ترقی کا فریبوہی تاریخ سیاست کے پرانے شاطرایٹمی جنگ کا اعلان کیا کرتے ہیںکون لیکن دل انساں کی تپش چھین سکےارتقا آہن و فولاد سے کس طرح رکےٹوٹ جائیں گے مہ و سال کے پھیلے ہوئے جالپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آتا ہےجاؤ تاریک مکانوں میں چراغاں کر دوآج زنجیر کی اک اور کڑی ٹوٹ گئیآج دنیا کے عواماپنے سینے سے لگائے ہوئے اپنی تاریخاپنے ہاتھوں میں نئے عہد کا فرمان لئےاک نئی راہ پہ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیںروز و شب جیسے اندھیرے میں لٹیروں کے گروہہاتھ باندھے ہوئے قدموں پہ جبینیں رکھ دیںپھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہےجاؤ تاریک مکانوں میں چراغاں کر دو
میں نے جو غیب کی سرکار سے مانگا وہ ملاجو عقیدہ تھا مرے دل کا ہلائے نہ ہلا
1یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیںزندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نےشمع جلتی ہے پر اک رات میں جل جاتی ہےیاں تو ایک عمر اسی طرح سے جلتے گزریکون سی خاک ہے یہ جانے کہاں کا ہے خمیراک نئے سانچے میں ہر روز ہی ڈھلتے گزریکس طرح میں نے گزاری ہیں یہ غم کی گھڑیاںکاش میں ایسی کہانی کو سنا بھی سکتاطعنہ زن ہیں جو مرے حال پہ ارباب نشاطان کو اک بار میں اے کاش رلا بھی سکتامیں کہ شاعر ہوں میں پیغام بر فطرت ہوںمیری تخئیل میں ہے ایک جہان بیداردسترس میں مری نظارۂ گلہائے چمنمیرے ادراک میں ہیں کن فیکوں کے اسرارمرے اشعار میں ہے قلب حزیں کی دھڑکنمیری نظموں میں مری روح کی دل دوز پکارپھر بھی رہ رہ کے کھٹکتی ہے مرے دل میں یہ باتکہ مرے پاس تو الفاظ کا اک پردہ ہےصرف الفاظ سے تصویر نہیں بن سکتیصرف احساس میں حالات کی تفسیر کہاںصرف فریاد میں زخموں کی وہ زنجیر کہاںایسی زنجیر کہ ایک ایک کڑی میں جس کیکتنی کھوئی ہوئی خوشیوں کے مناظر پنہاںکتنی بھولی ہوئی یادوں کے پر اسرار کھنڈرکتنے اجڑے ہوئے لوٹے ہوئے سنسان نگرکتنے آتے ہوئے جاتے ہوئے چہروں کے نقوشکتنے بنتے ہوئے مٹتے ہوئے لمحات کا رازکتنی الجھی ہوئی راہوں کے نشیب اور فراز2کیا کہوں مجھ کو کہاں لائی مری عمر رواںآنکھ کھولی تو ہر اک سمت اندھیروں کا سماںرینگتی اونگھتی مغموم سی اک راہ گزارگرد آلام میں کھویا ہوا منزل کا نشاںگیسوئے شام سے لپٹی ہوئی غم کی زنجیرسینۂ شب سے نکلتی ہوئی فریاد و فغاںٹھنڈی ٹھنڈی سی ہواؤں میں وہ غربت کی تھکندر و دیوار پہ تاریک سے سائے لرزاںکتنی کھوئی ہوئی بیمار و فسردہ آنکھیںٹمٹماتے سے دیے چار طرف نوحہ کناںمضمحل چہرے مصائب کی گراں باری سےدل مجروح سے اٹھتا ہوا غم ناک دھواںیہی تاریکیٔ غم تو مرا گہوارہ ہےمیں اسی کوکھ میں تھا نور سحر کے مانندہر طرف سوگ میں ڈوبا ہوا میرا ماحولمیرا اجڑا ہوا گھر میرؔ کے گھر کے ماننداک طرف عظمت اسلاف کا ماتھے پہ غروراور اک سمت وہ افلاس کے پھیلے ہوئے جالبھوک کی آگ میں جھلسے ہوئے سارے ارماںقرض کے بوجھ سے جینے کی امنگیں پامالوقت کی دھند میں لپٹے ہوئے کچھ پیار کے گیتمہر و اخلاص زمانے کی جفاؤں سے نڈھالبھائی بھائی کی محبت میں نرالے سے شکوکنگہ غیر میں جس طرح انوکھے سے سوال''ایک ہنگامے پہ موقوف تھی گھر کی رونق''مفلسی ساتھ لیے آئی تھی اک جنگ و جدالفاقہ مستی میں بکھرتے ہوئے سارے رشتےتنگ دستی کے سبب ساری فضائیں بے حالاک جہنم کی طرح تھا یہ مرا گہوارہاس جہنم میں میرے باپ نے دم توڑ دیاٹوٹ کر رہ گئے بچپن کے سہانے سپنےمجھ سے منہ پھیر لیا جیسے مری شوخی نےمیرے ہنستے ہوئے چہرے پہ اداسی چھائیجیسے اک رات بھیانک مرے سر پر آئیراہیں دشوار مگر راہنما کوئی نہ تھاسامنے وسعت افلاک خدا کوئی نہ تھامیرے اجداد کی میراث یہ ویران سا گھرجس کو گھیرے ہوئے ہر سمت تباہی کے بھنورجس کی چھت گرتی ہوئی ٹوٹا ہوا دروازہہر طرف جیسے بکھرتا ہوا اک شیرازہنہ کہیں اطلس و کمخواب نہ دیبا و حریرہر طرف منہ کو بسورے ہوئے جیسے تقدیرمجھ کو اس گھر سے محبت تو بھلا کیا ہوتییاں اگر دل میں نہ جینے کی تمنا ہوتییہ سمجھ کر کہ یہی ہے مری قسمت کا لکھااس کی دیوار کے سائے میں لپٹا رہتالیکن اس دل کی خلش نے مجھے بیدار کیامجھ کو حالات سے آمادۂ پیکار کیابے کسی رخت سفر بن کر مرے ساتھ چلییاد آئی تھی مجھے گاؤں کی ایک ایک گلیلہلہاتی ہوئی فصلیں وہ مرے آم کے باغوہ مکانوں میں لرزتے ہوئے دھندلے سے چراغدور تک پانی میں پھیلے ہوئے وہ دھان کے کھیتاور تالاب کنارے وہ چمکتی ہوئی ریتمیرے ہم عمر وہ ساتھی وہ مرے ہمجولیمیرے اسکول کے وہ دوست مری وہ ٹولیایک بار ان کی نگاہوں نے مجھے دیکھا تھاجیسے اک بار مرے دل نے بھی کچھ سوچا تھا''میں نے جب وادئ غربت میں قدم رکھا تھادور تک یاد وطن آئی تھی سمجھانے کو''
آسماں ٹوٹےزمیں کانپےخدائی مر مٹےمجھ کو دکھ ہوتا ہےمیں وہ پتھر ہوں کہ جس میں کوئی چنگاری نہیںوہ پیمبر ہوں کہ جس کے دل میں بیداری نہیںتم مجھے اتنی حقارت سے نہ دیکھوعین ممکن ہے کہ تم میرا ہیولیٰ دیکھ کرغور سے پہچان کراپنی آنکھیں پھوڑ لواور میں خالی نگاہوں سے تمہیں تکتا رہوں
یاد ہوگا نا میرا کمرہدیواریں جس کی بھری ہوئیں ہیںاب بھی تیری ہی تصویروں سےجس کی ساکن فضا میں اب تکتمہاری خوشبو بسی ہوئی ہےوہاں اک ضعیف سی میز ہوگیجس پہ رکھے بوسیدہ کاغذان پہ لکھی ادھوری نظمیںوہ ادھ مٹے سے حروف سارےبتائیں گے تم کو کس طرح سےادھورے پن کے عذاب جھیلے
کثافت زندگی کی ظلمت میں شمع حق ضو فشاں ہو کیسےجہاں کی بجھتی ہوئی نگاہوں کو جگمگاتا ہے بام نانکنہ پاک کوئی نہ کوئی ناپاک کوئی اونچا نہ کوئی نیچاگرو کا یہ مے کدہ ہے اس جا ہر اک کو ملتا ہے جام نانکیہاں مٹے آ کے تفرقے سب رہی نہ آلودگی کوئی بھییہ حرف الفت، یہ طور عرفاں، یہ عرش انساں، یہ نام نانک
پیر واماندہ کوئیکوٹ پہ محنت کی سیاہی کے نشاںنوجواں بیٹے کی گردن کی چمک دیکھتا ہوںاک رقابت کی سیہ لہر بہت تیزمرے سینۂ سوزاں سے گزر جاتی ہےجس طرح طاق پہ رکھے ہوئے گل داں کیمس و سیم کے کاسوں کی چمکاور گلو الجھے ہوئے تاروں سے بھر جاتا ہےکوئلے آگ میں جلتے ہوئےکن یادوں کی کس رات میںجل جاتے ہیںکیا انہی کانوں کی یادوں میں جہاںسالہا سال یہ آسودہ رہےانہی بے آب درختوں کے وہ جنگلجنہیں پیرانہ سری بار ہوئی جاتی تھیکوئلے لاکھوں برس دور کے خوابوں میں الجھ جاتے ہیں
آ تجھے اپنے لبوں سے چوم کرتیرے چہرے کو بنا دوں ایک اچھی سی بیاضتاکہ اس پر ہر گھڑی بنتے رہیں مٹتے رہیںتیرے اندر گھومتے پھرتے ہوئےناشنیدہ اور نا گفتہ حروف
اہنسا کی شمشیر چمکی اسی دنغلامی کی زنجیر ٹوٹی اسی دنگلستاں کی تقدیر بدلی اسی دناٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںکھلے کیسے کیسے بھرم دشمنوں کےرہے پھر نہ باقی ستم دشمنوں کےمٹے اس زمیں سے قدم دشمنوں کےاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںاسی دن کی خاطر بڑے غم اٹھائےزمیں آسماں کے قلابے ملائےذرا بھی نہ اپنے قدم ڈگمگائےاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںیہ وہ دن ہے ہم جس کی برکت کو سمجھیںیہی دن ہے وہ جس کی قیمت کو سمجھیںیہی دن ہے وہ جس کی عظمت کو سمجھیںاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیںترنگے کو ہم اور اونچا اٹھا دیںچراغوں سے ہر بام و در کو سجا دیںزمانے کو یہ سر خوشی بھی دکھا دیںاٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیںچلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں
کبھی تم نے پوچھا ہےچلتے ہوئے راستے میںکسی اجنبی سےپتا اس کے گھر کاہوا جس کے قدموں کے مٹتے نشاں چومتی ہےنگر در نگر گھومتی ہے!!
بابا ایسے میں تم یاد بہت آتے ہوکیسی رت ہےایسی رت میںآنکھیں کیوں بھر آتی ہیںکیوں تن من سے ہوک اٹھتی ہےکیوں جیون بے معنی سا لگنے لگتا ہےگھر سونا ویران یہ آنگناور کمروں میں وحشتبابل میں تنہامیری قیمت تجھ بن کیا ہےکچھ بھی نہیں ہےمیں تو کانچ کا موتی ہوںبابل کا آنگن تو ساون میں یاد آیا کرتا ہےلیکن بابا میں تو پت جھڑ دیکھ کے روتی ہوںبابا ایسے میں تم یاد بہت آتے ہورات کو سوکھے پتےصحن میں گرتے ہیںگزرے دن کب پھرتے ہیںپھر آتی رت پھول کھلیں گےپھر قبروں پر رونااور قبروں سا ہونامٹی کی تہہ میں بھی جا کررشتے کب مٹتے ہیںدرد کی دیمک جسم کو چاٹتی رہتی ہےاور سانسوں کے دھاگے کاٹتی رہتی ہے
سنہرے جلووں کی چھوٹ ڈالی جو شاہ خاور کے تاج زر نےطلائی افشاں چنی جبیں پر ملیح دوشیزۂ سحر نےطلائی زیور سے اور چمکی عروس منظر کی دل ربائیاٹھا جو سورج تو دھوپ نکلی حسینۂ صبح کھلکھلائیفضا کی تبدیلیوں کو دیکھا جو بزم فطرت کی مطربہ نےستار رکھا، اٹھائی گگری، ندی کنارے چلی نہانےوہ جا رہی تھی ندی کی جانب میں لوٹ کر گھر کو آ رہا تھاستار خاموش ہو چکا تھا مگر یہ دل گنگنا رہا تھازمانہ گزرا نقوش ماضی خیال سے مٹتے جا رہے ہیںمگر وہ نغمے جمیلؔ اب تک دماغ کو گدگدا رہے ہیں
کرنوں کی پتواریں ٹوٹ گئیںکتنے سورج ڈوب گئےکالی صدیوں کا زہرمیرے سفر میںکتنی تہذیبوں کے بنتے مٹتے نقشمیرے سفر میںمیں اس سفر میںوقت کے ظالم رتھ سےکتنی بار گرا ہوںٹوٹ گیا ہوںلیکن پھر بھی زندہ ہوں
میرا وطن ہندوستاں ہر راہ جس کی کہکشاںکوہ گراں سے کم نہیں جس کے جیالے نوجواںیہ ویر و گوتم کی زمیں امن و اہنسا کا چمناکبر کے خوابوں کا جہاں چشتی و نانک کا وطنشمعیں ہزاروں ہیں مگر ہے ایکتا کی انجمنتہذیب کا گہوارہ ہیں گنگ و جمن کی وادیاںمیرا وطن ہندوستاںتاریخ کی عظمت ہے یہ جمہوریت کی شان ہےروحانیت کی روح ہے سب مذہبوں کی جان ہےیہ اپنا ہندوستان ہے یہ اپنا ہندوستان ہےحاصل یہاں انسان کو ہر طرح کی آزادیاںمیرا وطن ہندوستاںجب دل سے دل ملتے گئے مٹتے گئے سب فاصلےیہ آج کا نغمہ نہیں صدیوں کے ہیں یہ سلسلےصدیوں سے مل کر ہی بڑھے سب اہل دل کے قافلےاک ساتھ اٹھتی ہے یہاں آواز ناقوس و اذاںمیرا وطن ہندوستاںتاریخ کے اس موڑ پر ہم فرض سے غافل نہیںقابو نہ جس پر پا سکیں ایسی کوئی مشکل نہیںجس کو نہ ہم سر کر سکیں ایسی کوئی منزل نہیںہاں بانکپن کی شان سے ہے کارواں اپنا رواںمیرا وطن ہندوستاں
خواب میں آئے مجھے مجھ سے ملائےمجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرےخواب وہ خواب کہ ہو جس تمازت کا فسوں زادخواب وہ خواب کہ بن جائے شکست بے دادکتھئی رنگ گھلے سرمئی شام میں ایسے کہ شفقخون کی آنچوں سے دہک کر پھیلےآتے جاتے ہوئے لوگوں کی تگ و تاز بھیاندیشوں سے انجان لگےجاگے خدشے بھی خد و خال تمنا سے ہوں مبہوتہر اک عزلت جاں شوق کی شمشیر لیےپھیل کے ساحل پایاب کو غارت کر دےمرقد حیلۂ بے سود مٹےکچھ اگر ہے تو ملےکوئی گر ہے تو چلا آئے مجھے مجھ سے ملائےمجھے سیرابئ دیدار سے گلزار کرے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books