aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mustanad"
ہے فیضیؔ یہ ضرب المثل مستندبدی کا ہمیشہ ہے انجام بد
ہر سخنور سے یہی کہتا ہے ابمستند ہے میرا فرمایا ہوا
کہ مستند ہیںجو ہو سکے تو انہیں بچا لو
وہ سب کی فرد حساب لے کرصفوں میں یوں مستعد کھڑے ہیں
آسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ تراکس قدر شوخ زباں ہے دل دیوانہ ترا
عید کے دن مصطفی سے یوں لگے کہنے حسینؔسبز جوڑا دو حسنؔ کو سرخ دو جوڑا مجھے
مستانہ ہاتھ میں ہاتھ دیئے یہ ایک کگر پر بیٹھے تھےیوں شام ہوئی پھر رات ہوئی جب سیلانی گھر لوٹ گئے
عشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیعشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دين مصطفیٰ
پھر نعرۂ مستانہاے ہمت مردانہ
صندلیں پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئیمرمریں ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگار حنا
تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!
دیر تک یوں تری مستانہ صدائیں گونجیںجس طرح پھول چٹکنے لگیں ویرانے میں
مستانہ ہوائیں آتی ہیںکیا اب بھی وہاں کے پربت پر
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں
برسات کی متوالی گھنگھور گھٹاؤں میںکہسار کے دامن کی مستانہ ہواؤں میں
میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموشاپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے
کیا عشق ایک زندگئ مستعار کاکیا عشق پائیدار سے ناپائیدار کا
کيا عشق ايک زندگي مستعار کاکيا عشق پائدار سے ناپائدار کا
کنول کا پھول تھی سنسار سے بیگانہ رہتی تھینظر سے دور مثل نکہت مستانہ رہتی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books