aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "naala-e-khamosh"
لوگ پوچھیں گے کیوں اداس ہو تماور جو دل میں آئے سو کہیو!یوں ہی ماحول کی گرانی ہے''دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں'کتنے بوجھل ہیں شام کے سائےان کی بابت خموش ہی رہیونام ان کا نہ درمیاں آئےنام ان کا نہ درمیاں آئےان کی بابت خموش ہی رہیو'کتنے بوجھل ہیں شام کے سائے''دن خزاں کے ذرا اداس سے ہیں''یونہی ماحول کی گرانی ہے'اور جو دل میں آئے سو کہیو!
پچھلے پہر کے سناٹے میںکس کی سسکی کس کا نالہکمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہےزور ہوا کا ٹوٹ چکا ہےکھلے دریچے کی جالی سےننھی ننھی بوندیں چھن کرسب کونوں میں پھیل گئی ہیںاور مرے اشکوں سےان کے ہاتھ کا تکیہ بھیگ گیا ہےکتنی ظالمکتنی گہری تاریکی ہےکھلا دریچہ تھر تھر تھر تھر کانپ رہا ہےبھیگی مٹی سوندھی خوشبو چھوڑ رہی ہےاودے بادلکالے امبر کی جھیلوں میں ڈوب گئے ہیںکس کے رخساروں کی لرزش دیکھ رہا ہوںکس کی زلفوں کی شکنوں سے کھیل رہا ہوںچپکے چپکے لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوںپچھلے پہر کا سناٹا ہےکس کی سسکی کس کا نالہکمرے کی خاموش فضا میں در آیا ہے
عشرت پرویز میں کیا نالہ ہائے تیز تیزاڑ گیا دن کی جوانی کا خمار
تازہ دم بھی ہوں مگر پھر یہ تقاضا کیوں ہےہاتھ رکھ دے مرے ماتھے پہ کوئی زہرہ جبیںایک آغوش حسیں شوق کی معراج ہے کیاکیا یہی ہے اثر نالۂ دل ہائے حزیں
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہواہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجاتھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترازیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہادید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہےبن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہےمحفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دارجس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسارتیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہارتیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وارزندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میںتاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میںنطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پرمحو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پرشاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پرخندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پرآہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہےگلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہےلطف گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیںہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیںہائے اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیںآہ اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیںگیسوئے اردو ابھی منت پزیر شانہ ہےشمع یہ سودائی دل سوزئ پروانہ ہےاے جہان آباد اے گہوارۂ علم و ہنرہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام درذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمریوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہردفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہےتجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے
افسردہ داغ سے ہے ترے محفل ادبنے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
لٹیرے لوٹ کے بستی اجاڑےکوئی آواز ہنگامہکوئی شور نہ چیخسپاہی پیٹھ پھیرےپولس ناکے سے باہرمے کدہ میںوکیلوں کے گوؤن سب خود ہی کالےکسے منصف کریںسب گونگے بہرےعدالت میں ترازو زینت اجلاسنہ گیتا ہے نہ قرآںہیں جزدانوں میں ان کی صرف جلدیںکٹورے آنسوؤں کے خالی خالیدل آشفتہ آتش بار و سوز نالۂ شب گیردل سنگیںسنہری کرسیاں خنداں لب و مست
ملک میں جب انقلاب تازہ لا سکتے نہیںبجلیاں جب خرمن دل پر گرا سکتے نہیںشعلہ افشانیٔ برق نالۂ پر سوز سےآگ جب دامان محفل میں لگا سکتے نہیںجب نہ کھیلے جلوتوں میں شاہد الہام سےجب حریم ناز کے پردے اٹھا سکتے نہیںجلوۂ حسن معانی سے نہ سینکی جب نگاہجب عروس فکر کی خلوت سجا سکتے نہیںجب بدل سکتے نہیں کچھ گردش دوراں کی چالاپنے مستقبل کو جب ماضی بنا سکتے نہیںعہد حاضر میں وفور جذبۂ بے تاب سےساری دنیا کو جب اک مرکز پہ لا سکتے نہیںحسن میں بھرتے نہیں جب عشق کا برقی اثرعشق میں جب حسن کا جادو جگا سکتے نہیںکھینچ سکتے جب نہیں نقشہ نگاہ شوق کاجب نگاہوں کو تڑپ دل کی دکھا سکتے نہیںایسے شاعر کا سخن نا قابل تحسین ہےشاعری ایسی مذاق شعر کی توہین ہے
جہاں میں چار طرف چیخ ہے کراہے ہیںستم رسیدہ دلوں سے نکلتی آہیں ہیںہے شور نالہ و آہ و بکا چہار طرفکہاں کی عید ہے ماتم بپا چہار طرفمنائے کیسے کوئی عید ہر طرف غم ہےمنائے کیسے کوئی عید آنکھ پر نم ہےسنائے کیسے کوئی گیت ساز ٹوٹ گئےجگائے کیسے کوئی آس اپنے چھوٹ گئے
تنہائیٔ شب میں ہے حزیںؔ کیاانجم نہیں تیرے ہم نشیں کیایہ رفعت آسمان خاموشخوابیدہ زمیں جہان خاموشیہ چاند یہ دشت و در یہ کہسارفطرت ہے تمام نسترن زارموتی خوش رنگ پیارے پیارےیعنی ترے آنسوؤں کے تارےکس شے کی تجھے ہوس ہے اے دلقدرت تری ہم نفس ہے اے دل
آنسوؤں کے نام سے کب تک گرایا جائے گانالہ و فریاد میں کب تک سنایا جائے گا
آج کا دن زبوں ہے مرے دوستوآج کے دن تو یوں ہے مرے دوستوجیسے درد و الم کے پرانے نشاںسب چلے سوئے دل کارواں کارواںہاتھ سینے پہ رکھو تو ہر استخواںسے اٹھے نالۂ الاماں الاماں
گنگ جذبات کو جس وقت زباں بھی نہ ملےنالۂ دل کو کوئی طرز فغاں بھی نہ ملے
عشق ہے ایک جذبۂ خاموشعشق اعلان لاالہ بھی ہے
نالۂ بے اثر اللہ کے بندوں کے لیےصلۂ دار و رسن حق کے رسولوں کے لیےقصر شداد کے در بند ہیں بھوکوں کے لیےپھونک دو قصر کو گر کن کا تماشا ہے یہیزندگی چھین لو دنیا سے جو دنیا ہے یہی
کتنے سینوں میں شکستہ ہیں ابھی دل کے ربابلب خاموش پہ ہیں نغمۂ ماتم کتنے
حریت کا نام تک اب لب پہ لانا جرم ہےنعرۂ قوم و وطن تک اب لگانا جرم ہےکشتگان سنگ دل کا دن منانا جرم ہےمادر ہندوستاں کو غم سنانا جرم ہےحکم قاتل ہے تڑپنا اور رونا ہے منعزخم کھانا ہے روا اور آہ کرنا ہے منع
جاگتے رہتے ہیں دل کی محفل خاموش میںبند کر لیتے ہیں آنکھیں نطق کے آغوش میں
ہو رہا ہے یہ نظام دہر میں کیا انقلابآج مشرق ہی میں ڈوبا جا رہا ہے آفتابچھا گئی افسردگی ایسی در و دیوار پریورش ظلمت ہو جیسے مطلع انوار پرروشنی کم ہو چلی نظارے گھبرانے لگےآج دن میں خلق کو تارے نظر آنے لگےڈوبا جاتا ہے نظر کے سامنے گردوں کا دلآرزو میں بے سر و پا ہیں نگاہیں مضمحلگھلتا جاتا ہے سحر کے وقت قرص آفتاببے ثباتی کا معمہ ہو رہا ہے بے نقاباب نظام چرخ کج رفتار برہم ہو گیایک بیک دنیا کا کاروبار مدھم ہو گیاامتحاں کا وقت ہے سورج گہن میں آ گیادونوں عالم کی فضاؤں پر دھندلکا چھا گیادست فطرت نے نواز نغمۂ خاموش ہےحیرتوں کا نقش لوح دل سے ہم آغوش ہےزندگی میں ایک ایسا دور آتا ہے ضروربار غم سے جب سکوں کا ٹوٹ جاتا ہے غرور
بہت دنوں سے اداس نظروں کی رہ گزر تھیپڑی تھیں سونی افق کی راہیںکہ دل کی محفل میںنغمہ و نالہ و نوا کیعجب سی شورش نہیں ہوئی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books