aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "pul"
سنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےسنا ہے شیر كا جب پیٹ بھر جائے تو وو حملہ نہیں کرتادرختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہےہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیںتو مینا اپنے بچے چھوڑ کرکوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہےسنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہےسنا ہے جب کسی ندی کے پانی میںبئے کے گھونسلے كا گندمی سایہ لرزتا ہےتو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیںکبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے توکسی لکڑی کے تختے پرگلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیںسنا ہے جنگلوں كا بھی کوئی دستور ہوتا ہےخداوندا! جلیل واماں معتبر! دانا واماں بینا منصف واماں اکبر!مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی كا کوئی قانون نافذ کر!کوئی دستور نافذ کر
میں ان سے پوچھتا ہوں:پل کیسے بنایا جاتا ہےپل بنانے والے کہتے ہیں:تم نے کبھی محبت نہیں کیمیں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہےوہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہوتو پہلے دریا سے ملو۔۔۔روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیںدریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہےیہ سپردگی ہےیہ سپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشت۔۔۔لیکن بہشت تک پہنچنے کے لئے ایک جہنم سے گزرنا پڑتا ہےمیں پوچھتا ہوں جہنم کیا ہے؟وہ کہتے ہیں: اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہےکوئی بھی موسم ہو وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتےانہیں مٹی سے محبت ہےانہیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہےجو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیں'گھر کیا ہے؟' میں پوچھتا ہوں؟وہ سب ہنسنے لگتے ہیںپہلا مزدور کہتا ہے:اپنی عورت کی طرف جاؤہر سوال کا جواب مل جائے گا
زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبویہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہےیہ کیسا نشہ ہےمرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہےتم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہویہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہاماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہےکہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہمری روح کے دشت میں اڑ رہی تھیوہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہےمجھے ایسا لگتا ہےتاریکیوں کےلرزتے ہوئے پل کومیں پار کرتی چلی جا رہی ہوںیہ پل ختم ہونے کو ہےاور اباس کے آگےکہیں روشنی ہے
محبت کے راستے میںایک سڑک ہےجو محبت کی طرف نہیں جاتیاور ایک پل ہےجو کسی سڑک یا دریا کوپار کرنے میں استعمال نہیں ہوتا
مسجد کا گنبد سونا ہےمندر کی گھنٹی خاموشجزدانوں میں لپٹے آدرشوں کودیمک کب کی چاٹ چکی ہےرنگگلابینیلےپیلےکہیں نہیں ہیںتم اس جانبمیں اس جانببیچ میں میلوں گہرا غارلفظوں کا پل ٹوٹ چکا ہےتم بھی تنہامیں بھی تنہا
پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئینیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئیڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتیوادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئیتیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیںآندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئیجیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیتایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئینونہالوں کو سناتی میٹھی میٹھی لوریاںنازنینوں کو سنہرے خواب دکھلاتی ہوئیٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتیسر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئیناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو پیچ و خماک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئیرات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتیپٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئیجیسے آدھی رات کو نکلی ہو اک شاہی براتشادیانوں کی صدا سے وجد میں آتی ہوئیمنتشر کر کے فضا میں جا بجا چنگاریاںدامن موج ہوا میں پھول برساتی ہوئیتیز تر ہوتی ہوئی منزل بمنزل دم بہ دمرفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئیسینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیارایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئیاک ستارہ ٹوٹ کر جیسے رواں ہو عرش سےرفعت کہسار سے میدان میں آتی ہوئیاک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میںجنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئیرعشہ بر اندام کرتی انجم شب تاب کوآشیاں میں طائر وحشی کو چونکاتی ہوئییاد آ جائے پرانے دیوتاؤں کا جلالان قیامت خیزیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئیایک رخش بے عناں کی برق رفتاری کے ساتھخندقوں کو پھاندتی ٹیلوں سے کتراتی ہوئیمرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خراموادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئیاک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلکاک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئیجستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ واراپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئیچھیڑتی اک وجد کے عالم میں ساز سرمدیغیظ کے عالم میں منہ سے آگ برساتی ہوئیرینگتی مڑتی مچلتی تلملاتی ہانپتیاپنے دل کی آتش پنہاں کو بھڑکاتی ہوئیخودبخود روٹھی ہوئی بپھری ہوئی بکھری ہوئیشور پیہم سے دل گیتی کو دھڑکاتی ہوئیپل پہ دریا کے دما دم کوندتی للکارتیاپنی اس طوفان انگیزی پہ اتراتی ہوئیپیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماںساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئیمنہ میں گھستی ہے سرنگوں کے یکایک دوڑ کردندناتی چیختی چنگھاڑتی گاتی ہوئیآگے آگے جستجو آمیز نظریں ڈالتیشب کے ہیبت ناک نظاروں سے گھبراتی ہوئیایک مجرم کی طرح سہمی ہوئی سمٹی ہوئیایک مفلس کی طرح سردی میں تھراتی ہوئیتیزئی رفتار کے سکے جماتی جا بجادشت و در میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہوئیڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاباک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئیصفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوشحال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئیڈالتی بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظرکوہ پر ہنستی فلک کو آنکھ دکھلاتی ہوئیدامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاںقصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئیزد میں کوئی چیز آ جائے تو اس کو پیس کرارتقائے زندگی کے راز بتلاتی ہوئیزعم میں پیشانی صحرا پہ ٹھوکر مارتیپھر سبک رفتاریوں کے ناز دکھلاتی ہوئیایک سرکش فوج کی صورت علم کھولے ہوئےایک طوفانی گرج کے ساتھ ڈراتی ہوئیایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکارعظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئیہر قدم پر توپ کی سی گھن گرج کے ساتھ ساتھگولیوں کی سنسناہٹ کی صدا آتی ہوئیوہ ہوا میں سیکڑوں جنگی دہل بجتے ہوئےوہ بگل کی جاں فزا آواز لہراتی ہوئیالغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطرشاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی
کانوں کی اک نگری دیکھی جس میں سارے کانے دیکھےایک طرف سے احمق سارے ایک طرف سے سیانے تھےکانوں کی اس نگری کے سب ریت رواج علاحدہ تھےروگ علاحدہ بستی میں تھے اور علاج علاحدہ تھےدو دو کانے مل کر پورا سپنا دیکھا کرتے تھےگنگا کے سنگم سے کانے جمنا دیکھا کرتے تھےچاندنی رات میں چھتری لے کر باہر جایا کرتے تھےاوس گرے تو کہتے ہیں واں سر پھٹ جایا کرتے تھےدریا پل پر چلتا تھا پانی میں ریلیں چلتی تھیںلنگوروں کی دم پر انگوروں کی بیلیں پکتی تھیںچھوت کی اک بیماری پھیلی ایک دفعہ ان کانوں میںبھوک کے کیڑے سنتے ہیں نکلے گندم کے دانوں میںروز کئی کانے بے چارے مرتے تھے بیماری میںکہتے ہیں راجا سوتا تھا سونے کی الماری میںگھنٹی باندھ کے چوہے جب بلی سے دوڑ لگاتے تھےپیٹ پہ دونوں ہاتھ بجا کر سب قوالی گاتے تھےتب کانی بھینس نے پھول پھلا کر چھیڑا بین کا باجااور کالا چشمہ پہن کے سنگھاسن پر آیا راجادکھ سے چشمے کی دونوں ہی آنکھیں پانی پانی تھیںدیکھا اس کانے راجا کی دونوں آنکھیں کانی تھیںجھوٹا ہے جو اندھوں میں کانا راجا ہے کہتا ہےجا کر دیکھو کانی نگری اندھا راجا رہتا ہے
سوچ رہا ہوں جنگ سے پہلے، جھلسی سی اس بستی میںکیسا کیسا گھر کا مالک، کیسا کیسا مہماں تھاسب گلیوں میں ترنجن تھے اور ہر ترنجن میں سکھیاں تھیںسب کے جی میں آنے والی کل کا شوق فراواں تھامیلوں ٹھیلوں باجوں گاجوں باراتوں کی دھومیں تھیںآج کوئی دیکھے تو سمجھے، یہ تو سدا بیاباں تھاچاروں جانب ٹھنڈے چولھے، اجڑے اجڑے آنگن ہیںورنہ ہر گھر میں تھے کمرے، ہر کمرے میں ساماں تھااجلی اور پر نور شبیہیں روز نماز کو آتی تھیںمسجد کے ان طاقوں میں بھی کیا کیا دیا فروزاں تھااجڑی منڈی، لاغر کتے، ٹوٹے کھمبے خالی کھیتکیا اس نہر کے پل کے آگے ایسا شہر خموشاں تھا
وہ پل کی ساتویں سیڑھی پہ بیٹھا کہتا رہتا تھاکسی تھیلے میں بھر کے گر خیال اپنےمیں دروازے پہ ہرکارے کی صورت جا کے پہنچاتاچمکتی بوندیں بارش کی کسی کی جیب میں بھر کےگلے میں بادلوں کا ایک مفلر ڈال کر آتاوہ بھیگا بھیگا سا رہتاکسی کے کان میں دو بالیوں سے چاند پہناتامچھیروں کی کوئی لڑکی اگر ملتیگرجتے بادلوں کو باندھ کر بالوں کے جوڑے میںدھنک کی بینی دے آتامجھے گر کہکشاں کو بانٹنے کا حق دیا ہوتا خدا نے توکوئی فٹ پاتھ سے بولااے اولاد شاعر کیبہت کھائی ہیں روکھی روٹیاں میں نےجو لا سکتا ہے تو اک بار کچھ سالن ہی لا کر دے
نہ میرے زہر میں تلخی رہی وہ پہلی سیبدن میں اس کے بھی پہلا سا ذائقہ نہ رہاہمارے بیچ جو رشتے تھے سب تمام ہوئےبس ایک رسم بچی ہے شکستہ پل کی طرحکبھی کبھار جواب بھی ہمیں ملاتی ہےمگر یہ رسم بھی اک روز ٹوٹ جائے گیاب اس کا جسم نئے سانپ کی تلاش میں ہےمری ہوس بھی نئی آستین ڈھونڈھتی ہے
اگر آپ ایک درخت ہیںتو ظاہر ہےسب سے پہلےآپ کو بننا چاہیئےایک سایہ دار جگہاور اگر آپ کے پتےکسی خزاں میں گر جائیںتو آپ کی کوشش ہونی چاہیئےکہ بہار کا پہلا پھولیا بارش کے بعد کھلنے والی پہلی کونپلآپ ہی کے حصے میں آئےاگر آپ ایک درخت ہوںاور کوئی آپ کو کاٹ ڈالےتو افسوس مت کیجئے گاہو سکتا ہے آپ کا تعلقدرختوں کے اس خاندان سے ہوجس میں ہزاروں برس پہلےکسی نبی نے پناہ لی تھیاپنے کاٹ کے لے جائے جانے پرافسوس مت کیجئے گاہو سکتا ہےآپ سے ایک ایسی کرسی بنائی جائےجس پر بیٹھ کےکوئی لڑکی اپنے محبوب کوہمیشہ یاد کرتی رہےیا پھر آپ سے بنے ایک ایسی میزجس کے سامنے کوئی اداس شاعرستاروں بھری نظمیں لکھتا رہےیا ہو سکتا ہےآپ سے ایک ایسی سیڑھی بنائی جائے جسے دیوار کے ساتھ لگا کےہم آسمان تک جا سکیںیا پھر آپ سےکوئی ایسا پل بنایا جائےجس پر کھڑی ہو کےلوگ ایک دوسرے سےہمیشہ ملنے کے لیےسکے پھینکا کریںاگر آپ درخت بن جائیںتو کسی سرکاری عمارت کے احاطےیا کسی چھوٹے سے راستے کے درمیانمت آئیے گاورنہ ہمیں آپ کو ہٹانے کا بہت افسوس ہوگااور آپ سوائے راکھ ہونے کےاور کچھ نہیں کر سکیں گے
تمام لفظوں میں روشن ہر اک باب میں ماںجنوں کے شیلف میں ہے عشق کی کتاب میں ماںاے ماں تو خوشبو کا نایاب استعارہ ہےاے ماں تو عود میں عنبر میں تو گلاب میں ماںخود اپنی ممتا میں ہی نور کا سمندر ہےنہیں ہے اور کسی روشنی کی تاب میں ماںوہ جسم کھو کے بدل سی گئی ہے کچھ مجھ میںتھی پہلے صرف سوال اب ہے ہر جواب میں ماںمرے سوالوں کے سارے جواب لے آئیچلی گئی تھی مگر لوٹی پھر سے خواب میں ماںمیں جب بھی ذبح ہوئی زندگی کے خنجر سےدکھی ہے خوابوں میں اک دشت اضطراب میں ماںگنوا کے جسم وہ فرصت سے آئی میرے پاسسسک سسک کے سنایا تھی کس عذاب میں ماںمیں ماں کی زندہ نگاہوں کو خود میں جیتی ہوںہر انقلاب میں ہر دم ہر آب و تاب میں ماںمرے عروج کا وہ سلسلہ انعام و سزامرے زوال میں ہر زندہ انقلاب میں ماںتجھے لبھانے کو میں سترنگی بنی تھی ماںیہ جا چھپی ہے تو کس پردۂ غیاب میں ماںبندھی ہیں آنکھیں مری اب بھی موت کے پل سےہے ہر سکوت میں خاموش اضطراب میں ماںامڈ رہے ہیں ہر اک پل سے موت کے ٹھٹھےوہ جا رہی ہے مری پنجۂ عقاب میں ماںوہ جسم ہار گئی موت سے مگر مجھ میںوہ جی کے گویا ہے پھر موت سے جواب میں ماں
میری رامائن ادھوری ہے ابھیمیری سیتااور مجھ میں حائل دوری ہے ابھیمیری سیتا اداس ہےرشتوں کا پھیلا بن باس ہےپھرنا ہے مجھے ابھیجنگل جنگل صحرا صحرا ساگر ساگرمیرا حمزہ وہی میرا لچھمن ہے ابھیزمانہ تو عیار ہےسو بھیس بدل لیتا ہےسادھوؤں کے بہروپ میں ہیں پوشیدہ ابھینہ جانے راکشش کتنےآج پھرزمانے نے چھل لیا ہے مجھےمیری سیتا کوحالات کے راون نےہر لیا ہے ابھیدور بہت دورمیری نگاہوں سے اوجھلساحل سمندر کی ریت پروہ بے سدھ پڑی رو رہی ہے ابھیتاہماپنی شکستہ حالی سےاس نے ہار نہیں مانی ہے ابھیوقت کے لنکیشور کے آگےاس نے آتم سمرپن کیا نہیں ہے ابھیریت میں دھنسی اپنی ننھی سی کشتی کووہ تک رہی ہے غور سےاپنے رام کے قدموں کی آہٹکی منتظر سماعت کو سمیٹے ہوئےسراپا بگوش بنیدکھ کی بھٹی میں تپ کے نکھر رہی ہے ابھیملن کی شبھ گھڑی کا اسے ابھی ہے یقیناس کے خشک ہونٹوں پہ ہے میرا ہی نامرام رام رامصاحبوحقیقت تو یہ ہے کہ راکشس باہر نہیں ہے کہیںراکشس تو خود اپنے اندردرون خانۂ دل میں روپوش ہے کہیںمیری سیتامیری بھولی بھالی سیتا کوانتظار اس سنہرے پل کا ہےجب میرا غصہ شانت ہوگااور میرے اندر سےمریادہ پرش رام اتپن ہوں گے کبھی نہ کبھیتب راون اپنے آپ ہی پراست ہو جائے گاتبھی رام جی اپنی سیتا کواپنے پہلو میں اٹھا کر لے جائیں گےاپنے دل کے سنگھاسن پر بٹھائیں گے تبھیتبھی دیپ جلیں گےگھر آنگن میں اوپر نیچے چاروں اورتبھی دن دسہرا ہوگاتبھی رات دیوالی ہوگی
شہر کے شہر کا افسانہ وہ روحیں جو سر پل کے سوااور کہیں وصل کی جویا ہی نہیںپل سے جنہیں پار اترنے کی تمنا ہی نہیںاس کا یارا ہی نہیں!
پل کے نیچے جھانک کے دیکھو آج ندی طوفانی ہےبپھری لہریں جھاگ اڑاتی ہیں کیا زندہ پانی ہےاور بھنور پل کے بے رنگ ستونوں سے ٹکراتے ہیںجن پر بوجھ ہے اس پل کا وہ شانے ٹوٹے جاتے ہیںوہ اک کبڑا پیڑ ندی پر یوں جھک آیا ہے جیسےایک کنارہ ہاتھ بڑھا کر دوسرے سے ملنا چاہےدور اک میڈک چیخ رہا ہے، خطروں سے آزاد ہوں میںاس سے بڑھ کر غارت گر طوفان نظر سے گزرے ہیںاک پانی کا سانپ نہ جانے کب سے اس کی تاک میں ہےوہ بھی جانتا ہے یہ راز کہ ملنا آخر خاک میں ہے
میں تم سے کہنے آیا ہوںانساں لا فانی ہے امر ہےموت تغیر کا اک پل ہےجیون جل ہےجس کا کوئی انت نہیں ہےرہ جائے تو یہ ساگر ہےاور مر جائے تو بادل ہے
دعا اور بد دعا کے درمیاں جب رابطے کا پل نہیں ٹوٹاتو میں کس طرح پہنچا بددعائیں دینے والوں میںمیں ان کی ہمنوائی پر ہوا مامورہم آواز ہوں ان کاکہ جن کے نامۂ اعمال میں ان بد دعاؤں کے سوا کچھ بھی نہیںان کے کہے پر آج تک بادل نہیں برسےکبھی موسم نہیں بدلےکوئی طوفاں، کوئی سیلاب ان کی آرزوؤں سے نہیں پلٹایہ ناداں، سارے مقتولوں کی فہرستیں اٹھائے آسماں کو دیکھتے ہیںاور سمجھتے ہیں کہ دنیا ان کے نام اور شکل و صورت بھول جائے گیوگرنہ قاتلوں کو خودکشی کرنا پڑے گیاور یہ اتنے بہادر بھی نہیں ہوتےتو جب تک آسمانوں اور ہمارے درمیاں حائلہجوم قاتلاں چھٹتا نہیں ہٹتا نہیں پردہدعا اور بد دعا کے لفظ ہم معنی رہیں گےاب دعائے زندگی قاتل کو دیںیا بد دعا خود کو
اگر کہیں لکھا ہوا ہودریااور اس کے بعد کوئی پل نہ ہوتب انہیں کوئی نہیں روک سکتا
میں جس میں رہتی ہوں میرا گھر ہےیہاں کی دیوار و در کے اندرمری جوانی کے تانے بانےہر اک رگ سنگ میں رواں ہیںیہاں پہ نکھری ہوئی سفیدیمرے بڑھاپے کی آنے والیسحر کا اعلان کر رہی ہےیہاں کی چھت میرے دل سے نکلی ہوئی دعا ہےجو بارگاہ خدا میں مقبول ہو کے سایہ کیے ہوئے ہےیہاں کی کھڑکی یہاں کے روزنمری ہی آنکھوں کے خواب ہیںکچھ میں روشنی کچھ بجھے بجھے ہیں
زوال پر تھی بہار کی رتخزاں کا موسم عروج پر تھااداسیاں تھیں ہر ایک شے پرچمن سے شادابیاں خفا تھیںان ہی دنوں میں تھی میں بھی تنہااداسی مجھ کو بھی ڈس رہی تھیوہ گرتے پتوں کی سوکھی آہٹیہ صحرا صحرا بکھرتی حالتہمی کو میری کچل رہی تھیمیں لمحہ لمحہ سلگ رہی تھیمجھے یہ عرفان ہو گیا تھاحقیقت اپنی بھی کھل رہی تھیکہ ذات اپنی ہے یوں ہی فانیجو ایک جھٹکا خزاں کا آئےتو زندگی کا شجر بھی اس پلخموش و تنہا کھڑا ملے گامزاج اور خوش روی کے پتےدلوں میں لوگوں کے مثل صحراپھریں گے مارے یہ یاد بن کرکچھ ہی دنوں تکمگر مقدر ہے ان کا فانیکے لاکھ پتے یہ شور کر لیںمزاج میں سرکشی بھی رکھ لیںیا گریہ کر لیں اداس ہو لیںتو فرق اسے یہ بس پڑے گازمین ان کو سمیٹ لے گیذرا سی پھر یہ جگہ بھی دے گیکرشمہ قدرت کا ہے یہ ایساعروج پر ہے زوال اپناہر ایک کو ہے پلٹ کے جانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books