aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saakhta"
نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگاغیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگاایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگابات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگایہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیںاس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگاجان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیرہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگاکبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسےاس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگاچلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کردوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگایاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگااور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگاجب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبراس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگاسوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دلیوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا!
جہاں زاد نیچے گلی میں ترے در کے آگےیہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ہوں!تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطار یوسفکی دکان پر میں نے دیکھاتو تیری نگاہوں میں وہ تابناکیتھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوںجہاں زاد نو سال دیوانہ پھرتا رہا ہوں!یہ وہ دور تھا جس میں میں نےکبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانبپلٹ کر نہ دیکھاوہ کوزے مرے دست چابک کے پتلےگل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاںوہ سر گوشیوں میں یہ کہتےحسن کوزہ گر اب کہاں ہے؟وہ ہم سے خود اپنے عمل سےخدا وند بن کر خداؤں کے مانند ہے روئے گرداں!جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزراکہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرےتغاروں میں مٹیکبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ہوتا تھا میںسنگ بستہ پڑی تھیصراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداںمری ہیچ مایہ معیشت کے اظہار فن کے سہارےشکستہ پڑے تھےمیں خود میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برہنہسر چاک ژولیدہ مو سر بہ زانوکسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کےگل و لا سے خوابوں کے سیال کوزے بناتا رہا تھاجہاں زاد نو سال پہلےتو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھیکہ میں نے حسن کوزہ گر نےتری قاف کی سی افق تاب آنکھوںمیں دیکھی ہے وہ تابناکیکہ جس سے مرے جسم و جاں ابر و مہتاب کارہگزر بن گئے تھےجہاں زاد بغداد کی خواب گوں راتوہ رود دجلہ کا ساحلوہ کشتی وہ ملاح کی بند آنکھیںکسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیےایک ہی رات وہ کہربا تھیکہ جس سے ابھی تک ہے پیوست اس کا وجوداس کی جاں اس کا پیکرمگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلاحسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ہے!
سکوت رات کا جس وقت چھیڑتا ہے ستارکبھی کبھی تری پائل کی آتی ہے جھنکارتو میری آنکھوں سے موتی برسنے لگتے ہیںاندھیری رات کے پرچھاویں ڈسنے لگتے ہیںمیں جگنو بن کے تو تجھ تک پہنچ نہیں سکتاجو تجھ سے ہو سکے اے ماں تو وہ طریقہ بتاتو جس کو پا لے وہ کاغذ اچھال دوں کیسےیہ نظم میں ترے قدموں میں ڈال دوں کیسے
تپتی دوپہروں میں آسودہ ہوئے بازو مرےتیری زلفیں اس طرح بکھریں گھٹائیں ہو گئیںتیرا برفیلا بدن بے ساختہ لو دے اٹھامیری سانسیں شام کی بھیگی ہوائیں ہو گئیں
اے عشق ازل گیر و ابد تابکچھ خواب کہ مدفون ہیں اجداد کے خود ساختہ اسمار کے نیچےاجڑے ہوئے مذہب کے بنا ریختہ اوہام کی دیوار کے نیچےشیراز کے مجذوب تنک جام کے افکار کے نیچےتہذیب نگوں سار کے آلام کے انبار کے نیچے
مدتوں بعد آئی ہو تماور تمہیں اتنی فرصت کہاںان کہے حرف بھی سن سکوآرزو کی وہ تحریر بھی پڑھ سکوجو ابھی تک لکھی ہی نہیں جا سکیاتنی مہلت کہاںمیرے باغوں میں جو کھل نہ پائے ابھیان شگوفوں کی باتیں کرودرد ہی بانٹ لومیرے کن ماہتابوں سے تم مل سکیںکتنی آنکھوں کے خوابوں سے تم مل سکیںہاں تمہاری نگاہ ستائش نےگھر کی سب آرائشیں دیکھ لیںتن کی آسائشیں دیکھ لیںمیرے دل میں جو پیکاں ترازو ہوئےتم کو بھیلالہ و گل کے بے ساختہ استعارے لگے
چہرے پہ اجاڑ زندگی کےلمحات کی ان گنت خراشیںآنکھوں کے شکستہ مرقدوں میںروٹھی ہوئی حسرتوں کی لاشیںسانسوں کی تھکن بدن کی ٹھنڈکاحساس سے کب تلک لہو لےہاتھوں میں کہاں سکت کہ بڑھ کرخود ساختہ پیکراں کو چھو لے
سنو میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہےوہاں سردی بہت ہوگیاکیلے شام کو جب تم تھکے قدموں سے لوٹو گےتو گھر میں کوئی بھی لڑکیسلگتی مسکراہٹ سےتمہاری اس تھکاوٹ کوتمہارے کوٹ پر ٹھہری ہوئی بارش کی بوندوں کوسمیٹے گی نہ جھاڑے گینہ تم سے کوٹ لے کر وہ کسی کرسی کے ہتھے پراسے لٹکا کے اپنے نرم ہاتھوں سےچھوئے گی اس طرح جیسے تمہارا لمس پاتی ہوتم آتش دان کے آگے سمٹ کر بیٹھ جاؤ گےتو ایسا بھی نہیں ہوگاتمہارے پاس وہ آ کربہت ہی گرم کافی کا ذرا سا گھونٹ خود لے کروہ کافی تم کو دے کر تم سے یہ پوچھےکہو کیا تھک گئے ہو تمتم اپنی خالی آنکھوں سےیوں اپنے سرد کمرے کو جو دیکھو گے تو سوچو گےٹھٹھر کر رہ گیا سب کچھتمہاری انگلیوں کی سرد پوروں پرکسی رخسار کی نرمیکسی کے ہونٹ کی گرمیتمہیں بے ساختہ محسوس تو ہوگیمگر پھر سرد موسم کی ہوا کا ایک ہی جھونکاتمہیں بے حال کر دے گاتھکے ہارے ٹھٹھرتے سرد بستر پراکیلے لیٹ جاؤ گے
بخارا سمرقند اک خال ہندو کے بدلے!بجا ہے بخارا سمرقند باقی کہاں ہیں؟بخارا سمرقند نیندوں میں مدہوشاک نیلگوں خامشی کے حجابوں میں مستوراور رہروؤں کے لیے ان کے در بندسوئی ہوئی مہ جبینوں کی پلکوں کے مانندروسی ''ہمہ اوست'' کے تازیانوں سے معذوردو مہ جبینیں!بخارا سمرقند کو بھول جاؤاب اپنے درخشندہ شہروں کیطہران و مشہد کے سقف و در و بام کی فکر کر لوتم اپنے نئے دور ہوش و عمل کے دل آویز چشموں کواپنی نئی آرزوؤں کے ان خوبصورت کنایوں کومحفوظ کر لو!ان اونچے درخشندہ شہروں کیکوتہ فصیلوں کو مضبوط کر لوہر اک برج و بارو پر اپنے نگہباں چڑھا دوگھروں میں ہوا کے سواسب صداؤں کی شمعیں بجھا دو!کہ باہر فصیلوں کے نیچےکئی دن سے رہزن ہیں خیمہ فگنتیل کے بوڑھے سودا گروں کے لبادے پہن کروہ کل رات یا آج کی رات کی تیرگی میںچلے آئیں گے بن کے مہماںتمہارے گھروں میںوہ دعوت کی شب جام و مینا لڑھائیں گےناچیں گے گائیں گےبے ساختہ قہقہوں ہمہموں سےوہ گرمائیں گے خون محفل!
مرے دوستوں میں بہت اشتراکی ہیںجو ہر محبت میں مایوس ہو کریوں ہی اک نئے دورۂ شادمانی کی حسرت میںکرتے ہیں دل جوئی اک دوسرے کیاور اب ایسی باتوں پہ میںزیر لب بھی کبھی مسکراتا نہیں ہوںاور اس شام جشن عروسی میںحسن و مے و رقص و نغمہ کے طوفان بہتے رہے تھےفرنگی شرابیں تو عنقا تھیںلیکن مے ناب قزوین و خلار شیراز کے دور پیہم سےرنگیں لباسوں سےخوشبو کی بے باک لہروں سےبے ساختہ قہقہوں ہمہموں سےمزامیر کے زیر و بم سےوہ ہنگامہ برپا تھامحسوس ہوتا تھاتہران کی آخری شب یہی ہے!اچانک کہا مرسدہ نے:''تمہارا وہ ساتھی کہاں ہے؟ابھی ایک صوفے پہ دیکھا تھا میں نےاسے سر بہ زانو!''تو ہم کچھ پریشان سے ہو گئےاور کمرہ بہ کمرہ اسے ڈھونڈنے مل کے نکلے!لو اک گوشۂ نیم روشن میںوہ اشتراکی زمیں پر پڑا تھااسے ہم بلایا کیے اور جھنجھوڑا کیےوہ تو ساکت تھا جامد تھا!روسی ادیبوں کی سر چشمہ گاہوں کی اس کو خبر ہو گئی تھی
یاد آتا ہے مجھے کان ہوئے تھے بیدارخشک پتوں سے جب آئی تھی تڑپنے کی صدااور دامن کی ہر اک لہر چمک اٹھی تھیپڑ رہا تھا اسی تلوار کا سایہ شایدجو نکل آئی تھی اک پل میں نہاں خانے سےجیسے بے ساختہ انداز میں بجلی چمکے
ایک مجبور کا تن بکتا ہے من بکتا ہےان دکانوں میں شرافت کا چلن بکتا ہےسودا ہوتا ہے اندھیروں میں گناہوں کا یہاںزندگی نام ہے ہنستی ہوئی آہوں کا یہاںزندہ لاشوں کے لیے سرخ کفن بکتا ہےجھوٹی الفت کے اشاروں پہ وفا رقص کرےچند سکوں کے چھناکے پہ حیا رقص کرےحسن معصوم کا بے ساختہ پن بکتا ہےبیچ کر اپنا لہو آگ کمائی جائےآبرو قوم کی سیجوں پہ لٹائی جائےسر بازار ہوس پیار کا فن بکتا ہے
نہیں یہ بستیاں ویراں نہیںاب بھی یہاں کچھ لوگ رہتے ہیںیہ وہ ہیں جو کبھیزخم وفا بازار تک آنے نہیں دیتےیہاں کچھ خواب ہیںجو سانس لیتے ہیںجوان خوابوں کو تم دیکھو تو ڈر جاؤفلک آثار بام و دریہاں وقعت نہیں رکھتےکلاہ و زر یہاں قیمت نہیں رکھتےیہ کتنے لوگ ہیںبے نام ہیں بے لاگ ہیںبے ساختہ جینے کے طالب ہیںیہ دل کے بوجھ کا احوالاپنے حرف خود لکھنے کے طالب ہیںاجالے کی سخی کرنوں کوزنداں سے رہائی دو
سب نے پوچھا کہ بھنور سے تو بچے گی کیسےمیں نے بے ساختہ نجمہؔ یہ پکارا ماں ہے
اپنے اعصاب کو آسودہ بنانے کے لیےبھول کر تیرگیٔ روح کو میں آ پہنچااس بلندی کے قدم میں نے لیےجس پہ تو سیکڑوں آنکھوں کو جھپکتے ہوئے استادہ ہےترے بارے میں سنا رکھی تھیں لوگوں نے مجھےکچھ حکایات عجیبمیں یہ سنتا تھا ترے جسم گراں بار میں بستر ہے بچھااور اک نازنیں لیٹی ہے وہاں تنہائیایک پھیکی سی تھکن بن کے گھسی جاتی ہےذہن میں اس کے مگر وہ بیتابمنتظر اس کی ہے پردہ لرزےپیرہن ایک ڈھلکتا ہوا بادل بن جائےاور در آئے اک ان دیکھی انوکھی صورتکچھ غرض اس کو نہیں ہے اس سےدل کو بھاتی ہے نہیں بھاتی ہےآنے والے کی ادااس کا ہے ایک ہی مقصود وہ استادہ کرےبحر اعصاب کی تعمیر کا اک نقش عجیبجس کی صورت سے کراہت آئےاور وہ بن جائے ترا مد مقابل پل میںذہن انسانی کا طوفان کھڑا ہو جائےاور وہ نازنیں بے ساختہ بے لاگ ارادے کے بغیرایک گرتی ہوئی دیوار نظر آنے لگےشب کے بے روح تماشائی کوبھول کر اپنی تھکن کا نغمہمختصر لرزش چشم در سےریگ کے قصر کے مانند سبک سار کرےبحر اعصاب کی تعمیر کا اک نقش عجیبایک گرتی ہوئی دیوار کی مانند لچک کھا جائے
اکثر دکھائی دے جاتے ہیںکہیں نہ کہیںخوشی کے آنسولیکنکیا کبھی کسی نےغم کی ہنسی بھی سنی ہےمیں نے سنی ہےاکثر سنتی ہوںبے ساختہ کھلکھلاتے ہوئےسنا ہے خود کو میں نےکتنی ہی بارہر بارہنسی میں اڑ جاتا ہےسارا غمکچھ پل کے لئےبسکچھ پل کے لئے
بہانے ہی بہانے ہیںبڑھا کر رکھ دیا لہروں پہ میں نے ہاتھ مرا ہاتھ اک کشتی کی مانند ایک موج تندکی افتاد کے جلوے کو مرے سامنے لا کر ہوا ہے گمیہ سب موج تخیل کی روانی تھیمگر میں سوچتا ہوں بات جو کہنے کی تھی میں نے نہ کیوں پہلے ہی کہہ دی وقت کابے فائدہ مصرفہر اک پوشیدہ منظر کواگل ڈالے گا اک لمحہ وہ آئے گاکہ جب اس بات کے سننے پہ سننے والے سوچیں گےبہانہ کیا تھا سلوٹ کیا تھی موج بادہ بھی کیا تھیمگر شب کی اندھیری خلوت گمنام کے پردے میں کھو کر ان کو یہ معلوم ہو جائے گا اک پل میںاور اک لذت کے کیف مختصر میں کھو کے وہ بے ساختہ یہ بات کہہ اٹھیں گے کیامجھ کو اجازت ہےیہاں ان سلوٹوں پر ہاتھ رکھ دوں یہ جھجک کیسییہ لہریں ہیں انہیں نسبت ہے کالی رات کے غم ناک دریا سےجو بہتا ہی چلا جاتا ہے رکتا ہی نہیں پل کوجسے کچھ بھی غرض اس سے نہیں میں ہاتھ رکھوں یا جھجک اس ہاتھ کو میرےکلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میںکلیجے سے لگا دے اور میں سو جاؤں ان لہروں کے بستر میں
آئنے کچھ تو بتا ان کا تو ہم راز ہے توتو نے وہ زلف وہ مکھڑا وہ دہن دیکھا ہےان کے ہر حال کا بے ساختہ پن دیکھا ہےوہ نہ خود دیکھ سکیں جس کو نظر بھر کے کبھیتو نے جی بھر کے وہ ہر خط بدن دیکھا ہےان کی تنہائی کا دل دار ہے دم ساز ہے توآئنے کچھ تو بتا ان کا تو ہم راز ہے توکیا وہ شاعر کی طرح خود کو کبھی دیکھتے ہیںٹکٹکی باندھ کے کیا اپنی چھبی دیکھتے ہیںشوخ معصوم جواں مست سجل بے پرواکیا وہ خود اپنے یہ انداز سبھی دیکھتے ہیںاتنا گم سم ہے کہ خود اپنا ہی انداز ہے توآئنے کچھ تو بتا ان کا تو ہم راز ہے توکبھی گھبرائے ہوئے بھی تو وہ آتے ہوں گےدل کی دھڑکن کو جو رخسار پہ پاتے ہوں گےکانپتا جسم سنبھالے نہ سنبھلتا ہوگااپنی آنکھوں سے بھی خود آنکھ چراتے ہوں گےضبط نا کام کا گھبرایا ہوا ناز ہے توآئنے کچھ تو بتا ان کا تو ہم راز ہے تومخملیں زلف بنانے وہ جب آئیں گے ناپہلے اس چاند سے مکھڑے کی بلائیں لیناپھر زباں تجھ کو جو مل جائے سرگوشی میںحسن کو اور نکھرنے کی دعائیں دیناخلوت حسن میں اک عشق کی آواز ہے توآئنے کچھ تو بتا ان کا تو ہم راز ہے تو
اٹھ از سر نو دہر کے حالات بدل ڈالتدبیر سے تقدیر کے دن رات بدل ڈالپھر درس مساوات کی حاجت ہے جہاں کوآقائی و خدمت کے خطابات بدل ڈالکالا ہو کہ گورا ہو خدا ایک ہے سب کاقومیت بے جا کی روایات بدل ڈالچینی ہو کہ ہندی ہو برابر کے ہیں بھائیوطنیت محدود کے وہمات بدل ڈالکل چھوٹے بڑے آدم خاکی کے ہیں فرزندہر نسل سے بیزار ہو ہر ذات بدل ڈالاخلاق میں طاقت ہے فزوں تیغ و سناں سےپیکار کے یہ آہنی آلات بدل ڈالکیا ظلم ہے انسان ہو انسان کا دشمنمردان ہوس کار کی عادات بدل ڈالمحنت سے بھی مزدور کو روٹی نہیں ملتیاس بندۂ مجبور کے اوقات بدل ڈالآپس میں یہ ہر روز کی خونریزیاں کب تکخود ساختہ مذہب کی رسومات بدل ڈالحریت کامل کا وہ اعجاز دکھا تودنیائے غلامی کے طلسمات بدل ڈالخلقت کو بلا شرک سے توحید کی جانبپیروں کی فقیروں کی کرامات بدل ڈالتعلیم پہ موقوف ہے رعنائی افکاربیہودہ کتابوں کی خرافات بدل ڈالکر فکر عمل ذکر خط و خال عبث ہےاے فیضؔ ذرا اپنے خیالات بدل ڈال
گوشۂ رنج میں ہنگامۂ دنیا سے پرےکون اک ہجر کے شیشے میں اترتا تھاترے عکس دلآرام کے ساتھکس کی امید کے رستے پہ کوئی دائرۂ نور نہ تھاکس کی مایوس نگاہوں میں بکھرتے تھےتمنا کے اجالے بھی۔۔۔ اندھیروں کی طرحروز روشن میں بھی ہو جاتی تھیکس دل کے مضافات میں رات،تو نے جانا ہی نہیںاور تری خود ساختہ بے خبری کوقصۂ درد سنانے میں مجھے دیر لگی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books