aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "samaa.at"
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
وہ ایک طرز سخن کی خوشبووہ ایک مہکا ہوا تکلملبوں سے جیسے گلوں کی بارشکہ جیسے جھرنا سا گر رہا ہوکہ جیسے خوشبو بکھر رہی ہوکہ جیسے ریشم الجھ رہا ہوعجب بلاغت تھی گفتگو میںرواں تھا دریا فصاحتوں کاوہ ایک مکتب تھا آگہی کاوہ علم و دانش کا مے کدہ تھاوہ قلب اور ذہن کا تصادمجو گفتگو میں رواں دواں تھاوہ اس کے الفاظ کی روانیوہ اس کا رک رک کے بات کرناوہ شعلۂ لفظ اور معانیکہیں لپکنا کہیں ٹھہرناٹھہر کے پھر وہ کلام کرنابہت سے جذبوں کی پردہ داریبہت سے جذبوں کو عام کرناجو میں نے پوچھاگزشتہ شب کے مشاعرے میں بہت سے شیدائی منتظر تھےمجھے بھی یہ ہی پتہ چلا تھا کہ آپ تشریف لا رہے ہیںمگر ہوا کیاذرا توقف کے بعد بولے نہیں گیا میںنہ جا سکا میںسنو ہوا کیامیں خود کو مائل ہی کر نہ پایایہ میری حالت میری طبیعتپھر اس پہ میری یہ بد مزاجی و بد حواسییہ وحشت دلمیاں حقیقت ہے یہ بھی سن لو کہ اب ہمارے مشاعرے بھینہیں ہیں ان وحشتوں کے حاملجو میری تقدیر بن چکی ہیںجو میری تصویر بن چکی ہیںجو میری تقصیر بن چکی ہیںپھر اک توقفکہ جس توقف کی کیفیت پر گراں سماعت گزر رہی تھیاس ایک ساعت کا ہاتھ تھامے یہ اک وضاحت گزر رہی تھیادب فروشوں نے جاہلوں نے مشاعرے کو بھی اک تماشہ بنا دیا ہےغزل کی تقدیس لوٹ لی ہے ادب کو مجرا بنا دیا ہےسخن وروں نے بھی جانے کیا کیا ہمارے حصے میں رکھ دیا ہےستم تو یہ ہے کہ چیخ کو بھی سخن کے زمرے میں رکھ دیا ہےالٰہی توبہسماعتوں میں خراشیں آنے لگی ہیں اب اور شگاف ذہنوں میں پڑ گئے ہیںمیاں ہمارے قدم تو کب کے زمیں میں خفت سے گڑ گئے ہیںخموشیوں کے دبیز کہرے سے چند لمحوں کا پھر گزرناوہ جیسے خود کو اداسیوں کے سمندروں میں تلاش کرناوہ جیسے پھر سرمئی افق پر ستارے الفاظ کے ابھرنایہ زندگی سے جو بے نیازی ہے کس لیے ہےیہ روز و شب کی جو بد حواسی ہے کس لیے ہےبس اتنا سمجھوکہ خود کو برباد کر چکا ہوںسخن تو آباد خیر کیا ہومگر جہاں دل دھڑک رہے ہوں وہ شہر آباد کر چکا ہوںبچا ہی کیا ہےتھا جس کے آنے کا خوف مجھ کو وہ ایک ساعت گزر چکی ہےوہ ایک صفحہ کہ جس پے لکھا تھا زندگی کو وہ کھو چکا ہےکتاب ہستی بکھر چکی ہےپڑھا تھا میں نے بھی زندگی کومگر تسلسل نہیں تھا اس میںادھر ادھر سے یہاں وہاں سے عجب کہانی گڑھی گئی تھیسمجھ میں آئی نہ اس لیے بھی کے درمیاں سے پڑھی گئی تھیسمجھتا کیسےنہ فلسفی میں نہ کوئی عالمعقوبتوں کے سفر پہ نکلا میں اک ستارہ ہوں آگہی کااجل کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اک استعارہ ہوں زندگی کاعتاب نازل ہوا ہے جس پر میں وہ ہی معتوب آدمی ہوںستم گروں کو طلب ہے جس کی میں وہ ہی مطلوب آدمی ہوںکبھی محبت نے یہ کہا تھا میں ایک محبوب آدمی ہوںمگر وہ ضرب جفا پڑی ہے کہ ایک مضروب آدمی ہوںمیں ایک بیکل سا آدمی ہوں بہت ہی بوجھل سا آدمی ہوںسمجھ رہی ہے یہ دنیا مجھ کو میں ایک پاگل سا آدمی ہوںمگر یہ پاگل یہ نیم وحشی خرد کے ماروں سے مختلف ہےجو کہنا چاہا تھا کہہ نہ پایاکہا گیا جو اسے یہ دنیا سمجھ نہ پائینہ بات اب تک کہی گئی ہےنہ بات اب تک سنی گئی ہےشراب و شعر و شعور کا جو اک تعلق ہے اس کے بارے میں رائے کیا ہےسنا ہے ہم نے کہ آپ پر بھی بہت سے فتوے لگے ہیں لیکنشراب نوشی حرام ہے تویہ مسئلہ بھی بڑا عجب ہےمیں ایک میکش ہوں یہ تو سچ ہےمگر یہ میکش کبھی کسی کے لہو سے سیراب کب ہوا ہےہمیشہ آنسو پیے ہیں اس نے ہمیشہ اپنا لہو پیا ہےیہ بحث چھوڑو حرام کیا ہے حلال کیا ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہےشراب کیا ہےاذیتوں سے نجات ہے یہ حیات ہے یہشراب و شب اور شاعری نے بڑا سہارا دیا ہے مجھ کوسنبھال رکھا شراب نے اور رہی ہے محسن یہ رات میریاسی نے مجھ کو دئے دلاسے سنی ہے اس نے ہی بات میریہمیشہ میرے ہی ساتھ جاگی ہمیشہ میرے ہی ساتھ سوئیمیں خوش ہوا تو یہ مسکرائی میں رو دیا تو یہ ساتھ روئییہ شعر گوئی ہے خود کلامی کا اک ذریعہاسی ذریعہ اسی وسیلہ سے میں نے خود سے وہ باتیں کی ہیںجو دوسروں سے میں کہہ نہ پایاحرام کیا ہے حلال کیا ہے یہ سب تماشے ہیں مفتیوں کےیہ سارے فتنے ہیں مولوی کےحرام کر دی تھی خود کشی بھی کہ اپنی مرضی سے مر نہ پائےیہ مے کشی بھی حرام ٹھہری کہ ہم کو اپنا لہو بھی پینے کا حق نہیں ہےکہ اپنی مرضی سے ہم کو جینے کا حق نہیں ہےکسے بتائیںضمیر و ظرف بشر پہ موقوف ہیں مسائلسمندروں میں انڈیل جتنی شراب چاہےنہ حرف پانی پہ آئے گا اور نہ اوس کی تقدیس ختم ہوگیتو مے کشی کو حرام کہنے سے پہلے دیکھوکہ پینے والے کا ظرف کیا ہے ہیں کس کے ہاتھوں میں جام و مینایہ نکتہ سنجی یہ نکتہ دانی جو مولوی کی سمجھ میں آتی تو بات بنتینہ دین و مذہب کو جس نے سمجھا نہ جس نے سمجھا ہے زندگی کوطہورا پینے کی بات کر کے حرام کہتا ہے مے کشی کوجو دین و مذہب کا ذکر آیا تو میں نے پوچھاکہ اس حوالے سے رائے کیا ہےیہ خود پرستی خدا پرستی کے درمیاں کا جو فاصلہ ہےجو اک خلا ہے یہ کیا بلا ہےیہ دین و مذہب فقط کتابیںبجز کتابوں کے اور کیا ہےکتابیں ایسی جنہیں سمجھنے کی کوششیں کم ہیں اور زیادہ پڑھا گیا ہےکتابیں ایسی کہ عام انساں کو ان کے پڑھنے کا حق ہے لیکنانہیں سمجھنے کا حق نہ ہرگز دیا گیا ہےکہ ان کتابوں پہ دین و مذہب کے ٹھیکیدار اجارہ داروں کی دسترس ہےاسی لیے تو یہ دین و مذہب فساد د فتنہ بنے ہوئے ہیںیہ دین و مذہبجو علم و حکمت کے ساتھ ہو تو سکون ہوگاجو دسترس میں ہو جاہلوں کی جنون ہوگایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ زندگی کا جواز کیا ہےیہ تم ہو جی جی کے مر رہے ہو یہ میں ہوں مر مر کے جی رہا ہوںیہ راز کیا ہےہے کیا حقیقت مجاز کیا ہےسوائے خوابوں کے کچھ نہیں ہےبجز سرابوں کے کچھ نہیں ہےیہ اک سفر ہے تباہیوں کا اداسیوں کی یہ رہ گزر ہےنہ اس کو دنیا کا علم کوئی نہ اس کو اپنی کوئی خبر ہےکبھی کہیں پر نظر نہ آئے کبھی ہر اک شے میں جلوہ گر ہےکبھی زیاں ہے کبھی ضرر ہےنہ خوف اس کو نہ کچھ خطر ہےکبھی خدا ہے کبھی بشر ہےہوا حقیقت سے آشنا تو یہ سوئے دار و رسن گیا ہےکبھی ہنسا ہے یہ زیر خنجر کبھی یہ سولی پہ ہنس دیا ہےکبھی یہ گل نار ہو گیا ہے سناں پہ گفتار ہو گیا ہےکبھی ہوا ہے یہ غرق دریاکبھی یہ تقدیر دشت و صحرارقم ہوا ہے یہ آنسوؤں میںکبھی لہو نے ہے اس کو لکھاحکایت دل حکایت جاں حکایت زندگی یہی ہےاگر سلیقے سے لکھی جائے عبارت زندگی یہی ہےیہ حسن ہے اس دھنک کی صورتکہ جس کے رنگوں کا فلسفہ ہی کبھی کسی پر نہیں کھلا ہےیہ فلسفہ جو فریب پیہم کا سلسلہ ہےکہ اس کے رنگوں میں اک اشارہ ہے بے رخی کااک استعارہ ہے زندگی کاکبھی علامت ہے شوخیوں کیکبھی کنایہ ہے سادگی کابدلتے موسم کی کیفیت کے ہیں رنگ پنہاں اسی دھنک میںکشش شرارت و جاذبیت کے شوخ رنگوں نے اس دھنک کو عجیب پیکر عطا کیا ہے اک ایسا منظر عطا کیا ہےکہ جس کے سحر و اثر میں آ کرلہو بہت آنکھیں رو چکی ہیں بہت تو بینائی کھو چکی ہیںبصارتیں کیا بصیرتیں بھی تو عقل و دانائی کھو چکی ہیںنہ جانے کتنے ہی رنگ مخفی ہیں اس دھنک میںبس ایک رنگ وفا نہیں ہیںاس ایک رنگت کی آرزو نے لہو رلایا ہے آدمی کویہی بتایا ہے آگہی کویہ اک چھلاوا ہے زندگی کاحسین دھوکہ ہے زندگی کامگر مقدر ہے آدمی کافریب گندم سمجھ میں آیا تو میں نے جانایہ عشق کیا ہے یہ حسن کیا ہےیہ ایک لغزش ہے جس کے دم سے حیات نو کا بھرم کھلا ہے
کہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغنہ دست و ناخن قاتل نہ آستیں پہ نشاںنہ سرخی لب خنجر نہ رنگ نوک سناںنہ خاک پر کوئی دھبا نہ بام پر کوئی داغکہیں نہیں ہے کہیں بھی نہیں لہو کا سراغنہ صرف خدمت شاہاں کہ خوں بہا دیتےنہ دیں کی نذر کہ بیعانۂ جزا دیتےنہ رزم گاہ میں برسا کہ معتبر ہوتاکسی علم پہ رقم ہو کے مشتہر ہوتاپکارتا رہا بے آسرا یتیم لہوکسی کو بہر سماعت نہ وقت تھا نہ دماغنہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوایہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا
وہی نرم لہجہجو اتنا ملائم ہے جیسےدھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہوشفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہوکس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفروہی نرم لہجہکبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گاتو ایسا لگےجیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہووہی نرم لہجہکسی شوخ لمحے میں اس کی ہنسی بن کے بکھرےتو ایسا لگےجیسے قوس قزح نے کہیں پاس ہی اپنی پازیب چھنکائی ہےہنسی کو وہ رم جھمکہ جیسے فضا میں بنفشی چمکدار بوندوں کے گھنگھرو چھنکنے لگے ہوںکہ پھراس کی آواز کا لمس پا کےہواؤں کے ہاتھوں میں ان دیکھے کنگن کھنکنے لگے ہوںوہی نرم لہجہ مجھے چھیڑنے پر جب آئےتو ایسا لگے گاجیسے ساون کی چنچل ہواسبز پتوں کے جھانجھن پہنسرخ پھولوں کی پائل بجاتی ہوئیمیرے رخسار کوگاہے گاہے شرارے سے چھونے لگےمیں جو دیکھوں پلٹ کے تو وہبھاگ جائے مگردور پیڑوں میں چھپ کر ہنسےاور پھر ننھے بچوں کی مانند خوش ہو کے تالی بجانے لگےوہی نرم لہجہکہ جس نے مرے زخم جاں پہ ہمیشہ شگفتہ گلابوں کی شبنم رکھی ہےبہاروں کے پہلے پرندے کی مانند ہےجو سدا آنے والے نئے سکھ کے موسم کا قاصد بنا ہےاسی نرم لہجے نے پھر مجھ کو آواز دی ہے
تمہیں جب دیکھتا ہوںتو مری آنکھوں پہ رنگوں کی پھواریں پڑنے لگتی ہیںتمہیں سنتا ہوںتو مجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں اور مسجدوں سے ورد کی آواز آتی ہےتمہارا نام لیتا ہوںتو صدیوں قبل کے لاکھوں صحیفوں کے مقدس لفظ میرا ساتھ دیتے ہیںتمہیں چھو لوںتو دنیا بھر کے ریشم کا ملائم پن مری پوروں کو آ کر گدگداتا ہےتمہیں گر چوم لوںتو میرے ہونٹوں پر الوہی آسمانی نا چشیدہ ذائقے یوں پھیل جاتے ہیںکہ اس کے بعد مجھ کو شہد بھی پھیکا سا لگتا ہےتمہیں جب یاد کرتا ہوںتو ہر ہر یاد کے صدقے میں اشکوں کے پرندے چوم کر آزاد کرتا ہوںتمہیں ہنستی ہوئی سن لوںتو ساتوں سر سماعت میں سما کر رقص کرتے ہیںکبھی تم روٹھتی ہوتو مری سانسیں اٹکنے اور دھڑکن تھمنے لگتی ہے
مری نگاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےدل تباہ کو اب بھی تری ضرورت ہےخروش نالہ تڑپتا ہے تیری فرقت میںسکوت آہ کو اب بھی تری ضرورت ہےیہ صبح و شام تری جستجو میں پھرتے ہیںکہ مہر و ماہ کو اب بھی تری ضرورت ہےبہار زلف پریشاں لیے ہے گلشن میںگل و گیاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےزمانہ ڈھونڈ رہا ہے کوئی نیا طوفاںسکون راہ کو اب بھی تری ضرورت ہےوہ ولولے وہ امنگیں وہ جستجو نہ رہیتری سپاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےخرد خموش جنوں بے خروش ہے اب تکدل و نگاہ کو اب بھی تری ضرورت ہےبیاں ہو غم کا فسانہ دل تپاں سے کہاںیہ بار اٹھے گا مری جان ناتواں سے کہاںملا نہ پھر کہیں لطف کلام تیرے بعدحدیث شوق رہی نا تمام تیرے بعدجو تیرے دست حوادث شکن میں دیکھی تھیوہ تیغ پھر نہ ہوئی بے نیام تیرے بعدبجھی بجھی سی طبیعت ہے بادہ خواروں کیاداس اداس ہیں مینا و جام تیرے بعدبنا ہے حرف شکایت سکوت لالہ و گلبدل گیا ہے چمن کا نظام تیرے بعدادائے حسن کا لطف خرام بے معنیسرود شوق کی لذت حرام تیرے بعدترس گئی ہے سماعت تری صداؤں کوسنا نہ پھر کہیں تیرا پیام تیرے بعدوہ انقلاب کی رو پھر پلٹ گئی افسوسبلند بام ہیں پھر زیر دام تیرے بعدمثال نجم سحر جگمگا کے ڈوب گیاہمیں سفینہ کنارے لگا کے ڈوب گیا
دکھ کا شب خوں روز ادھورا رہ جاتا ہےاور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہےمیں اور میرا شہر محبتتاریکی کی چادر اوڑھےروشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیںگھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں!حد سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سےاپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیںانگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئےاب باری انگشت شہادت کی آنے والی ہےصبح سے پہلے وہ کٹنے سے بچ جائے تو!
اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تمیاد ہے تم نے کہا تھا''جب نگاہوں میں چمک ہولفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفساس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنےتو وہ گھڑی عہد وفا کی ساعت نایاب ہےوہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافتجن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہےنگاہیں دھند کے پردوں میں ان کو ڈھونڈتی ہیںاور سماعت ان کی میٹھی نرم آہٹ کے لیےدامن بچھاتی ہے''اور وہ لمحہ بھی تم کو یاد ہوگاجب ہوائیں سرد تھیں اور شام کے میلے کفن پر ہاتھ رکھ کرتم نے لفظوں اور تعلق کے نئے معنی بتائے تھے، کہا تھا''ہر گھڑی اپنی جگہ پر ساعت نایاب ہےحاصل عمر گریزاں ایک بھی لمحہ نہیںلفظ دھوکہ ہیں کہ ان کا کام ابلاغ معانی کے علاوہ کچھ نہیںوقت معنی ہے جو ہر لحظہ نئے چہرے بدلتا ہےجانے والا وقت سایہ ہےکہ جب تک جسم ہے یہ آدمی کے ساتھ چلتا ہےیاد مثل نطق پاگل ہے کہ اس کے لفظ معنی سے تہی ہیںیہ جسے تم غم اذیت درد آنسودکھ وغیرہ کہہ رہے ہوایک لمحاتی تأثر ہے تمہارا وہم ہےتم کو میرا مشورہ ہے، بھول جاؤ تم سے اب تکجو بھی کچھ میں نے کہا ہے''اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم!
میری اس شام کے تارے سے ملاقات بہت گہری تھیمیں نے تارے کی رفاقت میں شگن کتنے لیےآج دیکھا نہیں تارا میں نےآج کی شام جو روز آتا ہے شاید نہیں آئےراستہ بھول نہ جائےآج تو جلد نکل آیا ہے تارا میراآج کی رات ملاقات ملے گی مجھ کوان کہے لفظوں کی سوغات ملے گی مجھ کومیں نے تارے کی رفاقت میں شگن کتنے لیےاب میں تنہا ہوںبرس بیت گئے ہیں کتنےکوئی تارا نہیں دیکھا میں نےدور کی چیز ذرا دھندلی نظر آتی ہےمیری خوابیدہ سماعت کو جگانے کے لیےصرف آواز اذاں آتی ہےاب شگن کاہے سے لوںکس کے آنے کی امیدیں باندھوںکس کے جانے سے پریشان رہوں
اتنی افسردہ آواز میرے خدامیری پہلی سماعت پہ لکھی گئیمیری پہلی ہی سانسوں میں گھولا گیاان شکستہ سے لہجوں کا زہریلا پن
میری رامائن ادھوری ہے ابھیمیری سیتااور مجھ میں حائل دوری ہے ابھیمیری سیتا اداس ہےرشتوں کا پھیلا بن باس ہےپھرنا ہے مجھے ابھیجنگل جنگل صحرا صحرا ساگر ساگرمیرا حمزہ وہی میرا لچھمن ہے ابھیزمانہ تو عیار ہےسو بھیس بدل لیتا ہےسادھوؤں کے بہروپ میں ہیں پوشیدہ ابھینہ جانے راکشش کتنےآج پھرزمانے نے چھل لیا ہے مجھےمیری سیتا کوحالات کے راون نےہر لیا ہے ابھیدور بہت دورمیری نگاہوں سے اوجھلساحل سمندر کی ریت پروہ بے سدھ پڑی رو رہی ہے ابھیتاہماپنی شکستہ حالی سےاس نے ہار نہیں مانی ہے ابھیوقت کے لنکیشور کے آگےاس نے آتم سمرپن کیا نہیں ہے ابھیریت میں دھنسی اپنی ننھی سی کشتی کووہ تک رہی ہے غور سےاپنے رام کے قدموں کی آہٹکی منتظر سماعت کو سمیٹے ہوئےسراپا بگوش بنیدکھ کی بھٹی میں تپ کے نکھر رہی ہے ابھیملن کی شبھ گھڑی کا اسے ابھی ہے یقیناس کے خشک ہونٹوں پہ ہے میرا ہی نامرام رام رامصاحبوحقیقت تو یہ ہے کہ راکشس باہر نہیں ہے کہیںراکشس تو خود اپنے اندردرون خانۂ دل میں روپوش ہے کہیںمیری سیتامیری بھولی بھالی سیتا کوانتظار اس سنہرے پل کا ہےجب میرا غصہ شانت ہوگااور میرے اندر سےمریادہ پرش رام اتپن ہوں گے کبھی نہ کبھیتب راون اپنے آپ ہی پراست ہو جائے گاتبھی رام جی اپنی سیتا کواپنے پہلو میں اٹھا کر لے جائیں گےاپنے دل کے سنگھاسن پر بٹھائیں گے تبھیتبھی دیپ جلیں گےگھر آنگن میں اوپر نیچے چاروں اورتبھی دن دسہرا ہوگاتبھی رات دیوالی ہوگی
خوف کے جزیرے میں۔۔ قید ہوں میں برسوں سےدور تک فصیلیں ہیںاور ان پہ لوہے کی اونچی اونچی باڑیں ہیں،نوک دار کیلیں ہیںڈالتا کمندیں ہوں۔۔۔ جیل کے کناروں پر۔۔۔خار دار تاروں پرسیٹیاں سی بجتی ہیں دیر تک سماعت میںپہرے دار آتے ہیںبیڑیاں سی سجتی ہیںپاؤں کو اٹھانا، بھی ہاتھ کو ہلانا بھیجسم بھول جاتا ہےجرم بھی نہیں معلوم، عمر بھی نہیں معلومکچھ پتا نہیں مجھ کو۔۔۔ اس طرف فصیلوں کےکس قدر سمندر ہےکشتیاں بھی چلتی ہیں، بادباں بھی کھلتے ہیںنور کے جہاں بھی ہیں، جسم کے مکاں بھی ہیں،آدمی وہاں بھی ہیںچھوڑیئے، نہیں جاتےکیا کریں گے باہر بھی۔۔۔ٹھیک ہے فصیلوں میںآنسوؤں کی جھیلوں میں چاند کو اتاریں گےبے حسی کے ٹیلوں پر نقش پا ابھاریں گےموت کے گلیمر میں ڈوب ڈوب جائیں گےقبر کے اندھیرے سے رات کو سجائیں گےموت کا فسردہ پن کتنا خوب صورت ہےاک جہاں اداسی کا بس مری ضرورت ہے!
تدفینچار طرف سناٹے کی دیواریں ہیںاور مرکز میں اک تازہ تازہ قبر کھدی ہےکوئی جنازہ آنے والا ہےکچھ اور نہیں تو آج شہادت کا کلمہ سننے کو ملے گاکانوں کے اک صدی پرانے قفل کھلیں گےآج مری قلاش سماعت کو آواز کی دولت ارزانی ہوگیدیواروں کے سائے میں اک بہت بڑا انبوہ نمایاں ہوتا ہےجو آہستہ آہستہ قبر کی جانب آتا ہےان لوگوں کے قدموں کی کوئی چاپ نہیں ہےلب ہلتے ہیں لیکن حرف صدا بننے سے پہلے مر جاتے ہیںآنکھوں سے آنسو جاری ہیںلیکن آنسو تو ویسے بھیدل و دماغ کے سناٹوں کی تمثالیں ہوتے ہیںمیت قبر میں اتری ہےاور حد نظر تک لوگ بلکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیںاور صرف دکھائی دیتے ہیںاور کان دھرو تو سناٹے ہی سنائی دیتے ہیںجب قبر مکمل ہو جاتی ہےاک بوڑھا جو ''وقت'' نظر آتا ہے اپنے حلیے سےہاتھوں میں اٹھائے کتبہ قبر پہ جھکتا ہےجب اٹھتا ہے تو کتبے کا ہر حرف گرجنے لگتا ہےیہ لوح مزار ''آواز'' کی ہے!
خزاں موسم نہیں ہےایک لمحہ ہے کہ جس کی آرزو میںسبز پتےہوا کی آہٹوں پر کان دھرتے ہیںگزرتے وقت میں ساعت بہ ساعتنئے پیراہنوں میںگلابی اور گہرے سرخ عنابیدہکتے خوش نما رنگوں سے لے کر زرد ہونے تککبھی دھیمے کبھی اونچے سروں میں بات کرتیخوشبوؤں میں بس بسا کرہوا کے ساتھ محو رقص ہونا چاہتے ہیںزمیں کا رزق بن جانے سے پہلےوہی اک اجنبی وارفتگی اور رقص کا لمحہکہیں پر دور آئندہ کے موسم کی سماعت میںکسی سوئے ہوئے اک بیج میںخواہش نمو کی سر اٹھاتی ہےبہت ہی پیار سے ہر شاخ کے پتے سے کہتی ہےکہ اب رزق زمیں بن کرکسی اک نرم کونپل کی نمو کا آسرا بن جاخزاں موسم نہیں ہےاک مسرت خیز تخلیق عمل کا آسرا ہے
یہ جو تنہائی ہے شاید مری تنہائی نہ ہوگونجنا ہو نہ سماعت میں سکوتاور شب و روز کی نعشمیری دہلیز پہ ایام نے دفنائی نہ ہوانگنت پھول ہی کھلتے ہوںاک شجر مولری کا ہو کہیں جس کے تلےیار اغیار گلے ملتے ہوںآن پہنچے ہوں خوشی کے موسمراہ تکتے ہوں مریاور مجھ تک کسی باعث یہ خبر آئی نہ ہوہو کے خوش ہنستے ہوئے احباب تمامبھیجتے ہوں مجھے کب سے پیغامڈھونڈتے ہوں مجھے بیتابانہراہ تکتے ہوں مریاور مجھ تک کسی باعث یہ خبر آئی نہ ہو
دشمن احمق ہو تو میرا غصہ بڑھا دیتا ہےثقاہت میری معینہ مقتول ہےاور خوش فہمی مقررہ مذبوحمیری چنگھاڑ صور اسرافیل کا پیش آہنگ ہےلفظ کی منمناہٹ سے پاکاندھے سیاروں کے ٹکراؤ کی مافوق سماعت گڑگڑاہٹآواز کی مکمل منہائی کا شورلکھے ہوئے لفظ کو بھی شق کر دیتا ہےیہ عبارتیں تمہارا صف بستہ لشکر ہیںفرضی ہتھیاروں سے مسلح یہ لشکرجسے خیالی قلعوں کے برج گرانے کا بڑا تجربہ ہےاس کی نا بودی میری ایک چپ کے فاصلے پر ہے
کسی بھی آنکھ کی پتلی پہ چپکے سےاترتی ہے نشاں سا چھوڑ جاتی ہےیقیں کے رنگ دھندلا کرگماں سا چھوڑ جاتی ہےمحبت کا کوئی کلیہ کوئی قانونلوگوں کی سمجھ میں آ نہیں سکتاکوئی بھی اس کے گہرے بھید ہرگز پا نہیں سکتاچمکتی دھوپ کی ان چلچلاتی زرد تاروں سےبنا ہے اس کو فطرت نےیہ سب رنگوں سے برتر ہےمگر ہر رنگ اس میں گھل گیا گویاچھوؤ تو ہاتھ کی پوریں گلابی ہوںسماعت میں اترتی دھیمی دھیمی چاپ جیسی ہےکتاب زیست کے بھولے ہوئے سے باب جیسی ہےمحبت خواب جیسی ہے
کب دور تلک دیکھالرزاں تھی زمیں کس پلکب سوئے فلک دیکھاکب دشت کی تنہائیآنکھوں میں اتر آئیکب وہم سماعت تھیکب کھو گئی گویائیکس موڑ پہ حیراں تھےکس راہ میں ویراں تھےاجمال حقیقت کےشاید نہ رقم ہوں گے
چشم بے خواب کو سامان بہت!رات بھر شہر کی گلیوں میں ہواہاتھ میں سنگ لیےخوف سے زرد مکانوں کے دھڑکتے دل پردستکیں دیتی چلی جاتی ہےروشنی بند کواڑوں سے نکلتے ہوئے گھبراتی ہےہر طرف چیخ سی چکراتی ہےہیں مرے دل کے لیے درد کے عنوان بہت
بعد ایک مدت کےاجنبی سے چہروں میںخواب خواب آنکھوں میںدرد کی سماعت میںبے دلی کی ساعت میںایک اجنبی صورتآشنا نظر آئیخواب خواب آنکھوں میںروشنی سی لہرائیدرد کی سماعت نےدل کی کچھ خبر پائیاس نے گرم جوشی سے ہاتھ بھی ملایا تھابعد ایک مدت کے میں بھی مسکرایا تھااس نے میرے شانے کو چوم ہی لیا آخرمیں بھی ایک لمحے کو جھوم ہی لیا آخرآؤ اک ذرا سی دیر لان ہی میں ٹہلیں گےجو بھی کہنا سننا ہے ہو سکا تو کہہ لیں گےشاید ایک مدت کی بیکلی بھی کل پائےاور ہماری قسمت سے چاند بھی نکل آئےاک اداس سناٹا اور شب زمستاں کیبے سخن کہی ہم نے بات درد پنہاں کیچاند نے بھی چپکے سے کچھ کہا تو تھا ہم سےمیرے الجھے بالوں سے اس کی زلف برہم سےوہ تھی چاند تھا میں تھایوں تو کتنے چہرے تھےاپنی ذات کے اندرہم سبھی اکیلے تھےسرد سرد اک چہرہزرد زرد اک چہرہگرد گرد اک چہرہدرد یافتہ چہرے ہجر یافتہ چہرےجیسے رو بہ رو اپنے آئینے سے رکھے تھے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books