aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saqaafat"
کیوں حیرت سے تکتی ہے ایک اک چہرے کوکیا تجھ کو شکوہ ہے تیری گویائی کی طاقتچھین کے قدرت نے بے انصافی کی ہے؟کیا تجھ کو احساس ہے تیرے پاس اگر گفتار کی نعمت ہوتیتو اس چاروں جانب پھیلی ہتھیاروں کی دنیاسینہ دہلا دینے والے طیاروں کی انساں کش آوازیںآوازیں جن میں انساں کی روح شبانہ روز دبی جاتی ہےمحشر خیز آوازیں کل پرزوں کی جن سے نفسی نفسی کا عالم پیدا ہو کردن پر دن عفریت کی صورت میں بڑھتا جاتا ہےان آوازوں کی ہیبت ناکی پر واویلا کرتیتو آواز اٹھاتی اس فاشی اور تعصب پھیلانے والے عنصر کو بڑھتا پا کرجو حب الوطنی کے نام پہ انساں کش ہوتا جاتا ہےتو ان رجحانات کی خوب مذمت کرتیان سے لڑتی جو اس دنیا کو پیچھے لے جانے میں کوشاں ہیں'مذہب اور تہذیب''ثقافت' اور 'ترقی' کہہ کر رجعت پرور ہو جاتے ہیںلے میں تجھ کو اپنی گویائی دیتا ہوں!یہ میرے کام نہیں آئی کچھمیں ایسا بزدل ہوں جو ہر بے انصافی کو چپکے چپکے سہتا ہےجس نے 'مقتل' اور 'قاتل' دونوں دیکھے ہیںلیکن دانائی کہہ کراپنی گویائی کو گونگا کر رکھا ہے!
یہ مغرب ہےیہاں تہذیب ہےتعلیم ہےاخلاق ہےانسان میں انسانیت ہےیہاں انساں کی قیمت ہےتمدن ہےثقافت ہےسکوں ہےامن ہےاور عافیت ہے
قرنوں کی ثقافت ہے یہاں اب بھی ہمکتیہر دور کا گہوارۂ آثار ہے دلی
پرانا پاسباں ظل الٰہی کاجسے چاہے کرے منصب عطا عالم پناہی کااسے ترکیب آتی ہےکسی مضمون کہنہ کو نیا عنوان دینے کیوہ دیدہ ور ہمیشہ سے معین ہےہمارے راستے کے پست و بالا پروہ دانا اپنے منصوبے بناتا ہےہماری فطرتوں کی خاک ظلمت سےہماری خواہش تکرار کی دیرینہ عادت سےوہ معبد ساز بت گر اپنی ہستی کے تقدس میںسدا محفوظ رکھتا ہےہمارے گھر کو تحقیقی تجسس کی بلاؤں سےکہیں اوہام کی عمدہ شبیہوں میںثقافت کے نگارستاں سجاتا ہےکہیں خوش فہمیوں کے استعارے سےہرے لفظوں کے باغیچے کھلاتا ہےکہیں نوک سناں کے اسم و افسوں سےلہو کی بوند میں تسلیم کی کرنیں جگاتا ہےقلوب اہل زمیں کے اس کی مٹھی میں دھڑکتے ہیںشعور اس کا سدا مامور رہتا ہےہمیں اچھے برے کے فلسفے کی آڑ میںہم سے چھپانے پرمگر اس کا مداوا کیاکہ وہ پروردگار زور حکمت اپنی نیندوں میںہمیشہ سےوجود فرد میں اک مضطرب سی شے سے ڈرتا ہےوہ شے جس کی حقیقتوقت کا ابلیس اس پر فاش کرتا ہے
رب العزتوہ زمین جسے تو نے بنی آدم کے لیے جنت بنایا تھااور امن کے گہوارے کا نام دیا تھاجہاں ہماری آزمائش کے لیے شجر ممنوعہ کے ساتھ ساتھہماری ربوبیت کے لیے تو نے شجر حیات بھی اگایا تھاہماری وہ زمین پانی ہوا اور خشکی کی مخلوق کا مشترکہ گھر تھیاس پیاری زمین پر آباد ساری مخلوق ایک دوسرے سے راضی تھیاور جس کی ساری مخلوق کو باہم راضی دیکھ کر تو بھی ہم سے راضی تھااے رب العزت ہم نے وہ زمین اپنے ہاتھوں برباد کر کے رکھ دی ہےہمارا تجھ پر کوئی حق نہیں کہ ضد کریںلیکن تو نے توبہ کا دروازہ تو کھلا رکھا ہےبے شک توبہ کی ابتدا اعتراف سے ہوتی ہےمگر اس کی انتہا ہمیشہ دعا سے ہوتی آئی ہےمیرے پاس دعا کے لائق الفاظ نہیں ہیںلیکن تیرے پاس میری گونگی التجا سننے کے لیے بہت اچھے کان ہیںحسن سماعت تجھ پر ختم ہےاس لیے کہ تو ازل سے مضطروں کی سنتا اور مردہ زمینوں کو زندہ کرتا آیا ہےسن اے سمیع سنایک مرتبہ پھر اس زمین پر امن امید اور مسرت کے پھریرے لہرا دےایک مرتبہ پھر اس کے بیٹے بیٹیوں کا ہاتھ پکڑانہیں ادھورے پن سے نجات دے دےپورا کر دے انہیںوہ ہوس اور بے صبری کی کھولتی دلدل میںبد صورت مینڈکوں کی طرح اوندھے منہ پڑے ہیںانہیں پورے قد سے کھڑا کر دےان کی عظمت آدم لوٹا دےانہیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا سکھا دےتوفیق دے انہیں کہ تیری عطا کردہ قوت تخلیق سےزمین کو حسن اور معنی سے مالا مال کر دیںاحترام ڈال دے ان کے دل و دماغ میں اس زمین کے لیےاپنی اس ماں کے لیےاس کی ساری مخلوق کے لیےنسل عقیدے جنس اور ثقافت کا فرق ان کی وحدت میں نئے رنگ بھرےوہ پورے کرۂ ارض پر پھیلے ہوں لیکن ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کروہ پورے کرۂ ارض کو ایک ایسے دسترخواں کی شکل دے دیںجس پر زمین کا سارا رزق زمین کی ساری مخلوق کے لیے عام ہوچھ عرب انسان ہی نہیں زمین کی ساری مخلوق سیراب و شاد کام ہواے رب العزتتو نے اس زمین کی صورت میں جو جنت ہمیں دی تھیہم نے اسے اپنے لیے جہنم بنا لیا ہےیہ جہنم صرف نفاق اور نفرت ہی نہیں خوف سے بھی لبریز ہےایک دوسرے سے خوف اپنے آپ سے خوفاور خوف تو محبت کی نفی ہوتا ہےاور ساری محبتوں کی ابتدا اور انتہاہمیں ایک مرتبہ پھر محبت سے سرشار کر دےکہ محبت کے بغیر ہمیں نہ تو سچا امن نصیب ہوگا اور نہ سچی زندگیہم محبت سے محروم رہے تو خواہ تو زمین کو سو مرتبہ بھی جنت بنا دےہم ہزار مرتبہ اسے جہنم بنا کے رکھ دیں گےہم نے نفرت نفاق اور خوف کو آزما کر دیکھ لیا ہےاے رب العزتہمارے وجود محبت کے لیے اس طرح ترس رہے ہیںجیسے پیاسی زمین بارش کے لیے ترستی ہےہمیں محبت نصیب کر دے
زباں معتوب تہذیب و ثقافت دار کی زد میںگھر آنگن عزت و ناموس کل تلوار کی زد میںلبوں کی مسکراہٹ آتشیں یلغار کی زد میں
ابوالکلام کہ بدر منیر آزادیطلوع صبح تمنا نشاط دیدہ و دلخلوص پیار وفا آشنا طریق تماموہ اپنی قامت زیبا میں جیسے حسن یقیںابوالکلام خطابت کا بے بدل پیکرابوالکلام سیاسی شعور کا منظرابوالکلام فصاحت کا تیز رو دریاابوالکلام ثقافت کی موج بے پایاںابوالکلام مجسم شرافت مشرقوہ روشنی جسے صدیاں تلاش کرتی ہیںہمارے عہد کا ورثہ بنی ہے ہم میں ہے
زمیں کی تنگیوں کو اپنی بخشش سے کشادہ کرکہ سجدہ کر سکوںیہ کیا کہ میرے حوصلوں میں رفعتیں ہیںاور گرتا جا رہا ہوں اپنی فطرت کے نشیبوں میںتری کوتاہیاں میری انا کی سرحدیں ہیںکیا یہ دیواریںسدا اٹھتی رہیں گی میرے سینے پربتا یہ رنگیں یہ دوریاں پیدا ہوئی ہیںکس کی دانش سےبتا میرے لہو میں ڈوبتے جاتے ہیں کیوںانجیر و زیتوں کے گیاہستاںمجھے بھائی میرے نیلام کرنے جا رہے ہیںتک رہا ہے تو مجھے معذور آنکھوں کی سفیدی سےیہ کیسا شہر ہےجس کی ثقافت کی مچانوں سےمجھے مارا گیا ہے اور میں شوکیس میںلٹکا ہوا ہوںمیرا منظر دیکھنے والےلکھی سطروں کی کالی ڈوریوں پر ناچتے آتے ہیںخود اپنے تماشائیبتا بڑھتی ہوئی آبادیوں میںچاندنی کیوں گھٹ گئی ہےلبریز پلکیں جھپکتے قمقمے آنکھوں کا بھینگا پننئے چڑھتے دنوں کی سرخیاں ہیں کیاخداوندمجھے طائر شجر پربت بنا دےیا مجھے ڈھا دےکہ دوبارہ جنم لوں اپنی بے مشروط آزادی کی خواہش سے
جمالیات کا نقاد جتنا حیراں ہےوہ باب حسن میں بھی اتنا ہی پریشاں ہےجمالیات میں کیا ہے جو خود نہیں فن میںجمالیات کا محور نشاۃ دوراں ہےجمالیات کو فرہنگ میں کرو نہ تلاشجمالیات میں زلف سخن کی افشاں ہےجمالیات کو اسلوب میں شمار کروجمالیات میں ہر فرد اک دبستاں ہےجمالیات تغیر پذیر حسیتجمالیات میں صحرا بھی اک گلستاں ہےجمالیات ثقافت کا ہفت رنگ لباسجو رنگ و نسل کی تفریق سے گریزاں ہےجمالیات بدلتے ہیں ماہ و سال کے ساتھجمالیات میں تاریخ فکر انساں ہےجمالیات ہیں تخلیق فن کا سر چشمہادیب ادب کے لیے خود جمال ساماں ہےجمالیات میں ہے حسن کار کا جادوجمالیات کی تسخیر کار مرداں ہےکوئی اصول نہیں حسن کے پرکھنے کاکہیں خزاں ہے حسیں اور کہیں بہاراں ہےجہاں میں جتنے ہیں فن کار اتنی طرح کے حسنتو کیا بندھے ٹکے معیار نو کا امکاں ہےبدلتا رہتا ہے معیار حسن حسن کے ساتھتو کس لیے کوئی نقاد فن پریشاں ہے
ایشیا جاگ اٹھا خواب گراں سے کیسےدل نشیں جسم میں اک زہر کا طوفان لئےکینچلی بدلے ہوئے سانپ کی پھنکار لئےہر شقاوت کے لئے موت کا سامان لئےایشیا جاگ اٹھااہل مشرق کو نئی زیست کی پھر سے ہے تلاشیہ تڑپتے ہوئے گونگے یہ بلکتے حیواںاپنے آقاؤں کے دیرینہ غلاموں کی یہ لاشظلم توڑا کیا انسان پہ صدیوں انساںزیست بے نور چراغوں میں سے لو دے اٹھیاک کرن سرد اندھیرے میں سے ضو دے اٹھیایشیا جاگ اٹھااہل مشرق کی ترقی کے پیمبر لرزےکپکپانے لگے ایوانوں کے سنگین ستوںوہ جہاں ناز بھی نخوت ہے مسرت بھی غرورجن میں نکھرا کیا انساں کی تعلی کا جنوںسالہا سال سے تپتے ہوئے فولاد کے رازسالہا سال سے فنکاروں کے ترشے ہوئے بترہ نہ جائے کہیں مشرق میں ہی مغرب کی یہ رتاہل مشرق پہ شقاوت کی کوئی حد ہی نہیںاپنے دشمن کی ذلالت کی کوئی حد ہی نہیںایشیا جاگ اٹھااپنی ذلت کے سمیت اپنی حفاظت کے لئےاس قدامت کے سمیت اپنی ثقافت کے لئےایشیا ارض مقدس بھی فروزاں ہوگیہم غریبوں کی غمیں زیست بھی تاباں ہوگیایشیا جاگ اٹھا جاگ اٹھا جاگ اٹھا
چاشنی ہے زبان میں جن کیپاسباں یہ امیر خسرو کےمیرؔ و غالبؔ کے رازدان سخنوارثان زبان اردو ہیںگھولتے ہیں مٹھاس باتوں سےاپنا لہجہ حسین رکھتے ہیںایک تہذیب ہے ثقافت ہےاس کے کھانوں کی اپنی لذت ہےاور پھر حسن کی تمازت ہےدیکھنے والے دیکھتے ہیں کہیںاس کے ساحل پہ رونق دنیاکھیلتی ہنستی غل مچاتی ہوئیمن چلے ہنستے مسکراتے ہوئےزندگی کی غزل سناتے ہوئےرونقوں کے اسیر رہتے ہیںجس کو کہتے تھے لوگ کولاچیاب وہ ساحل کنارے بستا شہرجانا جاتا ہے شہر قائد سےلوگ جس کو کراچی کہتے ہیں
یہ دستی پارچہ بافی ہمارے گھر کی صنعت ہےیہ صنعت افتخار قوم ہے بھارت کی عظمت ہےیہی صنعت ہمیں بخشے گی خوشیاں اور خوشحالیاسی فن سے ہمارے گھر میں ہوگی فارغ البالیہماری دست بافی بھا گئی ہے ذوق والوں کوبہت مرغوب ہیں کپڑے ہمارے مہ جمالوں کوبناوٹ میں نمایاں چند صدیوں کے خزانے ہیںایلورا کے نمونے ہیں اجنتا کے فسانے ہیںکہیں ہیں نقش مغلوں راجپوتوں کی ثقافت کےکہیں منظر ہیں دل کش ہند کی قومی وجاہت کےزباں زد ہو رہی ہے آج کل ان کی دلآویزیبڑا دل کش ہے ان کپڑوں کا طرز رنگ آمیزیوہ امریکہ ہو یا یورپ ہر اک جا اس کا چرچا ہےہماری دست بافی کا جہاں میں بول بالا ہےمبارک طاہرہؔ ہفتہ منانا دست کاروں کوخدا آباد رکھے ملک کے ان ہونہاروں کو
اٹھلاتا ہوا جھوم کے آیا ہے نیا ساللہراتا ہوا جھوم کے آیا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالاے سعیٔ مسلسل ترے اعجاز کے صدقےحاصل کو گئے سال کی معراج مبارککرنوں سے اندھیرے کی قبا کھولنے والےآغاز کو اس سال کا یہ آج مبارکپیغام کئی طرح کے لایا ہے نیا سالانعام کئی طرح کے لایا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالبے لوث محبت کے اخوت کے کرم سےہر سمت جدھر دیکھیں مسرت کی فضا ہےافسانۂ جمہور کی رنگین حقیقتتہذیب و تمدن کی مروت کی فضا ہےہر دل کے رگ و ریشہ پہ چھایا ہے نیا سالہر ذہن کے آئینے پہ چھایا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالپیکر تھے رفاقت کے وطن دوست سراسرمیدان ترقی میں ہمیشہ جو بہم تھےچلتے رہے ہر حال صلابت کی ڈگر پروابستۂ منزل وہ ہمارے ہی قدم تھےجھیلا ہے جو اک سال تو پایا ہے نیا سالکھویا ہے جو اک سال تو پایا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالنیرنگیٔ افکار و عقائد سے لبالبہر چند رنگا رنگ ہے پیمانۂ جمہوراک روح وطن حسن ثقافت کے کرم سےیک رنگ ہی یک رنگ ہے مے خانۂ جمہورکردار مساوات کا جایا ہے نیا سالاک طرفہ کرامات کا جایا ہے نیا سالآیا ہے نیا ساللازم ہے کہ اعمال کو اک ایسی ادا دیںجمہور کے کردار کو کچھ اور اٹھا دیںنفرت کو تعصب کو تہ خاک سلا دیںتفریق کا تخریب کا ہر نقش مٹا دیںہر تیشۂ تعمیر کو محنت کی جلا دیںتدبیر سے جمہور کی تقدیر بنا دیںہم کیا ہیں سر دست زمانے کو بتا دیںہر خواب کو تعبیر کی سرحد سے ملا دیںکس آن سے کس بان سے آیا ہے نیا سالہاں دیکھیے کس شان سے آیا ہے نیا سالآیا ہے نیا سالآیا ہے نیا سال
نہیں ہو تم مرے اور میرا فردا بھی نہیں میراسو میں نے ساحت دیروز میں ڈالا ہے اب ڈیرامرے دیروز میں زہر ہلاہل تیغ قاتل ہےمرے گھر کا وہی سرنام تر ہے جو بھی بسمل ہےگزشت وقت سے پیمان ہے اپنا عجب سا کچھسو اک معمول ہے عمران کے گھر کا عجب سا کچھ
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسیکس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسیپیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسیبھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسییہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسیکہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شاںتعظیم جس کی کرتے ہیں تو اب اور خاںمفلس ہوئے تو حضرت لقماں کیا ہے یاںعیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاںحکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیںمفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیںوہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیںان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسیمفلس کرے جو آن کے محفل کے بیچ حالسب جانیں روٹیوں کا یہ ڈالا ہے اس نے جالگر گر پڑے تو کوئی نہ لیے اسے سنبھالمفلس میں ہوویں لاکھ اگر علم اور کمالسب خاک بیچ آ کے ملاتی ہے مفلسیجب روٹیوں کے بٹنے کا آ کر پڑے شمارمفلس کو دیویں ایک تونگر کو چار چارگر اور مانگے وہ تو اسے جھڑکیں بار بارمفلس کا حال آہ بیاں کیا کروں میں یارمفلس کو اس جگہ بھی چباتی ہے مفلسیمفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پردیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پرہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پرجس طرح کتے لڑتے ہیں اک استخوان پرویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسیکرتا نہیں حیا سے جو کوئی وہ کام آہمفلس کرے ہے اس کے تئیں انصرام آہسمجھے نہ کچھ حلال نہ جانے حرام آہکہتے ہیں جس کو شرم و حیا ننگ و نام آہوہ سب حیا و شرم اڑاتی ہے مفلسییہ مفلسی وہ شے ہے کہ جس گھر میں بھر گئیپھر جتنے گھر تھے سب میں اسی گھر کے در گئیزن بچے روتے ہیں گویا نانی گزر گئیہم سایہ پوچھتے ہیں کہ کیا دادی مر گئیبن مردے گھر میں شور مچاتی ہے مفلسیلازم ہے گر غمی میں کوئی شور غل مچائےمفلس بغیر غم کے ہی کرتا ہے ہائے ہائےمر جاوے گر کوئی تو کہاں سے اسے اٹھائےاس مفلسی کی خواریاں کیا کیا کہوں میں ہائےمردے کو بے کفن کے گڑاتی ہے مفلسیکیا کیا مفلسی کی کہوں خواری پھکڑیاںجھاڑو بغیر گھر میں بکھرتی ہیں جھکڑیاںکونے میں جالے لپٹے ہیں چھپر میں مکڑیاںپیسا نہ ہووے جن کے جلانے کو لکڑیاںدریا میں ان کے مردے بہاتی ہے مفلسیبی بی کی نتھ نہ لڑکوں کے ہاتھوں کڑے رہےکپڑے میاں کے بنیے کے گھر میں پڑے رہےجب کڑیاں بک گئیں تو کھنڈر میں پڑے رہےزنجیر نے کواڑ نہ پتھر گڑے رہےآخر کو اینٹ اینٹ کھداتی ہے مفلسینقاش پر بھی زور جب آ مفلسی کرےسب رنگ دم میں کر دے مصور کے کرکرےصورت بھی اس کی دیکھ کے منہ کھنچ رہے پرےتصویر اور نقش میں کیا رنگ وہ بھرےاس کے تو منہ کا رنگ اڑاتی ہے مفلسیجب خوب رو پہ آن کے پڑتا ہے دن سیاہپھرتا ہے بوسے دیتا ہے ہر اک کو خواہ مخواہہرگز کسی کے دل کو نہیں ہوتی اس کی چاہگر حسن ہو ہزار روپے کا تو اس کو آہکیا کوڑیوں کے مول بکاتی ہے مفلسیاس خوب رو کو کون دے اب دام اور درمجو کوڑی کوڑی بوسہ کو راضی ہو دم بہ دمٹوپی پرانی دو تو وہ جانے کلاہ جسمکیوں کر نہ جی کو اس چمن حسن کے ہو غمجس کی بہار مفت لٹاتی ہے مفلسیعاشق کے حال پر بھی جب آ مفلسی پڑےمعشوق اپنے پاس نہ دے اس کو بیٹھنےآوے جو رات کو تو نکالے وہیں اسےاس ڈر سے یعنی رات و دھنا کہیں نہ دےتہمت یہ عاشقوں کو لگاتی ہے مفلسیکیسے ہی دھوم دھام کی رنڈی ہو خوش جمالجب مفلسی ہو کان پڑے سر پہ اس کے جالدیتے ہیں اس کے ناچ کو ٹھٹھے کے بیچ ڈالناچے ہے وہ تو فرش کے اوپر قدم سنبھالاور اس کو انگلیوں پہ نچاتی ہے مفلسیاس کا تو دل ٹھکانے نہیں بھاؤ کیا بتائےجب ہو پھٹا دوپٹہ تو کاہے سے منہ چھپائےلے شام سے وہ صبح تلک گو کہ ناچے گائےاوروں کو آٹھ سات تو وہ دو ٹکے ہی پائےاس لاج سے اسے بھی لجاتی ہے مفلسیجس کسبی رنڈی کا ہو ہلاکت سے دل حزیںرکھتا ہے اس کو جب کوئی آ کر تماش بیںاک پون پیسے تک بھی وہ کرتی نہیں نہیںیہ دکھ اسی سے پوچھئے اب آہ جس کے تئیںصحبت میں ساری رات جگاتی ہے مفلسیوہ تو یہ سمجھے دل میں کہ ڈھیلا جو پاؤں گیدمڑی کے پان دمڑی کے مسی منگاؤں گیباقی رہی چھدام سو پانی بھراؤں گیپھر دل میں سوچتی ہے کہ کیا خاک کھاؤں گیآخر چبینا اس کا بھناتی ہے مفلسیجب مفلسی سے ہووے کلاونت کا دل اداسپھرتا ہے لے طنبورے کو ہر گھر کے آس پاساک پاؤ سیر آنے کی دل میں لگا کے آسگوری کا وقت ہووے تو گاتا ہے وہ ببھاسیاں تک حواس اس کے اڑاتی ہے مفلسیمفلس بیاہ بیٹی کا کرتا ہے بول بولپیسا کہاں جو جا کے وہ لاوے جہیز مولجورو کا وہ گلا کہ پھوٹا ہو جیسے ڈھولگھر کی حلال خوری تلک کرتی ہے ٹھٹھولہیبت تمام اس کی اٹھاتی ہے مفلسیبیٹے کا بیاہ ہو تو نہ بیاہی نہ ساتھی ہےنے روشنی نہ باجے کی آواز آتی ہےماں پیچھے ایک میلی چدر اوڑھے جاتی ہےبیٹا بنا ہے دولہا تو باوا براتی ہےمفلس کی یہ برات چڑھاتی ہے مفلسیگر بیاہ کر چلا ہے سحر کو تو یہ بلاشہدار نانا ہیجڑا اور بھاٹ منڈ چڑھاکھینچے ہوئے اسے چلے جاتے ہیں جا بہ جاوہ آگے آگے لڑتا ہوا جاتا ہے چلااور پیچھے تھپڑیوں کو بجاتی ہے مفلسیدروازے پر زنانے بجاتے ہیں تالیاںاور گھر میں بیٹھی ڈومنی دیتی ہیں گالیاںمالن گلے کی ہار ہو دوڑی لے ڈالیاںسقا کھڑا سناتا ہے باتیں رزالیاںیہ خواری یہ خرابی دکھاتی ہے مفلسیکوئی شوم بے حیا کوئی بولا نکھٹو ہےبیٹی نے جانا باپ تو میرا نکھٹو ہےبیٹے پکارتے ہیں کہ بابا نکھٹو ہےبی بی یہ دل میں کہتی ہے اچھا نکھٹو ہےآخر نکھٹو نام دھراتی ہے مفلسیمفلس کا درد دل میں کوئی ٹھانتا نہیںمفلس کی بات کو بھی کوئی مانتا نہیںذات اور حسب نسب کو کوئی جانتا نہیںصورت بھی اس کی پھر کوئی پہچانتا نہیںیاں تک نظر سے اس کو گراتی ہے مفلسیجس وقت مفلسی سے یہ آ کر ہوا تباہپھر کوئی اس کے حال پہ کرتا نہیں نگاہدالیدری کہے کوئی ٹھہرا دے رو سیاہجو باتیں عمر بھر نہ سنی ہوویں اس نے آہوہ باتیں اس کو آ کے سناتی ہیں مفلسیچولہا توانا پانی کے مٹکے میں آبی ہےپینے کو کچھ نہ کھانے کو اور نے رکابی ہےمفلس کے ساتھ سب کے تئیں بے حجابی ہےمفلس کی جورو سچ ہے کہ یاں سب کی بھابی ہےعزت سب اس کے دل کی گنواتی ہے مفلسیکیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیلکوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیلکپڑے پھٹے تمام بڑھے بال پھیل پھیلمنہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میلسب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسیہر آن دوستوں کی محبت گھٹاتی ہےجو آشنا ہیں ان کی تو الفت گھٹاتی ہےاپنے کی مہر غیر کی چاہت گھٹاتی ہےشرم و حیا و عزت و حرمت گھٹاتی ہےہاں ناخن اور بال بڑھاتی ہے مفلسیجب مفلسی ہوئی تو شرافت کہاں رہیوہ قدر ذات کی وہ نجابت کہاں رہیکپڑے پھٹے تو لوگوں میں عزت کہاں رہیتعظیم اور تواضع کی بابت کہاں رہیمجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسیمفلس کسی کا لڑکا جو لے پیار سے اٹھاباپ اس کا دیکھے ہاتھ کا اور پاؤں کا کڑاکہتا ہے کوئی جوتی نہ لیوے کہیں چرانٹ کھٹ اچکا چور دغاباز گٹھ کٹاسو سو طرح کے عیب لگاتی ہے مفلسیرکھتی نہیں کسی کی یہ غیرت کی آن کوسب خاک میں ملاتی ہے حرمت کی شان کوسو محنتوں میں اس کی کھپاتی ہے جان کوچوری پہ آ کے ڈالے ہی مفلس کے دھیان کوآخر ندان بھیک منگاتی ہے مفلسیدنیا میں لے کے شاہ سے اے یار تا فقیرخالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیراشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیرکیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔوہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی
میرے اسکول مری یادوں کے پیکر سن لےمیں ترے واسطے روتا ہوں برابر سن لےتیرے استادوں نے محنت سے پڑھایا ہے مجھےتیری بینچوں نے ہی انسان بنایا ہے مجھےنا تراشیدہ سا ہیرا تھا تراشا تو نےذہن تاریک کو بخشا ہے اجالا تو نےعلم کی جھیل کا تیراک بنایا ہے مجھےخوف کو چھین کے بے باک بنایا ہے مجھےتجھ سے شفقت بھی ملی تجھ سے محبت بھی ملیدولت علم ملی مجھ کو شرافت بھی ملیشفقتیں ایسی ملی ہیں مجھے استادوں کیپرورش کرتا ہو جیسے کوئی شہزادوں کیتیری چاہت میں میں اس درجہ بھی کھو جاتا تھاتیری بینچوں پہ ہی کچھ دیر کو سو جاتا تھا
بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میںزیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے
تم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو موجود تھے تمآنکھ میں نور کی اور دل میں لہو کی صورتدرد کی لو کی طرح پیار کی خوشبو کی طرحبے وفا وعدوں کی دل داری کا انداز لیےتم نہیں آئے تھے جب تب بھی تو تم آئے تھےرات کے سینے میں مہتاب کے خنجر کی طرحصبح کے ہاتھ میں خورشید کے ساغر کی طرحشاخ خوں رنگ تمنا میں گل تر کی طرحتم نہیں آؤ گے جب تب بھی تو تم آؤ گےیاد کی طرح دھڑکتے ہوئے دل کی صورتغم کے پیمانۂ سر شار کو چھلکاتے ہوئےبرگ ہائے لب و رخسار کو مہکاتے ہوئےدل کے بجھتے ہوئے انگارے کو دہکاتے ہوئےزلف در زلف بکھر جائے گا پھر رات کا رنگشب تنہائی میں بھی لطف ملاقات کا رنگروز لائے گی صبا کوئے صباحت سے پیامروز گائے گی سحر تہنیت جشن فراقآؤ آنے کی کریں باتیں کہ تم آئے ہواب تم آئے ہو تو میں کون سی شے نذر کروکہ مرے پاس بجز مہر و وفا کچھ بھی نہیںایک خوں گشتہ تمنا کے سوا کچھ بھی نہیں
لوگ کہتے ہیں مگر آپ ابھی تک چپ ہیںآپ بھی کہئے غریبوں میں شرافت کیسی
کریں یہ عہد کہ اوزار جنگ جتنے ہیںانہیں مٹانا ہے اور خاک میں ملانا ہےکریں یہ عہد کہ ارباب جنگ ہیں جتنےانہیں شرافت و انسانیت سکھانا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books