aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "singh"
کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرودہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کروجس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہے بھیڑیابھیڑیے کو مار دو گولی پئے امن و بقاباغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاںآدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاںہاتھ ہے ہٹلر کا رخش خود سری کی باگ پرتیغ کا پانی چھڑک دو جرمنی کی آگ پرسخت حیراں ہوں کہ محفل میں تمہاری اور یہ ذکرنوع انسانی کے مستقبل کی اب کرتے ہو فکرجب یہاں آئے تھے تم سوداگری کے واسطےنوع انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھےہندیوں کے جسم میں کیا روح آزادی نہ تھیسچ بتاؤ کیا وہ انسانوں کی آبادی نہ تھیاپنے ظلم بے نہایت کا فسانہ یاد ہےکمپنی کا پھر وہ دور مجرمانہ یاد ہےلوٹتے پھرتے تھے جب تم کارواں در کارواںسر برہنہ پھر رہی تھی دولت ہندوستاںدست کاروں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے تھے تمسرد لاشوں سے گڈھوں کو پاٹتے پھرتے تھے تمصنعت ہندوستاں پر موت تھی چھائی ہوئیموت بھی کیسی تمہارے ہات کی لائی ہوئیاللہ اللہ کس قدر انصاف کے طالب ہو آجمیر جعفرؔ کی قسم کیا دشمن حق تھا سراجؔکیا اودھ کی بیگموں کا بھی ستانا یاد ہےیاد ہے جھانسی کی رانی کا زمانہ یاد ہےہجرت سلطان دہلی کا سماں بھی یاد ہےشیر دل ٹیپوؔ کی خونیں داستاں بھی یاد ہےتیسرے فاقے میں اک گرتے ہوئے کو تھامنےکس کے تم لائے تھے سر شاہ ظفر کے سامنےیاد تو ہوگی وہ مٹیا برج کی بھی داستاںاب بھی جس کی خاک سے اٹھتا ہے رہ رہ کر دھواںتم نے قیصر باغ کو دیکھا تو ہوگا بارہاآج بھی آتی ہے جس سے ہائے اخترؔ کی صداسچ کہو کیا حافظے میں ہے وہ ظلم بے پناہآج تک رنگون میں اک قبر ہے جس کی گواہذہن میں ہوگا یہ تازہ ہندیوں کا داغ بھییاد تو ہوگا تمہیں جلیانوالا باغ بھیپوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تابندہ ہےڈائرؔ گرگ دہن آلود اب بھی زندہ ہےوہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہےاس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہےاہل آزادی رہا کرتے تھے کس ہنجار سےپوچھ لو یہ قید خانوں کے در و دیوار سےاب بھی ہے محفوظ جس پر طنطنہ سرکار کاآج بھی گونجی ہوئی ہے جن میں کوڑوں کی صداآج کشتی امن کے امواج پر کھیتے ہو کیوںسخت حیراں ہوں کہ اب تم درس حق دیتے ہو کیوںاہل قوت دام حق میں تو کبھی آتے نہیں''بینکی'' اخلاق کو خطرے میں بھی لاتے نہیںلیکن آج اخلاق کی تلقین فرماتے ہو تمہو نہ ہو اپنے میں اب قوت نہیں پاتے ہو تماہل حق روشن نظر ہیں اہل باطن کور ہیںیہ تو ہیں اقوال ان قوموں کے جو کمزور ہیںآج شاید منزل قوت میں تم رہتے نہیںجس کی لاٹھی اس کی بھینس اب کس لئے کہتے نہیںکیا کہا انصاف ہے انساں کا فرض اولیںکیا فساد و ظلم کا اب تم میں کس باقی نہیںدیر سے بیٹھے ہو نخل راستی کی چھاؤں میںکیا خدا ناکردہ کچھ موچ آ گئی ہے پاؤں میںگونج ٹاپوں کی نہ آبادی نہ ویرانے میں ہےخیر تو ہے اسپ تازی کیا شفا خانے میں ہےآج کل تو ہر نظر میں رحم کا انداز ہےکچھ طبیعت کیا نصیب دشمناں ناساز ہےسانس کیا اکھڑی کہ حق کے نام پر مرنے لگےنوع انساں کی ہوا خواہی کا دم بھرنے لگےظلم بھولے راگنی انصاف کی گانے لگےلگ گئی ہے آگ کیا گھر میں کہ چلانے لگےمجرموں کے واسطے زیبا نہیں یہ شور و شینکل یزیدؔ و شمرؔ تھے اور آج بنتے ہو حسینؔخیر اے سوداگرو اب ہے تو بس اس بات میںوقت کے فرمان کے آگے جھکا دو گردنیںاک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کیجس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کیوقت کا فرمان اپنا رخ بدل سکتا نہیںموت ٹل سکتی ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں
سرد راتوں کا حسیں اک خواب ہے چہرہ تراکیا کہوں بس منظر نایاب ہے چہرہ ترا
زنداں میں شہیدوں کا وہ سردار آیاشیدائے وطن پیکر ایثار آیاہے دار و رسن کی سرفرازی کا دنسردار بھگت سنگھ سردار آیاتا دار و رسن شوق سے اٹھلا کے گیاتو شان شہادت اپنی دکھلا کے گیاٹکڑے ہوتا ہے دل ترے ماتم میںلاشے کا انگ انگ کٹوا کے گیاپی کر مئے شوق جھومنا وہ تیرابے پروایانہ گھومنا وہ تیراہے نقش ترے اہل وطن کے دل پرپھانسی کی رسن کو چومنا وہ تیراجام حب وطن کے اے متوالےاے پیکر ناموس حمیت والےہو عالم ارواح میں شاداں کہ نہیںاب تیرے وطن میں وہ حکومت والے
تیری فطرت میں ہے گوبندؔ کا آثار مگرابنؔ مریم کا مقلد ترا کردار مگررام اور کرشن کے جیون سے تجھے پیار مگربادۂ حب محمد سے بھی سرشار مگرسکھ نہ عیسائی نہ ہندو نہ مسلمان ہے توتیرا ایمان یہ کہتا ہے کہ انسان ہے توہندوؤں سے تجھے لینا ہے ذہانت کا کمالاور سکھوں سے شجاعت کہ نہ ہو جس کی مثالاہل اسلام سے لینا ہے عبادت کا جلالاور عیسائیوں سے صبر لگن اور استقلالان عناصر کو محبت سے ملانا ہوگاکشور ہند کا انسان بنانا ہوگامن کے مندر کو منور کرے نور اسلامکعبۂ دل میں رہے شام و سحر رام کا نامکبھی گنگا کبھی کوثر سے ملیں جام پہ جامیوں بنیں شیر و شکر تیری حکومت میں عوامرام ہو اور رحیم اور نہ ہونے پائےاب کوئی بچہ یتیم اور نہ ہونے پائےتجھ سے امید یہ ہے کہ ملک میں افلاس نہ ہوتنگ دستی نہ آئے کہیں یاس نہ ہوالم و رنج کا دکھ درد کا احساس نہ ہواور تعصب کی کسی قوم میں بو باس نہ ہوعنصر امن شکن کو تہ و بالا کر دےتو جو آیا ہے تو دنیا میں اجالا کر دے
ترے جمال سے اے آفتاب ننکانہنکھر نکھر گیا حسن شعور رندانہکچھ ایسے رنگ سے چھیڑا رباب مستانہکہ جھومنے لگا روحانیت کا مے خانہتری شراب سے مدہوش ہو گئے مے خواردوئی مٹا کے ہم آغوش ہو گئے مے خوارترا پیام تھا ڈوبا ہوا تبسم میںبھری تھی روح لطافت ترے تکلم میںنوائے حق کی کشش تھی ترے ترنم میںیقیں کی شمع جلائی شب توہم میںدلوں کو حق سے ہم آہنگ کر دیا تو نےگلوں کو گوندھ کے یک رنگ کر دیا تو نےتری نوا نے دیا نور آدمیت کومٹا کے رکھ دیا حرص و ہوا کی ظلمت کودلوں سے دور کیا سیم و زر کی رغبت کوکہ پا لیا تھا ترے دل نے حق کی دولت کوہجوم ظلمت باطل میں حق پناہی کیفقیر ہو کے بھی دنیا میں بادشاہی کیتری نگاہ میں قرآن و دید کا عالمترا خیال تھا راز حیات کا محرمہر ایک گل پہ ٹپکتی تھی پیار کی شبنمکہ بس گیا تھا نظر میں بہشت کا موسمنفس نفس میں کلی رنگ و بو کی ڈھلتی تھینسیم تھی کہ فرشتوں کی سانس چلتی تھیتری شراب سے بابا فرید تھے سرشارترے خلوص سے بے خود تھے صوفیان کبارکہاں کہاں نہیں پہنچی ترے قدم کی بہارترے عمل نے سنوارے جہان کے کردارتری نگاہ نے صہبائے آگہی دے دیبشر کے ہاتھ میں قندیل زندگی دے دیترے پیام سے ایسی کی تھی مسیحائیترے سخن میں حبیب خدا کی رعنائیترے کلام میں گوتم کا نور دانائیترے ترانے میں مرلی کا لحن یکتائیہر ایک نور نظر آیا تیرے پیکر میںتمام نکہتیں سمٹی ہیں اک گل تر میںجہاں جہاں بھی گیا تو نے آگہی بانٹیاندھیری رات میں چاہت کی روشنی بانٹیعطا کیا دل بیدار زندگی بانٹیفساد و جنگ کی دنیا میں شانتی بانٹیبہار آئی کھلی پیار کی کلی ہر سوترے نفس سے نسیم سحر چلی ہر سورضائے حق کو نجات بشر کہا تو نےتعینات خودی کو ضرر کہا تو نےوفا نگر کو حقیقت نگر کہا تو نےظہور عشق کو سچی سحر کہا تو نےجہان عشق میں کچھ بیش و کم کا فرق نہ تھاتری نگاہ میں دیر و حرم کا فرق نہ تھابتایا تو نے کہ عرفاں سے آشنا ہوناکبھی نہ عاشق دنیائے بے وفا ہونابدی سے شام و سحر جنگ آزما ہوناخدا سے دور نہ اے بندۂ خدا ہونانشے میں دولت و زر کے نہ چور ہو جاناقریب آئے جو دنیا تو دور ہو جاناجو روح بن کے سما جائے ہر رگ و پے میںتو پھر نہ شہد میں لذت نہ ساغر مے میںوہی ہے ساز کے پردے میں لحن میں لے میںاسی کی ذات کی پرچھائیاں ہر اک شے میںنہ موج ہے نہ ستاروں کی آب ہے کوئیتجلیوں کے ادھر آفتاب ہے کوئیابد کا نور فراہم کیا سحر کے لئےدیا پیام بہاروں کا دشت و در کے لئےدیے جلا دئے تاریک رہ گزر کے لئےجیا بشر کے لئے جان دی بشر کے لیےدعا یہ ہے کہ رہے عشق حشر تک تیرازمیں پہ عام ہو یہ درد مشترک تیراخدا کرے کہ زمانہ سنے تری آوازہر اک جبیں کو میسر ہو تیرا عکس نیازجہاں میں عام ہو تیرے ہی پیار کا اندازخلوص دل سے ہو پوجا خلوص دل سے نمازترے پیام کی برکت سے نیک ہو جائیںیہ امتیاز مٹیں لوگ ایک ہو جائیں
بھگت سنگھ آج بھی زندہ یہاں ہےبڑا پیارا مرا ہندوستاں ہے
یہ تمہارا دیس راجہ درپد کا پنچال دیسہاں وہی رنجیت سنگھ کے دور کا خوش حال دیس
رہ عشق کی انتہا چاہتا ہوںجنوں سا کوئی رہنما چاہتا ہوںجو عرفان کی زندگی کو بڑھا دےمیں وہ بادۂ جانفزا چاہتا ہوںمٹا کر مجھے آئی میں جذب کر لےبقا کے لیے میں فنا چاہتا ہوںبیاں حال دل میں کروں کیوں زباں سےکوئی جانتا ہے میں کیا چاہتا ہوںمجھے کیا ضرورت ہے کیا تم سے مانگوںمگر میں تمہارا بھلا چاہتا ہوںمرے چارہ گر میں ہوں بیمار تیراترے ہاتھ ہی شفا چاہتا ہوں
گری ہے برق تپاں دل پہ یہ خبر سن کرچڑھا دیا ہے بھگت سنگھ کو رات پھانسی پراٹھا ہے نالۂ پر درد سے نیا محشرجگر پہ مادر بھارت کے چل گئے خنجرشکستہ حال ہوا قوم کے حبیبوں کابدن میں خشک لہو ہو گیا غریبوں کاابھی تو قوم نے نہروؔ کا غم اٹھایا تھاابھی تو داس کی فرقت نے حشر ڈھایا تھاابھی تو ہجر کا بسمل کے زخم کھایا تھاابھی تو کوہ ستم چرخ نے گرایا تھاچلے ہیں ناوک بیداد پھر کلیجوں پرکہ آج اٹھ گئے افسوس نوجواں رہبرعدو وطن کو تشدد سے کیا دبائیں گےوہ اپنے ہاتھ سے فتنے نئے جگائیں گےجو ملک و قوم کی دیوی پہ سر چڑھائیں گےنثار ہو کے شہیدوں میں نام پائیں گےگرے گا قطرۂ خوں بھی جہاں سپوتوں کافدائے ہند وہاں ہوں گے سینکڑوں پیداجہاں سے ملک عدم نونہال جاتے ہیںنمایاں کر کے ستم کش کا حال جاتے ہیںگرا کے ہند میں کوہ ملال جاتے ہیںوطن کو چھوڑ کے بھارت کے لال جاتے ہیںتڑپ رہے ہیں جدائی میں بے قرار وطنچلے ہیں عالم بالا کو جاں نثار وطن
کہیں جب سرفروشی کیمحبت استقامت کیشہادت کی وطن کی بات چلتی ہےمجھے تم یاد آتے ہویہ دھارے رک نہیں سکتےستارے جھک نہیں سکتےکنارے دیکھتے رہنانظارے رک نہیں سکتےہوا بہتی ہی رہتی ہےسمندر سے سمندر تکلہو دریافت کرتا ہےنئی تحریک کا منشوریہ کرنیں درج کرتی ہیںہر اک دھرتی پہ ہونے کا نیا دستورہر اک رستے پہ ہیں دار و رسن کے نیلگوں سائےلہو سے آگ کی لپٹیں نکلتی ہیںقطاروں میں در زنداں پہ ہر لمحہعجب سی بھیڑ رہتی ہےیہ کیسی آگ ہے جو سرد ہونے کو نہیں آتییہ کیسا خواب ہے تعبیر آنکھیں چھین لیتی ہےشجاعت قرض ہوتی ہےمحبت فرض ہوتی ہےکسی کرنل کے قتل عام سے لشکر نہیں رکتےصلیبوں سے نہیں ڈرتےلہو کے دھارے میں بہتے ستارے رک نہیں سکتےابد کے آسمانوں سے اشارے رک نہیں سکتےعجب ہی لوگ ہوتے ہیںخود اپنی مٹی کی خاطر جو جان و تن لٹاتے ہیںغضب ہی لوگ ہوتے ہیںکہ جو تاریخ کے دھارے کے رخ کو موڑ دیتے ہیںمحبت کرنے والے لوگ پاگل لوگ ہوتے ہیںکسی سے جو نہیں ڈرتےیہ وہ دریا ہیں جن کی آخری منزلابد کا آخری ساحلیہ وہ دریا سمندر جن کا رستہ ہےسمندر کس سے کب تسخیر ہوتا ہےسمندر ہے زمانہاور زمانہ کس سے کب زنجیر ہوتا ہے
ایک جسم ناتواں اتنی دباؤں کا ہجوماک چراغ صبح اور اتنی ہواؤں کا ہجوممنزلیں گم اور اتنے رہنماؤں کا ہجوماعتقاد خام اور اتنے خداؤں کا ہجومکشمکش میں اپنے ہی معبد سے کتراتا ہواآدمی پھرتا تھا در در ٹھوکریں کھاتا ہواحق کو ہوتی تھی ہر اک میداں میں باطل سے شکستسرنگوں سر در گریباں سربسر تھے زیردستفن تھا اک مطلب براری لوگ تھے مطلب پرستاسقدر بگڑا ہوا تھا زندگی کا بندوبستحامی جور و ستم ہر طرح مالا مال تھاجس کی لاٹھی تھی اسی کی بھینس تھی یہ حال تھاکیا خدا کا خوف کیسا جذبۂ حب وطنبرسر پیکار تھے آپس میں شیخ و برہمنباغباں جو تھے وہ خود تھے محو تخریب چمنالغرض بگڑی ہوئی تھی انجمن کی انجمنمذہب انسانیت کا پاسباں کوئی نہ تھاکارواں لاکھوں تھے میر کارواں کوئی نہ تھاروح انساں نے خدا کے سامنے فریاد کیجو زمیں پر ہو رہا تھا سب بیاں روداد کیاور کہا حد ہو چکی ہے کفر کی الحاد کیایک دنیا منتظر ہے آپ کے ارشاد کیتب یہ فرمایا خدا نے سب کو سمجھاؤں گا میںآدمی کا روپ دھارن کر کے خود آؤں گا میںاس طرح آخر ہوا دنیا میں نانک کا ظہورفرش تلونڈی پہ اترا عرش سے رب غفوراٹھ گیا ظلمات کا ڈیرا بڑھا ہر سمت نورمنبع انوار سے پھیلیں شعاعیں دور دورمہر تاباں نے دو عالم میں اجالا کر دیاآدمی نے آدمی کا بول بالا کر دیا
بکرا جو سینگ والا بھی ہے اور فسادی ہےاس نے سیاسی جلسوں میں گڑبڑ مچا دی ہےچلتے ہوئے جلوس میں ٹکر لگا دی ہےاور ووٹروں میں پارٹی بازی کرا دی ہےبکرے ہیں لیڈروں کی طرح جن پہ جھول ہےہنکارتے ہیں چپ بھی کرانا فضول ہے
جب بھگت سنگھ یاد آتا ہےدل یہ پھولا نہیں سماتا ہےفخر کرتا ہے اپنا سر اونچاخون رگ رگ میں دوڑ جاتا ہےہم نے دیکھا ہے اپنی آنکھوں سےعہد ماضی یہی بتاتا ہےجو وطن پر نثار ہوتا ہےروح و دل میں مقام پاتا ہےاس کو تاریخ یاد کرتی ہےمثل خورشید جگمگاتا ہےرن میں آزادیٔ وطن کے لئےاک مجاہد جو کام آتا ہےآپ قربان ہو کے میداں میںقوم کے حوصلے بڑھاتا ہےجبر آتا ہے برق کی زد پرظلم کا تخت ڈگمگاتا ہےاور جب تک ملے نہ آزادیپرچم عزم لہلہاتا ہےجاری رہتی ہے جنگ آزادیایک کے بعد ایک آتا ہے
تو بھگت سنگھ کی آنکھوں کا تارا بناٹیپو سلطان کا تو دلارا بنابوس کا ہر قدم پر سہارا بناتو محمد علی کا بھی پیارا بنا
میں آج سویرے جاگ اٹھادیکھا کہ ہے ہر سو سناٹاچپ چاپ ہے سارا گھر آنگنباہر سے بند ہے دروازہسب بھائی بہن بیوی بچےآخر ہیں کہاں ہے کیا قصہاتنے میں عجب اک بات ہوئیناگاہ جو دیکھا آئینہاک آدمی مجھ کو آیا نظرمجھ سے ہی مگر ملتا جلتادو سینگ ہیں اس کے سر پہ اگےیہ دیو ہے کوئی یا دیوتاتم کون ہو یہ پوچھا میں نےپر کوئی نہ مجھ کو جواب ملامیں کانپ اٹھا تھر تھر تھر تھرسوچا کہ کروں جھک کر سجدہاتنے میں ہوئی اک آہٹ سیمیں سن کے یکایک چونک اٹھااب دیر ہوئی اٹھئے پاپاہاں مجھ کو دفتر جانا ہےاس خواب کا لیکن کیا ہوگا
جنگل میں ون ڈے کرکٹ کا ہوا انوکھا میچبندر نے کی خوب فیلڈنگ پکڑے چھ چھ کیچزیرو پر لنگور گیا تو ہرن تین پر آؤٹایل بی ڈبلیو گینڈا بھاگا نہیں تھا کوئی ڈاؤٹگیدڑ نے آتے ہی جیسے لی اپنی پوزیشنکنگارو کی گیند تھی اسپن بدل گئی سچویشنوکٹ بچا نہ پایا گیدڑ بلا عجب گھمایابندر کے ہاتھوں میں سیدھے اپنا کیچ تھمایاسینگ ہلاتے بارہ سنگھا نے اب بیٹ سنبھالاکنگارو کی سیکنڈ بال تھی چوک گیا بیچارہگیند گھسی اسٹمپ بکھیرا گلی چھٹکی دورایک بڑا اسکور کا سپنا ہو گیا آخر چورلوٹ چلا جب بارہ سنگھا بھالو چاچا آئےگیند تیسری کنگارو کی وہ بھی جھیل نہ پائےلگاتار تینوں گیندوں پر وکٹ گرے تھے تینکنگارو کے اس اوور نے بدل دیا تھا سینجلدی جلدی وکٹ گنوائے بگڑ گئی تھی حالتجمے جمائے ہاتھی دادا بھیج رہے تھے لعنتبھالو گیا زیبرا آیا اب کے بلا تھامےنوے پر ہاتھی پہنچا تھا لگا اسے سمجھانےبلا چمکا گیند اڑی امپائر بولا سکسہاتھی نے پھر فوراً ٹوکا پہلے ہولو فکسچوکے اور چھکے کی بارش تھوڑا رک کر کرنامیچ اگر ہے ہمیں جیتنا وکٹ بچائے رکھنااوور نیا لیے چیتا اب بالنگ کرنے آیادو گیندوں پر لگاتار ہاتھی نے سکس جمایابنا سینچری ہاتھی نے ارمان نئے کچھ باندھےچیتے کی اک تیز گیند نے توڑے سبھی ارادےہاتھی کے آؤٹ ہوتے ہی جو آیا وہ بے بسناٹ آؤٹ کا تمغہ لے کر ہوا زیبرا واپسکپتانی تھی شیر کے ذمے جیت لیا تھا میچبندر نے کی خوب فیلڈنگ پکڑے چھ چھ کیچ
تو جنم داتا بھگت سنگھ اور شردھا نند کامدرسہ تو صوفیوں سنتوں کے وعظ و پند کا
اور اس کے بعد بھی قربانیاں دیتے رہےپھر بھگت سنگھ اور ساتھی اس کے سولی پر چڑھےسر پہ لالہ لاجپت رائے کے بھی ڈنڈے پڑےبوس بابو ملک سے باہر ہی جا کر مر گئے
رہ گیا راہ میں جب کچھ بھی نہ کانٹوں کے سواتیرگی جھوٹ کی جب چھا گئی سچائی پرافق زندہ و پائندۂ ننکانہ سےہنس پڑی ایک کرن وقت کی تنہائی پر
کل جو سپنے تھے ادھورے آج پورے ہوں گے وہآج ہم جمہوریت کا گیت گائیں گے ضرورامن کی شمعیں جلیں ہر سو اجالا ہو گیامٹ گئے ہیں ظلم کی تاریکیوں کے سب غرورکہہ دو ساری ظلمتوں سے تلخیوں سے ہوں وہ دورکیوں کہ ارزاں ہو گئی ہے دہر میں صہبائے نورآج پھر تاریکیوں کے مٹ ہی جائیں گے نشاںدیپ خوشیوں کے جلیں گے بستیٔ غم خوار میںخود بخود منزل کھنچی آئے گی قدموں کے تلےعزم نو کی خو بھی شامل ہوگی جب اطوار میںمتحد ہے کتنا بھارت دہر کو بتلائیں گےعظمت جمہوریت دنیا کو ہم دکھلائیں گےایک ہی دیوار کے سائے میں ہیں دیر و حرمہاں وہی بھارت ہے یہ جو امن کی تصویر ہےگوتم و گاندھی جواہر لال اور آزاد نےدیکھا تھا جو خواب پہروں اس کی یہ تعبیر ہےکہہ دو دنیا سے حسیں کردار بھی اب سیکھ لےآئے ہم سے امن کے اطوار بھی اب سیکھ لےآج وہ دن ہے کہ جس دن کے لیے تھے خوں بہےچندر شیکھر اور بھگت سنگھ اور پھر گاندھی کے خوناور ہاں جوہر علی مختار و سید تھے وہیتھا سدا جن کے دلوں سے سر کٹانے کا جنوندیش کی خاطر ہوا جن کا جنم اور موت بھیموت جن کی موت پہ روتی رہی روتی رہی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books