aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "surma"
سلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراںسبا ویراں، سبا آسیب کا مسکنسبا آلام کا انبار بے پایاں!گیاہ و سبزہ و گل سے جہاں خالیہوائیں تشنۂ باراں،طیور اس دشت کے منقار زیر پرتو سرمہ ور گلو انساںسلیماں سر بہ زانو اور سبا ویراں!سلیماں سر بہ زانو ترش رو، غمگیں، پریشاں موجہانگیری، جہانبانی، فقط طرارۂ آہو،محبت شعلۂ پراں، ہوس بوئے گل بے بوز راز دہر کمتر گو!سبا ویراں کہ اب تک اس زمیں پر ہیںکسی عیار کے غارت گروں کے نقش پا باقیسبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی!سلیماں سر بہ زانواب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
مرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ خداؤں کا مقرب وہ خداوند کلامصوت انسانی کی روح جاوداںآسمانوں کی ندائے بیکراںآج ساکت مثل حرف ناتماممرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤآؤ اسرافیل کے اس خواب بے ہنگام پر آنسو بہائیںآرمیدہ ہے وہ یوں قرنا کے پاسجیسے طوفاں نے کنارے پر اگل ڈالا اسےریگ ساحل پر چمکتی دھوپ میں چپ چاپاپنے صور کے پہلو میں وہ خوابیدہ ہےاس کی دستار اس کے گیسو اس کی ریشکیسے خاک آلودہ ہیںتھے کبھی جن کی تہیں بود و نبودکیسے اس کا صور اس کے لب سے دوراپنی چیخوں اپنی فریادوں میں گمجھلملا اٹھتے تھے جس سے دیر و زودمرگ اسرافیل پر آنسو بہاؤوہ مجسم ہمہمہ تھا وہ مجسم زمزمہوہ ازل سے تا ابد پھیلی ہوئی غیبی صداؤں کا نشاںمرگ اسرافیل سےحلقہ در حلقہ فرشتے نوحہ گرابن آدم زلف در خاک و نزارحضرت یزداں کی آنکھیں غم سے تارآسمانوں کی صفیر آتی نہیںعالم لاہوت سے کوئی نفیر آتی نہیںمرگ اسرافیل سےاس جہاں پر بند آوازوں کا رزقمطربوں کا رزق اور سازوں کا رزقاب مغنی کس طرح گائے گا اور گائے گا کیاسننے والوں کے دلوں کے تار چپاب کوئی رقاص کیا تھرکے گا لہرائے گا کیابزم کے فرش و در و دیوار چپاب خطیب شہر فرمائے گا کیامسجدوں کے آستان و گنبد و مینار چپفکر کا صیاد اپنا دام پھیلائے گا کیاطائران منزل و کہسار چپمرگ اسرافیل ہےگوش شنوا کی لب گویا کی موتچشم بینا کی دل دانا کی موتتھی اسی کے دم سے درویشوں کی ساری ہاؤ ہواہل دل کی اہل دل سے گفتگواہل دل جو آج گوشہ گیر و سرمہ در گلواب تنا تا ہو بھی غائب اور یارب ہا بھی گماب گلی کوچوں کی ہر آوا بھی گمیہ ہمارا آخری ملجا بھی گممرگ اسرافیل سےاس جہاں کا وقت جیسے سو گیا پتھرا گیاجیسے کوئی ساری آوازوں کو یکسر کھا گیاایسی تنہائی کہ حسن تام یاد آتا نہیںایسا سناٹا کہ اپنا نام یاد آتا نہیںمرگ اسرافیل سےدیکھتے رہ جائیں گے دنیا کے آمر بھیزباں بندی کے خوابجس میں مجبوروں کی سرگوشی تو ہواس خداوندی کے خواب
مزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم، مجبور تھے ہم، مجبور ہیں ہمانسانیت کے سینے میں رستا ہوا اک ناسور ہیں ہمدولت کی آنکھوں کا سرمہ بنتا ہے ہماری ہڈی سےمندر کے دیئے بھی جلتے ہیں مزدور کی پگھلی چربی سےہم سے بازار کی رونق ہے، ہم سے چہروں کی لالی ہےجلتا ہے ہمارے دل کا دیا دنیا کی سبھا اجیالی ہےدولت کی سیوا کرتے ہیں ٹھکرائے ہوئے ہم دولت کےمزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم سوتیلے بیٹے قسمت کےسونے کی چٹائی تک بھی نہیں، ہم ذات کے اتنے ہیٹے ہیںیہ سیجوں پر سونے والے شاید بھگوان کے بیٹے ہیںہم میں نہیں کوئی تبدیلی جاڑے کی پالی راتوں میںبیساکھ کے تپتے موسم میں، ساون کی بھری برساتوں میںکپڑے کی ضرورت ہی کیا ہے مزدوروں کو، حیوانوں کوکیا بحث ہے، سردی گرمی سے لوہے کے بنے انسانوں کوہونے دو چراغاں محلوں میں، کیا ہم کو اگر دیوالی ہےمزدور ہیں ہم، مزدور ہیں ہم، مزدور کی دنیا کالی ہےمزدور کے بچے تکتے ہیں جب حسرت سے دوکانوں کومزدور کا دل دیتا ہے دعا دیوتاؤں کو، بھگوانوں کوکھایا مٹی کے برتن میں، سوئے تو بچھونے کو ترسےمختاروں پر تنقیدیں ہیں، بیچارگیاں مجبوروں کیسوکھا چہرہ دہقانوں کا، زخمی پیٹھیں مزدوروں کیوہ بھوکوں کے ان داتا ہیں، حق ان کا ہے بیداد کریںہم کس دروازے پر جائیں کس سے جا کر فریاد کریںبازار تمدن بھی ان کا دنیائے سیاست بھی ان کیمذہب کا ارادہ بھی ان کا، دنیائے سیاست بھی ان کیپابند ہمیں کرنے کے لیے سو راہیں نکالی جاتی ہیںقانون بنائے جاتے ہیں، زنجیریں ڈھالی جاتی ہیںپھر بھی آغاز کی شوخی میں انجام دکھائی دیتا ہےہم چپ ہیں لیکن فطرت کا انصاف دہائی دیتا ہے
مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناجنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیںاور ایسے مطمئن ہیں جیسے ان کونہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ کوئی دیکھ سکتا ہےمگر یہ وقت کی جاسوس نظریںجو پیچھا کرتی ہیں سب کا ضمیروں کے اندھیرے تکاندھیرا نور پر رہتا ہے غالب بس سویرے تکسویرا ہونے والا ہے(۲)مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناکچھ اندھے سورما جو تیر اندھیرے میں چلاتے ہیںصدا دشمن کا سینہ تاکتے خود زخم کھاتے ہیںلگا کر جو وطن کو داؤ پر کرسی بچاتے ہیںبھنا کر کھوٹے سکے دھرم کے جو پن کماتے ہیںجتا دو ان کو ایسے ٹھگ کبھی پکڑے بھی جاتے ہیں(۳)مرے بیٹے انہیں تھوڑی سی خودداری بھی دے دیناجو حاکم قرض لے کے اس کو اپنی جیت کہتے ہیںجہاں رکھتے ہیں سونا رہن خود بھی رہن رہتے ہیںاور اس کو بھی وہ اپنی جیت کہتے ہیںشریک جرم ہیں یہ سن کے جو خاموش رہتے ہیںقصور اپنا یہ کیا کم ہے کہ ہم سب ان کو سہتے ہیں(۴)مرے بیٹے مرے بعد ان کو میرا دل بھی دے دیناکہ جو شر رکھتے ہیں سینے میں اپنے دل نہیں رکھتےہے ان کی آستیں میں وہ بھی جو قاتل نہیں رکھتےجو چلتے ہیں انہیں رستوں پہ جو منزل نہیں رکھتےیہ مجنوں اپنی نظروں میں کوئی محمل نہیں رکھتےیہ اپنے پاس کچھ بھی فخر کے قابل نہیں رکھتےترس کھا کر جنہیں جنتا نے کرسی پر بٹھایا ہےوہ خود سے تو نہ اٹھیں گے انہیں تم ہی اٹھا دیناگھٹائی ہے جنہوں نے اتنی قیمت اپنے سکے کییہ ذمہ ہے تمہارا ان کی قیمت تم گھٹا دیناجو وہ پھیلائیں دامن یہ وصیت یاد کر لیناانہیں ہر چیز دے دینا پر ان کو ووٹ مت دینا
ٹینس کے بالکستی انگیا میںگھس گھسا کےپستان بن گئے تھےشہوت کے سرخ ڈورےسرمہ لگانے والیآنکھوں میں تن گئے تھے
مری شاعری شہسواروں کی دنیابہادر جری سورما اور جیالےقضا جن کی ڈھالیں قدر جن کے بھالےتہور کے گھوڑوں کی باگیں سنبھالےچلے ہیں سوئے رزم گہہ عزم والےمرے شعر ہیں غازیوں کے رسالےمری شاعری شہسواروں کی دنیا
وطن پرست شہیدوں کی خاک لائیں گےہم اپنی آنکھ کا سرمہ اسے بنائیں گے
آج بھی اشک خوں مرا قشقہ جبین ناز کاآج بھی خاک دل مری سرمۂ چشم گل رخاں
یہ ہے بیس سو کا مگر سو سے ہلکاہے باریک اتنا کہ سرمہ کھرل کاکرنسی کی آنکھوں کا پانی ہے ڈھلکایہ روپیہ اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
حسب نسب ہے نہ تاریخ و جائے پیدائشکہاں سے آیا تھا مذہب نہ ولدیت معلوممقامی چھوٹے سے خیراتی اسپتال میں وہکہیں سے لایا گیا تھا وہاں یہ ہے مرقوممریض راتوں کو چلاتا ہے ''مرے اندراسیر زخمی پرندہ ہے اک، نکالو اسےگلو گرفتہ ہے یہ حبس دم ہے خائف ہےستم رسیدہ ہے مظلوم ہے بچا لو اسے''مریض چیختا ہے درد سے کراہتا ہےیہ وتنام، کبھی ڈومنیکن، کبھی کشمیرزر کثیر، سیہ قومیں، خام معدنیاتکثیف تیل کے چشمے، عوام، استحصالزمیں کی موت بہائم، فضائی جنگ، ستماجارہ داری، سبک گام، دل ربا، اطفالسرود و نغمہ، ادب، شعر، امن، بربادیجنازہ عشق کا، دف کی صدائیں، مردہ خیالترقی، علم کے گہوارے، روح کا مدفنخدا کا قتل، عیاں زیر ناف زہرہ جمالتمام رات یہ بے ربط باتیں کرتا ہےمریض سخت پریشانی کا سبب ہے یہاںغرض کہ جو تھا شکایت کا ایک دفتر تھانتیجہ یہ ہے اسی روز منتقل کرکےاسے اک اور شفا خانے کو روانہ کیاسنا گیا ہے وہاں نفسیات کے ماہرطبیب حاذق و نباض ڈاکٹر کتنےطلب کیے گئے اور سب نے اتفاق کیایہ کوئی ذہنی مرض ہے، مریض نے شایدکبھی پرندہ کوئی پالا ہوگا لیکن وہعدم توجہی یا اتفاق سے یونہیبچارہ مر گیا اس موت کا اثر ہے یہعجیب چیز ہے تحت شعور انساں کایہ اور کچھ نہیں احساس جرم ہے جس نےدل و دماغ پہ قبضہ کیا ہے اس درجہمریض قاتل و مجرم سمجھتا ہے خود کو!کسی کی رائے تھی پسماندہ قوم کا اک فردمریض ہوگا اسی واسطے سیہ قومیںغریب کے لیے اک ٹیبو بن گئیں افسوسکوئی یہ کہتا تھا یہ اصل میں ہے حب وطنمریض چاہتا تھا ہم کفیل ہوں اپنےکسی بھی قوم کے آگے نہ ہاتھ پھیلائیںیہیں پہ تیل کے چشمے ہیں، وہ کریں دریافت!گمان کچھ کو تھا یہ شخص کوئی شاعر ہےجو چاہتا تھا جہاں گردی میں گزارے وقتحسین عورتیں مائل ہوں لطف و عیش رہےقلم کے زور سے شہرت ملے زمانے میںزر کثیر بھی ہاتھ آئے اس بہانے سےمگر غریب کی سب کوششیں گئیں ناکامشکست پیہم و احساس نارسائی نےیہ حال کر دیا مجروح ہوگئے اعصابغرض کہ نکتہ رسی میں گزر گیا سب وقتوہ چیختا ہی رہا درد کی دوا نہ ملینشست بعد نشست اور معائنے شب و روزانہیں میں وقت گزرتا گیا شفا نہ ملیپھر ایک شام وہاں سرمہ در گلو آئیجو اس کے واسطے گویا طبیب حاذق تھیکسی نے پھر نہ سنی درد سے بھری آوازکراہتا تھا جو خاموش ہو گیا وہ ساز
اے چچا خرو شچوف اے ماموں کینڈی السلامایک ہی خط ہے یہ ماموں اور چچا دونوں کے نامآپ دونوں کا ادب کرنا ہمارا فرض ہےپھر بھی سن لیجے جو چھوٹی سی ہماری عرض ہےآپ دونوں ہیں بہادر سورما کیا اس میں شکایک بادل کی گرج ہے ایک شعلے کی لپکآپ دونوں کے بیاں سن سن کے ڈر جاتے ہیں ہمدھم سے آ گرتے ہیں ہم بچوں پہ یہ لفظوں کے بمڈر کے چھپ جاتے ہیں اپنی ماؤں کے آغوش میںکاش ہم بے ہوش ہو کر پھر نہ آئیں ہوش میںآپ دونوں لڑ پڑے تو جانے کیا ہو جائے گادو منٹ میں اس جہاں کا خاتمہ ہو جائے گاآگ لگ جائے گی اس دنیا کو مر جائیں گے سبجو بیاں دیتے ہیں وہ خاموش ہو جائیں گے لبدو منٹ زندہ رہیں گے ہم بھی مرنے کے لئےکون پھر باقی رہے گا راج کرنے کے لئےایسا لگتا ہے کہ کچھ دن اور جینا ہے محالگر نہیں اپنا تو بچوں ہی کا کچھ کیجے خیالاک طرف نفرت کھڑی ہے دوسری جانب غرورقہر کی چکی میں پس جائیں نہ بچے بے قصورلے چکے ہیں آپ تو جی بھر کے دنیا کے مزےہم کو ان سے دور رکھنا چاہتے ہیں کس لئےگر اجازت ہو تو ہم بچے بھی دنیا دیکھ لیںچار دن ہم بھی یہ بھالو کا تماشا دیکھ لیںکچھ بھی تو اسکول اور گھر کے سوا دیکھا نہیںآپ کہئے آپ نے دنیا میں کیا دیکھا نہیںجنگ مت کیجے نہ دنیا کی عمارت ڈھائیےسوچئے کچھ غور کیجے دیکھیے باز آئیےآپ نے دنیا سجائی تھی مٹانے کے لئےعقل کی شمعیں جلائی تھیں بجھانے کے لئےعلم و حکمت سائنس نے کی تھی ترقی کے لئےعقل کی شمعیں جلائی تھیں بجھانے کے لئےعلم و حکمت سائنس نے کی تھی ترقی کس لئےنیست و نابود آج ہم کر دیں اسے کیا اس لئےہم نے مانا آپ کا آپس میں ہے کچھ اختلافاک جگہ ہم بیٹھ کر کر لیں نہ کیوں دل اپنے صافاپنی اس دنیا کی حالت اس قدر جب زار ہےاس کو دیکھیں چاند میں جانا ابھی بے کار ہےدور کیجے دل سے نفرت اور گلے مل لیجئےزندگی کی جستجو میں خود کشی مت کیجیےجنگ کرنی ہے تو کیجے ہو مگر ایسی وہ جنگآسماں بھی جنگ ایسی دیکھ کر ہو جائے دنگ
جس کی خاطر پی گئے جام شہادت سورماراجپوتوں کا وہ کعبہ دیکھنے آیا ہوں میں
بہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنوطن کی خاک ہے عنبر مری نگاہوں میںوطن کے قطرے سمندر مری نگاہوں میںوطن کے ذرے ہیں گوہر مری نگاہوں میںوطن کے خار گل تر مری نگاہوں میںبہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنمری نگاہوں میں وقعت ہے طور سینا کیمری نگاہوں میں عظمت ہے عرش عالی کیمری نگاہوں میں عزت ہے ساری دنیا کیمگر ہے خاک وطن سرمہ چشم بینا کیبہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنمرے وطن میں ہے گوتم کا فیض روحانیمرے وطن میں ہے گیتا کی شمع نورانیمرے وطن میں ہے گنگا کی پاک دامانیمرے وطن میں ہے نور ازل کی ارزانیبہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنوطن کی گرد وطن کی زمیں وطن کی ہواوطن کی شام وطن کی سحر وطن کی فضاوطن کے کوچے وطن کے چمن وطن کی اداہے یاد ان کی علاج اپنے رنج غربت کابہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطنبلند رتبۂ گردوں سے کار گاہ وطنبلند حوصلۂ دل سے بارگاہ وطنکلیم دل کے لئے طور جلوہ گاہ وطننشاط روح کی ضامن ہے سجدہ گاہ وطنبہت عزیز ہے مجھ کو وطن عزیز وطن
ابھی جنگ جاری ہےجلنے لگیں بستیاںاٹھ رہا ہے دھواںایک خوں ریز دریا درختوں کو سیراب کرتا ہےجنگل مئے ناب سے کتنا مسرور ہےجنگل جاری کہاں ہےوہ دیکھو پہاڑوں کے دروں میں بھگدڑ مچی ہےبکھرتی ہوئی فوج کے سورماپیٹھ پر زخم کھانے کے شیداانہیں کی ہے میراث ساری اداسیجو بستی کے کھیتوں میںگندم کے خوشوں میں چھپ کرشکم میں اترتی ہےتاریک کمروں میں منہ کو چھپاتی ہےآواز دے کوئی آواز دےآؤ برفیلی چوٹی پہ دوڑیںسمندر میں غوطے لگائیںتعاقب کریں موت کااور ایسا بھی ہوزندگی تحفۂ جنگدوڑاتے گھوڑے سےبانہوں میں لے کر نکل جائیں سرپٹ کہیںدو گھڑی کے لئےابھی جنگ جاری ہےجنگل کو سیراب کرتا ہے خوں ریز دریاکہ جنگل کا قانون بھی تو یہی ہے
آنے والے دن کے آخر پرسورج ٹوٹی ہوئی ڈھال کی طرحافق پر چسپاں ایک حنوط کیا ہوا سرکسی سورما کاجو وقت سے ہار گیا!
میر باقر علیتم نے پھر بیچ میں داستاں روک دیشاہ گل فام گنجل طلسموں کی گتھیوں کو سلجھاتاصرصار جنگل کے شعلہ نفس اژدہوں سے نمٹتابیابان حیرت کی بے انت وسعت کو سر کر کےپہرے پہ مامور یک چشم دیووں کی نظریں بچاسبز قلعے کی اونچی کگر پھاند کرمہ جبیں کے معنبر شبستان تک آن پہنچا ہےاور اس طرف حق و طاغوت مد مقابل ہیںآنکھیں جدھر دیکھتی ہیں کلہاڑوں کی نیزوں کی برچھوں کی فصلیں کھڑی لہلہاتی نظر آ رہی ہیںجری سورما آمنے سامنے ہنہناتے الف ہوتے گھوڑوں پہ زانو جمائے ہوئے منتظر ہیںابھی طبل پر تھاپ پڑنے کو ہےاور ادھر شاہزادہ طلسمی محل کے حسیں دودھیا برج میں شاہ زادی کے حجلے کے اندرابھی لاجوردی چھپر کھٹ کا زر بفت پردہ اٹھا ہی رہا ہےمگر میر باقر علی تم نے پھر بیچ میں داستاں روک دیراہداری منقش در و بام ست رنگ قالین بلور قندیل فوارہ بربط سناتاجھروکوں پہ لہراتے پردوں کی قوس قزحمیمنہ میسرہ قلب ساقہ جناحآہنی خود سے جھانکتی مرتعش پتلیاںرزم گہہ کی کڑی دھوپ میں ایک ساکت پھریراچھپر کھٹ پہ سوئی ہوئی شاہ زادی کے پیروں پہ مہندی کی بیلیںفصاحت کے دریا بہاتے چلے جا رہے ہوبلاغت کے موتی لٹاتے چلے جا رہے ہومگر میر باقر علی داستاں گو سنوداستاں سننے والے تو صدیاں ہوئیں اٹھ کے جا بھی چکے ہیںتم اپنے طلسماتی قصے کے پر پیچ تاگوں میں ایسے لپٹتے گئے ہوکہ تم کو خبر ہی نہیںسامنے والی نکڑ پہ اک آنے کی بائیسکوپ آ گئی ہے
بن لادنتورا بورا میں ہوتاتو ایسی محشری مارجس سےپہاڑ سرمہ بن گئےزمین راکھ ہو گئیآسمان سیاہ پڑ گیاکب کا ختم ہو چکا ہوتامگر کرۂ ارض پر جگہ جگہہیبت ناک آتشیں پھنکاریںکربناک دل دوز چیخیںاس حقیقت کی غماز ہیںکہ بن لادنمرا نہیںزندہ ہےیہ پھنکاریں اور چیخیںاس بات کی بھی دلیل ہیںکہ لادنتورا بورا کے علاوہدوسرے خطوں میں بھی موجود ہےسوال یہ ہے کہلادن ختم کیوں نہیں ہواکیا وہ واقعی اتنا زبردست ہےکہ سارے جہان کی مجموعی طاقت بھیاس کے آگے ہیچ ہےکیا اس نے آب حیات پی لی ہےکہ کبھی مر نہیں سکتاکیا وہ قفس بن گیا ہےکہ اپنی خاکستر سے پھر پیدا ہو جاتا ہےکیا وہ شد سکندری ہےکہ یاجوج ماجوج کی زبانیںاسے پوری طرح چاٹ نہیں پاتیںکیا وہ راون ہےکہ اس کا ایک سر افغانستان میںتو باقی نو دوسرے جہاں میںاور کیا اس نے کوئی وردان پا لیا ہےکہ سر کٹ کر پھر دھڑ سے آ لگتا ہےکیا وہ بھیشم پتامہ ہےکہ اپنی اچھا کے بغیر مر نہیں سکتاکیا اس نے اپنا کلون بنا لیا ہےکہ اس کا خاتمہ نا ممکن ہو گیا ہےسوال یہ بھی ہےکہ میزائلوں کا نشانہ چوک کیوں جاتا ہےکیا ان کے پرزے ڈھیلے ہیںکہ وہ اپنا توازن کھو بیٹھتی ہیںبے سمتی کا شکار ہو جاتی ہیںکیا وہ اندھی ہیںکہ بن لادن کو دیکھ نہیں پاتیںکیا ان کی بینائی کمزور ہےکہ وہ لادن اور غیر لادن میں تمیز نہیں کر پاتیںبن لادن کوئی سچ تو نہیںکہ شکونی کی چال اس کے آگے ناکام ہو جائےوہ لاکشا گرہ سے بچ کر نکل جائےاگیات باس سے واپس آ جائےاس کا چیر ہرن نہ ہو سکےتیروں کی شیا پر زندہ رہ جائےکہیں ایسا تو نہیںکہ میزائلیں اسے مارنا ہی نہیں چاہتیںاگر ایسا ہےتو یہ محشری مارکس کے لیےیہ مسلسل یلغارکیوںحیران و پریشان ارجنکروک شیتر میں چیختا پھر رہا ہےمگر آج کی مہابھارت میںان سوالوں کا جواب دینے والاکوئی کرشن نہیںکوئی کرشن نہیں
شہنائی بجاتا ہوا اک ننھا سا مچھرپہنچا کسی میدان میں نالے سے نکل کرمیدان میں کچھ دیر بھٹکتا رہا مچھرکچھ کام نہیں تھا تو مٹکتا رہا مچھرموصوف نے اک بیل کو بیٹھا ہوا پایاتب دل میں سواری کا ذرا شوق سمایاآرام سے وہ بیٹھ گیا سینگ کے اوپرپھر اپنے خیالات میں گم ہو گیا مچھردو گھنٹے گزر جانے پہ موصوف نے سوچااس بیل کو بے جرم و خطا میں نے دبوچایہ بیل پچک جائے گا سوچا نہیں میں نےاب کچلا گیا پیسا گیا میرے بدن سےیہ دبتا رہا سرمہ بنا ٹوٹی قیامتلیکن کوئی شکوہ نہ کیا واہ شرافت
میرے سامنےکئی کوندھتی تلواریں ٹوٹیںدیکھتے دیکھتےکئی سورما شہید ہوئےخرد و جنوں کی میں نےکئی جنگیں دیکھیںمیں نے دیکھاسوریہ پتر کو بے بس ہوتےکئی شاہوں کے اوندھے پڑے پرچم دیکھےیہ اور بات کہخاموشی میری فطرت ہےمیری آنکھیں لیکن کبھی بند نہیں ہوتیںبڑے طریقے سے میں سب پہ وار کرتا ہوںمجھے پرکھنے کی ضرورت کیا ہےکہمیں تو سمے ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books