aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ta.Dapte"
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوںفکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوںنالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوںجرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کوہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لےخوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لےتھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیمپھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیمشرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیمبوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیمہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھیورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھیہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظرکہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجرخوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظرمانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکرتجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام تراقوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترابس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھیاہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھیاسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھیاسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھیپر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نےبات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نےتھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میںخشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میںدیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میںکبھی ایفریقا کے تپتے ہوئے صحراؤں میںشان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کیکلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کیہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیےاور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیےتھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیےسر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیےقوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتیبت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتیٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھےپاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھےتجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھےتیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھےنقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نےزیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نےتو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نےشہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نےتوڑے مخلوق خدا وندوں کے پیکر کس نےکاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نےکس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کوکس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کوکون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئیاور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئیکس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئیکس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئیکس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھےمنہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھےآ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نمازقبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجازایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایازنہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نوازبندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئےتیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئےمحفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرےمئے توحید کو لے کر صفت جام پھرےکوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرےاور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرےدشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نےصفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نےنوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نےتیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نےتیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نےپھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیںہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیںامتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیںعجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیںان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیںسیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیںرحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پربرق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پربت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئےہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئےمنزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئےاپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئےخندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیںاپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیںیہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمورنہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعورقہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصوراور بے چارے مسلماں کو فقط وعدۂ حوراب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیںبات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیںکیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایابتیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حسابتو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حبابرہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سرابطعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہےکیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہےبنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیارہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیاہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیاپھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیاہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہےکہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہےتیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئےشب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئےدل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئےآ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئےآئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کراب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کردرد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہینجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہیعشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہیامت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہیپھر یہ آرزدگئ غیر سبب کیا معنیاپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنیتجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑابت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑاعشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑارسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑاآگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیںزندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیںعشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہیجادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہیمضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہیاور پابندی آئین وفا بھی نہ سہیکبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہےبات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہےسر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نےاک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نےآتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نےپھونک دی گرمئ رخسار سے محفل تو نےآج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیںہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیںوادیٔ نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہاقیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہاحوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہاگھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہااے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئیبے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئیبادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھےسنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھےدور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھےتیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھےاپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دےبرق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دےقوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجازلے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پروازمضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیازتو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے سازنغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیےطور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیےمشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دےمور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دےجنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دےہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دےجوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ مامی تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ مابوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمنکیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمنعہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمناڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمنایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تکاس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تکقمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیںپتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیںوہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیںڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیںقید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کیکاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کیلطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میںکچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میںکتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میںکس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میںاس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیںداغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیںچاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوںجاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوںیعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوںپھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوںعجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مرینغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
چاندنی کھل کے نکھر آئی ہے دروازے پراوس سے بھیگتے جاتے ہیں پرانے گملےکس قدر نرم ہے کلیوں کا سہانا سایہجیسے وہ ہونٹ جنہیں پا کے بھی میں پا نہ سکااے تڑپتے ہوئے دل اور سنبھل اور سنبھلیہ تری چاپ سے جاگ اٹھیں گی تو کیا ہوگا
مرے سرکش ترانے سن کے دنیا یہ سمجھتی ہےکہ شاید میرے دل کو عشق کے نغموں سے نفرت ہےمجھے ہنگامہ جنگ و جدل میں کیف ملتا ہےمری فطرت کو خوں ریزی کے افسانے سے رغبت ہےمری دنیا میں کچھ وقعت نہیں ہے رقص و نغمہ کیمرا محبوب نغمہ شور آہنگ بغاوت ہےمگر اے کاش دیکھیں وہ مری پرسوز راتوں کومیں جب تاروں پہ نظریں گاڑ کر آنسو بہاتا ہوںتصور بن کے بھولی وارداتیں یاد آتی ہیںتو سوز و درد کی شدت سے پہروں تلملاتا ہوںکوئی خوابوں میں خوابیدہ امنگوں کو جگاتی ہےتو اپنی زندگی کو موت کے پہلو میں پاتا ہوںمیں شاعر ہوں مجھے فطرت کے نظاروں سے الفت ہےمرا دل دشمن نغمہ سرائی ہو نہیں سکتامجھے انسانیت کا درد بھی بخشا ہے قدرت نےمرا مقصد فقط شعلہ نوائی ہو نہیں سکتاجواں ہوں میں جوانی لغزشوں کا ایک طوفاں ہےمری باتوں میں رنگ پارسائی ہو نہیں سکتامری سرکش ترانوں کی حقیقت ہے تو اتنی ہےکہ جب میں دیکھتا ہوں بھوک کے مارے کسانوں کوغریبوں مفلسوں کو بے کسوں کو بے سہاروں کوسسکتی نازنینوں کو تڑپتے نوجوانوں کوحکومت کے تشدد کو امارت کے تکبر کوکسی کے چیتھڑوں کو اور شہنشاہی خزانوں کوتو دل تاب نشاط بزم عشرت لا نہیں سکتامیں چاہوں بھی تو خواب آور ترانے گا نہیں سکتا
اور تڑپتے ہوئے پھڑکتے ہوئےبس یہی کہہ گئی وہ مرتے ہوئے
مئی کا آن پہنچا ہے مہینہبہا چوٹی سے ایڑی تک پسینابجے بارہ تو سورج سر پہ آیاہوا پیروں تلے پوشیدہ سایاچلی لو اور تڑاقے کی پڑی دھوپلپٹ ہے آگ کی گویا کڑی دھوپزمیں ہے یا کوئی جلتا توا ہےکوئی شعلہ ہے یا پچھوا ہوا ہےدر و دیوار ہیں گرمی سے تپتےبنی آدم ہیں مچھلی سے تڑپتےپرندے اڑ کے ہیں پانی پہ گرتےچرندے بھی ہیں گھبرائے سے پھرتےدرندے چھپ گئے ہیں جھاڑیوں میںمگر ڈوبے پڑے ہیں کھاڑیوں میںنہ پوچھو کچھ غریبوں کے مکاں کیزمیں کا فرش ہے چھت آسماں کینہ پنکھا ہے نہ ٹٹی ہے نہ کمرہذرا سی جھونپڑی محنت کا ثمرہامیروں کو مبارک ہو حویلیغریبوں کا بھی ہے اللہ بیلی
ہوا لہروں پہ لکھتی ہے تو پانی پر تحریر کرتا ہےکہ ہم فرزند آدم کی طرح سب نقش گر ہیںاہل فن ہیںزندگی تخلیق کرتے ہیںستارہ ٹوٹ جاتا ہےمگر بجھنے سے پہلے اپنی اس جگ مگ عبارت سے فنا پر خندہ زن ہوتا ہےمیں مٹ کر بھی آنے والے لمحوں میں درخشاں ہوںجو پتا شاخ سے گرتا ہےقرطاس ہوا پر دائروں میں لکھتا آتا ہےکہ شاخوں پر تڑپتے دوستواگلی بہاروں میں مجھے پھر لوٹنا ہے پھوٹنا ہے ٹوٹنا ہے خاک ہونا ہےمگر وہ خاک جو اشجار کی ماں ہےوہ کوندا جو گھٹا پر ثبت کر کے دستخط اپنےبظاہر جا چکا ہوتا ہےچھپ کر دیکھتا ہےکس طرح تاریکیوں میں زلزلے آتے ہیںمنظر جاگ اٹھتے ہیںوہ جاں جو پس در کتنے برسوں سے تنہا ہےاک صحیفہ ہےکبھی سورج کی کرنوں میں اسے دیکھوتو پوری کائنات اس میں مجسم پاؤ گے اور جھوم جاؤ گےکتابیں پڑھنے والے تو نہ مانیں گےمگر از خاک تا افلاک جو کچھ بھی ہے وہ تحریر ہےالفاظ ہیں اعراب ہیں نقطے ہیں شوشے ہیں کشیں ہیں دائرے ہیں حرف ہیں جن میں طلسم زندگیاسرار کا اظہار کرتا ہے
یہاں میرے اندر درختوں کی کتنی قطاریں سلگتی رہیں گیوہاں تیرے اندر تڑپتے ہوئے لفظ لمحےپرندے قطاروں میں بیٹھے ہوئے رو رہے ہیںدرختوں کے پیچھے کئی چاند ٹوٹے ہوئے ریزہ ریزہلہو میں نہائے ہوئے کتنے سورج مزاروں کے کتبے!
میں جب بستی کی سرحد پر کھڑا ہو کرافق میں ڈوبتی راہوں کو تکتا تھاتو وہ رو رو کے کہتی تھیمجھے ڈر ہےتجھے یہ نا ترس راہیں نہ کر ڈالیں جدا مجھ سےمیں اپنی نیم ترساں انگلیوں سے اس کے آنسو پونچھ کر کہتا تھااب کیسا جدا ہونامگر میں دل میں ڈرتا تھاکہ ان راہوں سے واقف تھاانہی راہوں پہ چل کر اس دیار غیر میں آیا تھا اور یہ سوچ بیٹھا تھاکہ یہ میرے سفر کی آخری منزل ہے یہ انعام ہے میرامگر ہر دم افق میں ڈوبتی راہیںسنہرے بادلوں کی روشنائی سےہوا میں کچھ پرانی بستیوں کے نام لکھتی تھیںاسے اک روز میں نے کہہ دیا مجھ کو مرے اجداد کا مدفن بلاتا ہےمری جاں مجھ کو جانا ہےمگر تجھ بن نہ جاؤں گاوہ اک بت کی طرح سر کو جھکائے چپ رہی لیکنخموشی کو زباں کہتے تو سب کچھ کہہ گئی مجھ سےجو آنسو اس کی پلکوں سے گرے تھے خشک مٹی پرانہیں میں نے تڑپتے سوچتے اور بولتے دیکھاپھر اک شب اس کے پہلو سے میں اٹھا اور افق میںڈوبتی راہوں پہ چلتا اپنے آباکی اس مٹی کی خوشبو کے تعاقبمیں چلا آیا جو میرے خوابوں میںپلتی تھیمجھے پہلو سے گم پا کر وہ سادہ بے زباں لڑکی مگر کیا سوچتی ہوگی
آج کی رات بھی پھر خواب جگائیں گے مجھےپھر وہ کروٹ سے خیالوں کے تسلسل کو مٹانے کی کشید کوششجسم کے درد کو سلوٹ میں سمو کےوہی بستر پہ تڑپتے ہوئے مہجورئ جاناں کوکبھی آہ کبھی سانس کی گہرائی میں شل کرنے کیسعی ناکام
سحر و شام تجھے یاد کیا کرتے ہیںتیری ہی یاد سے دل شاد کیا کرتے ہیںحق تو یہ ہے کہ شب و روز تیری رحمت سےدل برباد کو آباد کیا کرتے ہیںتجھ کو منظور ہے آسائش خلقت یا ربتیرے بندے ستم ایجاد کیا کرتے ہیںبن کے پنچھی جو گرفتار بلا ہوتے ہیںوہ فقط شکوۂ بیداد کیا کرتے ہیںآگ لگ جائے مبادا کہیں صیاد کے گھرڈر کے آہ دل ناشاد کیا کرتے ہیںجو گلا پھاڑ کے مرغان سحر بولتے ہیںاپنے نالوں کو وہ برباد کیا کرتے ہیںعشق والے پوریؔ پروانہ صفت جلتے ہیںوہ تڑپتے ہیں نہ فریاد کیا کرتے ہیں
دکھتی ہڈیاں کہتی ہے آرام کرو ابدل کہتا ہے ابھی نہیں ابھی تو کام پڑا ہے سبمگر ایک اور ہی بولی بولتا ہے دماغپہلے کون سا تیر مار لیا تھا آپ نے جو اب پھر چلے ہیں جوہر دکھانےسرونٹے کا ڈان کھوتے اور سرشار کا خدائی فوجداری بھیتڑپتے ہوں گے قبر میں پڑے پڑےآپ کی بے قراریاں دیکھ کردنیا ہی تو بدل ڈالی آپ نے اپنی تحریروں اور تقریروں سےاور کیا کہنے ہیں آپ کی سیاست کےسوتوں کو جگا دیا آپ نےزیر دستوں کو اٹھا دیا زبردستوں کو گرا دیا آپ نےسچ مچ کا انقلاب ہی تو برپا کر کے رکھ دیا آپ نےچھوڑ جانے دیجیے بہت ہو گئی جنابسنہرے حرفوں میں لکھا جا چکا ہے آپ کا نام ان لکھی تاریخ میںآپ وہ ہیرو ہیں کوئی گیت نہیں گاتا جس کےوہ گمنام سپاہی ہیں جسے صرفآسمان کی آنکھ نے دیکھا ہوتا ہے داد شجاعت دیتےاگر آپ کے ہاتھوں واقعی کوئی اچھا کام سرزد ہو گیا تھا تویقیناً پتا ہوگا اس کا خدا کووہ اس کا ضرور اجر دے گا آپ کواور صبر سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے اجرصبر کیجیے ذرادکھتی ہڈیوں کی بھی سن لیجیے ذرااس خانہ خراب دل کی مان کر ہی تو آپ ہوئے ہیں خانہ خرابہمیشہ بہکایا ہے اس نے آپ کوغلط سلط راستوں پر چلایا ہے آپ کوجہاں چپ رہنے میں مصلحت تھی وہاں بولنے پر اکسایا ہے آپ کوجب ہاتھ بڑھا کر جام اٹھانے کا وقت تھا توانکساری کے چکر میں پھنسایا ہے آپ کوذرا اپنے بدن سے پوچھیے اپنی عمر اور پھر پوچھ کر دیکھیے دل سےآپ ستر کے ہیں نا مگر بدن کہے گا سالاور دل بتائے گا چالیس سالاس دل پر خون کی گلابی نےحلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے اچھے بھلے انسان کاپڑھے لکھے شریف آدمی کو دھکیل دیا ہےسیاست کے قصاب خانے میںبھئی جس کا کام اسی کو ساجے اور کرے تو ٹھینگا باجےآپ کیوں پریشان ہوتے ہیں ہر بری خبر پرویسے کبھی خیر کی خبر بھی آئی ہے وطن عزیز سےیاد نہیں رہا آپ کے تو مرشد بھی کہتے تھے بار باروہ کام ہماری ذمہ داری نہیں ہوتا جس کی انجام دہی کا سامان نہ دے خداعمر فاروق کو زیب دیتا تھا فکر مند ہونافرات کے کنارے بھوک سے مر جانے والے کتے کے لیےاس لیے کہ وہ تھے خلیفۂ وقتتو کن میں خواہ مخواہآپ تو کوتوال بھی نہیں کسی شہر کےاور چلے ہیں پورے ملک کی فکر کرنےبلکہ ساری انسانیت کا غم پال رکھا ہے آپ نے تومیں نے پہلے بھی کہا شاعروں کی بک بک نہ سنا کریں آپ زیادہبقول خدا وہ تو عادی ہیں غلط بیانی کےہاہا کانٹا چبھے کسی کو تڑپتے ہیں ہم امیر سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہےآپ کو اوروں کی پڑی ہیں پہلے اپنی تو نبیڑ لیں آپچیرٹی بگنس ایٹ ہوم جنابآئیے سکون سے بیٹھے دو گھڑیزیادہ دیر کھڑے رہنے سے اور بڑھ جائے گا گھٹنے کا دردکیا خیال ہے سبز چائے کے بارے میںیا پھر پی لیجئے ٹھنڈا میٹھا روح افزاسینے آسمانی موسیقی باخ اور موتزارٹ کیڈھیلا چھوڑیئے ذرا اعصاب کوسو جائیے سو جائیے نیند آ جائے اگرلوری دوں آپ کورات دن گردش میں ہیں سات آسماںہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
اک دنیا کو تڑپاتی ہیں جانا نہ ادائیں بھارت کیپر دل پر چوٹ لگاتی ہیں پر درد صدائیں بھارت کیوہ اس کی زمیں وہ اس کا فلک وہ چاند کی وہ سورج کی چمکوہ تاروں کی باہم چشمک دل کش وہ فضائیں بھارت کیآنکھوں کو ٹھنڈک دیتی ہیں من کی چنتا ہر لیتی ہیںآکاش پہ جب چھا جاتی ہیں گھنگھور گھٹائیں بھارت کیاک بار یہاں جو آتا ہے بس بھارت کا ہو جاتا ہےہر دل کی جوت جگاتی ہیں رنگین فضائیں بھارت کیکیا الٹا رنگ ہے دنیا کا کیا اوندھی عقل ہی دنیا کیبھارت کے لئے جنجال بنیں دنیا سے وفائیں بھارت کیلاکھوں بیمار تڑپتے ہیں لاکھوں نادار پھڑکتے ہیںبنگال بہار چلو تو ذرا حالت دکھلائیں بھارت کیبھارت باشی عزت پائیں پھر ان کے اچھے دن آئیںاس اک مقصد پر مل جائیں جتنی بھی سبھائیں بھارت کیپھر آزادی کے ساز بجیں پھر دیس کو اپنے بھاگ لگیںپھر ایک ایک کر کے پوری ہوں ساری اچھائیں بھارت کیہم سب آپس میں مل جائیں دل کی کلیاں کھل کھل جائیںیوں مل جل کر پھر دور کریں ساری بپتائیں بھارت کیگاندھیؔ ہوں قائد اعظمؔ ہوں یہ ہوں وہ ہوں یا کوئی ہوجو قوم کی خدمت کرتا ہے پاتا ہے دعائیں بھارت کیجو ہندو اور مسلماں کو شہہ دے دے کر لڑواتے ہیںوہ ہاتھ سے اپنے کرتے ہیں تیار چتائیں بھارت کیدنیا کے ہلائے ہل نہ سکیں دنیا کے مٹائے مٹ نہ سکیںکچھ ایسی ہیں کچھ ایسی ہیں مضبوط بنائیں بھارت کینیرؔ ہم اپنی خدمت سے فردوس بنا دیں بھارت کوپھر اس دنیا میں از سر نو ہم قدر بڑھائیں بھارت کی
الجھتی سانسوں کی سخت گرہیںبدن کے اندر کھینچی ہوئی ہیںنڈھال صدیوں کے فاصلوں کا سفر کہ پاؤں میں پل رہا ہےدھڑوں کے نیچے ہمارا سایہہمارے جسموں کو ریزہ ریزہ نگل رہا ہے(۲)سمندروں سے ہوا لپٹ کر نئی رتوں کا وصال مانگےزمیں کی خوشبو سحر کی آہٹ کے دھندلے خوابوں کا عکس پھیلےہمیں یقیں ہے ہوا کے گدلے سفر سے آگےچمکتے لمحوں کی رہ گزر ہےنئے گلابوں کی سرزمیں ہےہمارے پاؤں میں آنے والے سفر کی خواہش تڑپ رہی ہےہماری آنکھوں میں باؤلے خواب کا نشہ ہےہم اپنے اپنے دھڑوں کے تابوت سے نکل کربڑھے کہ سورج کا جسم چھینیںزمیں کی خوشبو کا کھوج پائیںہم ایک مدت سے سوچتے ہیںکہ آسماں کے سیاہ پتھر میں اب کرن کا شگاف اترےزمیں کی پاتال سے کشش ہونئے گلابوں کی مست خوشبو بدن میں پھیلےمگر وہی دھند کا سفر ہےکٹی پھٹی سرد انگلیوں پر لہو کے جگنو چمک چمک کر بکھر چکے ہیںرگوں کے ریشوں میں تازہ خواہش کی کشمکش سرد پڑ چکی ہےدھوئیں کے پھندے میں مرنے والوں کے نام ذہنوں کی تختیوں سےاتر رہے ہیںسروں پہ کرب و بلا کے موسم کا سخت خیمہ کھینچا ہوا ہےہوا پہ لکھے ہوئے ہیں نوحےفضا میں لٹکے ہوئے ہیں چہرےافق پہ ٹوٹی ہوئی لکیریںزمیں پہ پھیلے ہوئے ہیں سائےسمندروں سے لپٹنے والی ہوا کی ان دیکھی ڈوریوں کاکوئی سرا ہاتھ میں نہیں ہےہماری پلکیں ادھڑ چکی ہیںتمام خوابوں کی دھندلی روحیں مہیب جنگل کے راستوں پربھٹک رہی ہیںالجھتی سانسوں کی سخت گرہیںابھی تلک جسم پر کھینچی ہیںہمارے نیچے کسی زمیں کی کشش ہو شایدیہیں کہیں دھند کے عقب میں ہو کوئی سورج نکلنے والاہوا کے گدلے سفر سے آگے چمکتے لمحوں کی رہ گزر ہونئے گلابوں کی سر زمیں ہومگر پگھلتے بدن کو تحلیل کرنے والی عجیب ساعت سدا اٹل ہےہماری خواہش یہ نیک ساعت ہماری آنکھوں میں گھل کے پھیلےہمارے جسموں کا درد پگھلےہماری خواہش یہ نیک ساعت سکوت بن کر تڑپتے جسموں میں آ کے ٹھہرےالجھتی سانسوں کی گرہیں کھولےہم اس کی خوشبو کے پر سکوں ملگجے اندھیرے کی گہری لذت کے منتظر ہیںہم اس کی خواہش میں اپنے اپنے دھڑوں کے تابوت میں بندھے ہیں
سمندر اگر میرے اندر آ گرےتو پایاب لہروں میں ڈھل کے سلگنے لگےپیاس کے بے نشاں دشت میںوہیل مچھلی کی صورت تڑپنے لگےہارپونوں سے نیزوں سے چھلنی بدن پردہکتی ہوئی ریت کے تیز چر کے سہےاور پھر ریت پر جھاگ کے کچھ نشاں چھوڑ کرتا ابد سر بریدہ سے ساحل کے سائے میںہونے نہ ہونے کی میٹھی اذیت میں کھویا رہےیہ ہونے نہ ہونے کی میٹھی اذیت بھی کیا ہےنگاہیں اٹھاؤں تو حد نظر تکازل اور ابد کے ستونوں پہ باریک سا ایک خیمہ تنا ہےنہ ہونے کا یہ روپ کتنا نیا ہےاور خیمے کے اندرکروڑوں ستاروں کا میلہ لگا ہےیہ ہونے کا بہروپ لا انتہا ہےمرا جسمریشم کا صد چاک خیمہکسی بے کراں دشت میں بے سہارا کھڑا ہےمگر جب میں آنکھیں جھکاؤںتو اس سرد خیمے کے اندرکروڑوں تڑپتے ہوئے تند ذروں کا اک دشت پھیلا ہوا ہےیہ ہونے نہ ہونے کی میٹھی اذیتعجب ماجرا ہے
خداوندا!تری اقلیم میں رہتے ہوئے اک عمر گزری ہےمگر اب تک طریق بندگی مجھ کو نہیں آیامرے جذبوں نے اب تک جذب کے معنی نہیں سیکھےابھی تک خواہشوں کے پاس دل کو رہن رکھا ہےابھی تک نیم شب کی ساعتوں کی برکتیں مجھ پر نہیں اتریںمری آنکھوں میں تیری روشنی کے خد و خال اب تک نہیں ابھرےمری آنکھیں ابھی تک بے بصر ہیںاور ستم یہ ہےبصیرت کے دریچے وا نہیں ہوتےخدائے لم یزلتجھ کو زوال آدمیت کی قسممجھ سے مری یہ بے بسی لے لےتجھے تو یہ خبر ہےاس جبین شوق میں سجدے تڑپتے ہیںمگر میں راندۂ درگاہ جب سجدے میں جاتا ہوںتو اپنی توجہصحن کے محفوظ کونے میں رکھی جوتیوں میں چھوڑ آتا ہوں
مینہ برستا ہےآنگن میں بوندوں کی رم جھم میںچڑیاں چہکتی ہوئی چار سوگھومتی ہیںچھتوں پر گھنے کالے بادلبنے دیوتا جھومتے ہیںستونوں سے لپٹی ہوئیسرخ پھولوں کی بیلیںبرستے ہوئے مینہ کی بوچھار میںاپنا جوبن نکھارےمچلتی ہیںآنگن میں کھلتے ہوئے خالی کمرےاندھیرے کی بکل میں سمٹے ہوئےگزرے وقتوں کی مدرا پئےاونگھتے ہیںخموشیگھنے بادلوں کا اندھیراہوا کے تڑپتے ہوئے سرد جھونکوں میںبوندوں کی رم جھمیہ لگتا ہےصدیوں سے ٹھہرا ہوا وقتموسم کے نشہ میں بے خود ہوا ہےمگر میری آنکھوں میںساون کی گزری ہوئی رت کے لمحےجلی گھاس کی پتیاں بن کے چبھتے ہیں
ہر شاخ کی محراب پہ ہیں خون کے چھینٹےپیاسے خس و خاشاک تڑپتے ہیں شب و روزشبنم کی ضیا بار دمکتی ہوئی پائلاوجھل ہے نگہ سے
ایشیا جاگ اٹھا خواب گراں سے کیسےدل نشیں جسم میں اک زہر کا طوفان لئےکینچلی بدلے ہوئے سانپ کی پھنکار لئےہر شقاوت کے لئے موت کا سامان لئےایشیا جاگ اٹھااہل مشرق کو نئی زیست کی پھر سے ہے تلاشیہ تڑپتے ہوئے گونگے یہ بلکتے حیواںاپنے آقاؤں کے دیرینہ غلاموں کی یہ لاشظلم توڑا کیا انسان پہ صدیوں انساںزیست بے نور چراغوں میں سے لو دے اٹھیاک کرن سرد اندھیرے میں سے ضو دے اٹھیایشیا جاگ اٹھااہل مشرق کی ترقی کے پیمبر لرزےکپکپانے لگے ایوانوں کے سنگین ستوںوہ جہاں ناز بھی نخوت ہے مسرت بھی غرورجن میں نکھرا کیا انساں کی تعلی کا جنوںسالہا سال سے تپتے ہوئے فولاد کے رازسالہا سال سے فنکاروں کے ترشے ہوئے بترہ نہ جائے کہیں مشرق میں ہی مغرب کی یہ رتاہل مشرق پہ شقاوت کی کوئی حد ہی نہیںاپنے دشمن کی ذلالت کی کوئی حد ہی نہیںایشیا جاگ اٹھااپنی ذلت کے سمیت اپنی حفاظت کے لئےاس قدامت کے سمیت اپنی ثقافت کے لئےایشیا ارض مقدس بھی فروزاں ہوگیہم غریبوں کی غمیں زیست بھی تاباں ہوگیایشیا جاگ اٹھا جاگ اٹھا جاگ اٹھا
بند دریچے، جو کبھی بند نہیں ہوتےجہاں کرنوں کے جھانکنے پر پہرے ہیںاندھیری کوٹھریوں میں زباں خاموش، جسم بولتے ہیںجب کوئی خواہش زادہ اپنی برہنہ خواہش لئےکسی بند دریچے کا رخ کرتا ہےتو پاکیزگی اور پیراہنکونے میں بیٹھ کر بین کرتے ہیںزخم آلود جسم کے اندر چیخیں کہرام برپا کر دیتی ہیںاتنی نحیف چیخیںکہ کسی کان پر وہ دستک نہیں دے پاتیںروز ان گنت جسم تڑپتے ہیںاور ان میں ڈھیروں خواہشیں دفن کی جاتی ہیں
وہ کیا جانیں کیوں ماہ پاروں سے پوچھومحبت ہے کیا غم کے ماروں سے پوچھولہو بے خطاؤں کا کتنا بہا ہےیہ جا کر ذرا لالہ زاروں سے پوچھواگر پوچھنا ہیں خزاں کے مظالمگلستاں کی گزری بہاروں سے پوچھوکہاں پہونچا ہے کارواں زندگی کایہ جا کر شکستہ مزاروں سے پوچھووفا کے لئے کتنا روئی ہے دنیاتڑپتے ہوئے آبشاروں سے پوچھورہ عشق میں وصل ہوگا کہاں پریہ دریا کے دونوں کناروں سے پوچھوہے بیمار فرقت کا کیا اب سہارایہ جاتے ہوئے چاند تاروں سے پوچھوسکوں دل کو ملتا ہے فرقت میں کیسےشب ہجر کے بے قراروں سے پوچھودیا کیا ہے باد بہاری نے تحفہیہ جیب و گریباں کے تاروں سے پوچھوسدا ساتھ ان کے گزاری ہیں راتیںمرا حال تم چاند تاروں سے پوچھوپتہ پوچھنا ہے اگر جعفریؔ کاتو دشت مغیلاں کے خاروں سے پوچھو
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books