aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "tho.dii"
ہاں، وہی، وہ عجیب سا شاعررات کو اٹھ کے کہنیوں کے بلچاند کی ٹھوڑی چوما کرتا ہے!!
یہی جگہ تھی یہی دن تھا اور یہی لمحاتیہیں تو دیکھا تھا اک خواب سوچی تھی اک باتمسافروں کے دلوں میں خیال آتا ہےہر اک ضمیر کے آگے سوال آتا ہےوہ بات یاد ہے اب تک ہمیں کہ بھول گئےوہ خواب اب بھی سلامت ہے یا فضول گئےچلے تھے دل میں لئے جو ارادے پورے ہوئےیہ کون ہے کہ جو یادوں میں چرخا کاتتا ہےیہ کون ہے جو ہمیں آج بھی بتاتا ہےہے وعدہ خود سے نبھانا ہمیں اگر اپناتو کارواں نہیں رک پائے بھول کر اپناہے تھوڑی دور ابھی سپنوں کا نگر اپنامسافرو ابھی باقی ہے کچھ سفر اپنا
عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی ناآشنا خم سےستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سےقمر اپنے لباس نو میں بیگانہ سا لگتا تھانہ تھا واقف ابھی گردش کے آئین مسلم سےابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیامذاق زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سےکمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویاہویدا تھی نگینے کی تمنا چشم خاتم سےسنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھاصفا تھی جس کی خاک پا میں بڑھ کر ساغر جم سےلکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہچھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سےنگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیا گر کیوہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سےبڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانبتمنائے دلی آخر بر آئی سعی پیہم سےپھرایا فکر اجزا نے اسے میدان امکاں میںچھپے گی کیا کوئی شے بارگاہ حق کے محرم سےچمک تارے سے مانگی چاند سے داغ جگر مانگااڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سےتڑپ بجلی سے پائی حور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفس ہائے مسیح ابن مریم سےذرا سی پھر ربوبیت سے شان بے نیازی لیملک سے عاجزی افتادگی تقدیر شبنم سےپھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میںمرکب نے محبت نام پایا عرش اعظم سےمہوس نے یہ پانی ہستئ نوخیز پر چھڑکاگرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کار عالم سےہوئی جنبش عیاں ذروں نے لطف خواب کو چھوڑاگلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہم دم سےخرام ناز پایا آفتابوں نے ستاروں نےچٹک غنچوں نے پائی داغ پائے لالہ زاروں نے
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبیقرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہے
اک ننھی منی سی پجارنپتلی بانہیں پتلی گردنبھور بھئے مندر آئی ہےآئی نہیں ہے ماں لائی ہےوقت سے پہلے جاگ اٹھی ہےنیند ابھی آنکھوں میں بھری ہےٹھوڑی تک لٹ آئی ہوئی ہےیوں ہی سی لہرائی ہوئی ہےآنکھوں میں تاروں کی چمک ہےمکھڑے پہ چاندی کی جھلک ہےکیسی سندر ہے کیا کہیےننھی سی اک سیتا کہیےدھوپ چڑھے تارا چمکا ہےپتھر پر اک پھول کھلا ہےچاند کا ٹکڑا پھول کی ڈالیکمسن سیدھی بھولی بھالیہاتھ میں پیتل کی تھالی ہےکان میں چاندی کی بالی ہےدل میں لیکن دھیان نہیں ہےپوجا کا کچھ گیان نہیں ہےکیسی بھولی چھت دیکھ رہی ہےماں بڑھ کر چٹکی لیتی ہےچپکے چپکے ہنس دیتی ہےہنسنا رونا اس کا مذہباس کو پوجا سے کیا مطلبخود تو آئی ہے مندر میںمن اس کا ہے گڑیا گھر میں
سال میں اک بار آتا ہےآتے ہی مجھ سے کہتا ہے''کیسے ہواچھے تو ہولاؤ اس بات پہ کیک کھلاؤرات کے کھانے میں کیا ہےاور کہو کیا چلتا ہے''پھر ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہتا ہےپھر گھڑی دیکھ کے کہتا ہے''اچھا تو میں جاتا ہوںپیارے اب میںایک سال کے بعد آؤں گاکیک بنا کے رکھناساتھ میں مچھلی بھی کھاؤں گا''اور چلا جاتا ہے!اس سے مل کرتھوڑی دیر مزا آتا ہے!لیکن پھر میں سوچتا ہوںخاص مزا تو تب آئے گاجب وہ آ کرمجھ کو ڈھونڈھتا رہ جائے گا!!
شہر دل کی گلیوں میںشام سے بھٹکتے ہیںچاند کے تمنائیبے قرار سودائیدل گداز تاریکیجاں گداز تنہائیروح و جاں کو ڈستی ہےروح و جاں میں بستی ہےشہر دل کی گلیوں میںتاک شب کی بیلوں پرشبنمیں سرشکوں کیبے قرار لوگوں نےبے شمار لوگوں نےیادگار چھوڑی ہےاتنی بات تھوڑی ہےصد ہزار باتیں تھیںحیلۂ شکیبائیصورتوں کی زیبائیقامتوں کی رعنائیان سیاہ راتوں میںایک بھی نہ یاد آئیجا بجا بھٹکتے ہیںکس کی راہ تکتے ہیںچاند کے تمنائییہ نگر کبھی پہلےاس قدر نہ ویراں تھاکہنے والے کہتے ہیںقریۂ نگاراں تھاخیر اپنے جینے کایہ بھی ایک ساماں تھاآج دل میں ویرانیابر بن کے گھر آئیآج دل کو کیا کہئےبا وفا نہ ہرجائیپھر بھی لوگ دیوانےآ گئے ہیں سمجھانےاپنی وحشت دل کےبن لئے ہیں افسانےخوش خیال دنیا نےگرمیاں تو جاتی ہیںوہ رتیں بھی آتی ہیںجب ملول راتوں میںدوستوں کی باتوں میںجی نہ چین پائے گااور اوب جائے گاآہٹوں سے گونجے گیشہر دل کی پنہائیاور چاند راتوں میںچاندنی کے شیدائیہر بہانے نکلیں گےآرزو کی گیرائیڈھونڈنے کو رسوائیسرد سرد راتوں کوزرد چاند بخشے گابے حساب تنہائیبے حجاب تنہائیشہر دل کی گلیوں میں
لمبے وقت سے سوچ رہا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںملنے سے گھبراتا ہوں میں جھوٹ نہیں کہہ پاتا ہوںاس کے شکوے اس کی شکایت جھگڑے سے ڈر جاتا ہوںادھر ادھر کی باتیں مجھ کو ذرا نہ خوش کر پاتی ہیںجانے کیوں ایسا ہوں میںدوست نہیں بن پاتے میرےرشتے نہیں سنبھلتے ہیںبے جا محبت بے جا تکلفدونوں اوچھے لگتے ہیںاوروں کی کمیوں کو بالکلاچھا نہیں کہہ پاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںاچھے بھلے کاموں میں اکثردیر بہت کر دیتا ہوںامی سے باتیں کرنی ہوں بیٹی کے اسکول ہو جاناکوئی نیا ناول پڑھنا ہو کوئی کہانی لکھنی ہوسب کو ٹالتا رہتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبھیڑ بھرے شہروں سے مجھ کووحشت سی ہو جاتی ہےگاؤں جنگل سنسان جگہیںاکثر خوش آ جاتی ہیںکوئی الھڑ چہرہ دیکھوں من کو وہ بھا جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںپیڑوں کے پیراہن دیکھوں پھولوں کی خوشبو کو سونگھوںرنگ برنگی تتلیاں پکڑوں ہلکی ہلکی بوندیں بھیٹھنڈی نرم ہوائیں جب جب چپکے سے چھو جاتی ہیںیا کوئل کی بولی سن لوں من بیاکل ہو جاتا ہےجانے کیوں ایسا ہوں میںنٹ بنجارن سنیاسی اور کھیل تماشے والے لوگکھنڈر ویرانہ جلتی دھوپ پھولی سرسوں دھان کے کھیتلال پتنگ اور پیلی مینا اندر دھنش اور ندی کی دھارآتے ہیں جب خواب میں میرے دیوانہ ہو جاتا ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میںبہت مجھے اچھا کہتے ہیں برا بھی کوئی کہتا ہےسامنے میری مدح سرائی پیچھے گالی دیتا ہےہمدردی ہے کوئی دکھاتا کوئی سازش کرتا ہےپھر بھی چپ چپ سا رہتا ہوں جیسے بہت انجان ہوں میںجانے کیوں ایسا ہوں میںتھوڑی سی آزادی مجھ کو تھوڑا بہت وقت کا زیاںکبھی کبھار کی اچھی باتیں کسی کسی کا سچا پیارچھوٹی موٹی کوئی شرارت کھلکھلا کر ہنسنا بھییہ سب خوش کر جاتے ہیں جب تولگتا ہے کہ زندہ ہوںجانے کیوں ایسا ہوں میں
تھوڑی دیر کو ساتھ رہے کسی دھندلے شہر کے نقشے پرہاتھ میں ہاتھ دیے گھومے کہیں دور دراز کے رستے پربے پردہ استھانوں پر دو اڑتے ہوئے گیتوں کی طرحغصے میں کبھی لڑتے ہوئے کبھی لپٹے ہوئے پیڑوں کی طرحاپنی اپنی راہ چلے پھر آخر شب کے میداں میںاپنے اپنے گھر کو جاتے دو حیراں بچوں کی طرح
یہ مانا زندگی ہم کو بہت مصروف کر دے گیہمارے ذہن کو دنیا کے اندازوں سے بھر دے گیہزاروں مسئلوں پر دعوت فکر و نظر دے گیکہ جب تھوڑی سی مہلت گردش شام و سحر دے گی
مجھے اپنے جینے کا حق چاہیےزمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیںاور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیںصاف پانی ہوا بارشیں چاندنییہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر ہیںیہ ہماری تمہاری کسی کی نہیںمجھ کو تعلیم صحت اور امید کیسات رنگوں بھری اک دھنک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیےنہ ہوا صاف ہے نہ فضا صاف ہےوہ جو آب بقا تھا وہ ناصاف ہےزمیں ہو سمندر ہو یا آسماںاک ذرا سوچیے اب کہ کیا صاف ہےموت سے پر خطر ہے یہ آلودگیدوستو دل میں تھوڑی کسک چاہیےمجھے اپنے جینے کا حق چاہیے
مجھ پر یہ خوف اب چھایا ہےمیں کس سے ملنے جاؤں گامیں کس کو پاس بلاؤں گاآندھی ہے، گرم ہوا ہے، آگ برستی ہےکچھ دیر ہوئیاک صورت، شبنم سی صورتاس تپتی راہ سے گزری تھیدو بچے پیڑ کے پتوں میں چھپ کر بیٹھے تھےہنستے شور مچاتے تھےاک دوست پرانابرسوں بعد ملا مجھ کواس جلتے دن کیصبح کچھ ایسی روشن تھیجب باد صبا وارفتہ روخوشبوؤں، نغموں، ننھی منی باتوں کاانداز لیے آنگن میں چلیمیں زندہ ہوںیہ سوچ کے خوش ہو جاتا ہوںوہ تھوڑی دیر تو میرے پاس سے گزری تھیوہ میرے دل میں اتری تھیاس بے محرم سے موسم میںشاید وہ کل بھی آئے گیشاید وہ کل بھی میری راہ سے گزرے گی
شہر میرا اداس گنگا ساکوئی بھی آئے اور اپنے پاپکھو کے جاتا ہے دھوکے جاتا ہےآگ کا کھیل کھیلنے والےیہ نہیں جانتے کہ پانی کاآگ سے بیر ہے ہمیشہ کاآگ کتنی ہی خوفناک سہیاس کی لپٹوں کی عمر تھوڑی ہےاور گنگا کے صاف پانی کوآج بہنا ہے کل بھی بہنا ہےجانے کس کس کا درد سہنا ہےشہر میرا اداس گنگا سا
کچھ تم سوچوکچھ میں سوچوںکیوں اونچی ہیں یہ دیواریںکب تک ہم ان پر سر ماریںکب تک یہ اندھیرے رہنے ہیںکینہ کے یہ گھیرے رہنے ہیںچلو اپنے دروازے کھولیںاور گھر کے باہر آئیں ہمدل ٹھہرے جہاں ہیں برسوں سےوہ اک نکڑ ہے نفرت کاکب تک اس نکڑ پر ٹھہریںاب اس کے آگے جائیں ہمبس تھوڑی دور اک دریا ہےجہاں ایک اجالا بہتا ہےواں لہروں لہروں ہیں کرنیںاور کرنوں کرنوں ہیں لہریںان کرنوں میںان لہروں میںہم دل کو خوب نہانے دیںسینوں میں جو اک پتھر ہےاس پتھر کو گھل جانے دیںدل کے اک کونے میں بھی چھپیگر تھوڑی سی بھی نفرت ہےاس نفرت کو دھل جانے دیںدونوں کی طرف سے جس دن بھیاظہار ندامت کا ہوگاتب جشن محبت کا ہوگا
اب ان رنگین رخساروں میں تھوڑی زردیاں بھر دےحجاب آلود نظروں میں ذرا بیباکیاں بھر دے
حلوے کے لیے پھر آج بھی ہم اک آس لگائے بیٹھے ہیںجو بات زباں پر لا نہ سکے وہ دل میں چھپائے بیٹھے ہیںتھوڑی سی مٹھائی طاق پہ تھی مٹھی میں چرائے بیٹھے ہیںابو کے بھگائے بھاگے تھے امی کے بلائے بیٹھے ہیںکچھ بچ بھی گئی ہیں پٹنے سے کچھ مار بھی کھائے بیٹھے ہیںتجھ سے تو ہمیں کوئی شکوہ اے خالق صبح و شام نہیںاسکول ہی ایسا ہے کہ جہاں کچھ چین نہیں آرام نہیںاس وقت اگرچہ سر میں کسی کے درد برائے نام نہیںہر وقت مگر پڑھتے رہنا کم عمروں کا تو کام نہیںسب اپنی اپنی کرسی پر سدھ بدھ بسرائے بیٹھے ہیںاک بار کہیں سے مل جاتا ہم سب کو چراغ چین اگربس سال میں اک دن پڑھ لیتے درجے کی کتابیں فر فر فرپھر خواب ہی دلچسپی رہتی پھر خوب مزہ آتا دن بھراسکول میں جانا کیوں ہوتا ہر روز یہ رہتا کیوں چکرامید نہیں لیکن پھر بھی امید لگائے بیٹھے ہیںلیکن یہ زمانہ علم کا ہے یہ وقت ہے آگے بڑھنے کامل جل کے کریں گے گر محنت ہو جائے گا ہر سپنا پوراہمت سے ہوئی ہیں تعمیریں جرأت سے ہوا ہے کام نیاجب عزم و عمل اچھا ہوگا اچھا ہی نتیجہ بھی ہوگاہم لوگ یہاں حلوہ کھا کر اک شمع جلائے بیٹھے ہیں
جہاں میں اضطراب ہےنہیں نہیںجہاں ہی اضطراب ہےہزار ہا کواکب و نجوم ہائے کہکشاں سےایٹموں کی کوکھ تکمدار در مدار ہر وجود بے قرار ہےیہ مہر و ماہ و مشتری سے ہر الیکٹران تکیہ جھوم جھوم گھومنے میں جس طرح کا رقص ہےمجھے سمجھ میں آ گیاجہان تیرا عکس ہےوہ عکس جو جگہ جگہ قدم قدم ردھم پہ ہےجہان عین سر میں ہے جہان عین سم پہ ہےجہاں ترنموں کی لسٹ میں سے انتخاب ہےجو تجھ حسیں دماغ کے حسین لا شعور میں بنا ہوایسا خواب ہےجہان اضطراب ہےمجھے سمجھ میں آ گیا ہے یہ جہاںخلا مکاں زماں کے چند تار سے بنا ہوا ستار ہےاسے کہو کسی طرح ستار چھیڑتی رہےاسے کہو کہ تھوڑی دیر اور بولتی رہے
جان محمد خانسفر آسان نہیںدھان کے اس خالی بورے میںجان الجھتی ہےپٹ سن کی مضبوط سلاخیں دل میں گڑی ہیںاور آنکھوں کے زرد کٹوروں میںچاند کے سکے چھن چھن گرتے ہیںاور بدن میں رات پھیلتی جاتی ہے۔۔۔آج تمہاری ننگی پیٹھ پرآگ جلائے کونانگارے دہکائے کونجد و جہد کےخونیں پھول کھلائے کونمیرے شعلہ گر پنجوں میں جان نہیںآج سفر آسان نہیںتھوڑی دیر میں یہ پگڈنڈیٹوٹ کے اک گندے تالاب میں گر جائے گیمیں اپنے تابوت کی تنہائی سے لپٹ کرسو جاؤں گاپانی پانی ہو جاؤں گااور تمہیں آگے جانا...۔۔۔اک گہری نیند میں چلتے جانا ہےاور تمہیں اس نظر نہ آنے والے بورے۔۔۔۔۔۔اپنے خالی بورے کی پہچان نہیںجان محمد خانسفر آسان نہیں
مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناجنہوں نے ریت میں سر گاڑ رکھے ہیںاور ایسے مطمئن ہیں جیسے ان کونہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ کوئی دیکھ سکتا ہےمگر یہ وقت کی جاسوس نظریںجو پیچھا کرتی ہیں سب کا ضمیروں کے اندھیرے تکاندھیرا نور پر رہتا ہے غالب بس سویرے تکسویرا ہونے والا ہے(۲)مرے بیٹے مری آنکھیں مرے بعد ان کو دے دیناکچھ اندھے سورما جو تیر اندھیرے میں چلاتے ہیںصدا دشمن کا سینہ تاکتے خود زخم کھاتے ہیںلگا کر جو وطن کو داؤ پر کرسی بچاتے ہیںبھنا کر کھوٹے سکے دھرم کے جو پن کماتے ہیںجتا دو ان کو ایسے ٹھگ کبھی پکڑے بھی جاتے ہیں(۳)مرے بیٹے انہیں تھوڑی سی خودداری بھی دے دیناجو حاکم قرض لے کے اس کو اپنی جیت کہتے ہیںجہاں رکھتے ہیں سونا رہن خود بھی رہن رہتے ہیںاور اس کو بھی وہ اپنی جیت کہتے ہیںشریک جرم ہیں یہ سن کے جو خاموش رہتے ہیںقصور اپنا یہ کیا کم ہے کہ ہم سب ان کو سہتے ہیں(۴)مرے بیٹے مرے بعد ان کو میرا دل بھی دے دیناکہ جو شر رکھتے ہیں سینے میں اپنے دل نہیں رکھتےہے ان کی آستیں میں وہ بھی جو قاتل نہیں رکھتےجو چلتے ہیں انہیں رستوں پہ جو منزل نہیں رکھتےیہ مجنوں اپنی نظروں میں کوئی محمل نہیں رکھتےیہ اپنے پاس کچھ بھی فخر کے قابل نہیں رکھتےترس کھا کر جنہیں جنتا نے کرسی پر بٹھایا ہےوہ خود سے تو نہ اٹھیں گے انہیں تم ہی اٹھا دیناگھٹائی ہے جنہوں نے اتنی قیمت اپنے سکے کییہ ذمہ ہے تمہارا ان کی قیمت تم گھٹا دیناجو وہ پھیلائیں دامن یہ وصیت یاد کر لیناانہیں ہر چیز دے دینا پر ان کو ووٹ مت دینا
یہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کواشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہےوہ دیکھو گاؤں کے سینے پہ سر رکھے ہوئے سرسوںتمہاری کمسنی کھیلی ہے جس کی گود میں برسوںنقوش پا سے اب تک ہر گلی کی مانگ روشن ہےابھی تک گود پھیلائے ہوئے ڈیرے کا آنگن ہےرسیلی جامنوں کے پیڑ کی کمزور شاخوں نےتمہاری انگلیوں کا ہر نشاں محفوظ رکھا ہےلبوں پر جھیل کی گہرائیوں کے ہے بس اک شکوہکہ جب سے تم گئے ہو کوئی بھی ہم تک نہیں پہنچاکنارے جھیل کے وہ پیڑ اب تک منتظر سا ہےکب آؤ گے یہاں کپڑے اترو گے نہاؤ گےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کواشارہ کرتا ہے ٹھوڑی پکڑ کر اور کہتا ہےوہ دیکھو گاؤں کے کھلیانوں میں سویا ہوا جادونشیلی رات کی رانی وہ لو دیتی ہوئی خوشبودیوں کا دھیمی دھیمی روشنی دینا دھواں دیناشکستہ جھونپڑوں کا زندگی کو لوریاں دیناکھنکتی ہیں رسوئی گھر میں الھڑ چوڑیاں اب تکبھرا کی پولیاں لاتی ہیں سر پر بوڑھیاں اب تککے کنارے کچی اینٹوں سے بنا مندرسلگتے کنڈوں سے اٹھتی دھوئیں کی ملگجی چادرہرے کھیتوں کی مینڈوں پر سلگتے جسم کے سائےلرزتے ہونٹھ گھبرائی ہوئی سانسوں کے افسانےلچکتی آم کی شاخوں پہ بل کھائے ہوئے جھولےکسی کا بھاگنا یہ کہہ کے کوئی ہے ہمیں چھو لےیہ دیکھو زندگی کتنی حسیں ہے کتنی بھولی ہےاسی آغوش میں آ جاؤ جس میں آنکھ کھولی ہےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ کہتا ہے کہ میں گزری ہوئی باتوں میں کھو جاؤںتمہاری زلف سے مہکی ہوئی راتوں میں کھو جاؤںاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ اب یہ سانس کا ڈورااک ایسی دھار کی تلوار ہے جس پر گزرنا ہےمجھے اور زندگی کے زخم کو ٹانکے لگانا ہیںاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہاگر رکھوں تو ناکارہ نکما کہہ کے یہ دنیامجھے ٹھوکر لگا دے اور خود آگے کو بڑھ جائےمری پس ماندگی پر ہر نذر اٹھے ترس کھائےمجھے مردہ عجائب گھر کی ایسی مورتی سمجھےجو سب کو اس لیے پیاری ہے کہ کافی پرانی ہےیہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےاسے میں کیسے سمجھاؤں کہ یہ ماضی کی تصویریںاب اک ایسی امانت ہیں جسے میں رکھ نہیں سکتہ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books