aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ved"
جب دکھ کی ندیا میں ہم نےجیون کی ناؤ ڈالی تھیتھا کتنا کس بل بانہوں میںلوہو میں کتنی لالی تھییوں لگتا تھا دو ہاتھ لگےاور ناؤ پورم پار لگیایسا نہ ہوا، ہر دھارے میںکچھ ان دیکھی منجدھاریں تھیںکچھ مانجھی تھے انجان بہتکچھ بے پرکھی پتواریں تھیںاب جو بھی چاہو چھان کرواب جتنے چاہو دوش دھروندیا تو وہی ہے ناؤ وہیاب تم ہی کہو کیا کرنا ہےاب کیسے پار اترنا ہےجب اپنی چھاتی میں ہم نےاس دیس کے گھاؤ دیکھے تھےتھا ویدوں پر وشواش بہتاور یاد بہت سے نسخے تھےیوں لگتا تھا بس کچھ دن میںساری بپتا کٹ جائے گیاور سب گھاؤ بھر جائیں گےایسا نہ ہوا کہ روگ اپنےکچھ اتنے ڈھیر پرانے تھےوید ان کی ٹوہ کو پا نہ سکےاور ٹوٹکے سب بیکار گئےاب جو بھی چاہو چھان کرواب جتنے چاہو دوش دھروچھاتی تو وہی ہے، گھاؤ وہیاب تم ہی کہو کیا کرنا ہےیہ گھاؤ کیسے بھرنا ہے
دھرتی کی سلگتی چھاتی سے بے چین شرارے پوچھتے ہیںتم لوگ جنہیں اپنا نہ سکے وہ خون کے دھارے پوچھتے ہیںسڑکوں کی زباں چلاتی ہے ساگر کے کنارے پوچھتے ہیںیہ کس کا لہو ہے کون مرا اے رہبر ملک و قوم بتایہ جلتے ہوئے گھر کس کے ہیں یہ کٹتے ہوئے تن کس کے ہیںتقسیم کے اندر طوفاں میں لٹتے ہوئے گلشن کس کے ہیںبد بخت فضائیں کس کی ہیں برباد نشیمن کس کے ہیںکچھ ہم بھی سنیں ہم کو بھی سناکس کام کے ہیں یہ دین دھرم جو شرم کا دامن چاک کریںکس طرح کے ہیں یہ دیش بھگت جو بستے گھروں کو خاک کریںیہ روحیں کیسی روحیں ہیں جو دھرتی کو ناپاک کریںآنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملاجس رام کے نام پہ خون بہے اس رام کی عزت کیا ہوگیجس دین کے ہاتھوں لاج لٹے اس دین کی قیمت کیا ہوگیانسان کی اس ذلت سے پرے شیطان کی ذلت کیا ہوگییہ وید ہٹا قرآن اٹھایہ کس کا لہو ہے کون مرااے رہبر ملک و قوم بتا
یہ ہے مل والا وہ بنیا ہے یہ ساہوکار ہےیہ ہے دوکاں دار وہ ہے وید یہ عطار ہےوہ اگر ٹھگ ہے تو یہ ڈاکو ہے وہ بٹ مار ہےآج ہر گردن میں کالی جیت کا اک ہار ہے
جن تقاضوں نے اس کو دیا تھا جنمان کی آغوش میں پھر سمایا نہ وہخون میں وید گونجے ہوئےاور جبیں پر فروزاں اذاںاور سینے پہ رقصاں صلیببے جھجھک سب کے قابو میں آیا نہ وہ
دھوپ پڑی، تو کھل گئی آنکھیں، کھل گیا سارا بھیدغش کھایا، تو دوڑے آئے منشی، پنڈت، وید
میرے کاندھے پہ بیٹھا کوئیپڑھتا رہتا ہے انجیل و قرآن و ویدمکھیاں کان میں بھنبھناتی ہیںزخمی ہیں کاناپنی آواز کیسے سنوںرانا ہندو تھا اکبر مسلمان تھاسنجے وہ پہلا انسان تھاہستناپور میں جس نے قبل مسیحٹیلی ویژن بنایااور گھر بیٹھے اک اندھے راجہ کویدھ کا تماشہ دکھایاآدمی چاند پر آج اترا تو کیایہ ترقی نہیںاب سے پہلے، بہت پہلےجب ذرہ ٹوٹا نہ تھاچشمہ جوہر کا پھوٹا نہ تھافرش سے عرش تک جا چکا ہے کوئییہ اور ایسی بہت سی جہالت کی باتیںمیرے کاندھے پہ ہوتی ہیں
ہے کائنات مرے دل کی دھڑکنوں میں اسیرمیں ایک ذرہ بساط نظام شمسی پرمیں ایک نقطہ سر کائنات وہم و شعورایک قطرہ انا البحر ہے صدا میریمیں کائنات میں تنہا ہوں آفتاب کی طرحمرے لہو میں رواں وید بھی ہیں قرآں بھیشجر حجر بھی ہیں صحرا بھی ہیں گلستاں بھیکہ میں ہوں وارث تاریخ عصر انسانی
وید ان کے دل حق کیش کی تصویریں ہیںجلوۂ قدرت معبود کی تفسیریں ہیں
تھے پران و وید و گیتا کے مسائل جس قدرسلک رامائن میں رکھا تو نے سب کو باندھ کرجو خزانے تھے پرانے ان سے تھے ہم بے خبرآنکھیں تھیں لیکن نہ عظمت اپنی آتی تھی نظر
بہت دن سے وطن میں اک محاذ جنگ قائم ہےکہیں ہے دھرم کو خطرہ کہیں ایمان کو خطرہبپا ہے سخت طوفاں رونما ہیں سخت ہنگامےکہیں ہے وید کو خطرہ کہیں قرآن کو خطرہکہیں مسجد کو خطرہ ہے شوالے کے مہنتوں سےکہیں ہے خانقہ والوں سے دیو استھان کو خطرہکہیں مسلم کو خطرہ اپنے ایمانی تحفظ کاکہیں ہندو کے پوجا پاٹ کے سمان کو خطرہکہیں شدھی کے پرچارک کو خطرہ دھرم رکشا کاکہیں تبلیغ کے جھنڈے کی آن بان کو خطرہنہیں ہوتا کوئی ایسا منٹ چوبیس گھنٹے میںنہ رہتا ہو وطن والوں کے مال و جان کو خطرہیہ ساری پیش بندی ہے فقط اس بات کی خاطرکہ لاحق ہو نہ برٹش راج کے ایوان کو خطرہیہ ٹھیکیدار دین اور دھرم کے اس کے بھی ضامن ہیںنہ پیدا ہو مفاد اہل انگلستان کو خطرہیہ خانہ جنگیاں جتنی ہیں سب کا مدعا یہ ہےنہ ہرگز رونما ہو جان بل کی جان کو خطرہغلامان ازل یعنی یہ جھوٹے پیشوائے دیںلگا رہتا ہے ہر دم جن کے دسترخوان کو خطرہوہ کب چاہیں گے کوئی اس طرح کا انقلاب آئےکہ ہو محسوس ان کے امن و اطمینان کو خطرہہمارا فرض ہے ہم ان لفنگوں کو فنا کر دیںکہ ہے ان سب کے سب سے عام ہندوستان کو خطرہ
بلبل کے چہچہے میںغنچوں کے قہقہے میںرنگ گل چمن میںخوشبوئے یاسمن میںبستان پر فضا میںصرصر میں اور صبا میںدریا کے پانیوں میںاس کی روانیوں میںصحراؤں میں بھی ہوں میںپربت کی کندروں میںسورج میں چندرما میںانجم میں کہکشاں میںموتی کے جھلکنے میںہیرے کے دمکنے میںہر شمع انجمن میںپروانہ کی جلن میںطبلہ کی ہر صدا میںطبنور کی نوا میںعالم کی صورتوں میںمٹی کی مورتوں میںپھر قلب پارسا میںاور سینۂ صفا میںناقوس میں اذاں میںاور وید میں قرآں میںکاہن کی بنسری میںاور نغمۂ پوریؔ میں
اپنی تہذیب جسے لوگ بھلا بیٹھے تھےوید منتر سے وہی یاد دلاتا آیا
ہے دیامئے ہم کو شکتی اور ودیا دان کردور ہوں وپدا ہماری سب کا تو کلیان کربھید ذات اور پات کا اب تو مٹا دے ہند سےمیرے بھارت کی سبھی دیشوں میں اونچی شان کرہم دھرم پرسار میں سارے لگیں اے ایشورپھر سے سارے دیش میں پیدا اسی کا گیان کرکاٹ دے ہر دکھ کا بندھن ہو سدا تیری دیامیری اس بنتی پہ اے بھگون ذرا کچھ دھیان کروید کے امرت کو پی کر مکت ہو جائیں سبھیگیان سچا وید کا بیتابؔ کو بھی دان کر
ایک اچھی غذا ہے خربوزہایک سستی دوا ہے خربوزہپھل ہے بچو یہ گرم موسم کاجب کہ اس کا مزاج ہے ٹھنڈالوگ اس کو خرید لاتے ہیںاور کھا کر سکون پاتے ہیںبیج بھی اس کے کام آتے ہیںوید ان سے دوا بناتے ہیںیہ خدا کی ہے اک بڑی نعمتفائدے مند اور کم قیمت
(۳)نئے زمانے میں اگر اداس خود کو پاؤں گایہ شام یاد کر کے اپنے غم کو بھول جاؤں گاعیادت حبیب سے وہ آج زندگی ملیخوشی بھی چونک چوک اٹھی غم کی آنکھ کھل گئیاگرچہ ڈاکٹر نے مجھ کو موت سے بچا لیاپر اس کے بعد اس نگاہ نے مجھے جلا لیانگاہ یار تجھ سے اپنی منزلیں میں پاؤں گاتجھے جو بھول جاؤں گا تو راہ بھول جاؤں گا(۴)قریب تر میں ہو چلا ہوں دکھ کی کائنات سےمیں اجنبی نہیں رہا حیات سے ممات سےوہ دکھ سہے کہ مجھ پہ کھل گیا ہے درد کائناتہے اپنے آنسوؤں سے مجھ پہ آئینہ غم حیاتیہ بے قصور جان دار درد جھیلتے ہوئےیہ خاک و خوں کے پتلے اپنی جاں پہ کھیلتے ہوئےوہ زیست کی کراہ جس سے بے قرار ہے فضاوہ زندگی کی آہ جس سے کانپ اٹھتی ہے فضاکفن ہے آنسوؤں کا دکھ کی ماری کائنات پرحیات کیا انہیں حقیقتوں سے ہونا بے خبرجو آنکھ جاگتی رہی ہے آدمی کی موت پروہ ابر رنگ رنگ کو بھی دیکھتی ہے سادہ ترسکھا گیا دکھ مرا پرانی پیر جاننانگاہ یار تھی جہاں بھی آج میری رہنمایہی نہیں کہ مجھ کو آج زندگی نئی ملیحقیقت حیات مجھ پہ سو طرح سے کھل گئیگواہ ہے یہ شام اور نگاہ یار ہے گواہخیال موت کو میں اپنے دل میں اب نہ دوں گا راہجیوں گا ہاں جیوں گا اے نگاہ آشنائے یارسدا سہاگ زندگی ہے اور جہاں سدا بہار(۵)ابھی تو کتنے ناشنیدہ نغمۂ حیات ہیںابھی نہاں دلوں سے کتنے راز کائنات ہیںابھی تو زندگی کے نا چشیدہ رس ہیں سیکڑوںابھی تو ہاتھ میں ہم اہل غم کے جس ہیں سیکڑوںابھی وہ لے رہی ہیں میری شاعری میں کروٹیںابھی چمکنے والی ہے چھپی ہوئی حقیقتیںابھی تو بحر و بر پہ سو رہی ہیں میری وہ صدائیںسمیٹ لوں انہیں تو پھر وہ کائنات کو جگائیںابھی تو روح بن کے ذرے ذرے میں سماؤں گاابھی تو صبح بن کے میں افق پہ تھرتھراؤں گاابھی تو میری شاعری حقیقتیں لٹائے گیابھی مری صدائے درد اک جہاں پہ چھائے گیابھی تو آدمی اسیر دام ہے غلام ہےابھی تو زندگی صد انقلاب کا پیام ہےابھی تمام زخم و داغ ہے تمدن جہاںابھی رخ بشر پہ ہیں بہمیت کی جھائیاںابھی مشیتوں پہ فتح پا نہیں سکا بشرابھی مقدروں کو بس میں لا نہیں سکا بشرابھی تو اس دکھی جہاں میں موت ہی کا دور ہےابھی تو جس کو زندگی کہیں وہ چیز اور ہےابھی تو خون تھوکتی ہے زندگی بہار میںابھی تو رونے کی صدا ہے نغمۂ ستار میںابھی تو اڑتی ہیں رخ بہار پر ہوائیاںابھی تو دیدنی ہیں ہر چمن کی بے فضائیاںابھی فضائے دہر لے گی کروٹوں پہ کروٹیںابھی تو سوتی ہیں ہواؤں کی وہ سنسناہٹیںکہ جس کو سنتے ہی حکومتوں کے رنگ رخ اڑیںچپیٹیں جن کی سرکشوں کی گردنیں مروڑ دیںابھی تو سینۂ بشر میں سوتے ہیں وہ زلزلےکہ جن کے جاگتے ہی موت کا بھی دل دہل اٹھےابھی تو بطن غیب میں ہے اس سوال کا جوابخدائے خیر و شر بھی لا نہیں سکا تھا جس کی تابابھی تو گود میں ہیں دیوتاؤں کی وہ ماہ و سالجو دیں گے بڑھ کے برق طور سے حیات کو جلالابھی رگ جہاں میں زندگی مچلنے والی ہےابھی حیات کی نئی شراب ڈھلنے والی ہےابھی چھری ستم کی ڈوب کر اچھلنے والی ہےابھی تو حسرت اک جہان کی نکلنے والی ہےابھی گھن گرج سنائی دے گی انقلاب کیابھی تو گوش بر صدا ہے بزم آفتاب کیابھی تو پونجی واد کو جہان سے مٹانا ہےابھی تو سامراجوں کو سزائے موت پانا ہےابھی تو دانت پیستی ہے موت شہریاروں کیابھی تو خوں اتر رہا ہے آنکھوں میں ستاروں کیابھی تو اشتراکیت کے جھنڈے گڑنے والے ہیںابھی تو جڑ سے کشت و خوں کے نظم اکھڑنے والے ہیںابھی کسان و کامگار راج ہونے والا ہےابھی بہت جہاں میں کام کاج ہونے والا ہےمگر ابھی تو زندگی مصیبتوں کا نام ہےابھی تو نیند موت کی مرے لئے حرام ہےیہ سب پیام اک نگاہ میں وہ آنکھ دے گئیبہ یک نظر کہاں کہاں مجھے وہ آنکھ لے گئی
کسی رات کومیری نیند اچانک اچٹ جاتی ہےآنکھ کھل جاتی ہےمیں سوچنے لگتا ہوں کہ جن ویگیانکوں نے انو استروں کااوشکار کیا تھاوے ہیروشیما ناگا ساکی کےبھیشن نرسنہار کے سماچار سن کررات کو سوئے کیسے ہوں گے
روز آنسو بہے روز آہت ہوئےرات گھائل ہوئی دن دیونگت ہوئےہم جنہیں ہر گھڑی یاد کرتے رہےرکت من میں نئی پیاس بھرتے رہےروز جن کے ہردے میں اترتے رہےوے سبھی دن چتا کی لپٹ پر رکھےروز جلتے ہوئے آخری خط ہوئےدن دیونگت ہوئے
چوری ڈاکہ خون خرابہ نفرت اور فسادجب بھی نیتا بھاشن دیویں پھیلے جاتی وادگوتم اور نانک کی شکشا کس نے رکھی یاد
یوں تو ہر شاعر کی فطرت میں ہے کچھ دیوانگیغیر ذمہ داریاں ہیں اس کی جزو زندگیارض شعرستان میں یہ شاعرانہ خاصیتکینسر کی طرح سے جب پھیلنے بڑھنے لگیمختلف اسکول جب جنگی اکھاڑے بن گئےفکر و فن میں جب نراجی کیفیت پیدا ہوئیمملکت میں ضابطہ کوئی نہ جب باقی رہاہر جگہ قانون کی ہونے لگی بے حرمتیایک اک تک بند استادوں کے منہ آنے لگالکھ کے صبح و شام نظمیں بے تکی سے بے تکیکوڑے کرکٹ کی طرح ہر سو نظر آنے لگیںڈھیریاں ہی ڈھیریاں دیوان خاص و عام کیحد تو یہ ہے اہل مچھلی شہر بھی کرنے لگےماہی گیری چھوڑ کر دن رات فکر شاعریجن سے بحران غذا اسٹیٹ میں پیدا ہواقحط ماہی سے بڑھی ہر چار جانب بھک مریچند قومی درد رکھنے والے اہل الرائے سےقوم کی نا گفتہ بہ حالت نہ جب دیکھی گئیایک دستور العمل تیار کرنے کے لیےاک کمیٹی امنؔ صاحب کی صدارت میں بنیتاکہ اس پر چل کے نظم و ضبط آئے قوم میںتاکہ کچھ تو معتدل ہو شاعروں کی زندگیدوسرے کاموں میں بھی قومی انرجی صرف ہوتک فروشی کے علاوہ بھی تو مقصد ہو کوئیدور افلاطونؔ و تلسیؔ داس سے اقبالؔ تکہسٹری کل شاعروں کی اس کمیٹی نے پڑھیدوسرے ملکوں کے آئین و ضوابط میں جہاںجو مناسب بات تھی وہ چھانٹ کر رکھ لی گئیرات دن کی سخت محنت اور جاں سوزی کے بعداس کمیٹی نے رپورٹ اپنی بالآخر پیش کیخاکۂ دستور قومی یعنی وہ شعری رپورٹامنؔ صاحب نے رقم کی تھی بہ صنف مثنویاس پہ رائے عامہ معلوم کرنے کے لیےشاعروں کو نقل دستاویز کی بھیجی گئیمختلف اہل سخن نے اپنے اپنے طور پررائے دی دستور میں ترمیم یا تنسیخ کیمثنوی میں خامیاں ڈھونڈیں زباں کی جا بہ جاایک شاعر نے جو تھے شاگرد نوح نارویسیکڑوں مصرعے بدل کر رکھ دیے کچھ اس طرحنفس مضموں نذر ہو کر رہ گیا اصلاح کیان کا کہنا تھا کہ بندش چست ہونی چاہیےشعر کے اندر بلا سے ہو نہ فکری تازگینعت گو حضرات کا کہنا تھا شاعر کے لیےشرط اول ہے کہ ہو جائے وہ کٹر مذہبیعاقبت کی بات سوچے اور مناجاتیں لکھےاس کے جن میں کار آمد شاعری ہے بس وہیایسے شاعر جو کہ حامی تھے ترقی واد کےان کا کہنا تھا کہ شاعر کا سخن ہو مقصدییعنی پہلے سے مقرر کردہ موضوعات پرمملکت میں عام کی جائے شعوری شاعریخواہ شعرستان میں اس کا نہ ہو کوئی وجودلازماً دکھلائی جائے کشمکش طبقات کیاک قبیلہ جو مخالف تھا شعوری فکر کاتھا ترقی وادیوں سے جس کو بغض للہیاس قبیلے کا یہ کہنا تھا کہ شاعر کا کلاملازماً ہو اک معمہ قید معنی سے بریجس کو شاعر خود نہ سمجھے نظم کر لینے کے بعدجس کو پڑھ کر گم ہو عقل مولویٔ معنویدیکھ کر دستور میں نظم و نسق کا تذکرہسخت برہم ہو گئے کل شاعران نکسلیان کا نکتہ تھا کہ شاعر فطرتاً آزاد ہےاس پہ لگ سکتی نہیں پابندیاں تنظیم کیزندگی میں ضابطہ لانے کے بالکل تھے خلافساتھ نکسل وادیوں کے دوسرے حضرات بھیمختصر یہ ہے کہ سب نے رد کیا دستور کوساری محنت امنؔ صاحب کی اکارت ہو گئیدیکھ کر نا عاقبت اندیشئ اہل سخناس طرح گویا ہوئی ان کی مہذب خامشیمینڈکوں کو تولنا آساں نہیں ہے جس طرحشاعروں کو بھی منظم کرنا مشکل ہے یوں ہی
یوں ہی ای میل سے آ جاتے ہیں سادہ سے خطوطسادگی اتنی کہ خوشبو نہ وے رنگ لئےہاں وہی رنگ جو تیرے لب و رخسار کا ہےاب تو کاغذ پہ کوئی نقش ابھرتا ہی نہیںہاں وہی نقش تیرے مہندی لگے ہاتھوں کااب کسی حرف سے آتی نہیں خوشبو تیریکیسے الفاظ ہیں یہ جو تیری سانسوں کی مہکبن سمیٹے ہوئے چپ چاپ چلے آتے ہیںاتنی چپ چاپ کہ آہٹ بھی نہیں مل پاتیکم سے کم دیکھیے آواز دیا کرتا تھااور اب ہم یہاں لوگوں کیا کرتے ہیںخط کے پہلو میں اب آتا ہی نہیں زلف کا بالاب تو محسوس نہیں ہوتی زبان تسلیماب تو اسکرین پہ آداب لیا کرتے ہیںاب فقط ڈھونڈھ کے رہ جاتے ہیں صورت تیریاب تو بس تو ہی سمجھتا ہے ضرورت میریاے نئے دور یہ ای میل مبارک ہو تجھےیہ ترقی کا نیا طور مبارک ہو تجھےدل سلگتا ہے مگر دیکھ دھواں بھی تو نہیںہونٹ رکھوں تو کہاں پیروں کے نشاں بھی تو نہیںدل کے بہلانے کو ان باکس میں گھوم آتا ہوںعین ممکن ہے تیرا میل کوئی آیا ہوگرچہ آیا بھی تو معلوم ہے کیا لائے گااک تسلی تیرا پیغام کوئی لایا ہوجان کر زہر بھی ہم زہر پئے دیتے ہیںجانے کیوں پیج کو ریفریش کئے دیتے ہیںمیل کھلتے ہی میرا سارا بھرم ٹوٹ گیادیکھیے کیا تو ہمیشہ کہ لئے چھوٹ گیاتشنگی پھر سے وہی پھر سے وہی بے چینیہونٹ رکھوں تو کہاں پر کہ نشاں بھی تو نہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books