aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zaidii"
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہو جائیں کوئی اور تقاضہ نہ کریں
سب کہ سنتے رہوپیار کرتے رہو
میز چپ چاپ گھڑی بند کتابیں خاموشاپنے کمرے کی اداسی پہ ترس آتا ہے
یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میںاب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی
اس سے ملنا تو اس طرح کہناتجھ سے پہلے مری نگاہوں میں
وہ نہیں تھی تو دل اک شہر وفا تھا جس میںاس کے ہونٹوں کے تصور سے تپش آتی تھی
میری ہمدم، مرے خوابوں کی سنہری تعبیرمسکرا دے کہ مرے گھر میں اجالا ہو جائے
رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباسچاند کشکول گدائی کی طرح نادم ہے
آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نےجس سے اس شہر کے پھولوں کی مہک آتی تھی
بچو، ہم پر ہنسنے والو، آؤ، تمہیں سمجھائیںجس کے لیے اس حال کو پہنچے، اس کا نام بتائیں
فلک کا ایک تقاضا تھا ابن آدم سےسلگ سلگ کے رہے اور پلک جھپک نہ سکے
گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہونرم کلیوں پہ چڑھا دو غم دوراں کے غلاف
مرے وطن تری خدمت میں لے کر آیا ہوںجگہ جگہ کے طلسمات دیس دیس کے رنگ
جاگ اے نرم نگاہی کے پر اسرار سکوتآج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے
نگار شام غم میں تجھ سے رخصت ہونے آیا ہوںگلے مل لے کہ یوں ملنے کی نوبت پھر نہ آئے گی
چمک سکے جو مری زیست کے اندھیرے میںوہ اک چراغ کسی سمت سے ابھر نہ سکا
جہاں میں مثل علی اپنا نام پیدا کر''دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر''
مجھ کو محصور کیا ہے مری آگاہی نےمیں نہ آفاق کا پابند نہ دیواروں کا
صبا ہمارے رفیقوں سے جا کے یہ کہنابصد تشکر و اخلاص و حسن و خوش ادبی
دریدہ پیرہنی کل بھی تھی اور آج بھی ہےمگر وہ اور سبب تھا یہ اور قصہ ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books