aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "zarro.n"
گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستگر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ترے دل کی تھکنتری آنکھوں کی اداسی تیرے سینے کی جلنمیری دل جوئی مرے پیار سے مٹ جائے گیگر مرا حرف تسلی وہ دوا ہو جس سےجی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغتیری پیشانی سے ڈھل جائیں یہ تذلیل کے داغتیری بیمار جوانی کو شفا ہو جائےگر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوستروز و شب شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوںمیں تجھے گیت سناتا رہوں ہلکے شیریںآبشاروں کے بہاروں کے چمن زاروں کے گیتآمد صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیتتجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوںکیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسمگرم ہاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ہیںکیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوشدیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیںکس طرح عارض محبوب کا شفاف بلوریک بیک بادۂ احمر سے دہک جاتا ہےکیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہےیونہی گاتا رہوں گاتا رہوں تیری خاطرگیت بنتا رہوں بیٹھا رہوں تیری خاطرپر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیںنغمہ جراح نہیں مونس و غم خوار سہیگیت نشتر تو نہیں مرہم آزار سہیتیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوااور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیںاس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیںہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سوا
خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نےشعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نےشہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نےخواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے
ستم تو یہ ہے کہ دونوں کے مرغزاروں سےہوائے فتنہ و بوئے فساد آتی ہےالم تو یہ ہے کہ دونوں کو وہم ہے کہ بہارعدو کے خوں میں نہانے کے بعد آتی ہے
تم آج ہزاروں میل یہاں سے دور کہیں تنہائی میںیا بزم طرب آرائی میںمیرے سپنے بنتی ہوں گی بیٹھی آغوش پرائی میںاور میں سینے میں غم لے کر دن رات مشقت کرتا ہوںجینے کی خاطر مرتا ہوںاپنے فن کو رسوا کر کے اغیار کا دامن بھرتا ہوںمجبور ہوں میں مجبور ہو تم مجبور یہ دنیا ساری ہےتن کا دکھ من پر بھاری ہےاس دور میں جینے کی قیمت یا دار و رسن یا خواری ہےمیں دار و رسن تک جا نہ سکا تم جہد کی حد تک آ نہ سکیںچاہا تو مگر اپنا نہ سکیںہم تو دو ایسی روحیں ہیں جو منزل تسکیں پا نہ سکیںجینے کو جئے جاتے ہیں مگر سانسوں میں چتائیں جلتی ہیںخاموش وفائیں جلتی ہیںسنگین حقائق زاروں میں خوابوں کی ردائیں جلتی ہیںاور آج جب ان پیڑوں کے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیںپھر دو دل ملنے آئے ہیںپھر موت کی آندھی اٹھی ہے پھر جنگ کے بادل چھائے ہیںمیں سوچ رہا ہوں ان کا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہوان کا بھی جنوں ناکام نہ ہوان کے بھی مقدر میں لکھی اک خون میں لتھڑی شام نہ ہوسورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھےچاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے اب تک یاد مجھےہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکامگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائےہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملیانہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائےبہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کاکہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہو جائیںبہت دنوں سے یہ ہے خبط حکمرانوں کاکہ دور دور کے ملکوں میں قحط بو جائیںبہت دنوں سے جوانی کے خواب ویراں ہیںبہت دنوں سے ستم دیدہ شاہراہوں میںنگار زیست کی عصمت پناہ ڈھونڈھتی ہےچلو کہ آج سبھی پائمال روحوں سےکہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیںہمارا راز ہمارا نہیں سبھی کا ہےچلو کہ سارے زمانے کو رازداں کر لیںچلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیںکہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہےجسے لہو کے سوا کوئی رنگ راس نہ آئےہمیں حیات کے اس پیرہن سے نفرت ہےکہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیاتو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائے گیہر ایک موج ہوا رخ بدل کے جھپٹے گیہر ایک شاخ رگ سنگ ہوتی جائے گیاٹھو کہ آج ہر اک جنگ جو سے یہ کہہ دیںکہ ہم کو کام کی خاطر کلوں کی حاجت ہےہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیںہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہےکہو کہ اب کوئی تاجر ادھر کا رخ نہ کرےاب اس جگہ کوئی کنواری نہ بیچی جائے گییہ کھیت جاگ پڑے اٹھ کھڑی ہوئیں فصلیںاب اس جگہ کوئی کیاری نہ بیچی جائے گییہ سر زمین ہے گوتم کی اور نانک کیاس ارض پاک پہ وحشی نہ چل سکیں گے کبھیہمارا خون امانت ہے نسل نو کے لئےہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکیں گے کبھیکہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہےتو اس دمکتے ہوئے خاکداں کی خیر نہیںجنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاؤں سےزمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہیںگذشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیںگذشتہ جنگ میں پیکر جلے مگر اس بارعجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیںتصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
کہ جسم و جاں میں ابال آئےنہ خواب زاروں میں روشنی تھی
یا شاید ان ذروں میں کہیںموتی ہے تمہاری عزت کاوہ جس سے تمہارے عجز پہ بھیشمشاد قدوں نے رشک کیا
میں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہےرات کھلنے کا گلابوں سے مہک آنے کااوس کی بوندوں میں سورج کے سما جانے کاچاند سی مٹی کے ذروں سے صدا آنے کاشہر سے دور کسی گاؤں میں رہ جانے کاکھیت کھلیانوں میں باغوں میں کہیں گانے کاصبح گھر چھوڑنے کا دیر سے گھر آنے کابہتے جھرنوں کی کھنکتی ہوئی آوازوں کاچہچہاتی ہوئی چڑیوں سے لدی شاخوں کانرگسی آنکھوں میں ہنستی ہوئی نادانی کامسکراتے ہوئے چہرے کی غزل خوانی کاتیرا ہو جانے ترے پیار میں کھو جانے کاتیرا کہلانے کا تیرا ہی نظر آنے کامیں نے مدت سے کوئی خواب نہیں دیکھا ہےہاتھ رکھ دے مری آنکھوں پہ کہ نیند آ جائے
سوچتا ہوں کہ محبت ہے جوانی کی خزاںاس نے دیکھا نہیں دنیا میں بہاروں کے سوانکہت و نور سے لبریز نظاروں کے سواسبزہ زاروں کے سوا اور ستاروں کے سواسوچتا ہوں کہ غم دل نہ سناؤں اس کوسامنے اس کے کبھی راز کو عریاں نہ کروںخلش دل سے اسے دست و گریباں نہ کروںاس کے جذبات کو میں شعلہ بداماں نہ کروںسوچتا ہوں کہ جلا دے گی محبت اس کووہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گیخود تو وہ آتش جذبات میں جل جائے گیاور دنیا کو اس انجام پہ تڑپائے گیسوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہمیں اسے واقف الفت نہ کروں
عروس شب کی زلفیں تھیں ابھی ناآشنا خم سےستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سےقمر اپنے لباس نو میں بیگانہ سا لگتا تھانہ تھا واقف ابھی گردش کے آئین مسلم سےابھی امکاں کے ظلمت خانے سے ابھری ہی تھی دنیامذاق زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سےکمال نظم ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویاہویدا تھی نگینے کی تمنا چشم خاتم سےسنا ہے عالم بالا میں کوئی کیمیا گر تھاصفا تھی جس کی خاک پا میں بڑھ کر ساغر جم سےلکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسیر کا نسخہچھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سےنگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیا گر کیوہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سےبڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانبتمنائے دلی آخر بر آئی سعی پیہم سےپھرایا فکر اجزا نے اسے میدان امکاں میںچھپے گی کیا کوئی شے بارگاہ حق کے محرم سےچمک تارے سے مانگی چاند سے داغ جگر مانگااڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زلف برہم سےتڑپ بجلی سے پائی حور سے پاکیزگی پائیحرارت لی نفس ہائے مسیح ابن مریم سےذرا سی پھر ربوبیت سے شان بے نیازی لیملک سے عاجزی افتادگی تقدیر شبنم سےپھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میںمرکب نے محبت نام پایا عرش اعظم سےمہوس نے یہ پانی ہستئ نوخیز پر چھڑکاگرہ کھولی ہنر نے اس کے گویا کار عالم سےہوئی جنبش عیاں ذروں نے لطف خواب کو چھوڑاگلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہم دم سےخرام ناز پایا آفتابوں نے ستاروں نےچٹک غنچوں نے پائی داغ پائے لالہ زاروں نے
ڈوبتا ہے خاک میں جو روح دوڑاتا ہوامضمحل ذروں کی موسیقی کو چونکاتا ہوا
ہماری پیاری زبان اردوہماری نغموں کی جان اردوحسین دل کش جوان اردوزبان وہ دھل کے جس کو گنگا کے جل سے پاکیزگی ملی ہےاودھ کی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے جس کے دل کی کلی کھلی ہےجو شعر و نغمہ کے خلد زاروں میں آج کوئل سی کوکتی ہے
میرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنگل پوش تیری وادیاںفرحت نشاں راحت رساںتیرے چمن زاروں پہ ہےگلزار جنت کا گماںہر شاخ پھولوں کی چھڑیہر نخل طوبیٰ ہے یہاںکوثر کے چشمے جا بجاتسنیم ہر آب رواںہر برگ روح تازگیہر پھول جان گلستاںہر باغ باغ دلکشیہر باغ باغ بے خزاںدل کش چراگاہیں تریڈھوروں کے جن میں کارواںانجم صفت گلہائے نوہر تختۂ گل آسماںنقش ثریا جا بجاہر ہر روش اک کہکشاںتیری بہاریں دائمیتیری بہاریں جاوداںتجھ میں ہے روح زندگیپیہم رواں پیہم دواںدریا وہ تیرے تند خوجھیلیں وہ تیری بے کراںشام اودھ کے لب پہ ہےحسن ازل کی داستاںکہتی ہے راز سرمدیصبح بنارس کی زباںاڑتا ہے ہفت افلاک پران کارخانوں کا دھواںجن میں ہیں لاکھوں محنتیصنعت گری کے پاسباںتیری بنارس کی زریرشک حریر و پرنیاںبیدر کی فن کاری میں ہیںصنعت کی سب باریکیاںعظمت ترے اقبال کیتیرے پہاڑوں سے عیاںدریاؤں کا پانی، تریتقدیس کا اندازہ داںکیا بھارتیندوؔ نے کیاگنگا کی لہروں کا بیاںاقبالؔ اور چکبستؔ ہیںعظمت کے تیری نغمہ خواںجوشؔ و فراقؔ و پنتؔ ہیںتیرے ادب کے ترجماںتلسیؔ و خسروؔ ہیں تیریتعریف میں رطب اللساںگاتے ہیں نغمہ مل کے سباونچا رہے تیرا نشاںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتیرے نظاروں کے نگیںدنیا کی خاتم میں نہیںسارے جہاں میں منتخبکشمیر کی ارض حسیںفطرت کا رنگیں معجزہفردوس بر روئے زمیںفردوس بر روئے زمیںہاں ہاں ہمیں است و ہمیںسر سبز جس کے دشت ہیںجس کے جبل ہیں سرمگیںمیوے بہ کثرت ہیں جہاںشیریں مثال انگبیںہر زعفراں کے پھول میںعکس جمال حورعیںوہ مالوے کی چاندنیگم جس میں ہوں دنیا و دیںاس خطۂ نیرنگ میںہر اک فضا حسن آفریںہر شے میں حسن زندگیدل کش مکاں دل کش زمیںہر مرد مرد خوب روہر ایک عورت نازنیںوہ تاج کی خوش پیکریہر زاویے سے دل نشیںصنعت گروں کے دور کیاک یادگار مرمریںہوتی ہے جو ہر شام کوفیض شفق سے احمریںدریا کی موجوں سے الگیا اک بط نظارہ بیںیا طائر نوری کوئیپرواز کرنے کے قریںیا اہل دنیا سے الگاک عابد عزلت گزیںنقش اجنتا کی قسمجچتا نہیں ارژنگ چیںشان ایلورا دیکھ کرجھکتی ہے آذر کی جبیںچتوڑ ہو یا آگرہایسے نہیں قلعے کہیںبت گر ہو یا نقاش ہوتو سب کی عظمت کا امیںمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطندل کش ترے دشت و چمنرنگیں ترے شہر و چمنتیرے جواں رعنا جواںتیرے حسیں گل پیرہناک انجمن دنیا ہے یہتو اس میں صدر انجمنتیرے مغنی خوش نواشاعر ترے شیریں سخنہر ذرہ اک ماہ مبیںہر خار رشک نستریںغنچہ ترے صحرا کا ہےاک نافۂ مشک ختنکنکر ہیں تیرے بے بہاپتھر ترے لعل یمنبستی سے جنگل خوب ترباغوں سے حسن افروز بنوہ مور وہ کبک دریوہ چوکڑی بھرتے ہرنرنگیں ادا وہ تتلیاںبابنی میں وہ ناگوں کے پھنوہ شیر جن کے نام سےلرزے میں آئے اہرمنکھیتوں کی برکت سے عیاںفیضان رب ذو المننچشموں کے شیریں آب سےلذت کشاں کام و دہنتابندہ تیرا عہد نوروشن ترا عہد کہنکتنوں نے تجھ پر کر دیاقربان اپنا مال دھنکتنے شہیدوں کو ملےتیرے لیے دار و رسنکتنوں کو تیرا عشق تھاکتنوں کو تھی تیری لگنتیرے جفا کش محنتیرکھتے ہیں عزم کوہ کنتیرے سپاہی سورمابے مثل یکتائے زمنبھیشمؔ سا جن میں حوصلہارجنؔ سا جن میں بانکپنعالم جو فخر علم ہیںفن کار نازاں جن پہ فنرائےؔ و بوسؔ و شیرؔگلدنکرؔ، جگرؔ متھلیؔ شرنولاٹھولؔ، ماہرؔ، بھارتیبچنؔ، مہادیویؔ، سمنؔکرشننؔ، نرالاؔ، پریمؔ چندٹیگورؔ و آزادؔ و رمنؔمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنکھیتی تری ہر اک ہریدل کش تری خوش منظریتیری بساط خاک کےذرے ہیں مہر و مشتریجہلم کاویری ناگ وہگنگا کی وہ گنگوتریوہ نربدا کی تمکنتوہ شوکت گوداوریپاکیزگی سرجو کی وہجمنا کی وہ خوش گوہریدلربہ آب نیلگوںکشمیر کی نیلم پریدل کش پپیہے کی صداکوئل کی تانیں مد بھریتیتر کا وہ حق سرہطوطی کا وہ ورد ہریصوفی ترے ہر دور میںکرتے رہے پیغمبریچشتیؔ و نانکؔ سے ملیفقر و غنا کو برتریعدل جہانگیری میں تھیمضمر رعایا پروریوہ نورتن جن سے ہوئیتہذیب دور اکبریرکھتے تھے افغان و مغلاک صولت اسکندریراناؤں کے اقبال کیہوتی ہے کس سے ہم سریساونت وہ یودھا ترےتیرے جیالے وہ جرینیتی ودر کی آج تککرتی ہے تیری رہبریاب تک ہے مشہور زماںچانکیہؔ کی دانش وریویاس اور وشوامتر سےمنیوں کی شان قیصریپاتنجلی و سانکھ سےرشیوں کی حکمت پروریبخشے تجھے انعام نوہر دور چرخ چنبریخوش گوہری دے آب کواور خاک کو خوش جوہریذروں کو مہر افشانیاںقطروں کو دریا گستریمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطنتو رہبر نوع بشرتو امن کا پیغام برپالے ہیں تو نے گود میںصاحب خرد صاحب نظرافضل تریں ان سب میں ہےباپو کا نام معتبرہر لفظ جس کا دل نشیںہر بات جس کی پر اثرجس نے لگایا دہر میںنعرہ یہ بے خوف و خطربے کار ہیں تیر و سناںبے سود ہیں تیغ و تبرہنسا کا رستہ جھوٹ ہےحق ہے اہنسا کی ڈگردرماں ہے یہ ہر درد کایہ ہر مرض کا چارہ گرجنگاہ عالم میں کوئیاس سے نہیں بہتر سپرکرتا ہوں میں تیرے لیےاب یہ دعائے مختصررونق پہ ہوں تیرے چمنسرسبز ہوں تیرے شجرنخل امید بہتریہر فصل میں ہو بارورکوشش ہو دنیا میں کوئیخطہ نہ ہو زیر و زبرتیرا ہر اک باسی رہےنیکو صفت نیکو سیرہر زن سلیقہ مند ہوہر مرد ہو صاحب ہنرجب تک ہیں یہ ارض و فلکجب تک ہیں یہ شمس و قمرمیرے وطن، پیارے وطنراحت کے گہوارے وطنہر دل کے اجیارے وطنہر آنکھ کے تارے وطن
اے وطن پاک وطن روح روان احراراے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہاراے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقاراے کہ ہر خار ترا رو کش صد روئے نگارریزے الماس کے تیرے خس و خاشاک میں ہیںہڈیاں اپنے بزرگوں کی تری خاک میں ہیں
انہی ذروں سے ابھر آئیں گے کتنے مہ و مہراسی عالم سے سنور جائیں گے عالم کتنے
کالے کوس غم الفت کے اور میں نان شبینہ جوکبھی چمن زاروں میں الجھا اور کبھی گندم کی بوناقۂ مشک تتاری بن کر لیے پھری مجھ کو ہر سویہی حیات صاعقہ فطرت بنی تعطل کبھی نموکبھی کیا رم عشق سے ایسے جیسے کوئی وحشی آہواور کبھی مر مر کے سحر کی اس آباد خرابے میںدیکھو ہم کیسے بسر کی اس آباد خرابے میں
رقص کرتی ہوئی بہاروں میںخون آشام خار زاروں میں
پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئینیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئیڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتیوادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئیتیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیںآندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئیجیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیتایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئینونہالوں کو سناتی میٹھی میٹھی لوریاںنازنینوں کو سنہرے خواب دکھلاتی ہوئیٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتیسر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئیناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو پیچ و خماک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئیرات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتیپٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئیجیسے آدھی رات کو نکلی ہو اک شاہی براتشادیانوں کی صدا سے وجد میں آتی ہوئیمنتشر کر کے فضا میں جا بجا چنگاریاںدامن موج ہوا میں پھول برساتی ہوئیتیز تر ہوتی ہوئی منزل بمنزل دم بہ دمرفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئیسینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیارایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئیاک ستارہ ٹوٹ کر جیسے رواں ہو عرش سےرفعت کہسار سے میدان میں آتی ہوئیاک بگولے کی طرح بڑھتی ہوئی میدان میںجنگلوں میں آندھیوں کا زور دکھلاتی ہوئیرعشہ بر اندام کرتی انجم شب تاب کوآشیاں میں طائر وحشی کو چونکاتی ہوئییاد آ جائے پرانے دیوتاؤں کا جلالان قیامت خیزیوں کے ساتھ بل کھاتی ہوئیایک رخش بے عناں کی برق رفتاری کے ساتھخندقوں کو پھاندتی ٹیلوں سے کتراتی ہوئیمرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خراموادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئیاک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلکاک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئیجستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ واراپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئیچھیڑتی اک وجد کے عالم میں ساز سرمدیغیظ کے عالم میں منہ سے آگ برساتی ہوئیرینگتی مڑتی مچلتی تلملاتی ہانپتیاپنے دل کی آتش پنہاں کو بھڑکاتی ہوئیخودبخود روٹھی ہوئی بپھری ہوئی بکھری ہوئیشور پیہم سے دل گیتی کو دھڑکاتی ہوئیپل پہ دریا کے دما دم کوندتی للکارتیاپنی اس طوفان انگیزی پہ اتراتی ہوئیپیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماںساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئیمنہ میں گھستی ہے سرنگوں کے یکایک دوڑ کردندناتی چیختی چنگھاڑتی گاتی ہوئیآگے آگے جستجو آمیز نظریں ڈالتیشب کے ہیبت ناک نظاروں سے گھبراتی ہوئیایک مجرم کی طرح سہمی ہوئی سمٹی ہوئیایک مفلس کی طرح سردی میں تھراتی ہوئیتیزئی رفتار کے سکے جماتی جا بجادشت و در میں زندگی کی لہر دوڑاتی ہوئیڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاباک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئیصفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوشحال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئیڈالتی بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظرکوہ پر ہنستی فلک کو آنکھ دکھلاتی ہوئیدامن تاریکئ شب کی اڑاتی دھجیاںقصر ظلمت پر مسلسل تیر برساتی ہوئیزد میں کوئی چیز آ جائے تو اس کو پیس کرارتقائے زندگی کے راز بتلاتی ہوئیزعم میں پیشانی صحرا پہ ٹھوکر مارتیپھر سبک رفتاریوں کے ناز دکھلاتی ہوئیایک سرکش فوج کی صورت علم کھولے ہوئےایک طوفانی گرج کے ساتھ ڈراتی ہوئیایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکارعظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئیہر قدم پر توپ کی سی گھن گرج کے ساتھ ساتھگولیوں کی سنسناہٹ کی صدا آتی ہوئیوہ ہوا میں سیکڑوں جنگی دہل بجتے ہوئےوہ بگل کی جاں فزا آواز لہراتی ہوئیالغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطرشاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سےبھلایا قصۂ پیمان اولیں میں نےلگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میںپیا شعور کا جب جام آتشیں میں نےرہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کودکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نےملا مزاج تغیر پسند کچھ ایساکیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نےنکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھیکبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نےکبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچاچھپایا نور ازل زیر آستیں میں نےکبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایاکیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نےکبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوںدیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نےسنایا ہند میں آ کر سرود ربانیپسند کی کبھی یوناں کی سرزمیں میں نےدیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنیبسایا خطۂ جاپان و ملک چیں میں نےبنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالمخلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نےلہو سے لال کیا سیکڑوں زمینوں کوجہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نےسمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کیاسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نےڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریںسکھایا مسئلہ گردش زمیں میں نےکشش کا راز ہویدا کیا زمانے پرلگا کے آئینہ عقل دوربیں میں نےکیا اسیر شعاعوں کو برق مضطر کوبنا دی غیرت جنت یہ سرزمیں میں نےمگر خبر نہ ملی آہ راز ہستی کیکیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نےہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخرتو پایا خانۂ دل میں اسے مکیں میں نے
چھٹپٹے کے غرفے میںلمحے اب بھی ملتے ہیںصبح کے دھندلکے میںپھول اب بھی کھلتے ہیںاب بھی کوہساروں پرسر کشیدہ ہریالیپتھروں کی دیواریںتوڑ کر نکلتی ہےاب بھی آب زاروں پرکشتیوں کی صورت میںزیست کی توانائیزاویے بدلتی ہےاب بھی گھاس کے میداںشبنمی ستاروں سےمیرے خاکداں پر بھیآسماں سجاتے ہیںاب بھی کھیت گندم کےتیز دھوپ میں تپ کراس غریب دھرتی کوزر فشاں بناتے ہیںسائے اب بھی چلتے ہیںسورج اب بھی ڈھلتا ہےصبحیں اب بھی روشن ہیںراتیں اب بھی کالی ہیںذہن اب بھی چٹیل ہیںروحیں اب بھی بنجر ہیںجسم اب بھی ننگے ہیںہاتھ اب بھی خالی ہیںاب بھی سبز فصلوں میںزندگی کے رکھوالےزرد زرد چہروں پرخاک اوڑھے رہتے ہیںاب بھی ان کی تقدیریںمنقلب نہیں ہوتیںمنقلب نہیں ہوں گیکہنے والے کہتے ہیںگردشوں کی رعنائیعام ہی نہیں ہوتیاپنے روز اول کیشام ہی نہیں ہوتی
لکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنتیرے گہوارۂ آغوش میں اے جان بہاراپنی دنیائے حسیں دفن کیے جاتا ہوںتو نے جس دل کو دھڑکنے کی ادا بخشی تھیآج وہ دل بھی یہیں دفن کیے جاتا ہوںدفن ہے دیکھ مرا عہد بہاراں تجھ میںدفن ہے دیکھ مری روح گلستاں تجھ میںمیری گل پوش جواں سال امنگوں کا سہاگمیری شاداب تمنا کے مہکتے ہوئے خوابمیری بیدار جوانی کے فروزاں مہ و سالمیری شاموں کی ملاحت مری صبحوں کا جمالمیری محفل کا فسانہ مری خلوت کا فسوںمیری دیوانگئ شوق مرا ناز جنوںمیرے مرنے کا سلیقہ مرے جینے کا شعورمیرا ناموس وفا میری محبت کا غرورمیری نبضوں کا ترنم مرے نغموں کی پکارمیرے شعروں کی سجاوٹ مرے گیتوں کا سنگارلکھنؤ اپنا جہاں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا ہر خواب جواں سونپ چلا ہوں تجھ کواپنا سرمایۂ جاں سونپ چلا ہوں تجھ کولکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطنیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادفن ہیں اس میں محبت کے خزانے کتنےایک عنوان میں مضمر ہیں فسانے کتنےاک بہن اپنی رفاقت کی قسم کھائے ہوئےایک ماں مر کے بھی سینے میں لیے ماں کا گدازاپنے بچوں کے لڑکپن کو کلیجے سے لگائےاپنے کھلتے ہوئے معصوم شگوفوں کے لیےبند آنکھوں میں بہاروں کے جواں خواب بسائےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہاایک ساتھی بھی تہ خاک یہاں سوتی ہےعرصۂ دہر کی بے رحم کشاکش کا شکارجان دے کر بھی زمانے سے نہ مانے ہوئے ہاراپنے تیور میں وہی عزم جواں سال لیےیہ مرے پیار کا مدفن ہی نہیں ہے تنہادیکھ اک شمع سر راہ گزر چلتی ہےجگمگاتا ہے اگر کوئی نشان منزلزندگی اور بھی کچھ تیز قدم چلتی ہےلکھنؤ میرے وطن مرے چمن زار وطندیکھ اس خواب گہ ناز پہ کل موج صبالے کے نو روز بہاراں کی خبر آئے گیسرخ پھولوں کا بڑے ناز سے گوندھے ہوئے ہارکل اسی خاک پہ گل رنگ سحر آئے گیکل اسی خاک کے ذروں میں سما جائے گا رنگکل مرے پیار کی تصویر ابھر آئے گیاے مری روح چمن خاک لحد سے تیریآج بھی مجھ کو ترے پیار کی بو آتی ہےزخم سینے کے مہکتے ہیں تری خوشبو سےوہ مہک ہے کہ مری سانس گھٹی جاتی ہےمجھ سے کیا بات بنائے گی زمانے کی جفاموت خود آنکھ ملاتے ہوئے شرماتی ہےمیں اور ان آنکھوں سے دیکھوں تجھے پیوند زمیںاس قدر ظلم نہیں ہائے نہیں ہائے نہیںکوئی اے کاش بجھا دے مری آنکھوں کے دیےچھین لے مجھ سے کوئی کاش نگاہیں میریاے مری شمع وفا اے مری منزل کے چراغآج تاریک ہوئی جاتی ہیں راہیں میریتجھ کو روؤں بھی تو کیا روؤں کہ ان آنکھوں میںاشک پتھر کی طرح جم سے گئے ہیں میرےزندگی عرصہ گہ جہد مسلسل ہی سہیایک لمحے کو قدم تھم سے گئے ہیں میرےپھر بھی اس عرصہ گہ جہد مسلسل سے مجھےکوئی آواز پہ آواز دئیے جاتا ہےآج سوتا ہی تجھے چھوڑ کے جانا ہوگاناز یہ بھی غم دوراں کا اٹھانا ہوگازندگی دیکھ مجھے حکم سفر دیتی ہےاک دل شعلہ بجاں ساتھ لیے جاتا ہوںہر قدم تو نے کبھی عزم جواں بخشا تھا!میں وہی عزم جواں ساتھ لیے جاتا ہوںچوم کر آج تری خاک لحد کے ذرےان گنت پھول محبت کے چڑھاتا جاؤںجانے اس سمت کبھی میرا گزر ہو کہ نہ ہوآخری بار گلے تجھ کو لگاتا جاؤںلکھنؤ میرے وطن میرے چمن زار وطندیکھ اس خاک کو آنکھوں میں بسا کر رکھنااس امانت کو کلیجے سے لگا کر رکھنا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books