گیا شیطان مارا ایک سجدے کے نہ کرنے میں
اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا
بہت شرمندہ ہوں ابلیس سے میں
خطا میری سزا اس کو ملی ہے
کتنی دشوار ہے پیران حرم کی منزل
اس طرف فتنۂ ابلیس ادھر رب جلیل
تیرا آدھا کام خود انسان ہی کرنے لگے
کام تیرا اب تو اے شیطان آدھا رہ گیا
-
موضوعات : طنزاور 1 مزید
جو منہ دکھائی کی رسموں پہ ہے مصر ابلیس
چھپیں گی حضرت حوا کی بیٹیاں کب تک
سر اپنا اٹھا سکتا نہیں کوئی بھی ابلیس
مل جائے اگر فقر کی تلوار مجھے بھی
جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے
یا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا خدا ہے
ہمسائے میں شیطان بھی رہتا ہے خدا بھی
جنت بھی میسر ہے جہنم کی ہوا بھی
کھلا یہ آدم و ابلیس کے فسانے سے
کہ یہ جہان بنا ہے فریب کھانے سے
ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے
میں کیوں نہ کہوں مجھ سے بھی ہیں خام فرشتے
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
ابلیس خندہ زن ہے مذاہب کی لاش پر
پیغمبران دہر کی پیغمبری کی خیر
کہہ رہا ابلیس اب شیطان سے
فکر فردا چھین اس انسان سے