جدائی پر تصویری شاعری

معشوق کا فراق اور اس

سے جدائی عاشق کیلئے تقریبا ایک مستقل کیفیت ہے ۔ وہ عشق میں ایک ایسے ہجر کو گزار رہا ہوتا ہے جس کا کوئی انجام نہیں ہوتا ۔ یہ تصور اردو کی کلاسیکی شاعری کا بہت بنیادی تصور ہے ۔ شاعروں نے ہجر وفراق کی اس کہانی کو بہت طول دیا ہے اور نئے نئے مضامین پیدا کئے ہیں ۔ جدائی کے لمحات ہم سب کے اپنے گزارے ہوئے اور جئے ہوئے لمحات ہیں اس لئے ان شعروں میں ہم خود اپنی تلاش کرسکتے ہیں ۔

روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات (ردیف .. ا)

اسی مقام پہ کل مجھ کو دیکھ کر تنہا (ردیف .. ے)

روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات (ردیف .. ا)

آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت (ردیف .. ی)

آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت (ردیف .. ی)

اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو

زندگی کاوش باطل ہے مرا ساتھ نہ چھوڑ

وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے

وہ آ رہے ہیں وہ آتے ہیں آ رہے ہوں گے

آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت (ردیف .. ی)

آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت (ردیف .. ی)

اب جدائی کے سفر کو مرے آسان کرو

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم (ردیف .. ی)

ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم (ردیف .. ی)

تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب

بولیے