Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دلّی پر منتخب اشعار

شاعروں نے دلی کو عالم میں انتخاب ایک شہر بھی باندھا ہے اور بھی طرح طرح سے اس کے قصیدے پڑھے گئے ہیں لیکن تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب اس شہر کی ساری رونقیں ختم کر دی گئیں ، اس کے گلی کوچے ویران ہو گئے اور اس کی ادبی وتہذیبی مرکزیت ختم ہوگئی، بے حالی کے عالم میں لوگ یہاں سے ہجرت کر گئے اور پورے شہر پر ایک مردمی چھا گئی۔ اس صورتحال نے سب سے زیادہ گہرا اور دیر پا اثر تخلیق کاروں پر چھوڑا ۔ شاعروں نے دلی کو موضوع بنا کر جو شعر کہے وہ بیشتر دلی کی اس صورتحال کا نوحہ ہیں ۔

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں

تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

میر تقی میر

دل کی بستی پرانی دلی ہے

جو بھی گزرا ہے اس نے لوٹا ہے

بشیر بدر

ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن

کون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر

شیخ ابراہیم ذوقؔ

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور

کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے

میر تقی میر

چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے

جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے

ملک زادہ منظور احمد

دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے

جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی

میر تقی میر

اے وائے انقلاب زمانے کے جور سے

دلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئی

بہادر شاہ ظفر

دلی کہاں گئیں ترے کوچوں کی رونقیں

گلیوں سے سر جھکا کے گزرنے لگا ہوں میں

جاں نثار اختر

اے مصحفیؔ تو ان سے محبت نہ کیجیو

ظالم غضب ہی ہوتی ہیں یہ دلی والیاں

مصحفی غلام ہمدانی

جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی

یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں

کیف بھوپالی

دلی میں اپنا تھا جو کچھ اسباب رہ گیا

اک دل کو لے کے آئے ہیں اس سرزمیں سے ہم

مصحفی غلام ہمدانی

اے صبا میں بھی تھا آشفتہ سروں میں یکتا

پوچھنا دلی کی گلیوں سے مرا نام کبھی

حسن نعیم

تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ

نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز

الطاف حسین حالی

کیوں متاع دل کے لٹ جانے کا کوئی غم کرے

شہر دلی میں تو ایسے واقعے ہوتے رہے

زبیر رضوی

دل ربا تجھ سا جو دل لینے میں عیاری کرے

پھر کوئی دلی میں کیا دل کی خبرداری کرے

عبدالرحمان احسان دہلوی

دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں

ویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

دل مرا جلوۂ عارض نے بہلنے نہ دیا

چاندنی چوک سے زخمی کو نکلنے نہ دیا

نامعلوم

ہمیں ہیں موجب باب فصاحت حضرت شاعرؔ

زمانہ سیکھتا ہے ہم سے ہم وہ دلی والے ہیں

آغا شاعر قزلباش

ارض دکن میں جان تو دلی میں دل بنی

اور شہر لکھنؤ میں حنا بن گئی غزل

گنیش بہاری طرز

دلی پہ رونا آتا ہے کرتا ہوں جب نگاہ

میں اس کہن خرابے کی تعمیر کی طرف

مصحفی غلام ہمدانی

دلی میں درد دل کوں کوئی پوچھتا نہیں

مجھ کوں قسم ہے خواجہ قطب کے مزار کی

آبرو شاہ مبارک

پگڑی اپنی یہاں سنبھال چلو

اور بستی نہ ہو یہ دلی ہے

شیخ ظہور الدین حاتم
بولیے