Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے : میر تقی میر

میرتقی میر کی پیدائش کےتین سو سال پورےہونےوالے ہیں اور اس موقع پر ریختہ کی جانب سے ایک ہفتےتک ان کی زندگی اور شاعری کو یاد کر کے ہیش ٹیگ " Z ikreMeer"کے نام سے انہیں خراج پیش کیا جاتا رہےگا ۔اس سلسلے کی پہلی کڑی میں میرصاحب کے چند مشہور اشعار کا کلیکشن حاضر خدمت ہے ۔

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

میر تقی میر

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ

میر تقی میر

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

میر تقی میر

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو

دیر سے انتظار ہے اپنا

میر تقی میر

دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا

ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے

میر تقی میر

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

میر تقی میر

گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر

یہ ہماری زبان ہے پیارے

میر تقی میر

ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھ

لے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھ

میر تقی میر

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت

اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

میر تقی میر

کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک

مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

میر تقی میر

جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میرؔ زبس

ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے

میر تقی میر

اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں

میر تقی میر

مصائب اور تھے پر دل کا جانا

عجب اک سانحہ سا ہو گیا ہے

میر تقی میر

ہم فقیروں سے بے ادائی کیا

آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا

میر تقی میر

ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہل

چاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی

میر تقی میر

کچھ ہو رہے گا عشق و ہوس میں بھی امتیاز

آیا ہے اب مزاج ترا امتحان پر

میر تقی میر

بال و پر بھی گئے بہار کے ساتھ

اب توقع نہیں رہائی کی

میر تقی میر

عالم عالم عشق و جنوں ہے دنیا دنیا تہمت ہے

دریا دریا روتا ہوں میں صحرا صحرا وحشت ہے

میر تقی میر

عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارا

اس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں

میر تقی میر

کہنا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منہ

کل میر کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا

میر تقی میر
بولیے