Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Bakhsh Layalpuri's Photo'

بخش لائلپوری

1934 - 2002 | لندن, برطانیہ

ترقی پسند فکر کے حامل عوامی شاعر، برطانیہ کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر رہے

ترقی پسند فکر کے حامل عوامی شاعر، برطانیہ کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر رہے

بخش لائلپوری کے اشعار

2.8K
Favorite

باعتبار

ہمارے خواب چوری ہو گئے ہیں

ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے

کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا

زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا

درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں

سایۂ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے

کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہے

پریشانی کی رت جاتی نہیں ہے

اہل زر نے دیکھ کر کم ظرفئ اہل قلم

حرص زر کے ہر ترازو میں سخن ور رکھ دیے

وہی پتھر لگا ہے میرے سر پر

ازل سے جس کو سجدے کر رہا ہوں

گھر بھی ویرانہ لگے تازہ ہواؤں کے بغیر

باد خوش رنگ چلے دشت بھی گھر لگتا ہے

پلٹ گئے جو پرندے تو پھر گلہ کیا ہے

ہر ایک شاخ شجر پر بچھے ہیں جال بہت

حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا

وہ روشنی تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا

کسی بھی پیاس کے مارے کی پیاس بجھ نہ سکی

سمندروں میں تو آتے رہے اچھال بہت

جن کو اپنے دیس میں آتی نہ تھی اپنی زباں

وہ نکالیں اب کئی اخبار لندن شہر میں

گریز پا ہے جو مجھ سے ترا وصال تو کیا

مرا جنوں بھی ہے آمادۂ زوال بہت

Recitation

بولیے