بخش لائلپوری کے اشعار
ہمارے خواب چوری ہو گئے ہیں
ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے
کبھی آنکھوں پہ کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا
زندگی تلخ سہی دل سے لگائے رکھنا
درد ہجرت کے ستائے ہوئے لوگوں کو کہیں
سایۂ در بھی نظر آئے تو گھر لگتا ہے
کوئی شے دل کو بہلاتی نہیں ہے
پریشانی کی رت جاتی نہیں ہے
اہل زر نے دیکھ کر کم ظرفئ اہل قلم
حرص زر کے ہر ترازو میں سخن ور رکھ دیے
وہی پتھر لگا ہے میرے سر پر
ازل سے جس کو سجدے کر رہا ہوں
گھر بھی ویرانہ لگے تازہ ہواؤں کے بغیر
باد خوش رنگ چلے دشت بھی گھر لگتا ہے
پلٹ گئے جو پرندے تو پھر گلہ کیا ہے
ہر ایک شاخ شجر پر بچھے ہیں جال بہت
حصول منزل جاں کا ہنر نہیں آیا
وہ روشنی تھی کہ کچھ بھی نظر نہیں آیا
کسی بھی پیاس کے مارے کی پیاس بجھ نہ سکی
سمندروں میں تو آتے رہے اچھال بہت
گریز پا ہے جو مجھ سے ترا وصال تو کیا
مرا جنوں بھی ہے آمادۂ زوال بہت