166
Favorite

باعتبار

پہلے کیا تھا جو کیا کرتے تھے تعریف مری

اب ہوا کیا جو برا ہو گیا اچھا ہو کر

ہوا ہے عشق میں کم حسن اتفاق ایسا

کہ دل کو یار تو دل یار کو پسند ہوا

آپ کو کھو کے تم کو ڈھونڈھ لیا

حوصلہ تھا یہ میرے ہی دل کا

نہیں ہے فرصت یہیں کے جھگڑوں سے فکر عقبیٰ کہاں کی واعظ

عذاب دنیا ہے ہم کو کیا کم ثواب ہم لے کے کیا کریں گے

یہ بات بات پہ زاہد جو ٹوٹ جاتا ہے

دل حزیں بھی ہمارا ترا وضو کیا ہے

جسم انور کی لطافت کی ثنا کیا کیجے

جامۂ یار نہ اترا کبھی میلا ہو کر

کسی محبوب گندم گوں کی الفت میں گزرتے ہیں

دم اپنا جسم سے یا خلد سے آدم نکلتا ہے

زاہد مجھے نہ مانع شرب شراب ہو

ایسا نہ ہو ثواب کے بدلے عذاب ہو

خدا کی بھی نہیں سنتے ہیں یہ بت

بھلا میں کیا ہوں میری التجا کیا

مجھے کیوں آج ہچکی آ رہی ہے

کوئی یاد آئی اور ان کو جفا کیا

کیوں کر کروں میں ترک شراب و کباب کو

زاہد ہے یاد حکم کلوا واشربوا مجھے

بتان ہند مرے دل میں ہیں در آئے ہوئے

خدا کے گھر کو گھر اپنا ہیں یہ بنائے ہوئے

ہنس کے پھولوں کو وہ کریں گے سبک

رنگ اڑائیں گے ہم عنادل کا