noImage

ابو المجاہد زاہد

1928 - 2009 | رام پور, ہندوستان

اسلامی فکر کے زیر اثر شاعری کرنے والے معروف شاعر

اسلامی فکر کے زیر اثر شاعری کرنے والے معروف شاعر

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے

تم چلو اس کے ساتھ یا نہ چلو

پاؤں رکتے نہیں زمانے کے

لوگ چن لیں جس کی تحریریں حوالوں کے لیے

زندگی کی وہ کتاب معتبر ہو جائیے

ملا نہ گھر سے نکل کر بھی چین اے زاہدؔ

کھلی فضا میں وہی زہر تھا جو گھر میں تھا

تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزری

تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے

جو سوتے ہیں نہیں کچھ ذکر ان کا وہ تو سوتے ہیں

مگر جو جاگتے ہیں ان میں بھی بیدار کتنے ہیں

نئی سحر کے حسین سورج تجھے غریبوں سے واسطہ کیا

جہاں اجالا ہے سیم و زر کا وہیں تری روشنی ملے گی

یہ نہیں کہ تو نے بھیجا ہی نہیں پیام کوئی

مگر اک وہی نہ آیا جو پیام چاہتے ہیں

گلشن میں نہ ہم ہوں گے تو پھر سوگ ہمارا

گل پیرہن و غنچہ دہن کرتے رہیں گے