Aziz Lakhnavi's Photo'

عزیز لکھنوی

1882 - 1935 | لکھنؤ, ہندوستان

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

لکھنو میں کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

2.25K
Favorite

باعتبار

پیدا وہ بات کر کہ تجھے روئیں دوسرے

رونا خود اپنے حال پہ یہ زار زار کیا

create that aspect in yourself that others cry for thee

create that aspect in yourself that others cry for thee

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن

بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا

خود چلے آؤ یا بلا بھیجو

رات اکیلے بسر نہیں ہوتی

زبان دل کی حقیقت کو کیا بیاں کرتی

کسی کا حال کسی سے کہا نہیں جاتا

آئینہ چھوڑ کے دیکھا کئے صورت میری

دل مضطر نے مرے ان کو سنورنے نہ دیا

جھوٹے وعدوں پر تھی اپنی زندگی

اب تو وہ بھی آسرا جاتا رہا

ہجر کی رات کاٹنے والے

کیا کرے گا اگر سحر نہ ہوئی

ہمیشہ تنکے ہی چنتے گزر گئی اپنی

مگر چمن میں کہیں آشیاں بنا نہ سکے

تم نے چھیڑا تو کچھ کھلے ہم بھی

بات پر بات یاد آتی ہے

وہی حکایت دل تھی وہی شکایت دل

تھی ایک بات جہاں سے بھی ابتدا کرتے

بتاؤ ایسے مریضوں کا ہے علاج کوئی

کہ جن سے حال بھی اپنا بیاں نہیں ہوتا

عزیزؔ منہ سے وہ اپنے نقاب تو الٹیں

کریں گے جبر اگر دل پہ اختیار رہا

ہے دل میں جوش حسرت رکتے نہیں ہیں آنسو

رستی ہوئی صراحی ٹوٹا ہوا سبو ہوں

اتنا بھی بار خاطر گلشن نہ ہو کوئی

ٹوٹی وہ شاخ جس پہ مرا آشیانہ تھا

بے خودی کوچۂ جاناں میں لیے جاتی ہے

دیکھیے کون مجھے میری خبر دیتا ہے

مانا کہ بزم حسن کے آداب ہیں بہت

جب دل پہ اختیار نہ ہو کیا کرے کوئی

لطف بہار کچھ نہیں گو ہے وہی بہار

دل ہی اجڑ گیا کہ زمانہ اجڑ گیا

بے پیے واعظ کو میری رائے میں

مسجد جامع میں جانا ہی نہ تھا

اسی کو حشر کہتے ہیں جہاں دنیا ہو فریادی

یہی اے میر دیوان جزا کیا تیری محفل ہے

دعائیں مانگی ہیں ساقی نے کھول کر زلفیں

بسان دست کرم ابر دجلہ بار برس

ہم تو دل ہی پر سمجھتے تھے بتوں کا اختیار

نسب کعبہ میں بھی اب تک ایک پتھر رہ گیا

دل سمجھتا تھا کہ خلوت میں وہ تنہا ہوں گے

میں نے پردہ جو اٹھایا تو قیامت نکلی

شمع بجھ کر رہ گئی پروانہ جل کر رہ گیا

یادگار‌ حسن و عشق اک داغ دل پر رہ گیا

مصیبت تھی ہمارے ہی لئے کیوں

یہ مانا ہم جئے لیکن جئے کیوں

ہائے کیا چیز تھی جوانی بھی

اب تو دن رات یاد آتی ہے

تمہیں ہنستے ہوئے دیکھا ہے جب سے

مجھے رونے کی عادت ہو گئی ہے

دل نہیں جب تو خاک ہے دنیا

اصل جو چیز تھی وہی نہ رہی

کبھی جنت کبھی دوزخ کبھی کعبہ کبھی دیر

عجب انداز سے تعمیر ہوا خانۂ دل

قتل اور مجھ سے سخت جاں کا قتل

تیغ دیکھو ذرا کمر دیکھو

نزع کا وقت ہے بیٹھا ہے سرہانے کوئی

وقت اب وہ ہے کہ مرنا ہمیں منظور نہیں

جب سے زلفوں کا پڑا ہے اس میں عکس

دل مرا ٹوٹا ہوا آئینہ ہے

اداسی اب کسی کا رنگ جمنے ہی نہیں دیتی

کہاں تک پھول برسائے کوئی گور غریباں پر

میں تو ہستی کو سمجھتا ہوں سراسر اک گناہ

پاک دامانی کا دعویٰ ہو تو کس بنیاد پر

یہ مشورہ بہم اٹھے ہیں چارہ جو کرتے

کہ اب مریض کو اچھا تھا قبلہ رو کرتے

تمام انجمن وعظ ہو گئی برہم

لئے ہوئے کوئی یوں ساغر شراب آیا

پھوٹ نکلا زہر سارے جسم میں

جب کبھی آنسو ہمارے تھم گئے

ہمیشہ سے مزاج حسن میں دقت پسندی ہے

مری دشواریاں آسان ہونا سخت مشکل ہے

دل کی آلودگیٔ زخم بڑھی جاتی ہے

سانس لیتا ہوں تو اب خون کی بو آتی ہے

مرے دہن میں اگر آپ کی زباں ہوتی

تو پھر کچھ اور ہی عنوان داستاں ہوتا

قفس میں جی نہیں لگتا ہے آہ پھر بھی مرا

یہ جانتا ہوں کہ تنکا بھی آشیاں میں نہیں

واعظوں بنیاد کعبہ میں بتوں کی ہستیاں

ہم مسلماں ہو چکے اور تم مسلماں کر چکے

تقلید اب میں حضرت واعظ کی کیوں کروں

ساقی نے دے دیا مجھے فتویٰ جواز کا

بنی ہیں شہر آشوب تمنا

خمار آلودہ آنکھیں رات بھر کی

تری کوشش ہم اے دل سعئ لا حاصل سمجھتے ہیں

سر منزل تجھے بیگانۂ منزل سمجھتے ہیں

تہ میں دریائے محبت کے تھی کیا چیز عزیزؔ

جو کوئی ڈوب گیا اس کو ابھرنے نہ دیا

آپ جس دل سے گریزاں تھے اسی دل سے ملے

دیکھیے ڈھونڈھ نکالا ہے کہاں سے میں نے

مجھ کو کعبہ میں بھی ہمیشہ شیخ

یاد ایام بت پرستی تھی

دل کے اجزا میں نہیں ملتا کوئی جزو نشاط

اس صحیفے سے کسی نے اک ورق کم کر دیا

اے سوز عشق پنہاں اب قصہ مختصر ہے

اکسیر ہو چلا ہوں اک آنچ کی کسر ہے

حادثات دہر میں وابستۂ ارباب درد

لی جہاں کروٹ کسی نے انقلاب آ ہی گیا