حسن کمال کے اشعار
سورج لہولہان سمندر میں گر پڑا
دن کا غرور ٹوٹ گیا شام ہو گئی
مہندی میں لالی جس طرح کانوں میں بالی جس طرح
جب یوں ملے تو کیا چلے دنیا کا ہم پہ داؤں رے
آؤ اب اپنے دھیان کا سورج اگائیں ہم
ہے میکدے میں شور بپا شام ہو گئی
جب تک میں زندگی کو نہ سمجھا تھا جی لیا
جب آ گئی سمجھ میں تو بے موت مر گیا
وحشت اور سونا پن اپنی ذات تنہائی
آج میکدے کو بھی خانۂ خدا پایا
اے حسن کمالؔ آخر یہ بھی کیا بھلا کم ہے
بے حسی کی دنیا میں دل دکھا ہوا پایا