Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رینو نیر کے اشعار

اب زباں تک آ گئیں ہے تلخیاں

اب ہمیں فوراً نکلنا چاہئے

کسی بھی حشر سے محروم ہی رہا وہ بھی

مری طرح کا جو کردار تھا کہانی میں

ابھی منظر بدلتے ہی بدل جائیں گے سب چہرے

بچھڑتے وقت کا غم ہے ابھی تو نم نہ کر آنکھیں

دل کی بازی ایسی بازی ہے جس میں ہم

ہاریں بھی تو جیت منائی جا سکتی ہے

خدا سے اسے مانگ کر دیکھتے ہیں

پھر اپنی دعا کا اثر دیکھتے ہیں

تری نظروں سے گزری رہ گزر بھی

ہزاروں منزلوں کا راستہ ہے

چیٹیاں چلنے لگی ہیں پیٹھ میں

اب تمہارا تیر چلنا چاہئے

وہاں بس میں نہیں ہوں اور سب ہے

یہاں بس تو ہی تو ہے اور کیا ہے

شیشہ صفت تھے آپ اور شیشہ صفت تھے ہم

بکھرے ہوئے سے آپ ہیں بکھرے ہوئے سے ہم

Recitation

بولیے