Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Sharjeel Ansari's Photo'

شرجیل انصاری

1992 | بھیونڈی, انڈیا

مشہور نوجوان شاعروں میں شمار، الگ انداز میں شعر پڑھتے ہیں

مشہور نوجوان شاعروں میں شمار، الگ انداز میں شعر پڑھتے ہیں

شرجیل انصاری کے اشعار

11
Favorite

باعتبار

اس نے اپنا نام میرے نام کے آگے لکھا

اور پھر دونوں ادھورے نام پورے ہو گئے

مصالحت سے نکالیں گے حل دعا سے نہیں

ہمارا مسئلہ بندوں سے ہے خدا سے نہیں

اداس تم ہو وہاں پر اداس ہم ہیں یہاں

کبھی ملو تو اکٹھے اداس رہتے ہیں

جینے والے پہ کیا گزرتی ہے

مرنے والا یہ سوچتا ہی نہیں

بے خیالی میں کہاں تیری گلی میں آ گیا

میں ضروری کام سے نکلا تھا دفتر کی طرف

بھول جاؤں میں کوئی چیز اگر رکھ کے کہیں

یاد آتا ہے کوئی یاد دلانے والا

جب سے وہ دلی میں رہنے آیا ہے شرجیلؔ

تب سے سارے دلی والے اچھے لگتے ہیں

پہچانتے نہیں ہو اگر ٹھیک سے مجھے

اک بار آ کے دیکھ لو نزدیک سے مجھے

تمہاری بھی حفاظت ہم کریں گے

تمہارے پھر خدا ہونے کا مطلب

وہ دل بناتا ہے پتھر پہ اتنی خوبی سے

پھر اس کے بعد تو پتھر دھڑکنے لگتا ہے

ہائے وہ شخص بھی خاموش کھڑا ہے شرجیلؔ

جس کی آواز کی عادت ہے مرے کانوں کو

آتا ہے خوف اس لئے اپنی اڑان سے

آگے نکل نہ جاؤں کہیں آسمان سے

زیادہ دیر کنارے پہ تم کھڑے نہ رہو

تمہاری آنکھوں میں دریا نہ ڈوب جائے کہیں

میری دنیا میں اگر رنگ نہیں بھر سکتا

مت بنا پھر مری تصویر بنانے والے

کہنا پڑا لبیک کہ وہ تیری صدا تھی

ورنہ تری دنیا کوئی رہنے کی جگہ تھی

دشت نے قیس سے کئی دن تک

میری وحشت کا تذکرہ کیا تھا

خدا محفوظ رکھے عشق کو آسانیوں سے

جنوں کا کام اب اہل خرد کرنے لگے ہیں

پہچانتے نہیں ہو اگر ٹھیک سے مجھے

اک بار آ کے دیکھ لو نزدیک سے مجھے

Recitation

بولیے