شرجیل انصاری کے اشعار
اس نے اپنا نام میرے نام کے آگے لکھا
اور پھر دونوں ادھورے نام پورے ہو گئے
مصالحت سے نکالیں گے حل دعا سے نہیں
ہمارا مسئلہ بندوں سے ہے خدا سے نہیں
اداس تم ہو وہاں پر اداس ہم ہیں یہاں
کبھی ملو تو اکٹھے اداس رہتے ہیں
جینے والے پہ کیا گزرتی ہے
مرنے والا یہ سوچتا ہی نہیں
بے خیالی میں کہاں تیری گلی میں آ گیا
میں ضروری کام سے نکلا تھا دفتر کی طرف
بھول جاؤں میں کوئی چیز اگر رکھ کے کہیں
یاد آتا ہے کوئی یاد دلانے والا
-
موضوع : یاد
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جب سے وہ دلی میں رہنے آیا ہے شرجیلؔ
تب سے سارے دلی والے اچھے لگتے ہیں
پہچانتے نہیں ہو اگر ٹھیک سے مجھے
اک بار آ کے دیکھ لو نزدیک سے مجھے
تمہاری بھی حفاظت ہم کریں گے
تمہارے پھر خدا ہونے کا مطلب
وہ دل بناتا ہے پتھر پہ اتنی خوبی سے
پھر اس کے بعد تو پتھر دھڑکنے لگتا ہے
ہائے وہ شخص بھی خاموش کھڑا ہے شرجیلؔ
جس کی آواز کی عادت ہے مرے کانوں کو
آتا ہے خوف اس لئے اپنی اڑان سے
آگے نکل نہ جاؤں کہیں آسمان سے
زیادہ دیر کنارے پہ تم کھڑے نہ رہو
تمہاری آنکھوں میں دریا نہ ڈوب جائے کہیں
میری دنیا میں اگر رنگ نہیں بھر سکتا
مت بنا پھر مری تصویر بنانے والے
کہنا پڑا لبیک کہ وہ تیری صدا تھی
ورنہ تری دنیا کوئی رہنے کی جگہ تھی
دشت نے قیس سے کئی دن تک
میری وحشت کا تذکرہ کیا تھا
خدا محفوظ رکھے عشق کو آسانیوں سے
جنوں کا کام اب اہل خرد کرنے لگے ہیں
پہچانتے نہیں ہو اگر ٹھیک سے مجھے
اک بار آ کے دیکھ لو نزدیک سے مجھے