noImage

آغا اکبرآبادی

ممتاز کلا سکی شاعر،غزلوں میں غیر روایتی عشق اور رومان پسندی کے لیے معروف ،داغ کے ہم عصر

ممتاز کلا سکی شاعر،غزلوں میں غیر روایتی عشق اور رومان پسندی کے لیے معروف ،داغ کے ہم عصر

820
Favorite

باعتبار

ہمیں تو ان کی محبت ہے کوئی کچھ سمجھے

ہمارے ساتھ محبت انہیں نہیں تو نہیں

رقیب قتل ہوا اس کی تیغ ابرو سے

حرام زادہ تھا اچھا ہوا حلال ہوا

کسی کو کوستے کیوں ہو دعا اپنے لیے مانگو

تمہارا فائدہ کیا ہے جو دشمن کا ضرر ہوگا

صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظ

بتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھا

کسی صیاد کی پڑ جائے نہ چڑیا پہ نظر

آپ سرکائیں نہ محرم سے دوپٹا اپنا

کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آج

قینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آج

میکشوں میں نہ کوئی مجھ سا نمازی ہوگا

در مے خانہ پہ بچھتا ہے مصلیٰ اپنا

ہاتھ دونوں مری گردن میں حمائل کیجے

اور غیروں کو دکھا دیجے انگوٹھا اپنا

ہم نہ کہتے تھے کہ سودا زلف کا اچھا نہیں

دیکھیے تو اب سر بازار رسوا کون ہے

دیکھیے پار ہو کس طرح سے بیڑا اپنا

مجھ کو طوفاں کی خبر دیدۂ تر دیتے ہیں

تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نماز

پر نشۂ شراب نے مجبور کر دیا

شراب پیتے ہیں تو جاگتے ہیں ساری رات

مدام عابد شب زندہ دار ہم بھی ہیں

دوشالہ شال کشمیری امیروں کو مبارک ہو

گلیم کہنہ میں جاڑا فقیروں کا بسر ہوگا

زاہدو کعبہ کی جانب کھینچتے ہو کیوں مجھے

جی نہیں لگتا کبھی مزدور کا بیگار میں

بت نظر آئیں گے معشوقوں کی کثرت ہوگی

آج بت خانہ میں اللہ کی قدرت ہوگی

دشت وحشت خیز میں عریاں ہے آغاؔ آپ ہی

قاصد جاناں کو کیا دیتا جو خلعت مانگتا

در بدر پھرنے نے میری قدر کھوئی اے فلک

ان کے دل میں ہی جگہ ملتی جو خلوت مانگتا

شکایت مجھ کو دونوں سے ہے ناصح ہو کہ واعظ ہو

نہ سمجھا ہوں نہ سمجھوں سر پھرا لے جس کا جی چاہے

دیکھو تو ایک جا پہ ٹھہرتی نہیں نظر

لپکا پڑا ہے آنکھ کو کیا دیکھ بھال کا

جی چاہتا ہے اس بت کافر کے عشق میں

تسبیح توڑ ڈالیے زنار دیکھ کر

ان پری رویوں کی ایسی ہی اگر کثرت رہی

تھوڑے عرصہ میں پرستاں آگرہ ہو جائے گا

رند مشرب ہیں کسی سے ہمیں کچھ کام نہیں

دیر اپنا ہے نہ کعبہ نہ کلیسا اپنا

او ستم گر تری تلوار کا دھبا چھٹ جائے

اپنے دامن کو لہو سے مرے بھر جانے دے

جنوں کے ہاتھ سے ہے ان دنوں گریباں تنگ

قبا پکارتی ہے تار تار ہم بھی ہیں

مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہ

آئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹا

طواف کعبہ کو کیا جائیں حج نہیں واجب

کلال خانہ کے کچھ دین دار ہم بھی ہیں

پان کھا کر جو اگال آپ نے تھوکا صاحب

جوہری محو ہوے لعل یمن یاد آیا

وعدۂ بادۂ اطہر کا بھروسہ کب تک

چل کے بھٹی پہ پئیں جرعۂ عرفاں کیسا