noImage

آغا اکبرآبادی

ممتاز کلا سکی شاعر،غزلوں میں غیر روایتی عشق اور رومان پسندی کے لیے معروف ،داغ کے ہم عصر

ممتاز کلا سکی شاعر،غزلوں میں غیر روایتی عشق اور رومان پسندی کے لیے معروف ،داغ کے ہم عصر

ہمیں تو ان کی محبت ہے کوئی کچھ سمجھے

ہمارے ساتھ محبت انہیں نہیں تو نہیں

کسی کو کوستے کیوں ہو دعا اپنے لیے مانگو

تمہارا فائدہ کیا ہے جو دشمن کا ضرر ہوگا

رقیب قتل ہوا اس کی تیغ ابرو سے

حرام زادہ تھا اچھا ہوا حلال ہوا

کسی صیاد کی پڑ جائے نہ چڑیا پہ نظر

آپ سرکائیں نہ محرم سے دوپٹا اپنا

صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظ

بتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھا

ہم نہ کہتے تھے کہ سودا زلف کا اچھا نہیں

دیکھیے تو اب سر بازار رسوا کون ہے

کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آج

قینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آج

میکشوں میں نہ کوئی مجھ سا نمازی ہوگا

در مے خانہ پہ بچھتا ہے مصلیٰ اپنا

ہاتھ دونوں مری گردن میں حمائل کیجے

اور غیروں کو دکھا دیجے انگوٹھا اپنا

دیکھیے پار ہو کس طرح سے بیڑا اپنا

مجھ کو طوفاں کی خبر دیدۂ تر دیتے ہیں

تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نماز

پر نشۂ شراب نے مجبور کر دیا

شراب پیتے ہیں تو جاگتے ہیں ساری رات

مدام عابد شب زندہ دار ہم بھی ہیں

دوشالہ شال کشمیری امیروں کو مبارک ہو

گلیم کہنہ میں جاڑا فقیروں کا بسر ہوگا

دشت وحشت خیز میں عریاں ہے آغاؔ آپ ہی

قاصد جاناں کو کیا دیتا جو خلعت مانگتا

زاہدو کعبہ کی جانب کھینچتے ہو کیوں مجھے

جی نہیں لگتا کبھی مزدور کا بیگار میں

بت نظر آئیں گے معشوقوں کی کثرت ہوگی

آج بت خانہ میں اللہ کی قدرت ہوگی

در بدر پھرنے نے میری قدر کھوئی اے فلک

ان کے دل میں ہی جگہ ملتی جو خلوت مانگتا

دیکھو تو ایک جا پہ ٹھہرتی نہیں نظر

لپکا پڑا ہے آنکھ کو کیا دیکھ بھال کا

جی چاہتا ہے اس بت کافر کے عشق میں

تسبیح توڑ ڈالیے زنار دیکھ کر

رند مشرب ہیں کسی سے ہمیں کچھ کام نہیں

دیر اپنا ہے نہ کعبہ نہ کلیسا اپنا

شکایت مجھ کو دونوں سے ہے ناصح ہو کہ واعظ ہو

نہ سمجھا ہوں نہ سمجھوں سر پھرا لے جس کا جی چاہے

ان پری رویوں کی ایسی ہی اگر کثرت رہی

تھوڑے عرصہ میں پرستاں آگرہ ہو جائے گا

جنوں کے ہاتھ سے ہے ان دنوں گریباں تنگ

قبا پکارتی ہے تار تار ہم بھی ہیں

طواف کعبہ کو کیا جائیں حج نہیں واجب

کلال خانہ کے کچھ دین دار ہم بھی ہیں

مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہ

آئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹا

او ستم گر تری تلوار کا دھبا چھٹ جائے

اپنے دامن کو لہو سے مرے بھر جانے دے

وعدۂ بادۂ اطہر کا بھروسہ کب تک

چل کے بھٹی پہ پئیں جرعۂ عرفاں کیسا

پان کھا کر جو اگال آپ نے تھوکا صاحب

جوہری محو ہوے لعل یمن یاد آیا