Aazim Kohli's Photo'

عازم کوہلی

دلی, ہندوستان

محبت کرنے والے درد میں تنہا نہیں ہوتے

جو روٹھو گے کبھی مجھ سے تو اپنا دل دکھاؤ گے

میں جی بھر کے رویا تو آرام آیا

مرا غم ہی آخر مرے کام آیا

دکھ پہ میرے رو رہا تھا جو بہت

جاتے جاتے کہہ گیا اچھا ہوا

دیکھنا کیسے پگھلتے جاؤ گے

جب مری آغوش میں تم آؤ گے

زندگی سندر غزل ہے دوستو

زندگی کو گنگنانا چاہئے

نیلا امبر چاند ستارے بچوں کی جاگیریں ہیں

اپنی دنیا میں تو بس دیواریں ہی زنجیریں ہیں

ہم نے مل جل کے گزارے تھے جو دن اچھے تھے

لمحے وہ پھر سے جو آتے تو بہت اچھا تھا

عازمؔ تیری بربادی میں سب نے مل جل کر کام کیا

کچھ کھیل لکیروں کا بھی ہے کچھ وقت کی کارگزاری بھی

دیکھا نہ تجھے اے رب ہم نے ہاں دنیا تیری دیکھی ہے

سڑکوں پر بھوکے بچے بھی کوٹھے پر ابلہ ناری بھی

جو ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا

جب جہاں جو ہو گیا اچھا ہوا

صبر کی تکرار تھی جوش و جنون عشق سے

زندگی بھر دل مجھے میں دل کو سمجھاتا رہا

آدمی کو چاہئے توفیق چلنے کی فقط

کچھ نہیں تو گزرے وقتوں کا دھواں لے کر چلے

بات چل نکلے گی پھر اقرار کی انکار کی

پھر وہی بچپن کے بھولے گیت گائے جائیں گے

رنگ آ جاتا تھا ان کی دید سے رخ پر مرے

دیکھ کر اب وہ بھی مجھ کو سرخ رو ہونے لگے

ہم لکیریں کرید کر دیکھیں

رنگ لائے گا کیا یہ سال نیا

یہ کیا ہوا کہ اب تجھی سے بد گماں میں ہو گیا

میں سوچتا تھا زندگی تو مجھ کو راس آ گئی

کون باندھے گا مری بکھری ہوئی امید کو

کھل رہا ہے اب تو ہر حلقہ مری زنجیر کا

وہ جاتے جاتے مجھے اپنے غم بھی سونپ گیا

عجیب ڈھنگ نکالا ہے غم گساری کا

مجھے عیاریاں سب آ گئی ہیں

میں اب تیرے نگر کا ہو گیا ہوں

مرے ہر زخم پر اک داستاں تھی اس کے ظلموں کی

مرے خوں بار دل پر اس کے ہاتھوں کا نشاں بھی تھا

کون جانے کس گھڑی یاں کیا سے کیا ہو کر رہے

خوف سا اک درمیاں ہوتا ہے تیرے شہر میں