1.37K
Favorite

باعتبار

محبت کرنے والے درد میں تنہا نہیں ہوتے

جو روٹھو گے کبھی مجھ سے تو اپنا دل دکھاؤ گے

میں جی بھر کے رویا تو آرام آیا

مرا غم ہی آخر مرے کام آیا

دکھ پہ میرے رو رہا تھا جو بہت

جاتے جاتے کہہ گیا اچھا ہوا

زندگی سندر غزل ہے دوستو

زندگی کو گنگنانا چاہئے

دیکھنا کیسے پگھلتے جاؤ گے

جب مری آغوش میں تم آؤ گے

ہم نے مل جل کے گزارے تھے جو دن اچھے تھے

لمحے وہ پھر سے جو آتے تو بہت اچھا تھا

نیلا امبر چاند ستارے بچوں کی جاگیریں ہیں

اپنی دنیا میں تو بس دیواریں ہی زنجیریں ہیں

صبر کی تکرار تھی جوش و جنون عشق سے

زندگی بھر دل مجھے میں دل کو سمجھاتا رہا

دیکھا نہ تجھے اے رب ہم نے ہاں دنیا تیری دیکھی ہے

سڑکوں پر بھوکے بچے بھی کوٹھے پر ابلہ ناری بھی

جو ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا

جب جہاں جو ہو گیا اچھا ہوا

ہم لکیریں کرید کر دیکھیں

رنگ لائے گا کیا یہ سال نیا

عازمؔ تیری بربادی میں سب نے مل جل کر کام کیا

کچھ کھیل لکیروں کا بھی ہے کچھ وقت کی کارگزاری بھی

رنگ آ جاتا تھا ان کی دید سے رخ پر مرے

دیکھ کر اب وہ بھی مجھ کو سرخ رو ہونے لگے

بات چل نکلے گی پھر اقرار کی انکار کی

پھر وہی بچپن کے بھولے گیت گائے جائیں گے

آدمی کو چاہئے توفیق چلنے کی فقط

کچھ نہیں تو گزرے وقتوں کا دھواں لے کر چلے

یہ کیا ہوا کہ اب تجھی سے بد گماں میں ہو گیا

میں سوچتا تھا زندگی تو مجھ کو راس آ گئی

کون باندھے گا مری بکھری ہوئی امید کو

کھل رہا ہے اب تو ہر حلقہ مری زنجیر کا

وہ جاتے جاتے مجھے اپنے غم بھی سونپ گیا

عجیب ڈھنگ نکالا ہے غم گساری کا

مجھے عیاریاں سب آ گئی ہیں

میں اب تیرے نگر کا ہو گیا ہوں

مرے ہر زخم پر اک داستاں تھی اس کے ظلموں کی

مرے خوں بار دل پر اس کے ہاتھوں کا نشاں بھی تھا

کون جانے کس گھڑی یاں کیا سے کیا ہو کر رہے

خوف سا اک درمیاں ہوتا ہے تیرے شہر میں