Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Abdul Aziz Fitrat's Photo'

عبدالعزیز فطرت

1905 - 1968 | راول پنڈی, پاکستان

عبدالعزیز فطرت کے اشعار

974
Favorite

باعتبار

اور بھی کتنے طریقے ہیں بیان غم کے

مسکراتی ہوئی آنکھوں کو تو پر نم نہ کرو

ہم تو ترے ذکر کا ہوئے جزو

تو نے ہمیں کس طرح بھلایا

مرنا بھی نہیں ہے اپنے بس میں

جینا بھی عذاب ہو گیا ہے

جانے مجھ میں ہے کون سی خوبی

لوگ رکھتے ہیں مجھ سے بیر بہت

فطرتؔ دل کونین کی دھڑکن تو ذرا سن

یہ حضرت انساں ہی کی عظمت کا بیاں ہے

ہائے یہ انتظار کا عالم

تھم گئے وقت کے قدم جیسے

زندگی قید روایات سے گھبراتی ہے

موج مستی میں کنارے سے اچھل جاتی ہے

حسن قسمت سے ہمیشہ فطرتؔ

بخت بیدار رہا خوابوں میں

دل یزداں کو آئے پیار جن پر

وہ غم انساں کے سینے میں پلے ہیں

اے سکوت شب غم مبارک تجھے

بولتا ہے قریب رگ جاں کوئی

وہی ناقدریٔ ابنائے جہاں ہے لیکن

جاں نثاری وہی ایمان وفا آج بھی ہے

نظر ہے بے زبانی کی زباں بھی

نظر پر بے زبانی ہے گراں بھی

معیار درد مندیٔ انساں کا کیا کہیں

جینے کی آرزو ہمیں ننگ وفا لگی

Recitation

بولیے