عبدالعزیز فطرت کے اشعار
اور بھی کتنے طریقے ہیں بیان غم کے
مسکراتی ہوئی آنکھوں کو تو پر نم نہ کرو
-
موضوع : مسکراہٹ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم تو ترے ذکر کا ہوئے جزو
تو نے ہمیں کس طرح بھلایا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مرنا بھی نہیں ہے اپنے بس میں
جینا بھی عذاب ہو گیا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جانے مجھ میں ہے کون سی خوبی
لوگ رکھتے ہیں مجھ سے بیر بہت
فطرتؔ دل کونین کی دھڑکن تو ذرا سن
یہ حضرت انساں ہی کی عظمت کا بیاں ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہائے یہ انتظار کا عالم
تھم گئے وقت کے قدم جیسے
زندگی قید روایات سے گھبراتی ہے
موج مستی میں کنارے سے اچھل جاتی ہے
حسن قسمت سے ہمیشہ فطرتؔ
بخت بیدار رہا خوابوں میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
دل یزداں کو آئے پیار جن پر
وہ غم انساں کے سینے میں پلے ہیں
اے سکوت شب غم مبارک تجھے
بولتا ہے قریب رگ جاں کوئی
وہی ناقدریٔ ابنائے جہاں ہے لیکن
جاں نثاری وہی ایمان وفا آج بھی ہے
نظر ہے بے زبانی کی زباں بھی
نظر پر بے زبانی ہے گراں بھی