Abdul Aziz Fitrat's Photo'

عبدالعزیز فطرت

1905 - 1968 | راول پنڈی, پاکستان

اور بھی کتنے طریقے ہیں بیان غم کے

مسکراتی ہوئی آنکھوں کو تو پر نم نہ کرو

مرنا بھی نہیں ہے اپنے بس میں

جینا بھی عذاب ہو گیا ہے

ہم تو ترے ذکر کا ہوئے جزو

تو نے ہمیں کس طرح بھلایا

فطرتؔ دل کونین کی دھڑکن تو ذرا سن

یہ حضرت انساں ہی کی عظمت کا بیاں ہے

حسن قسمت سے ہمیشہ فطرتؔ

بخت بیدار رہا خوابوں میں