Abrar Ahmad's Photo'

ابرار احمد

1954 | لاہور, پاکستان

روشن خیال پاکستانی شاعر، سنجیدہ شعری حلقوں میں معروف

روشن خیال پاکستانی شاعر، سنجیدہ شعری حلقوں میں معروف

483
Favorite

باعتبار

ہر ایک آنکھ میں ہوتی ہے منتظر کوئی آنکھ

ہر ایک دل میں کہیں کچھ جگہ نکلتی ہے

یاد بھی تیری مٹ گئی دل سے

اور کیا رہ گیا ہے ہونے کو

کہیں کوئی چراغ جلتا ہے

کچھ نہ کچھ روشنی رہے گی ابھی

بھر لائے ہیں ہم آنکھ میں رکھنے کو مقابل

اک خواب تمنا تری غفلت کے برابر

میں ٹھہرتا گیا رفتہ رفتہ

اور یہ دل اپنی روانی میں رہا

ہم یقیناً یہاں نہیں ہوں گے

غالباً زندگی رہے گی ابھی

جس کام میں ہم نے ہاتھ ڈالا

وہ کام محال ہو گیا ہے

قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ

پانی میں ہے کیا اور بھی پانی سے زیادہ

تو کہیں بیٹھ اور حکم چلا

ہم جو ہیں تیرا بوجھ ڈھونے کو

گو فراموشی کی تکمیل ہوا چاہتی ہے

پھر بھی کہہ دو کہ ہمیں یاد وہ آیا نہ کرے

ڈھنگ کے ایک ٹھکانے کے لیے

گھر کا گھر نقل مکانی میں رہا

یوں ہی نمٹا دیا ہے جس کو تو نے

وہ قصہ مختصر ایسا نہیں تھا

جو بھی یکجا ہے بکھرتا نظر آتا ہے مجھے

جانے یوں ہے بھی کہ ایسا نظر آتا ہے مجھے

مرکز جاں تو وہی تو ہے مگر تیرے سوا

لوگ ہیں اور بھی اس یاد پرانی میں کہیں

یہ داغ عشق جو مٹتا بھی ہے چمکتا بھی ہے

یہ زخم ہے کہ نشاں ہے مجھے نہیں معلوم

کبھی تو ایسا ہے جیسے کہیں پہ کچھ بھی نہیں

کبھی یہ لگتا ہے جیسے یہاں وہاں کوئی ہے

فراق و وصل سے ہٹ کر کوئی رشتہ ہمارا ہے

کہ اس کو چھوڑ پاتا ہوں نہ اس کو تھام رکھتا ہوں

گنجائش افسوس نکل آتی ہے ہر روز

مصروف نہیں رہتا ہوں فرصت کے برابر

یہ اونٹ اور کسی کے ہیں دشت میرا ہے

سوار میرے نہیں سارباں نہیں میرا

ہر رخ ہے کہیں اپنے خد و خال سے باہر

ہر لفظ ہے کچھ اپنے معانی سے زیادہ