احمد سلمان کے اشعار
سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا
ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا
کچل کچل کے نہ فٹ پاتھ کو چلو اتنا
یہاں پہ رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں
میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں
تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے
جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا
انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ضرورتوں کے مطابق دعا بدلتے رہے
یہ لوگ خود نہیں بدلے خدا بدلتے رہے
مرے ہی واسطے میرا یہ غم تماشا ہے
تمہارا ہجر خدا کی قسم تماشا ہے
خدا کے نام پہ دیتے نہ تھے سو تنگ آ کر
قمیض پھاڑ لی تھوڑی سی اک بھکارن نے
تم آج تک نہیں سمجھے تو اب سمجھ جاؤ
زمیں کی بات نہیں تھی خدا کے نام کی تھی
نکل کے شہروں میں آ بھی جانا چمکتے خوابوں کو ساتھ لے کر
بلند و بالا عمارتوں میں پھر اپنے گاؤں تلاش کرنا
وہ اپنے سورج تو کیا جلاتے مرے چراغوں کو بیچ ڈالا
فرات اپنے بچا کے رکھے مری سبیلیں فروخت کر دیں
یہ کیا کہ سورج پہ گھر بنانا پھر اس پہ چھاؤں تلاش کرنا
کھڑے بھی ہونا تو دلدلوں پہ پھر اپنے پاؤں تلاش کرنا
نظر تو مجھ سے ملا ناچتی ہوئی لڑکی
بدن نہیں تری آنکھوں کا نم تماشا ہے