Ahmad Salman's Photo'

احمد سلمان

1964 | کراچی, پاکستان

احمد سلمان کے شعر

سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا

ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا

کچل کچل کے نہ فٹ پاتھ کو چلو اتنا

یہاں پہ رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں

جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے

میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں

تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو

وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا

انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے