Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Ahmad Salman's Photo'

احمد سلمان

1964 | کراچی, پاکستان

اہم پاکستانی شاعر، ملک و بیرونِ ملک مشاعروں میں مقبول شرکت کے لیے معروف

اہم پاکستانی شاعر، ملک و بیرونِ ملک مشاعروں میں مقبول شرکت کے لیے معروف

احمد سلمان کے اشعار

4.3K
Favorite

باعتبار

سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا

ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا

کچل کچل کے نہ فٹ پاتھ کو چلو اتنا

یہاں پہ رات کو مزدور خواب دیکھتے ہیں

میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں

تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو

جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے

وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا

انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے

ضرورتوں کے مطابق دعا بدلتے رہے

یہ لوگ خود نہیں بدلے خدا بدلتے رہے

مرے ہی واسطے میرا یہ غم تماشا ہے

تمہارا ہجر خدا کی قسم تماشا ہے

خدا کے نام پہ دیتے نہ تھے سو تنگ آ کر

قمیض پھاڑ لی تھوڑی سی اک بھکارن نے

تم آج تک نہیں سمجھے تو اب سمجھ جاؤ

زمیں کی بات نہیں تھی خدا کے نام کی تھی

نکل کے شہروں میں آ بھی جانا چمکتے خوابوں کو ساتھ لے کر

بلند و بالا عمارتوں میں پھر اپنے گاؤں تلاش کرنا

وہ اپنے سورج تو کیا جلاتے مرے چراغوں کو بیچ ڈالا

فرات اپنے بچا کے رکھے مری سبیلیں فروخت کر دیں

یہ کیا کہ سورج پہ گھر بنانا پھر اس پہ چھاؤں تلاش کرنا

کھڑے بھی ہونا تو دلدلوں پہ پھر اپنے پاؤں تلاش کرنا

نظر تو مجھ سے ملا ناچتی ہوئی لڑکی

بدن نہیں تری آنکھوں کا نم تماشا ہے

Recitation

بولیے