Akhtar Ansari's Photo'

اختر انصاری

1909 - 1988 | علی گڑہ, ہندوستان

طنز پر مائل جذباتی شدت کے لئے معروف

طنز پر مائل جذباتی شدت کے لئے معروف

1.74K
Favorite

باعتبار

یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

ہاں کبھی خواب عشق دیکھا تھا

اب تک آنکھوں سے خوں ٹپکتا ہے

وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا

نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے

روئے بغیر چارہ نہ رونے کی تاب ہے

کیا چیز اف یہ کیفیت اضطراب ہے

اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں

ایک بگڑی ہوئی تصویر جوانی ہوں میں

اس میں کوئی مرا شریک نہیں

میرا دکھ آہ صرف میرا ہے

شباب نام ہے اس جاں نواز لمحے کا

جب آدمی کو یہ محسوس ہو جواں ہوں میں

جب سے منہ کو لگ گئی اخترؔ محبت کی شراب

بے پیے آٹھوں پہر مدہوش رہنا آ گیا

سمجھتا ہوں میں سب کچھ صرف سمجھانا نہیں آتا

تڑپتا ہوں مگر اوروں کو تڑپانا نہیں آتا

آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا

سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آ گیا

کوئی مآل محبت مجھے بتاؤ نہیں

میں خواب دیکھ رہا ہوں مجھے جگاؤ نہیں

میں کسی سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا نہ تھا

اب سخن کی آڑ میں کیا کچھ نہ کہنا آ گیا

اس سے پوچھے کوئی چاہت کے مزے

جس نے چاہا اور جو چاہا گیا

رنگ و بو میں ڈوبے رہتے تھے حواس

ہائے کیا شے تھی بہار آرزو

رگوں میں دوڑتی ہیں بجلیاں لہو کے عوض

شباب کہتے ہیں جس چیز کو قیامت ہے

دوسروں کا درد اخترؔ میرے دل کا درد ہے

مبتلائے غم ہے دنیا اور میں غم خوار ہوں

سننے والے فسانہ تیرا ہے

صرف طرز بیاں ہی میرا ہے

علاج اخترؔ ناکام کیوں نہیں ممکن

اگر وہ جی نہیں سکتا تو مر تو سکتا ہے

مری خبر تو کسی کو نہیں مگر اخترؔ

زمانہ اپنے لیے ہوشیار کیسا ہے

دل فسردہ میں کچھ سوز و ساز باقی ہے

وہ آگ بجھ گئی لیکن گداز باقی ہے

شباب درد مری زندگی کی صبح سہی

پیوں شراب یہاں تک کہ شام ہو جائے

کوئی روئے تو میں بے وجہ خود بھی رونے لگتا ہوں

اب اخترؔ چاہے تم کچھ بھی کہو یہ میری فطرت ہے

یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا

اب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھا

ملا کے قطرۂ شبنم میں رنگ و نکہت گل

کوئی شراب بناؤ بہار کے دن ہیں

اے سوز جاں گداز ابھی میں جوان ہوں

اے درد لا علاج یہ عمر شباب ہے