Alam Khursheed's Photo'

عالم خورشید

1959 | پٹنہ, ہندوستان

اہم ما بعد جدید شاعر

اہم ما بعد جدید شاعر

646
Favorite

باعتبار

عشق میں تہذیب کے ہیں اور ہی کچھ فلسفے

تجھ سے ہو کر ہم خفا خود سے خفا رہنے لگے

بہت سکون سے رہتے تھے ہم اندھیرے میں

فساد پیدا ہوا روشنی کے آنے سے

میں نے بچپن میں ادھورا خواب دیکھا تھا کوئی

آج تک مصروف ہوں اس خواب کی تکمیل میں

چاروں طرف ہیں شعلے ہمسائے جل رہے ہیں

میں گھر میں بیٹھا بیٹھا بس ہاتھ مل رہا ہوں

ہاتھ پکڑ لے اب بھی تیرا ہو سکتا ہوں میں

بھیڑ بہت ہے اس میلے میں کھو سکتا ہوں میں

کچھ رستے مشکل ہی اچھے لگتے ہیں

کچھ رستوں کو ہم آسان نہیں کرتے

مانگتی ہے اب محبت اپنے ہونے کا ثبوت

اور میں جاتا نہیں اظہار کی تفصیل میں

پیچھے چھوٹے ساتھی مجھ کو یاد آ جاتے ہیں

ورنہ دوڑ میں سب سے آگے ہو سکتا ہوں میں

لکیر کھینچ کے بیٹھی ہے تشنگی مری

بس ایک ضد ہے کہ دریا یہیں پہ آئے گا

کسی کے رستے پہ کیسے نظریں جمائے رکھوں

ابھی تو کرنا مجھے ہے خود انتظار میرا

دل روتا ہے چہرا ہنستا رہتا ہے

کیسا کیسا فرض نبھانا ہوتا ہے

کوئی صورت بھی نہیں ملتی کسی صورت میں

کوزہ گر کیسا کرشمہ ترے اس چاک میں ہے

اپنی کہانی دل میں چھپا کر رکھتے ہیں

دنیا والوں کو حیران نہیں کرتے

کبھی کبھی کتنا نقصان اٹھانا پڑتا ہے

ایروں غیروں کا احسان اٹھانا پڑتا ہے

تمام رنگ ادھورے لگے ترے آگے

سو تجھ کو لفظ میں تصویر کرتا رہتا ہوں

اس فیصلے سے خوش ہیں افراد گھر کے سارے

اپنی خوشی سے کب میں گھر سے نکل رہا ہوں

تبدیلیوں کا نشہ مجھ پر چڑھا ہوا ہے

کپڑے بدل رہا ہوں چہرہ بدل رہا ہوں

آئے ہو نمائش میں ذرا دھیان بھی رکھنا

ہر شے جو چمکتی ہے چمک دار نہیں ہے

کسی کو ڈھونڈتے ہیں ہم کسی کے پیکر میں

کسی کا چہرہ کسی سے ملاتے رہتے ہیں

تہذیب کی زنجیر سے الجھا رہا میں بھی

تو بھی نہ بڑھا جسم کے آداب سے آگے

رات گئے اکثر دل کے ویرانوں میں

اک سائے کا آنا جانا ہوتا ہے

اہل ہنر کی آنکھوں میں کیوں چبھتا رہتا ہوں

میں تو اپنی بے ہنری پر ناز نہیں کرتا

گزشتہ رت کا امیں ہوں نئے مکان میں بھی

پرانی اینٹ سے تعمیر کرتا رہتا ہوں

اب کتنی کار آمد جنگل میں لگ رہی ہے

وہ روشنی جو گھر میں بے کار لگ رہی تھی