Alok Mishra's Photo'

آلوک مشرا

1985 | دلی, ہندوستان

نئی نسل کے نوجوان شاعر

نئی نسل کے نوجوان شاعر

آلوک مشرا کے اشعار

701
Favorite

باعتبار

سب ستارے دلاسہ دیتے ہیں

چاند راتوں کو چیختا ہے بہت

کیا ضرورت ہے مجھ کو چہرے کی

کون چہرے سے جانتا ہے مجھے

جانے کس بات سے دکھا ہے بہت

دل کئی روز سے خفا ہے بہت

میں بھی بکھرا ہوا ہوں اپنوں میں

وہ بھی تنہا سا اپنے گھر میں ہے

جب سے دیکھا ہے خواب میں اس کو

دل مسلسل کسی سفر میں ہے

عجیب خواب تھا آنکھوں میں نیند چھوڑ گیا

کہ نیند گزری ہے مجھ کو ذلیل کرتے ہوئے

کیوں بتاتا نہیں کوئی کچھ بھی

آخر ایسا بھی کیا ہوا ہے مجھے

مرا ہوا میں وہ کردار ہوں کہانی کا

جو جی رہا ہے کہانی طویل کرتے ہوئے

مجھے پتہ ہے کہ رونے ث کچھ نہیں ہوتا

نیا سا دکھ ہے تو تھوڑا چھلک گیا ہوں میں

کیا قیامت ہے کہ تیری ہی طرح سے مجھ سے

زندگی نے بھی بہت دور کا رشتہ رکھا

بجھتی آنکھوں میں ترے خواب کا بوسہ رکھا

رات پھر ہم نے اندھیروں میں اجالا رکھا

ایک پتہ ہوں شاخ سے بچھڑا

جانے بہہ کر میں کس دشا جاؤں

خودکشی جیسی کوئی بات نہیں

اک ذرا مجھ کو بد گمانی ہے