Alok Mishra's Photo'

آلوک مشرا

1985 | دلی, ہندوستان

نئی نسل کے نوجوان شاعر

نئی نسل کے نوجوان شاعر

475
Favorite

باعتبار

سب ستارے دلاسہ دیتے ہیں

چاند راتوں کو چیختا ہے بہت

کیا ضرورت ہے مجھ کو چہرے کی

کون چہرے سے جانتا ہے مجھے

جب سے دیکھا ہے خواب میں اس کو

دل مسلسل کسی سفر میں ہے

میں بھی بکھرا ہوا ہوں اپنوں میں

وہ بھی تنہا سا اپنے گھر میں ہے

جانے کس بات سے دکھا ہے بہت

دل کئی روز سے خفا ہے بہت

کیوں بتاتا نہیں کوئی کچھ بھی

آخر ایسا بھی کیا ہوا ہے مجھے

کیا قیامت ہے کہ تیری ہی طرح سے مجھ سے

زندگی نے بھی بہت دور کا رشتہ رکھا

مرا ہوا میں وہ کردار ہوں کہانی کا

جو جی رہا ہے کہانی طویل کرتے ہوئے

عجیب خواب تھا آنکھوں میں نیند چھوڑ گیا

کہ نیند گزری ہے مجھ کو ذلیل کرتے ہوئے

ایک پتہ ہوں شاخ سے بچھڑا

جانے بہہ کر میں کس دشا جاؤں

خودکشی جیسی کوئی بات نہیں

اک ذرا مجھ کو بد گمانی ہے

مجھے پتہ ہے کہ رونے ث کچھ نہیں ہوتا

نیا سا دکھ ہے تو تھوڑا چھلک گیا ہوں میں

بجھتی آنکھوں میں ترے خواب کا بوسہ رکھا

رات پھر ہم نے اندھیروں میں اجالا رکھا