انعم ظامی کے اشعار
گل فروشوں کے بچے گرمی میں
ہائے افسوس بھوکے سوتے ہیں
دھوکے کھا کے سیکھا ہے
دھوکا کیسے دینا ہے
کیا خبر تھی کہ مسکرانے میں
اتنا ہونٹوں کو کھینچنا ہوگا
مکاں مالک ہی طے کرتا ہے قیمت گھر کی جان جاں
ہمارے دل میں رہنا ہے تو اتنا سوچ کر رہنا
ہاتھ کو زخم لگا پھول کی خواہش کے سبب
اس کا کانٹوں پہ نہ الزام لگائے کوئی
اس اذیت میں گزر جاتا ہے ہر دن میرا
اب وہ مہتاب لب بام نہیں آئے گا
وہ کسی طرح تعلق کو بچا لیتا ہے
جب بچھڑ جانے کے امکان نظر آتے ہیں
ہم نے تو تمہیں اس کی کہانی تھی سنانی
اور تم ہو کہ تصویر کے رنگوں میں پڑے ہو
رہتے ہیں اپنے آپ سے بھی دور دور سب
تنہا ہمارے گھر میں ہیں تنہائیاں کئی
میری سانسیں بھی ٹھہر جائیں قدم کیا ہیں حضور
آپ اک بار صدا تو ہمیں دے کر دیکھیں
وہ جون کی غزلیں بھی سناتا تھا مجھے پر
میں اس کی اداسی کو سمجھتی ہی نہیں تھی
ہم سفر میرے مرے پاس دوبارہ آ جا
آج کل راستے سنسان نظر آتے ہیں