Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Anam Zami's Photo'

انعم ظامی

1999 | لاہور, پاکستان

پاکستان سے تعلق رکھنے والی نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ، نوجوانوں میں بے پناہ مقبولیت کی حامل

پاکستان سے تعلق رکھنے والی نئی نسل کی نمائندہ شاعرہ، نوجوانوں میں بے پناہ مقبولیت کی حامل

انعم ظامی کے اشعار

2
Favorite

باعتبار

گل فروشوں کے بچے گرمی میں

ہائے افسوس بھوکے سوتے ہیں

دھوکے کھا کے سیکھا ہے

دھوکا کیسے دینا ہے

کیا خبر تھی کہ مسکرانے میں

اتنا ہونٹوں کو کھینچنا ہوگا

مکاں مالک ہی طے کرتا ہے قیمت گھر کی جان جاں

ہمارے دل میں رہنا ہے تو اتنا سوچ کر رہنا

ہاتھ کو زخم لگا پھول کی خواہش کے سبب

اس کا کانٹوں پہ نہ الزام لگائے کوئی

اس اذیت میں گزر جاتا ہے ہر دن میرا

اب وہ مہتاب لب بام نہیں آئے گا

وہ کسی طرح تعلق کو بچا لیتا ہے

جب بچھڑ جانے کے امکان نظر آتے ہیں

ہم نے تو تمہیں اس کی کہانی تھی سنانی

اور تم ہو کہ تصویر کے رنگوں میں پڑے ہو

رہتے ہیں اپنے آپ سے بھی دور دور سب

تنہا ہمارے گھر میں ہیں تنہائیاں کئی

میری سانسیں بھی ٹھہر جائیں قدم کیا ہیں حضور

آپ اک بار صدا تو ہمیں دے کر دیکھیں

وہ جون کی غزلیں بھی سناتا تھا مجھے پر

میں اس کی اداسی کو سمجھتی ہی نہیں تھی

ہم سفر میرے مرے پاس دوبارہ آ جا

آج کل راستے سنسان نظر آتے ہیں

جن کو بلا جواز ہی دقت ہے ہم سے دوست

ان کے لیے جواز بناتے ہیں اب کوئی

Recitation

بولیے