noImage

بقا اللہ بقاؔ

1791/2

میر و سودا کے متنازعہ ہم عصرجو دونوں شعرا کی تنقید اور نکتہ چینی کے شکار ہوئے

میر و سودا کے متنازعہ ہم عصرجو دونوں شعرا کی تنقید اور نکتہ چینی کے شکار ہوئے

غزل 30

اشعار 23

عشق میں بو ہے کبریائی کی

عاشقی جس نے کی خدائی کی

بلبل سے کہا گل نے کر ترک ملاقاتیں

غنچے نے گرہ باندھیں جو گل نے کہیں باتیں

  • شیئر کیجیے

عشق نے منصب لکھے جس دن مری تقدیر میں

داغ کی نقدی ملی صحرا ملا جاگیر میں

  • شیئر کیجیے

چھوڑ کر کوچۂ مے خانہ طرف مسجد کے

میں تو دیوانہ نہیں ہوں جو چلوں ہوش کی راہ

اس بزم میں پوچھے نہ کوئی مجھ سے کہ کیا ہوں

جو شیشہ گرے سنگ پہ میں اس کی صدا ہوں

  • شیئر کیجیے

کتاب 2

دیوان بقا

 

 

دیوان بقا