noImage

بقا اللہ بقاؔ

1791/2

میر و سودا کے متنازعہ ہم عصرجو دونوں شعرا کی تنقید اور نکتہ چینی کے شکار ہوئے

میر و سودا کے متنازعہ ہم عصرجو دونوں شعرا کی تنقید اور نکتہ چینی کے شکار ہوئے

426
Favorite

باعتبار

عشق میں بو ہے کبریائی کی

عاشقی جس نے کی خدائی کی

عشق نے منصب لکھے جس دن مری تقدیر میں

داغ کی نقدی ملی صحرا ملا جاگیر میں

چھوڑ کر کوچۂ مے خانہ طرف مسجد کے

میں تو دیوانہ نہیں ہوں جو چلوں ہوش کی راہ

اے عشق تو ہر چند مرا دشمن جاں ہو

مرنے کا نہیں نام کا میں اپنے بقاؔ ہوں

اس بزم میں پوچھے نہ کوئی مجھ سے کہ کیا ہوں

جو شیشہ گرے سنگ پہ میں اس کی صدا ہوں

خواہش سود تھی سودے میں محبت کے ولے

سر بسر اس میں زیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

دیکھ آئینہ جو کہتا ہے کہ اللہ رے میں

اس کا میں دیکھنے والا ہوں بقاؔ واہ رے میں

اپنی مرضی تو یہ ہے بندۂ بت ہو رہیے

آگے مرضی ہے خدا کی سو خدا ہی جانے

قلم صفت میں پس از مراتب بدن ثنا میں تری کھپایا

بدن زباں میں زباں سخن میں سخن ثنا میں تری کھپایا

کیا تجھ کو لکھوں خط حرکت ہاتھ سے گم ہے

خامہ بھی مرے ہاتھ میں انگشت ششم ہے

الفت میں تری اے بت بے مہر و محبت

آیا ہمیں اک ہاتھ سے تالی کا بجانا

بانگ تکبیر تو ایسی ہے بقاؔ سینہ خراش

انگلیاں آپ موذن نے دھریں کان کے بیچ

بس پائے جنوں سیر بیاباں تو بہت کی

اب خانۂ زنجیر میں ٹک بیٹھ کے دم لے

سیلاب سے آنکھوں کے رہتے ہیں خرابے میں

ٹکڑے جو مرے دل کے بستے ہیں دو آبے میں

دیکھا تو ایک شعلے سے اے شیخ و برہمن

روشن ہیں شمع دیر و چراغ حرم بہم

دلا اٹھائیے ہر طرح اس کی چشم کا ناز

زمانہ بہ تو نسازد تو با زمانہ بساز

کل کے دن جو گرد مے خانے کے پھرتے تھے خراب

آج مسجد میں جو دیکھا صاحب سجادہ ہیں

رشد باطن کی طلب ہے تو کر اے شیخ وہ کام

پیر مے خانہ جو ظاہر میں کچھ ارشاد کرے

خال لب آفت جاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

دام دانے میں نہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

بلبل سے کہا گل نے کر ترک ملاقاتیں

غنچے نے گرہ باندھیں جو گل نے کہیں باتیں

مت تنگ ہو کرے جو فلک تجھ کو تنگ دست

آہستہ کھینچیے جو دبے زیر سنگ دست

یہ رند دے گئے لقمہ تجھے تو عذر نہ مان

ترا تو شیخ تنور و شکم برابر ہے

ہے دل میں گھر کو شہر سے صحرا میں لے چلیں

اٹھوا کے آنسوؤں سے در و بام دوش پر