Bekhud Mohani's Photo'

بیخود موہانی

1883 - 1940 | لکھنؤ, ہندوستان

ممتاز شاعر، مصنف اور شارح۔ غالب کے کلام کی شرح کے لیے مشہور۔ ’گنجینۂ تحقیق‘ کے نام سے شاعری پر تنقیدی مضامین کی کتاب بھی شائع ہوئی

ممتاز شاعر، مصنف اور شارح۔ غالب کے کلام کی شرح کے لیے مشہور۔ ’گنجینۂ تحقیق‘ کے نام سے شاعری پر تنقیدی مضامین کی کتاب بھی شائع ہوئی

غزل 26

اشعار 7

لذت کبھی تھی اب تو مصیبت سی ہو گئی

مجھ کو گناہ کرنے کی عادت سی ہو گئی

  • شیئر کیجیے

کیوں الجھتے ہو ہر اک بات پے بیخودؔ ان ث

تم بھی نادان بنے جاتے ہو نادان کے ساتھ

  • شیئر کیجیے

نشیمن پھونکنے والے ہماری زندگی یہ ہے

کبھی روئے کبھی سجدے کئے خاک نشیمن پر

  • شیئر کیجیے

اس کے ہاتھوں نہ ملا چین مجھی کو دم بھر

مجھ سے لے کر دل بے تاب کرو گے کیا تم

  • شیئر کیجیے

وہاں اب سانس لینے کی صدا آتی ہے مشکل سے

جو زنداں گونجتا رہتا تھا آواز سلاسل سے

  • شیئر کیجیے

کتاب 7

دیوان بیدم شاہ وارثی

 

1935

گنجینۂ تحقیق

 

1979

انتخاب کلام بیخود موہانی

 

1983

کلیات بیخود

اردو، فارسی کلام

1942

کلیات بیخود

اردو، فارسی کلام

1987

منظر آئینہ

جلد۔001

 

شرح دیوان غالب

 

1970

 

"لکھنؤ" کے مزید شعرا

  • مصحفی غلام ہمدانی مصحفی غلام ہمدانی
  • میر حسن میر حسن
  • حیدر علی آتش حیدر علی آتش
  • امداد علی بحر امداد علی بحر
  • عرفان صدیقی عرفان صدیقی
  • ارشد علی خان قلق ارشد علی خان قلق
  • یگانہ چنگیزی یگانہ چنگیزی
  • خواجہ محمد وزیر خواجہ محمد وزیر
  • امام بخش ناسخ امام بخش ناسخ
  • ولی اللہ محب ولی اللہ محب